کریمهالخلائق حضرت ام البنین علیها السلام

مشخصات کتاب

سرشناسه : علوی، ابوالحسنین وزیر حسین

عنوان و نام پدیدآور : کریمهالخلائق حضرت ام البنین علیها السلام والده گرامی حضرت عباس علیه السلام، جده علوی سادات ضمیمه ... [کتاب]/ تالیف و تحقیق السیدابوالحسنین وزیرحسین العلوی.

مشخصات نشر : قم: آشیانه مهر، 1434 ق.= 2013 م. = 1392.

مشخصات ظاهری : 279 ص.

فروست : مجمع جهانی شیعه شناسی ؛ 91 .

شابک : 978-600-6164-54-0

وضعیت فهرست نویسی : فاپا

یادداشت : اردو.

یادداشت : کتابنامه: ص. [277]- 279؛ همچنین به صورت زیرنویس.

موضوع : ام البنین، - 64؟ق

رده بندی کنگره : BP52/2 /الف75 ع8 1392

رده بندی دیویی : 297/979

شماره کتابشناسی ملی : 3285523

ص: 1

اشاره

والدۂ گرامی حضرت عبّاس علمدارؑ، جدّۂ علوی سادات

کریمهُ الخلائِق

حضرت اُمُّ البنین علیها السلام

تألیف وتحقیق

سیّد ابوالحسنین وزیر حسین علوی

المصطفٰی ؑ انٹرنیشنل یونیورسٹی قم المقدسہ

ضمیمہ

تاریخ علوی اعوان کے مؤ لف

کےمتعصّبانہ اعتراضات کے محقّقانہ جو ا با ت

ص: 2

مجمع جهانی شیعه شناسی

شناسنامه کتاب

کتاب کا نام :..........................کریمهُ الخلائِق حضرت اُمُّ البنین علیها السلام

تألیف وتحقیق:..... .......................سیّد ابوالحسنین وزیر حسین علوی

تصحیح و نظرثانی: ...................سیّد ضیغم عبّاس نقوی؛شیخ فیروز حیدرفیضی

پروف ریڈنگ: ............. ...............السّید جناب خان زمان العلوی

تزئین وتنظیم: ................ ............. .....سیّد شاہین حیدر عابدی

کمپوزنگ: .................. .............. سیّدہ اُمُّ الحسنین وسیّد علی علوی

ناشر: .............. ............. ................مجمع جہانی شیعہ شناسی

طبع اول : ............... ............. ...... ٢٠١١ ء ؛ ١٤٣٢ھ؛ ١٣٩٠ش

تعداد: .............. ............. .................ایک ہزار{1000}

ہدیہ: ................... ............. .............

ای میل برای حصولِ کتاب: waziralvi@yahoo.com

Cell.Ir.:0098-9373830586

Cell.Pak:0092-3215256910

ص: 3

ص: 4

ص: 5

ص: 6

ص: 7

ص: 8

فہرست مطالب

ص: 9

ص: 10

ص: 11

ص: 12

ص: 13

ص: 14

ص: 15

ص: 16

ماں اُمُّ البنین

خواب میں آ کر یہ زہرا ؑنے کہا تھا آپ سے

تم میرے عبّاس بیٹےکی ہو ماں اُمُّ البنین ؑ

زینب ؑ و کلثوم ؑ بھی اور شبّر ؑ و شبیر ؑ بھی

بعد زہرا ؑ آپ کو کہتے تھے ماں اُمُّ البنین ؑ

(ڈاکٹر ماجد رضا عابدی)

ص: 17

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

انتساب

میں اس مختصر کاوش کو بارگاہِ ربّ العزّت میں پیش کرتے ہوئے اس کو سیّده النّسأالعالمین حضرت فاطمه الزّہراعلیها السلام ، ان کے بابا حبیب خدا سیّدالانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه و آله ، ان کے شوہرنامدار سیّد الاولین والآخرین حضرت امام علی مرتضیٰ علیه السلام ، ان کے بیٹوں جوانانِ جنت کے سیّد و سردار حضرت امام حسن علیه السلام ، حضرت امام حسین علیه السلام ، سیّد الوفا حضرت ابو الفضل العبّاس علمدار علیه السلام اور حضرت قائم آل محمد بقیه اللہ عجل الله تعالی فرجه ارواحنا لہ الفداء سے

انتساب کے ساتھ ساتھ اس کا ثواب والد مرحوم السّیددل باغ العلوی الشہیدؒ اورجملہ مرحومین سادات و مومنین کو ایصال کرتا ہوں۔

ملتمس دعا

ابو الحسنین وزیر حسین علوی

حوزہ ٴعلمیہ قم المقدسہ

ص: 18

آغازِ سخن

بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحیم الحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰالَمِینَ وَالصَّلاه وَ السّلام عَلیٰ رَسُولِہِ الکَرِیم وَ آلہِ الطِّیّبِینَ الطّاٰہِرِینَ المَعصُومِینَ

وَعَلیٰ اصحٰابِہِ المُنتجبِینَ وامّا بعد۔

کریمهُالخلائق، قُدوَهُ المؤمنات، مادر ہاشمی مہتاب، جدۂ علوی سادات جناب فاطمہ اُمُّ البنین علیها السلام نے حضرت علی علیه السلام کے ساتھ ایثار ووفا سے سرشار وہ کامیاب زندگی گزاری جس کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی، آپ نے حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کی اولاد کے ساتھ حقیقی مامتا کی سی محبّت وفداکاری اور ایثار ووفا داری کی ایک تاریخ رقم کی اور اہل بیت (علیهم السلام) کے ہر فرد نے بھی ان کے احترام اور قدر دانی کا حق ادا کیا۔

جناب اُمُّ البنین علیها السلام ایک ولیہ ٔ خدا تھیں، عرفان ِالہی، معرفت ِاہل بیت (علیهم السلام) اور علوم ظاہری وباطنی کی حامل تھیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت فاطمہ الزہرا علیها السلام

کے بعد اپنے ولی اور اپنے حبیب محمد مصطفی صلی الله علیه و آله کے محبوب اور ہر دل عزیز بھائی امیر المؤمنین

ص: 19

حضرت علی علیه السلام کی شریک حیات قرار دیا۔ ان کی زندگی کا سفر تمام مؤمنین ومؤمنات کے لیے اسوہ ٔ ونمونہ اور درس ہے۔

سیّد الاولیاء حضرت علی علیه السلام نے جس تمنّا کے ساتھ اس باعظمت، شجاع اور پاکیزہ بی بی سے شادی کی، اس کا اظہاراپنے بھائی حضرت عقیل علیه السلام سے ان الفاظ میں یوں کیا:

"انظر الی امرأه قد ولدتھا الفحوله من العرب لاَ تزوجھا فتلدنی غلاماً فارساً یکون عوناً لولدی الحسین فی کربلا"((1)

یعنی اے بھائی عقیل! تم میرے لیے عرب کی کسی ایسی خاتون کو تلاش کرو جو بہادروں کی نسل سے ہو تاکہ میں اس سے عقد کروں اور اس کے بطن سے اللہ مجھے بہادر فرزند عطا فرمائے جو کربلا میں میرے فرزند حسین علیه السلام کا عون و مددگار و یاور بنے، اس وقت انھوں نے آپ کو جناب فاطمه بنت حزام سے عقد کر نے کامشورہ دیا اورکہا:

”لیس فی العرب اشجع من آباء ھا و لافارسا“((2))

عرب میں ان کے آبأ و أجداد سے بڑھ کر کوئی شجاع اور بہادر نہیں، بے شک آپ کی یہ تمنّا پوری ہوئی اور ان بھائیوں کی محبّت اور فداکاری تاریخ کی لازوال مثال بن گئی۔

(بعض دانشور وں نے مولا ئے کائنات کی اس تمنّا ”یکون عوناً لِولدی الحسین ؑ" "وہ میرے بیٹے حسین ؑ کا عون و مددگار و یاور ہو" ا ور کربلا میں حضرت امام حسین علیه السلام کاحضرت عبّاس علیه السلام کویوں مخاطب کرنا ”یا قَمراً مُنِیراً کُنتَ عَونی“((3)) اے نورافشاں چاند

ص: 20


1- ۔ ناسخ التواریخ، ج ٥؛ عمده الطالب، ص٣٥٧۔
2- ۔ ناسخ التواریخ، ج ٥؛ عمده الطالب، ص٣٥٧۔
3- ۔اسرار الشہادۃ، ص 323؛ بطل العلقمی، ج2، ص 151؛ حضرت عباس مظہر کمالات و کرامات،ج1،ص 487۔

تو ہر مشکل میں میرا عون و مددگار ویاور ہے، کے پیش نظرکہا ہے کہ شاید اسی بنا پر پاک و ہند میں موجود حضرت عبّاس علیه السلام کی اولاد، علوی سادات کا ایک لقب ” اعوان“ معروف ہو گیا۔اس کی تفصیل بعد میں آئے گی )۔

زوجہ شوہر کے گھر آنے کے بعد کچھ حقوق کی حق دار ہوتی ہے اور شوہر کے لیے بھی ضرور ی ہے کہ وہ حقوق کو ادا کرے، آپ پر ہماری جانیں قربان کہ آپ نے مولائے کائنات کے ساتھ وہ مثالی زندگی گزاری کہ آپ سے زندگی بھر حضرت علی علیه السلام کو کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی، اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنے آپ کواس طرح سے پیش کیا کہ آپ کا وجود بابرکت کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی حضرت علی علیه السلام پر گراں نہ گزرا۔ پس اگر کسی کو پر سکون زندگی گزارنا ہے تواسے آپ حضرات کی سیرت پر عمل کرنا ہوگا۔

حضرت فاطمہ اُمُّ البنین علیها السلام خود ایک معزّز خاندان کی باعظمت خاتون تھیں مگر مولا کے گھر آکر ایسی فنا فی اللہ ہوگئیں کہ اپنی خاندانی وجاہت تو درکنا راپنے نام کا بھی ذکر مناسب نہ سمجھا اس لیے سیّد الاولیاء سے عرض کی کہ: اے میرے سیّد و مولا !مجھے میرے نام (فاطمہ)سے

نہ پکارا جائے جس کی بنا پر مولا آپ کو اُمُّ البنین (بیٹوں کی ماں)کہہ کر پکارا کرتے تھے نیز آپ نے اپنے آپ کواس گھر کی مالکہ نہیں بلکہ خادمہ سمجھا۔

آپ کایہی کردار، تواضع، قوی ایمان اور حضرت فاطمہ الزہر علیها السلام ا نیز ان کی اولاد سے معرفت بھری محبّت و مودّت تھی کہ آپ نے حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کی اولاد کو اپنی اولاد سے بڑھ کرچاہا اور شہزادی فاطمہ زہرا علیها السلام نے بھی آپ کی اولاد کو اپنی ہی اولادسمجھا، اسی لیے حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام عالم خواب میں جناب اُمُّ البنین علیها السلام کو حضرت عباّس علیها السلام کی ولادت سے پہلے یہ خبر دیتی ہیں کہ ”آپ عنقریب میرے بیٹے عبّاس کی ماں بننے والی ہیں“۔نیز یہ

ص: 21

بھی نقل ہے کہ روز قیامت جب پوچھا جائے گا کہ اپنے بابا کی امت کی شفاعت کے لیے کیا لائیں ہیں تو

آپ فرمائیں گی”کفانا لأجل ھذا المقام الیدان المقطوعتان عن ابنی العباس“ ((1))میرے بیٹے عباس کے دو کٹے ہوئے شانے امت کی شفاعت کے لیے کافی ہیں"۔

مکتب امامت اور درسگاہ علوی کی یہ عالمہ وفاضلہ اس درجۂ کمال تک پہنچی کہ واسطہ فیض الہی بن گئی، راہ خدا میں اس خلوص سے اپنے جگرکے پاروں کی قربانی پیش کی کہ جب راوی نے آپ کو چار بیٹوں کی شہادت کی خبر دی تو فرمایا: ”اَولادِی وَ مَن تَحتَ الخَضراءِ کُلُّھُم فَداء لِأبی ابی عَبدِاللہ الحسین علیه السلام “((2)) میری اولاد اور جو کچھ آسمان کے نیچے ہے سب حضرت ابا عبداللہ امام حسین ؑپر قربان ہو " یہ ان کی معرفت و عرفان کی بلندی تھی جس کی بنا پر آج لوگ بارگاہِ الہٰی میں ان سے توسّل کی برکت سے اپنی مرادیں پا رہے ہیں، ان کی کرامات ان کی معنوی اور باطنی شخصیّت کا آئینہ دار ہیں۔

اگرچہ اس مختصرکتاب میں آپ کے تمام فضائل و کمالات کا احاطہ کرنا مشکل تھا لیکن پھر بھی یہ کتاب بہت سی خصوصیات کی حامل ہے۔سب سے اہم یہ کہ ہر مطلب معتبر حوالہ جات سے اخذ کرنے کے بعداسے سادہ اور آسان انداز سے پیش کیا گیا ہے تاکہ ہر خاص و عام استفادہ کر سکے۔

اس کے علاوہ اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ میں اس بات کا مدعی نہیں ہوں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے،البتہ بعض مطالب مزید تحقیق طلب ہیں کہ جن پر انشاء اللہ آئندہ ایڈیشن میں کافی دقّت کی جائے گی۔ الغرض یہ کہ اس مسئلہ کا فیصلہ اپنے قارئین پر

ص: 22


1- حضرت ام البنین علیها السلام ، مصائب آل محمد ،419؛ معالی السبطین، ج 1،ص 452۔
2- ۔ سوگنامہ آل محمد، ص 528۔

چھوڑتا ہوں امید ہے کہ باب الحسین علیه السلام اور باب الحوائج علیه السلام میرے اس ناقابل ہدیہ کو قبول فرماکرضرو رنظر عنایت فرمائیں گے۔

حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کے بیٹے، پوتے، پرپوتے اور اس سلسلہ ٔجلیلہ سے نسل در نسل بہت سے افراد علم وتقویٰ، شجاعت وسخاوت اور باطنی ومعنوی علوم میں نابغۂ روزگار تھے، تاریخ، رجال اور سیرت نگاری کی کتابوں میں ان کے مستند تذکرے موجود ہیں،کسی عرب شاعر نے اس سلسلےمیں جناب اُمُّ البنین علیها السلام کو یوں کیا خوب مبارک باد دی ہے:

لَیھنّکِ یا اُمّ البنین بساده من فضل الابناء والاحفاد ((1))

”اے اُمُّ البنین علیها السلام (بیٹوں کی ماں)! آپ کو مبارک بادی کا تحفہ پیش کرتا ہوں کہ آپ کس قدر بابرکت خاتون ہیں، آپ کے بیٹے، پوتے اور ان کی اولاد سب کے سب معزّز سادات میں شمار ہوتے ہیں“۔

ہم نے اس تاریخی حقیقت کو اس مختصر سی کتاب میں پیش کرنے کی سعی کی ہے تاکہ اپنا ایک فریضہ ادا ہو اور ساتھ ساتھ اس سلسلہٴ جلیلہ سے عشق ومحبّت رکھنے والوں کے لیے معرفت کا ایک دریچہ کھلے اور وہ اپنی تاریخی عظمت اور شرعی ذمہ داری کا احساس کریں۔

ص: 23


1- ۔ سید ضمیر اختر نقوی، حضرت ام البنین علیها السلام ،ص 284۔

آخر میں ان تمام احباب، اساتید،بالخصوص والدین اورمحترم ماموں جان کا ممنون کرم ہوں جنھوں نے نور علم کی طرف رہنمائی فرمائی اور ان لوگوں کے بہترین تعاون اور ہمّت افزائی کی بدولت میں یہ ہدیہ بفضل الٰہی آپ کی خدمت میں پیش کر نے کی سعادت حاصل کر رہاہوں۔

ملتمس دعا

ابوالحسنین وزیر حسین علوی

حوزہ علمیہ قم المقدسہ

Email:waziralvi@yahoo.com

Pak.Cel.No.0092-3215256910

Ir.cel.No.0098-9373830586

ص: 24

پہلا باب

نام، لقب، کنیت، ولادت، حسب ونسب

اہل عرب میں ہر شخص کی پہچان کے تین عنوان ہوتے ہیں، نام، لقب، کنیت۔

نام: جس کے ذریعہ ہر فرد معاشرے میں پہچانا جاتا ہے، جیسے علی ، فاطمہ“۔

لقب: جو انسان کی خاص صفت سے متعلق ہوتا ہے اور اس سے کسی خاص شخص کا ارادہ کیا جاتا ہے اور یہ اکثر وبیشتر آدمی کی مدح کے لیے ہوتا ہے، جیسے سیّد الشّہداء، باقر العلوم، اور کبھی غیر مدح کے لیے بھی آتا ہے۔

کنیت: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو نام سے نہیں پکارتے بلکہ کنایہ سے آواز دیتے ہیں، ہر زبان میں اس طرح آواز دینا رائج ہے، عربی زبان میں جو عنوان ”اب“ اور ”اُمّ“ کے ذریعہ شروع ہوتے ہیں وہ کنایہ سے آواز دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اہل عرب انہیں کنیت کہتے ہیں جیسے:ابو القاسم، ابوطالب، اُم ّابیھا، اُمُّ البنین۔

آپ کا نام فاطمہ اور مشہور کنیت اُمُّ البنین علیها السلام تھی تاریخ میں آپ اسی کنیت سے مشہور ہیں، آپ کے والد گرامی کا نام جناب حزام اور والدۂ محترمہ کا نام جناب ثمامہ تھا۔

ص: 25

ولادت

آپ کی پیدائش ٥ھ ق مدینہٴ منوّرہ میں ہوئی۔((1))

حسب ونسب

باپ کی جانب سے نسب:

جناب فاطمہ اُمُّ البنین بنت حزام ابن خالد ابن ربیعہ ابن وحید ابن کعب ابن عامر ابن کلاب ابن ربیعہ ابن عامر ابن صعصعہ۔((2))

ماں کی جانب سے آپ کا نسب:

اُمُّ البنین فاطمہ بنت ثمامہ بنت سہیل ابن عامر ابن مالک ابن جعفر ابن کلاب (3)۔

خاندانی شہرت

تاریخ شاہد ہے کہ جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے اجداد کا سرزمین عرب کے شجاع ترین افراد میں شمار ہو تا تھا اور مورّخین نے جنگ کے وقت ان کی دلیری و بہادری کو بیان کیا ہے اور طاقت و شجاعت کے علاوہ آپ اپنی قوم کے سردار اور پیشوا تھے ۔

سلاطین زمانہ آپ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے رہے۔

یہ بات بلا وجہ نہیں تھی کہ جناب عقیل علیه السلام نے حضرت امیر المومنین علیه السلام سے کہا:عرب کی سرزمین پر جناب اُمُ ّالبنین علیها السلام کے اجداد سے زیادہ شجاع اور بہادر کوئی نہیں ہے۔

ص: 26


1- ۔١ُمُّ البنین سیّده النساء العرب، ص٦۔
2- ۔ عمدۃ الطالب، ص 256؛ سر السلسلۃ العلویہ، ص 88؛ ام البنین علیها السلام نماد خود گذشتگی، ص 17۔
3- ۔ حوالہ ایضاً

جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے ننھیالی خاندان میں جناب عامر ابن مالک ابن جعفر ابن کلاب ہیں جو جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی مادر گرامی حضرت ثمامہ کے دادا ہیں، جناب عامر کو شجاعت وبہادری کی وجہ سے ”ملاعب ا لاسنہ“ کے عنوان سے یاد کیا جاتا تھا، حسان اور روس ابن حجر سے اشعار منقول ہیں، وہ جناب عامر کی مدح میں کہتے ہیں:

یُلاعِبُ أطرَاف الاَسِنَّهِعاٰمِر فَراٰحَ لَہُ حَظُّ الکَتٰائِب ِأجمَع ((1))

عامر نوک نیزہ سے کھیلتے ہیں پس وہ تنہا اپنے اندر ایک لشکر کی طاقت لیے ہوئے ہیں۔

جناب ابو برأ عامرابن مالک کلابی، شجاعت میں بے نظیر شخصیت کے مالک تھے جس کی وجہ سے ان کو ملاعب الاسنہ (نیزہ باز)کا خطاب دیا گیا تھا۔((2))

ایک دفعہ عامر ابن مالک کے بھتیجے عامر ابن طفیل اور علقمہ بن علا ثہ کے درمیان یہ بات طے ہوئی کہ جو بھی حسب و نسب اور شجاعت میں قابل افتخار ہو اور منصف کا فیصلہ اس کے حق میں ہو تووہ دوسرے سے سواونٹ لے گا لہٰذ ا دونوں نے اپنے اپنے ایک فرزند کو بنی وحید کے

پاس گروی رکھ دیا لہٰذاجب ابن طفیل نے اس سلسلہ میں اپنے چچا عامرابن مالک سے مدد چاہی تو اس بہادر نے اسے اپنی نعلین دے کر کہا: اس کے ذریعہ اپنی شجاعت و شرافت کو ثابت کروکیوں کہ میں نے اس کے ذریعہ چالیس مرباع حاصل کیے ہیں۔( (3) )

واضح ر ہے کہ جنگ میں حاصل کیے گئے چوتھا ئی مالِ غنیمت کومرباع کہتے ہیں،قبل از اسلام جب ایک قبیلہ دوسرے قوم و قبیلہ پر فتح و کا میابی حاصل کرتا تھا تو مرباع کی مقدارکے برابر مال قبیلہ کے رئیس و سردار کی خدمت میں پیش کیا جاتاتھا۔

ص: 27


1- رسالہ ابن زیدون در حاشیہ شرح صفدی برلامیہ العجیم، ج1، ص317؛ ستارہ درخشان مدینہ،ص19۔
2- ۔ الاصابہ، ج2، ص 258۔
3- آغانی، ج 15، ص 50؛ بلوغ الأرب، ج1، ص 217۔

یہ نعلین قوم کے رئیس و پیشوا سے مخصوص تھی کہ جسے وہ ایام جنگ میں پہنتے تھے ورنہ کوئی ایسی خاصیت نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے نسبی فخر و مباہات کو ثابت کرنے کے لیے اسے پیش کرتے، یہ فقط غلبہ و نصرت کی ایک علامت تھی۔

بے شک وہ اپنے زمانہ کے صاحب عزّت و عظمت ،عرب کے نامور شجاع ا ور شہرہ آفاق بہادر تھے جب کوئی عرب، بادشاہ روم کے پاس جاتا تھا تو وہ اس سے پوچھتا تھا کہ تمہار ا عامر ابن طفیل سے کیارابطہ پایا جاتا ہے؟ اگر وہ اپنے اور عامر کے درمیان رشتہ داری بتا تا تو وہ اس کی بہت عزّت اور احترام کرتا تھا نیز اس کے ساتھ رحم دلی اور حسن سلوک سے پیش آتا تھا ورنہ اس کے ساتھ اتنا اچھا برتاوٴ نہیں کرتاتھا۔((1))

عامر ابن مالک آخری ایاّ م میں بستر بیماری پر تھے انھوں نے حضرت امُّ البنین علیها السلام کے والد بزرگوار جناب حزام کے چچا جناب لبیدابن ربیعہ(شاعر)کو تحفے تحائف دے کر پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کی خدمت میں بھیجا تو لبید نے آپ کی خدمت میں کچھ اشعار پڑھے جن میں سے ایک شعر یہ ہے:

الا کُلُّ شَیئٍ مَا سِویَ اللّٰہِ باٰطِل وَکُلُّ نَعِیمٍ لَا مَحالۃَ زَائِل ((2)

آگاہ رہو!کہ خدا کے سوا ہر چیز باطل ہے اورہر نعمت ناچار زوال پذیر ہے۔

تو اس موقع پر رسول خدا صلی الله علیه و آله نے فرمایا تھا کہ: ”صحیح ترین بات جو کسی عرب کی زبان پر جاری ہوئی ہے وہ لبید کی بات ہے“۔

آپ نے خاک میں لعاب دہن ملا کر جناب عامر کے لیے ارسال فرمایا، اس سے آپ کو شفا ملی۔ گویا پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله جانتے تھے کہ اس کی نسل سے ایک خاتون میرے بھائی

ص: 28


1- ۔ رسالہ ابن زیدون، حاشیہ شرح صفدی، ج١، ص١٣٠۔
2- ۔ سفینہ البحار، ج٢، ص٥٠٣۔

علی علیه السلام کی زوجہ بن کر، ان کے وفادار اور بہادر بیٹو ں کی ماں بنے گی جو میرے حسین علیه السلام کی مدد کرےگی۔

لبید دنیائے عرب کے بہت بڑے شاعر تھے، مگر حلقہ بگو ش اسلام ہونے کے بعد فقط قرآن پڑھتے نظر آتے تھے، ان کا ایک شعربہت معروف ہے:

اَلحَمدُ لِلّہِ اِذَا لَم یٰا تنِی أجَلی حتّٰی لَبِستُ مِن َالاسلامِ سَربالاً (1)

خدا کا حمد و ثنا بجالاتا ہوں کہ مجھے موت نہیں دی یہاں تک کہ میں نے لباسِ اسلام زیب تن کیا، انہوں نے نذرکی تھی کہ جب بادِصبا چلے گی، میں ایک اُونٹ ذبح کرکے لوگوں کو کھا نا کھلا ؤں گا۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت اُمُّ البنین کا خاندان شجاعت کے ساتھ ساتھ علم وادب میں بھی شہرت رکھتا تھا نیز دینِ اسلام، پیغمبراکرم صلی الله علیه و آله اور اہل بیت (علیهم السلام) کے ساتھ بے پناہ محبت وعقیدت رکھتاتھا۔

ص: 29


1- ۔ الاعلام، ج6، ص 104؛ تنقیح المقال، ج2، ص 43۔

ص: 30

دوسرا باب

اُمُّ البنینؑ کی شادی

امیر المؤمنین حضرت علی علیه السلام نے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کی لخت جگر حضرت فاطمهالزہرا علیها السلام کی راہ حق میں شہادت کے بعد اپنے بھائی حضرت عقیل علیه السلام (جواہل عرب کے انساب سے بخوبی واقف تھے)سے کہا:

"یا اخی! ”انظرالی امرٴاه قدولد تھا الفحولهمن العرب لا ٴتزوّجھا فتلدلی غلاماً فارساً یکون عوناً لولدی الحسین فی کربلا“۔ ((1)

"اے بھائی! میرے لیے عرب کی کسی ایسی خاتون کو تلاش کروجو بہادروں کی نسل سے ہو تاکہ میں اس سے نکاح کروں پھر اس کے بطن سے اللہ مجھے ایک بہادرا ورشجاع فرزندعطا کرے جو کربلا میں میرے فرزند حسین علیه السلام کا عون و مددگار و یاور بنے"۔

چنانچہ جناب عقیل علیه السلام نے آپ کو جناب فاطمه بنت حزام سے نکاح کرنے کی تجویز دی جن کا قبیلہ بنی کلاب، عرب میں بہادری اور شجاعت کے لحاظ سے بہت مشہور تھا۔

ص: 31


1- ۔ تنقیع المقال، ج 3، ص 70؛ عمده الطالب، ص357، فصل العبّاس؛ اعیان الشیعہ، ج 8، ص 389 ۔

اس لیے کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کا فرمان ہے کہ: شادی کرتے وقت ١چھے خاندان سے شائستہ شریک حیات کا انتخاب کرو کیوں کہ ماں کے عادات واطوار کے ساتھ ساتھ ماموں کے صفات بھی بچے میں منتقل ہوتی ہیں۔

آپ صلی الله علیه و آله نے شریک حیات کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا:

”تمہاری عورتوں میں سے بہترین وہ ہے جوبچہ جنم دینے والی ہو، باعفت وباعزّت ہواور شوہر کا احترام اور اطاعت کرے نیزشوہر کی غیرموجودگی میں خیانت نہ کرے“((1)

اس طرح آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا:”ایّاکم وخضراء الدمن“(2)

یعنی تم بے عفت حَسِین اور بے دین عورتوں سے پرہیز کرو۔

اس طرح مولا ئے کائنات علیه السلام نے ہمیں درس دیا کہ دیکھو شادی کا بہت اہم مقصد ہوتا ہے اور یہ کہ شریک حیات کے انتخاب کے وقت کن اصولوں کو مدّ نظر رکھو۔

آپ نے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کی بیان کی ہوئی صفات اورخصوصیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے بھائی حضرت عقیل کوجناب فاطمہ بنت حزام کی خواستگاری کے لیے ان کے ہاں بھیجا تورشتہ کا پیغام سننے کے بعد جب جناب حزام بن خالد اپنی زوجہ اور بیٹی کی رضایت جاننے کے لیے کمرے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھا !

سچا خواب

جناب اُمُّ البنین علیها السلام اپنی ماں سے یوں خواب بیان کر رہی ہیں کہ:

”امی جان !میں نے خواب میں دیکھاہے کہ میں سبز وشاداب اور درختوں سے بھرے باغ میں بیٹھی ہوں، وہاں کافی نہریں اور پھل موجود ہیں، چانداور ستارے نکل رہے

ص: 32


1- ۔ وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ، محمد حر عاملی، ج ٢، ص٢٢۔
2- 2۔ مقنع، شیخ مفید، ص 79۔

ہیں اور میں اُن کو دیکھ کر خلقت خدا کے بارے میں غور و فکر کر رہی ہوں نیز آسمان کے بارے میں جوبغیر ستون کے اتنی بلندی پر قائم ہے اور اسی طرح چاند اور ستاروں کی روشنی وغیر ہ کے بارے میں غور وفکر کر رہی تھی کہ چاند آسمان سے اتر کر میرے دامن میں آ گیا اور اس سے ایک نور ساطع ہواجس سے آنکھیں خیرہ ہوگئیں، میں حیرت زدہ تھی کہ مزید تین نورانی ستارے میں نے اپنے دامن میں دیکھے، اُن کے نور نے بھی مجھے مبہوت کر دیا، میں حیرت اور استعجاب میں غرق تھی کہ ہاتف غیبی آئی جس میں میرا نام لے کر مجھ سے خطاب کیا، میں نے آواز تو سنی مگر اسے دیکھ نہ سکی، آواز آ رہی تھی:

"اے فاطمہ تمہارے لیے خوش خبری ہے، روشن چاند اور تین ستاروں کی نورانیت اور سیادت کی، جن کے محترم باپ، پیغمبر صلی الله علیه و آله کے بعد تمام انسانوں کے سیّد و سردار ہیں"۔ پھراس کے بعد میں بیدار ہوئی جب کہ میں خوف زدہ تھی!

اے ماں ! میرے اس خواب کی تعبیر کیا ہوگی؟

ماں نے اپنی فہیم اورعقل مند بیٹی سے کہا:

"تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ عنقریب ایک جلیل القدرصاحب عزّت و عظمت شخصیت سے تمہاری شادی ہوگی جس کی اطاعت امّت پر واجب ہو گی ۔ اُن سے تمہارے چار فرزند ہوں گے جس میں پہلا روشن چاند کی طرح ہو گا اور تین درخشندہ ستاروں کے مانند ہوں گے"۔

ماں بیٹی کی محبت بھری باتیں جاری تھیں کہ جناب حزام بن خالد نے حضرت علی علیه السلام کی طرف سے ازدواج کا پیغام سنا یا اور رضایت طلب کی؟ شرم وحیا کی ملکہ جناب فاطمہ اُمُّ البنین علیها السلام قلبی مسرّت کے ساتھ خاموش رہیں مگر آپ کی والدہ جو خاندان نبوّت سے محبت اور امامت و ولایت پر پختہ اعتقاد رکھتی تھیں، کہا:

ص: 33

"اے حزام! خدا کی قسم! میں نے اس کی ایسی تربیت کی ہے کہ یہ وحی و نبوّت اور علم و حکمت کے گھرانہ میں حضرت امام علی علیها السلام کی خدمت میں رہ کر خداکی بارگاہ میں سعادت مند قرار پائے گی۔ آپ ان کی مو لائے کائنات حضرت امام علی علیها السلام سے شادی کر دیجیے"۔ (1)

جناب عقیل علیه السلام نے اپنے بھائی حضرت علی علیه السلام کی طرف سے وکالتًاخطبہ نکاح جاری کیا۔ اس طرح حضرت فاطمہ اُمُّ البنین علیها السلام سترہ17 رجب، 21 ھ کے مبارک دن حضرت علی علیه السلام کی شریک حیات قرار پائیں اور نہایت محبّت اور مہربانی کے ساتھ عصمت و طہارت کے گھر میں قدم رکھا۔ جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے کہا :”خداکی قسم! میں حسن علیه السلام اور حسین علیه السلام کے لیے ہمدرد اور مہربان ماں کی طرح رہوں گی“۔(2)

بے شک آپ نے حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کے بچوں کی خدمت و محبّت میں حقیقی ماں کا کردار ادا کیا۔

حضرت علی علیه السلام نے اپنی زوجہ میں وسعت عقل، پختگی ایمان، عمدہ اخلاق وآداب اور نیک صفات مشاہدہ کیے تو صمیم قلب کے ساتھ آپ کی عزّت و تکریم کی اورہمیشہ بہت خیال رکھا۔

ص: 34


1- ۔ محمد علی الناصری، عباس بن علی ’،ص 36۔38؛ ستارہ درخشان مدینہ، ص 24۔25۔
2- ۔ ام البنین علیها السلام نماد از خود گذشتگی، ص 19۔

تیسرا باب

حضرت اُمُّ البنینؑ کے شوہر

آپ کے شوہر نامدار سیّدالاولیأحضرت علی مرتضیٰ علیه السلام فضائل میں منفرد اور بے نظیرہیں۔ آپ کے والد کفیل و عمّ رسول اللہ صلی الله علیه و آله ، مومن آل قریش، ابو الائمہ، سیّد البطحاء جناب ابو طالب علیه السلام اور والدہ اُمّ الائمہ و عمّہ رسول اللہ صلی الله علیه و آله جناب فاطمہ بنت اسد علیها السلام ہیں۔

آپ کی ولادت دس سال قبل از بعثت ١٣ رجب المرجب جمعه المبارک کی صبح بیت اللہ شریف کے اندر مکہ مکرمہ میں ہوئی، خلائق عالم میں یہ سعادت فقط آپ کو ہی نصیب ہوئی، آپ نجیب الطرفین ہاشمی ہیں((1)

ص: 35


1- ۔ امینی، الغدیر، ج ٦۔

ولایت اور محبّت علی علیه السلام

اللہ تعالی نے آپ کو ولی بنا کر بھیجا قرآن میں متعدد آیات آپ کی شان اقدس میں نازل ہوئیں، پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے خطبہٴ دعوت ذوالعشیرہ سے لے کر خطبہٴ غدیر خم تک، ہر خطبہ اوروصیت میں آپ کی وصایت و ولایت اور مرجعیت وخلافت کا اعلان فرمایا:

”من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ؛ ان علیاًّ منّی و انا منہ وہو ولی کل مؤمن من بعدی“((1))

جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے؛میں علی سے ہوں اور علی مجھ سے ہے اور وہ میرے بعد تمام مؤمنوں کے ولی ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله فرماتے ہیں:

علی کاگوشت میرا گوشت ہے ان کاخون میرا خون ہے وہ میرے علم کا مخزن ہے((2)

نیز آں حضرت صلی الله علیه و آله نے فرمایا: اگر کوئی نوح ؑ کی عمر کے برابر خدا کی عبادت کرے اور اُحد کے پہاڑ کے برابر راہ خدا میں سونا دے اور ہزار مرتبہ حج بجا لائے پھرصفا اور مروہ کے درمیان مظلوم قتل ہوجائے لیکن اے علی! اگر آپ سے دوستی اور محبت نہیں رکھتا تووہ جنت میں نہیں جا سکتا یہاں تک کہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکتا۔((3)

آں حضرت صلی الله علیه و آله نے فرمایا: اگر تمام درخت قلم ، دریا روشنائی اور جن حساب کرنے والے بن جائیں اور تمام انسان لکھنے والے ہوں تب بھی حضرت علی علیه السلام کے فضائل وکمالات کو شمار نہیں کر سکتے۔((4)

ص: 36


1- ۔ ینابیع الموده، ج ٢، ص٣٥؛ذخائر العقبیٰ، ص٦٨، بحوالہ سنن ترمذی، نسائی و ابن ماجہ۔
2- ۔ ذیل اللئالی، ص٦٥۔
3- ۔ کنز الحقائق، ص٦٧۔
4- ۔ مناقب خوارزمی، ص٢٢٩١٨؛ کافیہ الطالب، ص١٢٣۔

نیزفرمایا:علی کا امت پر حق اس طرح ہے کہ جس طرح باپ کا اپنے فرزند پر ہوتا ہے۔((1)

ترمذی، عمر ابن خطاب سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

"من أحبّک یا علی کان مع النّبیین فی درجاتھم یوم القیامۃ ومن مات یبغضک فلا یبالی مات یھودیا او نصرانیا"۔(2)

"اے علی جوشخص آپ کو دوست رکھے گا وہ قیامت کے دن پیغمبروں کے درجہ میں محشور ہو گا اور جو اس حالت میں مرے کہ آپ سے بغض اور کینہ رکھتا ہو تو اس کے لیے کوئی پروانہیں کہ اس کی موت یہودی کی موت ہو یا نصرانی کی"۔

"وقال صلی الله علیه و آله ”یا علی لا یحبّک الا مؤمن ولا یبغضک الّا منافق"۔((3))

نیز پیغمبر صلی الله علیه و آله نے فرمایا:"اے علی! آپ سے کوئی محبّت نہیں رکھتا مگر وہ کہ جو مومن ہو اور آپ سے کوئی دشمنی نہیں رکھتا مگر وہ کہ جو منافق ہو"۔

نیز آنحضرت صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

"یا علی فطوبیٰ لمن احبّک وویل لمن ابغضک وکذب علیک فاما الّذین احبوک وصدقوا فیک فہم جیرانک فی دارک و رفقاؤک فی قصرک واما الّذین ابغضوک وکذبوا علیک فحق علی اللّٰہ ان یوقفہم موقف الکاذبین یوم القیامه"۔((4)

ص: 37


1- ۔ ذیل اللئالی، ص٦٠۔
2- ۔ ذخائر العقبیٰ، ص٦٨، بحوالہ سنن ترمذی، نسائی و ابن ماجہ۔
3- ۔ اسد الغابہ، ج ٣، ص ٦٠٢ و تحفه الاحوذی ابواب المناقب علی ، حدیث١٠٣٨١٩ ٢٤٠٢٣٩ و صحیح مسلم، صحیح ترمذی ۔اورجناب ترمذی کہتے ہیں کہ: یہ حدیث صحیح اور حسن ہے۔
4- ۔اسد الغابہ، ج ٣، ٥٩٨۔

"اے علی ؑ! جس نے آپ سے محبت کی اس کے لیے اچھائی ہے اور جس نے آپ کی نسبت اپنے دل میں بغض و حسد رکھا اور آپ کی نسبت جھوٹ بولا تو اس کے لیے [دنیا و آخرت میں]بربادی ہے اور جن لوگوں نے آپ کو دوست رکھا اور آپ کی نسبت صدق بیانی سے کام لیا تو وہ جنت میں آپ کے ہمسایوں اور آپ کے دوستوں میں ہوں گے لیکن جن لوگوں نے آپ کی نسبت اپنے دلوں میں بغض وحسد اور کینہ رکھا اور آپ کی نسبت جھوٹ بولا تو اللہ تعالی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ ان کا ٹھکانہ روز محشر جہنم میں جھوٹ بولنے والوں کے ساتھ کرےگا" ۔

گویا ان کی محبت وہ میزان الٰہی ہے کہ جس سے مومن اور کافرمیں امتیاز پیدا ہوتا ہے، اب بھی اگر کوئی ان سے دوری اختیار کیے ہوئے ہے تو یقینا وہ راہ راست سے بھٹکا ہوا ہے۔

حضرت علیؑ کا چہرہ مبارک دیکھنا عبادت

جناب ابن مغازلی حضرت عائشہ سے نقل کرتے ہیں کہ: ”میں نے دیکھا میرے بابا! حضرت علی علیها السلام کے چہرہ کی طرف بہت زیادہ دیکھتے ہیں! میں نے پوچھا!اس کی کیا وجہ ہے؟ تو بابا نے جواب دیا: بیٹی میں نے رسول خدا صلی الله علیه و آله سے سنا ہے کہ آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

”النظر الی وجہ علی عباده“((1))یعنی علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔

امت کے ہادی

ص: 38


1- ۔ مناقب خوارزمی ،فصل ٢٣، ص ١٦٢؛ تاریخ دمشق، ج٢ ، ص٣٩١؛ البدایہ و النھایہ ،ابن عساکر، ج ٧ ،ص ٨٥٣۔

حضرت علی علیه السلام اور ان کے فرزند اللہ کی طرف سے امت کے ہادی ہیں۔

عن جابربن عبداللّٰہ قال رسول صلی الله علیه و آله : "ان اللّٰہ جعل علیاً وزوجتہ وابنائہ حجج اللّٰہ علی خلقہ و ھم ابواب العلم فی امّتی من اھتدی بھم ھدی الی صراط مستقیم"((1)

جابر ابن عبد ا للہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے فرمایا:”خدا وند عالم نے علی ان کی زوجہ اور ان کے فرزندوں کو اپنی طرف سے لوگو ں پر حجت قرار دیا اور وہ میری امّت میں عِلم کے دروازے ہیں جو ان سے ہدایت حاصل کرے گا وہ صراط ِ مستقیم کی طرف ہدایت پائے گا۔

اس حدیث میں حضرت علی علیه السلام ، ان کی زوجہ اوران کے فرزندوں کو حجت خدا، ہادی اور بہترین نمونہٴ عمل قرار دیا گیا ہے اور انھیں علم کا دروازہ اور سر چشمہٴ ہدایت قرار دیا گیا ہے۔

قرآن و عترت ثقلین ہدایت

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی الله علیه و آله :اِنِّی قَد تَرَکتُ فِیکُمُ الثَّقلَین مَا اِن تَمَسَّکتُم بِھِماٰ لَن تَضِلُّوا بَعدِی وَ اَحَدُھُمٰا اَکبَرُ مِن الاَخَر:کِتَابَ اللّٰہِ حَبل مَمدُود مِنَ السَّماءِ اِلَی الاَرضِ وَ عِترَتِی اَھلُ بَیتی اَلآ وَ اِنَّھُماٰ لَن یَفتَرَقاٰ حَتّٰی یَرِدَا عَلَیَّ الحَوض"((2)

رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: "میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک ان دونوں سے متمسک رہو گے میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے اوردونوں میں سے ایک دوسرے سے بزرگ ہے، ایک اللہ کی کتاب (قرآن مجید)ہے جو آسمان سے زمین تک ستونِ محکم ہے دوسرے میری عترت و اہل بیت (علیهم السلام) ہیں اورآگاہ

ص: 39


1- ۔ شواھد التنزیل ج١، ص ٥٨، حدیث۔
2- ۔ مسند احمد بن حنبل ج ٣، ص٧١ ؛ صحیح ترمذی ج ٢، ص ٣٠٨؛ علی خلیفہ رسول صلی الله علیه و آله ،ص١٣٨۔

ہوجاوٴکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے"۔

جناب زید ابن ارقم حضرت رسول اللہ صلی الله علیه و آله سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "خدا وند عالم نے مجھے عالم بالا کی طرف دعوت دی ہے جسے میرے لیے قبول کرنا ضروری ہے۔ میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑکر جا رہا ہوں ایک کتاب خدا (قرآن) اور دوسرے میری عترت و اہل بیت ہیں۔ آگاہ رہنا کہ کس طرح کاان کے ساتھ سلوک کرو گے یہ دونوں ہر گز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کے حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے"((1)

مفسّر قرآن علامہ سیّد محمد حسین طباطبائی رقم طراز ہیں:

حدیث ثقلین صحیح اور قطعی حدیثوں میں سے ہے جو بہت سے اسناد کے ساتھ مختلف عبارتوں میں ذکر ہوئی ہے سنّی اور شیعہ سبھی اس کے صحیح ہونے کا اعتراف کرتے ہیں اس حدیث اور اس جیسی حدیثوں سے چند باتیں واضح ہوتی ہیں:

١) قرآن مجید قیامت تک لوگوں کے درمیان باقی رہے گا اور عترت پیغمبر صلی الله علیه و آله بھی قیامت تک لوگوں کے درمیان باقی رہے گی یعنی زمین کبھی بھی نسل پیغمبر صلی الله علیه و آله سے کسی نہ کسی امام اور حقیقی رہبر اور رہنما سے خالی نہیں رہے گی۔

٢) پیغمبر اسلام

صلی الله علیه و آله نے ان دو گراں قدر امانتوں کے ذریعے مسلمانوں کی تمام علمی اور دینی ضرورتوں کو پورا کر دیا۔ اور اہل بیت (علیهم السلام) کا مسلمانو ں کے لیے ملجا و ماویٰ کی حیثیت سے تعارف کرایا اور ان کے کردار و گفتار کو معتبر قرار دیا۔

ص: 40


1- ۔١لبدایہ والنہایہ، ج٥، ص٢٠٩؛ فصول المہمہ، ص٢٢؛ صواعق محرقہ، ص١٤٧؛ صحیح مسلم ، ج٥، ص١٢٢؛ صحیح ترمذی ،ج٥، ٦٣٧۔

٣) قرآن اور اہل بیت (علیهم السلام) ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے لہٰذا کسی بھی مسلمان کو ان سے دوری اختیار نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان کی پیروی کرنی چاہیے۔

٤) اگر لوگ قرآن اور اہل بیت (علیهم السلام) کی اطاعت اور پیروی کریں گے توکبھی گمراہ نہیں ہوں گے اورہمیشہ حق ان کے ساتھ رہے گا۔

٥) عترت اور اہل بیت (علیهم السلام) سے مراد حضرت علی علیه السلام اور آپ کے گیارہ فرزند ہیں جن میں سے ہر ایک دوسرے کے بعد منصب امامت پر فائز ہوا ہے جیسا کہ یہ بات روایات سے معلوم ہو تی ہے۔

ابن عباس ؓکہتے ہیں: میں نے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله سے عرض کی! آپ کے اقرباء جن سے محبت کرنا واجب ہے کون ہیں؟ تو آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: وہ علی، فاطمہ، حسن اور حسین ہیں((1)

سفینۂ نجات

جناب ابن عباس اور ابو ذر سے منقول ہے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

"مَثَلُ َاھلِ بَیتِی کَمَثَلِ سَفِینَهِ نُوحٍ مَن رَکِبَھاٰ نَجیٰ وَ مَن تَخَلَّفَ عَنھاٰ غَرَقَ"((2)

میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح ؑجیسی ہے جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پاگیا اورجس نے اس سے روگردانی کی، وہ غرق و ہلاک ہو گیا۔

پیغمبر صلی الله علیه و آله کے اہلبیت (علیهم السلام) کی کشتی نوح سے وجہ تشبیہ یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کو ان سے ہدایت لینی چاہے، ان کے کردار و گفتار کو اپنی زندگی کے لیے آیئڈیل اور نمونہ سمجھنا چاہیے بصورت دیگر وہ فساد و اختلاف اور گمراہی سے تباہ و برباد اور غرق ہو جائیں گے۔

ص: 41


1- ۔ ینابیع الموده، ص٣١١۔
2- ۔ احقاق الحق، ج٩، ص ٢٧٢؛ صواعق محرقہ، ص٨٤، ١٥٠؛ ذخائر العقبیٰ، ص ٢٠۔

محمدمصطفی صلی الله علیه و آله کی اولاد علی مرتضیٰ علیه السلام کے صُلب سے

محدثین نے حضرت جابر  اور حضرت عبداللہ ابن عباس  سے روایت نقل کی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں: پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

"اِنَّ اللّٰہَ جَعَلَ ذُرِّیَّهَ کُلَّ نَبِیٍ فِی صُلبِہِ وَ جَعَلَ ذُرِّیّتِی فِی صُلبِ عَلِی ابنِ اَبِی طاٰلِبٍ"((1))

"بے شک خدا وند عالم نے ہر نبی کی اولاد اس کے صلب میں قرار دی لیکن میری اولاد اورنسل علی ابن ابی طالب کے صلب میں قرار دی"۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله

کے بغیر قید و شرط اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی علیه السلام کی تمام اولاد کو آپ صلی الله علیه و آله نے اپنی اولاد قرار دیا۔

حضرت علی علیه السلام خلیفہ ٔ رسول صلی الله علیه و آله

حضرت علی کی خلافت و امامت پر نصوص جیسے آیت ولایت،آیت اولی الامر، آیت صادقین، آیت مباہلہ ، آیت علم الکتاب، آیت تبلیغ ، آیت اکمال دین اور بہت سی مستند احادیث جیسے حدیث یوم الدار، حدیث غدیر، حدیث منزلت، حدیث مدینۃ العلم وغیرہ صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں:

قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله :”ان ھذا علی أخی و وصیی و خلیفتی من بعدی فاسمعوا لہ و أطیعوا“(2)

ص: 42


1- ۔ ینابیع الموده، ص ٣١٨؛ صوائق محرقہ، ص ٧٤؛ ریاض النضرہ، ج٢، ص١٦٧؛ فیض القدیر، ج٢، ص٢٣٣؛ المناقب ابن مغازلی، ص ٧٢، حدیث٧٢؛ علی خلیفہٴ رسول صلی الله علیه و آله ، ص١٢٣۔
2- ۔ تاریخ طبری، ج1، ص542۔

یہ علی میرا بھائی، میرا وصی اور میرے بعد میرا خلیفہ ہے اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

قال رسول اللہ:”علی خلیفۃ اللہ علی عبادہ؛ الخلیفۃ بعدی“۔(1)

علی اللہ کے بندوں پر اس کے خلیفہ ہیں؛ علی میرے بعد خلیفہ ہیں۔

حضرت علی علیه السلام کے بارے میں آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

"اِنَّ عَلَیاً مِنِّی وَ اَنَا مِنہُ وَ ہُوَ وَلِیُ کُلِِّ مَؤمِنٍ مِن بَعدِی"۔ ((2))

"علی علیه السلام مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد تمام مئومنوں کے ولی ہیں"۔

بخاری اور مسلم نے سعد ابن ابی وقاص سے، احمد اور بزاز نے ابی سعید خدری سے، طبرانی نے اسماء بنت عمیس اور جناب اُمّ سلمیٰ، جیش ابن جنادہ، ابن عمر، ابن عبّاس، جابر ابن سمرہ، علی، برا بن عازب اور زید ابن ارقم کے حوالہ سے نقل کیا کہ سب کہتے ہیں کہ پیغمبراکرم صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

"یاعلی ! انت منی بمنزله ھارون من موسیٰ الّا انہ لا نبی بعدی"۔((3))

" اے علی! تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی مگریہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں"۔

ص: 43


1- ۔ در بحر المناقب، علامہ شیک جمال الدین محمد بن احمد حنفی، ص 99، ص 60،119۔
2- ۔ کنز الحقائق ص٣٧ ؛ مناقب حضرت امام علی ابن ابی طالب ، حدیث ٢٧٦ ص ١٩٣، ١٩٤۔
3- ۔ ینابیع الموده ص٥٠؛فصول المہمہ، ص ٢١؛ صواعق محرقہ، ص ١٧٧۔

جس طرح حضرت ہارون علیه السلام حضرت موسیٰ علیه السلام کے بھائی، وزیر، یاور و مددگار اور ان کے خلیفہ تھے اس طرح حضرت علی علیه السلام بھی پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کے بھائی، وزیر، یاور و مددگار اور خلیفہ ہیں۔صرف فرق یہ ہے کہ

حضرت ہارون علیه السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی بھی تھے اور حضرت علی علیه السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے امام ہیں۔

حجه الوداع سے واپسی پر غدیر خم میں تمام حاجیوں اور اصحاب کے مجمع میں پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے حضرت علی کا ہاتھ بلند کر کے فرمایا:

"من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ"۔((1))

" جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے علی مولا ہیں، اے اللہ! تو اس کے دوست کو دوست رکھ اور اس کے دشمن کو دشمن رکھ۔"

یہ حدیث صحیح اورمتواترہ ہے اور بہت سے صحابہ اور صحابیات اس کے راوی ہیں، قرائن اور شواہد سے واضح ہے کہ آپ صلی الله علیه و آله نے حضرت علی علیه السلام کو اپنا خلیفہ بلا فصل قرار دے دیا۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے قرآن اور اہل بیت (علیهم السلام) کو حق کا معیا ر اور میزان قرار دیا اورواضح طور پرفرمایاکہ جس نے ان دونوں کی پیروی ا ور ہمراہی کی وہ ہدایت، نجات اور سعادت پائے گا اور جس نے ان کی مخالفت اور دشمنی کی وہ گمراہ ہوکر جہنم کا ایندھن بن جائے گا۔

ص: 44


1- ۔ ینابیع الموده، ج٢، ص ٣٥؛ الغدیر، علامہ امینی؛ ١٩٤؛ نسائی، کتاب الخصائص، ص 31؛ غایۃ المرام، ص79۔

حضرت علی علیه السلام کی مظلومیت

تاریخ کے سب سے بڑے مظلومحضرت علی علیه السلام اس عظیم الشّان شخصیّت کو کہتے ہیں کہ جن کے قوّتِ بازو سے کفر کی کمرشکستہ ہوئی اور شرک و بت پرستی کا غلبہ ختم ہوا نیز آپ کے ذریعے عرب میں اسلام پھیلا اور لوگ دین اسلام کے گرویدہ ہوئے آپ ہر معرکہ میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله کے لشکر کے علمدار اور فاتح قرار پائے۔ یہاں تک کہ ملائکہ ٔ مقربین نے یہ اعلان کیا: ”لا فتیٰ الا علی لا سیف الا ذوالفقار“((1))

"علی کے سوا کوئی جوان مرد اور ذوالفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں۔"

حضرت علی علیه السلام کی وصایت و ولایت اور امامتِ بر حق کی جتنی زیادہ تاکید پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله نے فرمائی تھی بعد از رحلت پیغمبر صلی الله علیه و آله جو حسد اور کینہ، زمانہٴ جاہلیت سے لوگوں کے سینہ میں چھپا ہوا تھا، کھل کر سامنے آ گیا، ابھی آپ خاتم الانبیأ صلی الله علیه و آله کی آخری رسومات، غسل و کفن اور تدفین سے بھی فارغ نہ ہوئے تھے کہ آپ کے خلاف سازشوں کے جال بچھنا شروع ہو گئے۔ آپ اور آپ کے خاندان پر وہ ظلم ڈھائے گئے کہ جن پر زمین وآسمان روئے اور قیامت تک مؤمنین گریہ کناں رہیں گے۔

بیعت کا مطالبہ

راوی کہتا ہے: مسلمانوں کے خلیفہ اول کے سامنے حضرت علی علیه السلام کو پیش کیا گیا تو آپ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور گلے میں رسّی کا پھندا تھا۔

قالوا لہ :بایع!

"انہوں نے حضرت علی علیه السلام سے کہا: بیعت کرو!"

ص: 45


1- ۔ تاریخ طبری ،ج ٢، ص ١٩٧؛ فرائد السمطین، ج ١ ، ص ٢٥٢ ؛ المناقب خوارزمی، ص١٠٧۔

قال :فان لم أفعل؟

حضرت علی علیه السلام نے فرمایا: "اگر میں بیعت نہ کروں تو تم کیاکرو گے؟"

قالوا: واللّٰہ الّذی لا الہ الّا ہونضرب عنقک!

"اُن لوگوں نے کہا:اگر بیعت نہیں کروگے تو خدا ئے واحد کی قسم ہم تمہیں قتل کردیں گے"

”قال:أ ذا تقتلون عبد اللّٰہ وأخا رسولہ!“

حضرت علی علیه السلام نے فرمایا: "اس صورت میں تم اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی الله علیه و آله کے بھائی کو قتل کروگے؟"

قال عمر: امآ عبد اللّٰہ فنعم واما اخو رسول اللّٰہ فلا((1)

عمر نے کہا: آپ یہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، یہ تو صحیح ہے، مگر آپ کا یہ کہنا کہ میں رسول صلی الله علیه و آله کا بھائی ہوں غلط ہے۔

اس وقت ابو بکر چپ بیٹھے ہوئے تھے۔

فقال لہ عمر: ألا

تأمر فیہ فقال: لا اکرھہ علی شیء ما کانت فاطمه علی جنبہ۔

عمر نے ان (ابو بکر) سے کہا: کیا آپ اپنا حکم صادر نہیں کریں گے؟

ابو بکر نے کہا: میں ان (حضرت علی علیه السلام ) پر کسی چیز کے بارے میں جبر نہیں کرنا چاہتا جب تک حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام ان کے ساتھ ہیں۔

فلحق علی بقبررسول اللّٰہ صلی الله علیه و آله یصیح و یبکی و ینادی! یابن عمّ : ان القوم استضعفوننی وکادوا یقتلوننی"((2)

ص: 46


1- ۔ اثبات الھدایه، ج٢، ص٣٨٣؛ بحوالہ الامامه و السیاسه۔
2- ۔ الامامهوالسیاسه؛ تلخیص الشافعی، ج٢؛ اعلام النسائ، ج٤۔

راوی کہتا ہے :پس حضرت علی علیه السلام قبر رسول اللہ صلی الله علیه و آله کے قریب ہوئے ہی تھے کہ آپ کی فریاد نکل گئی اور آپ گریہ کرتے ہوئے کہنے لگے:

اے چچا زاد بھائی !اے رسول اللہ صلی الله علیه و آله ! "یہ قوم مجھے کمزور سمجھ رہی ہے اور مجھے قتل کرنا چاہتی ہے” ۔

"وقال لہ عمر:انک لست متروکاً حتّی تباع"

عمر نے ان (حضرت علی علیه السلام ) سے کہا: جب تک بیعت نہیں کروگے تمہیں نہیں چھوڑیں گے ۔

فقال علی”واللّٰہ یا عمر لاقبل قولک ولا ابایعہ“

پس حضرت علی علیه السلام نے فرمایا: اے عمر! خدا کی قسم! میں نہ تیری بات تسلیم کروں گا اور نہ اس کی بیعت کروں گا۔

قال: فرجع یومئذٍ و لم یباع"

پس اس دن حضرت علی علیه السلام بغیر بیعت کیے گھر واپس آگئے((1)

”قالت عائشۃ:لم یباع علی ابن ابی طالب ابابکرحتی ماتت فاطمه“

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں:

حضرت علی علیه السلام نے بالکل بیعت نہیں کی یہاں تک کہ جناب فاطمہ زہرا علیها السلام دنیا سے رخصت ہو گئیں“((2)

ص: 47


1- ۔ الامامه والسیاسه؛ احقاق الحق۔
2- ۔ اثبات الہدایه جلد ٢۔

وقال ابن حجر: واخرجہ الترمذی من حدیث بن رقم ان رسول اللّٰہ صلی الله علیه و آله قال: ”لعلی و فاطمه و الحسن و الحسین انا حرب لمن حاربھم و سلم لمن سالمھم“((1)

ابن حجر کہتے ہیں : اس روایت کو ترمذی نے بھی ابن ارقم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: "جو

شخص حضرت علی علیه السلام ، حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام حضرت امام حسن علیه السلام اور حضرت امام حسین علیه السلام سے جنگ کرے گا میں اس سے جنگ کروں گا اور جو ان سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا"

روی المتقی الہندی عن رسول اللّٰہ صلی الله علیه و آله انہ قال: ”مَن آذیٰ علیّاً فقد آذانی و مَن آذانی فقد آذیٰ اللہ“((2))

متقی ہندی نے رسول اللہ صلی الله علیه و آله سے روایت کی ہے کہ آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا:" جس نے علی ؑ کو ستایا اور دکھ دیا اس نے مجھے ستایا اور تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی"۔

بڑے افسوس کی بات ہے جیسا کہ آپ مذکورہ بالا روایات میں ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ جب حضرت علی علیه السلام نے کہا :کیا تم رسول اللہ صلی الله علیه و آله کے بھائی کو قتل کروگے تو دونوں نے جواب میں کہا :کہ تم برادر رسول نہیں ہو!!

آپ غور و فکرکریں!کیا حضرت علی علیه السلام رسول صلی الله علیه و آله کے بھائی نہیں تھے؟ کیا وہ دونوں نہیں جانتے تھے کہ یہ رسول اللہ صلی الله علیه و آله کے بھائی ہیں، صلح حدیبیہ کے بعد جب پیغمبر

ص: 48


1- ۔ الاصابه، ج٤؛ احقاق الحق۔
2- ۔ کنز العمال، جلد ١١؛ حافظ جسکانی، کتاب شواہد التنزیل،ج2، ص 93؛ ریاض النضرہ، ج2، ص 178؛ ینابیع المودہ،ج2،ص 37۔

اسلام صلی الله علیه و آله مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دے چکے تو آپ صلی الله علیه و آله نے آخر میں سب کو متوجہ کرکے حضرت علی

علیه السلام سے فرمایا: "یا علی! أنت أخی فی الدنیا و الآخره“ (1)

"اے علی ! تم دنیا اور آخر ت میں میرے بھائی ہو"۔

یہ حدیث مواخات بہت سی کتابوں میں بطورمتواتر ذکر ہوئی ہے جیسے الاصابہ ،ابن حجر، صحیح ترمذی، تاریخ بغداد، صحیح ابن ماجہ، ریاض النضرہ، مسند الامام احمداور حلیه الاولیاء وغیرہ۔

در حقیقت دونوں بخوبی جانتے تھے کہ یہ آنحضرت صلی الله علیه و آله کے بھائی ہیں اور یہی خاص وجہ تھی جو آپ سے بیعت پر اصرار کیا جا رہا تھا جس کی تفصیل ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں۔

یہاں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ منکرینِ سیادتِ علویہ اور منکرینِ اخوتِ رسول صلی الله علیه و آله کی ایک ہی کڑی ہے۔ (غور وفکرکیجیے اور حق کو قبول کیجیے)۔

بے شک حضرت امام علی علیه السلام سب سے بڑے مظلوم اور صابرہیں، کافی گواہ ہونے کے باوجود آپ کوحق سے محروم کیا گیا، آپ کے سامنے آپ کی زوجہ مطہرہ سیّده النساء العالمین جناب فاطمہ زہرا علیها السلام بنت رسول اللہ صلی الله علیه و آله کا حق غصب ہوا، ان پر دروازہ گرایا گیا، حضرت محسن ؑکو شہید کیا گیا، رسول زادی پراس قدر مظالم کیے گئے کہ آپ ١٨ سال کی عمر میں یہ کہتے ہوئے دنیا سے رحلت فرما گئیں:

"اللّٰھُّم عَجل وَفٰاتِی سَرِیعاً"((2))

ص: 49


1- ۔ ینابیع المودہ، ج 2، ص 36؛ کفایۃ الطالب، ص 194؛ علی خلیفۂ رسول ، ص 105۔
2- ۔ بحار الانوار، ج٤٣، باب ٧، ص١٧٧۔

"اے اللہ! مجھے جلد موت دے دے”۔یعنی اے بابا! اب ظلم برداشت کرنے کی قوت ختم ہو چکی ہے“۔جن کے بارے پیغمبر صلی الله علیه و آله کا ارشاد ہے:

"فاطمۃ بضعۃ منی من آذاھا فقد آذانی"(1)

ٖفاطمہ ؑمیرا ٹکڑا ہے جس نے اسے دکھ دیا اس نے مجھے دکھ دیا۔

حضرت علی علیه السلام اور حضرت فاطمہ علیها السلام کو دکھ دینا گویا پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کو دکھ اور تکلیف پہنچانا ہے جو اللہ تعالیٰ کے غیض و غضب کا باعث ہے اس بنا پر یہ گناہ کبیرہ ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی صلی الله علیه و آله کو اذیت اور دکھ دینے والوں پر لعنت کی ہے:

﴿اِنَّ الَّذِینَ یُؤذُونَ اﷲَ وَرَسُولَہُ لَعَنَھُمُ اﷲُ فِی الدُّنیَا وَالآخِرَهِ وََعَدَّ لَھُم عَذَابًا مُہِینًا﴾(2)

" جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہے اور اس نے ان کے لیے ذلّت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔"

بظاہرمسلمان کلمہ اورنماز پڑھنے والے، حافظ قرآن لیکن دل میں حضرت علی علیه السلام سے بغض و عداوت رکھنے والے منافقین نے حضرت علی علیه السلام اور ان کی اولاد پر وہ کون سا ظلم ہے جو نہ کیاہو بلکہ کربلا میں توظلم کی انتہا کر دی، خود ظالم اپنے ظلم پر گریہ کنا ں نظر آئے۔ ناموسِ علی علیه السلام کو بازاروں اور شرابیوں کے درباروں میں لے جایا گیا۔

ص: 50


1- 1۔ سنن الکبریٰ،ج 15، ص 276، ح 21460؛ صحیح بخاری، ج 4، ص 252،ح3714۔ صحیح مسلم، ج4، ص1512، ح 2449و 94۔بحارالانوار، ج43، ص 39،ح40؛ کنزالعمال، ج12،ص 111،ح34241
2- ۔ سوره الاحزاب آیه ٥٧۔

اولاد علی علیه السلام کو زندہ دیواروں میں چنوایا گیااور اندھے کنوؤں اور قید خانوں میں ڈالا گیاان کو کہیں چین سے رہنے نہ دیا بلکہ چن چن کر ذبح کیا گیا۔

کون نہیں جانتا کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کے نزدیک ان محبوب ترین ہستیوں کا جنازہ رات کو اٹھا اور ١٥٠ سال تک آپ کا مرقد مطہر لوگوں سے پوشیدہ رکھا گیا، کہ کہیں ظالم دشمن، جسم اطہر کی توہین نہ کریں۔

کئی سال تک بنی امیہ کے حکمران اور ان کے ٹکروں پر پلنے والے آپ پر سبّ و شتم کرتے رہے، آج بھی ناصبی،صہیونی، استعماری اور یزیدی قوّتیں پیغمبر صلی الله علیه و آله اور ان کے محبوب بھائی حضرت علی علیه السلام اور ان کی مظلوم اولاد کے خلاف توہین آمیز کتابیں اورمضامین لکھ رہے ہیں اور اپنی تقریروں اور تحریرو ںمیں کفر آمیز باتوں کا اظہار کر رہے ہیں، شیطانی طاقتیں ان کی حمایت کر رہی ہیں۔ کیا یہ سب کچھ رسول اللہ صلی الله علیه و آله کو دکھ دینا نہیں! آج بھی آپ کی مظلومیت نمایاں ہے۔ لہذا تمام غیرت مندمسلمان، حضرت علی علیه السلام کی ذرّیت اور ان کے چاہنے والےمتحد ہو کر ان منافقین ، ننگ دین اور ننگ قوم قوّتوں کے مقابلہ کے لیے کوئی مؤثر قدم اٹھائیں۔

حضرت اُمُّ البنینؑ اور شہادت امیر المؤ منین ؑ

حضرت اُمُّ البنین علیها السلام اگرچہ ہمیشہ ہی اپنے شوہر نامدار، محبوب مصطفی صلی الله علیه و آله ، ولی خدا حضرت امام علی مرتضیٰ علیه السلام کی عبادات اور مناجا ت کو دیکھتی اور سنتی رہتی تھیں لیکن انیسویں 19؎رمضان المبارک کی رات کچھ عجیب سا سماں تھا، آپ فرماتی ہیں:مولائے کائنات بار بار آسمان کی طرف نگاہ کرتے اور فرماتے تھے:

"واللہ ما کذبت وانھا اللیله التی وعدت بھا"((1)

ص: 51


1- ۔ البحار ج ٤٢، ص٢٣٨ ؛ المناقب، ج ٣ ، ص ٣١٠۔

”خدا کی قسم! نہ جھوٹ کہا ہے اور نہ مجھے جھٹلایا گیا ہے، یہی وہ رات ہے، جس کا مجھ سےوعدہ کیا گیا ہے“۔

جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے پوچھا: اے میرے سیّد وسردار!اے امیر المٔومنین علیه السلام ! کیا آج شب قدر ہے؟

حضرت علی علیه السلام نے جواب دیا! ہاں یہ شب، وعدہ کی شب ہے۔

پھر فرمایا:اے امُّ البنین!میں عباس علیه السلام کے بارے میں تم سے وصیت کر رہا ہوں کہ وہ اپنے بھائی حسین علیه السلام کو اس دن فراموش نہ کر ے کہ جس دن ان کا کوئی یاور ومدد گار نہ ہوگا۔

لہذا جب ١٩ رمضان کی سپیدہ ٔصبح نمودار ہوئی تو حضرت علی علیه السلام یہ کہتے ہوئے گھر سے نکلے:

اشدد حیازیمک للموت فان الموت لا قیک

ولا تجزع من الموت اذا حلّ بوادیک

موت کا استقبال کر نے کے لیے آمادہ ہو جاؤ، کہ مو ت ہمارے پاس آرہی ہے اور جب بھی مو ت تمہاری وادی سے گزرے تو صبر کرنا((1)

جس وقت جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے احساس کیا کہ شاید یہ ولی خدا کے وداع کی رات ہے تو غم واندوہ کے عالم میں آپ کی آنکھوں سے آنسوجاری ہو گئے اور اس وقت کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔

ص: 52


1- ۔ المناقب، ج ٢، ص٣١٠۔

جب حضرت علی علیه السلام مسجد کو فہ پہنچے توآپ خضوع و خشوع کے ساتھ نماز میں مشغول ہو گئے توکمین گاہ سے اچانک ابن ملجم نے زہر آلود تلوارسے آپ کے سر مبارک پر وار کیا تواس پر آپ نے فرمایا: ”فزت بربّ الکعبہ“ ربّ کعبہ کی قسم !میں کا میاب ہو گیا((1)

جناب جبرائیل علیه السلام نے زمین و آسمان کے درمیان فریاد بلند کی کہ جسے ہر بیدار ضمیرانسان نے سنا:

تھدّمت و اللہ ارکان الھدیٰ قتل علی المرتضی((2))

خدا کی قسم ہدایت کے ستو ن منہدم ہوگئے علی مرتضی علیه السلام شہید ہو گئے۔

جب جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے یہ ندا سنی تو گریہ کر تے ہوئے فریاد کی، اے انبیاء کے وارث! اے افضل الاوصیاء! اے سید المسلمین! اے سردارِ دین مبین! اے بہترین سجدہ کرنے والے! اے خدائے واحد کے عبادت گزار! اے غریبوں اور یتیموں کے خدمت گذار! حضرت اُمُّ البنین علیها السلام فریاد کناں تھیں، آپ کی ایک بیٹی جناب خدیجہ بنت امام علی علیه السلام نے جب یہ خبر سنی تو برداشت نہ کر سکی اور جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی!! اس کے بعدپورا شہر ماتم کدہ بن گیا۔

کائنات میں یہ سعادت آپ ہی سےمخصوص ہے کہ حق کے ولی کی ولادت و ظہور بھی بیت اللہ میں اور شہا دت و عروج بھی خدا کے گھر میں نصیب ہوئی۔

به عالم نباشد به کس این سعادت

به کعبه ولادت، به مسجد شهادت

ص: 53


1- ۔ المناقب ج ٢ ص ٣١٢۔
2- ۔ بحارالانوار ج٢، ص ٢٨٢ ؛ غزوات امیرالمؤمنین -، ص ٢١٩۔

دنیا سے وداع کے وقت حضرت امام علی علیه السلام نے چار بیویاں چھوڑیں، جناب اُمُّ البنین علیها السلام ، جناب امامہ، جناب لیلیٰ تمیمی اورجناب اسماء بنت عمیس((1)

جناب اُمُّ البنین علیها السلام حضرت امام علی علیه السلام کی شہادت کے بعد طولانی مدت تک بقیدحیات رہیں اور آپ نے کبھی دوسری شادی کا تصور تک نہیں کیا اور یہی حال امامہ و اسماء بنت عمیس ولیلیٰ کا بھی ہے۔

ان چاربیویوں نے اپنے شوہرسیّد الاوصیأ حضرت علی علیه السلام کے ساتھ وفاداری کا حق اداکیا((2)

یہاں تک کہ ایک بار مغیرہ بن نوفل اور ایک بار ابو ھیاج ابن سفیان نے امامہ سے شادی کی درخواست کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور حضرت علی علیه السلام کے حوالے سے حدیث نقل کی کہ آپ نے فرمایا:رسول خدا صلی الله علیه و آله اورآپ کے جانشین کی زوجہ کو ان کی وفات کے بعد کسی دوسرے سے شادی نہیں کر نی چاہیے اسی بناپر ان چاروں بیویوں نے کسی سے شادی نہیں کی((3)

یہ چار باوفا عظیم المرتبت خواتین:جناب اُمُّ البنین علیها السلام ، جناب امامہ، جناب لیلیٰ اورجناب اسماء بنت عمیس، حضرت علی علیه السلام کی شہادت و عروج کے بعد آخری عمر تک بغیر شادی کے رہیں۔ جناب اُمُّ البنین علیه السلام نے اپنے شوہر کی زندگی اور شہادت کے بعد بھی وفا اور فدا کاری کی مثال قائم کی۔

ص: 54


1- ۔ تذکره الخواص، ص١٦٨۔
2- ۔ کشف الغمہ، ص ٣٢؛ فصول المہمہ، ص ١٤٥؛ مناقب ابن شہر آشوب، ج ٢، ص٧٦؛ مطالب السؤل ص٦٣۔
3- ۔ مناقب ابن شہر اشوب، ج ٢، ص٧٦۔

21 رمضان المبارک 40 ہجری میں حضرت علی علیه السلام کی شہادت کے وقت جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے بڑے فرزند ارجمند جناب عباس علیه السلام کی عمر ١٥سال سے کم تھی۔ آپ اپنے بھائیوں کے ساتھ شفقت پدری سے محروم ہو گئے تو حضرت ام البنین علیها السلام نے آپ ؑکی منشا کے مطابق اولاد کی تربیت کا حق ادا کیا ۔

آپ بیس 20 سال تک برادر رسول صلی الله علیه و آله ، اللہ کے ولی کی شریک حیا ت رہیں پھر ان کی شہادت کے بعد بیس 20 برس تک خاندان رسالت و امامت میں خاص ادب و احترام پایا۔

ص: 55

چوتھا باب

اُمُّ البنینؑ اور اولادِ زہرا ؑ

جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کی اولادسےعقیدت اور محبت کا اندازہ بعض تاریخی منا ظرسے لگایا جا سکتا ہے۔

جب نکاح کے بعد آپ نے امیرالمؤمنین علیه السلام کے گھر قدم رکھا۔ اس وقت حضرات حسنین شریفین’مریض تھے۔ آپ نے ایک شفیق ماں کی طرح بچوں کی تیمارداری کی۔ اُن کے پاس راتیں جاگ کر بسرکیں۔ان کے آرام واحترام کا بہت زیادہ خیال رکھتیں اُن سے نہایت محبّت آمیز سلوک ہی کی بنا پر حسنین’کو آپ میں ماں کی جھلک نظر آنے لگی۔ اولاد فاطمہ زہرا علیها السلام آپ کو ماں کہہ کر پکارتی تھی ۔

جب بھی حضرت علی علیه السلام آپ کوفاطمہ کے نام سے پکارتے تو بچے بے تاب ہوجاتے تھے۔ اس لیے آپ نے حضرت علی علیه السلام سے ایک دن یہ عرض کی کہ اے میرے

ص: 56

آقا و مولا مجھے میرا نام لے کر نہ پکارا کریں چوں کہ" فاطمہ" کا نام سن کر بچے غم زدہ ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ مولا آپ کو اُمُّ البنین علیها السلام (بیٹوں کی ماں)کہا کرتے تھے جب کہ آپ کے یہاں ابھی کسی فرزند کی پیدائش نہیں ہوئی تھی۔

یہ آپ کی خوش اخلاقی،

وفاداری اورما متا کاکردار ہی تھا کہ حضرت زینب علیها السلام اورحضرت ام کلثوم علیها السلام

اکثرآپ کے دیدار اور ملا قات کے لیے آتی تھیں۔

شہیداول نے اپنی کتاب ”زینب الکبری“ میں اس طرح نقل کیاہے کہ حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کی عظمت کا اندازہ، ان کی اور اولادِ فاطمہ علیها السلام کے در میان محبّت سے ہو تا ہے کہ جب حضرت زینب علیها السلام کربلا سے واپس آئیں تو سب سے پہلے جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے دیدار و تسلیت کے لیے حاضر ہوئی، اسی طرح ایّام عید میں بھی آپ کے دیدار کے لیے جایا کرتی تھیں((1)

یہ ساری باتیں ایک ایسی خاتون کے لیے قابل تعجب نہیں جو کل ّایمان کی شریک حیات ہو جس نے امام المتقین علیه السلام کے اخلاق وکردار سے درس لیا ہو جو خود معرفت و عرفان کی بلندیوں پر فائز ہو۔

حضرت اُمُّ البنینؑ اورحضرت امام حسینؑ

مدینہ میں جس وقت حضرت امام حسین علیه السلام ولیدابن عتبہ کے پاس پہنچے اور دریافت کیا: تو نے مجھے کیوں بلایا ہے؟

ص: 57


1- ۔ از مجموعہ شھید اول، زینب کبری ص ٢٥۔

اس نے کہا: مجھے یزید کا حکم آیا ہے کہ آپ سے اس کے لیے بیعت لوں تو آپ نے فرمایا: ”ہم خاندانِ نبوت اور معدنِ رسالت ہیں اورہمارا گھر فرشتوں کے آنے جانے کا مرکز ہے اور مقام نزول رحمت الہی ہے، خدا نے خلقت کا آغاز ہم سے کیا اور ہم پر ختم کرے گا۔ البتہ یزید فاسق اور شراب خوار، نفس محترمہ کا قاتل اورسر عام فسق و فجور کاارتکاب کرنے والا ہے، پس مجھ جیسا اس جیسے کی ہرگز بیعت نہیں کر سکتا“((1)

واضح رہے کہ بیعت فقط معصوم کی ہو سکتی ہے غیر معصوم کی بیعت جائز نہیں چہ برسد کہ فاسق معصوم ہستی سے بیعت کا مطالبہ کرے یہ تو نظام قدرت کے خلاف ہے۔

فرزند رسول اللہ صلی الله علیه و آله حضرت امام حسین علیه السلام نے نظام قدرت اوردین اسلام کی بقا کے لیے بیعت کا مطالبہ مسترد کردیا اور یزید کے خلاف قیام کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ میں کسی غرور و تکبر یا حکومت کی لالچ میں قیام نہیں کررہا ہوں بلکہ میرے قیام کا مقصد محض اپنے جدِ امجد رسول اکرم صلی الله علیه و آله کی امت کی اصلاح ہے۔

جب لوگو ں کو معلوم ہوا کہ آپ نےبنی امیہ کی غاصبانہ حکومت کے خلاف قیام اور آپ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے عازم سفرہیں، تو کئی ہاشمی جوان وفود شوق وایمان سے آپ کے ہمراہ ہوئے، بہت بڑے بڑے صحابی آپ کوخدا حافظ کہنے کے لیے آئے۔

اُمُّ المؤمنین حضرت اُمُّ سلمیٰ  اورجناب اُمُّ البنین علیها السلام بھی فرزند رسول صلی الله علیه و آله اور رسول زادیوں کو خدا حافظ کہنے آئیں نیزجناب اُمُّ البنین علیها السلام نے اپنے فرزندوں اور تمام ہاشمی جوانوں کو حضرت امام حسین علیه السلام کی پیروی اوران کے ساتھ ہر حال میں مکمل جاں نثاری اور فداکاری کی تاکید فرمائی۔

ص: 58


1- ۔ ناسخ التواریخ، ج١، ص٣٨٦؛ سفینه النجاه، ص ١٦٨۔

جناب اُمُّ البنینؑ اور خبر شہادت حضرت امام حسینؑ

بشیرکا بیان ہے کہ: جب آلِ محمد (علیهم السلام) کا کاروان، زندانِ شام سے رہائی کے بعد واپس کربلا اور پھر وہاں سے مدینہ کے پاس پہنچا تو حضرت امام زین العابدین علیه السلام نے اونٹ سے سامان سفر اتارا اور خیمہ نصب کیا، خواتین کو سواریوں سے اتارا اور پھر مجھ سے فرمایا: اے بشیر! خداتمہارے باباپر رحمت نازل فرمائے وہ بہت اچھے شاعر تھے کیاتم بھی اشعار کہتے ہو؟ بشیر کہتے ہیں: میں نے عرض کیا!ہاں اے فرزندِرسول صلی الله علیه و آله !میں بھی شعر کہتا ہوں تو حضرت امام زین العابدین علیه السلام نے فرمایا: بشیرجاکراہل مدینہ کو میرے باباحسین علیه السلام کی شہادت کی خبردو!

بشیرکہتا ہے: میں گھوڑے پر سوار ہو ا اور تیزی سے مدینہ میں داخل ہوگیا جب میں مسجد نبوی صلی الله علیه و آله کے پاس پہنچا تو میں نے بلند آواز میں گریہ کرتے ہوئے یہ شعرپڑھا:

یااھل یثرب لامقام لکم بھا

قتل الحسین فادمعی مدرار

اے اہل مدینہ! اب مدینہ تمہارے رہنے کا مقام نہیں رہا! کیوں کہ حضرت امام حسین علیه السلام شہید کر دیئے گئے ہیں پس مسلسل گریہ کرو۔

الجسم منہ بکربلا مضرّج

والراس منہ علی القفا ه یدار

ان کا جسد اطہرکربلا میں خاک و خون میں غلطاں ہے، اور ان کا سر نوک نیزہ پر بلند کرکے دیار بدیار پھرایا جارہاہے۔

ص: 59

اس وقت مدینہ کی تمام خواتین گھروں سے باہر آگئیں اور اپنے بالوں کو پریشان کرلیا اورسر پیٹنے لگیں، میں نے اس دن سے زیادہ گریہ اور مسلمانوں کے لیے اس سے زیادہ سخت دن کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ((1))

جس وقت بشیر حضرت امام زین العابدین علیه السلام کے حکم کی تعمیل میں مدینہ میں داخل ہوا اور لوگوں کو کربلا کے ماجرا اور اہل حرم کی واپسی کی خبر دے رہا تھا تو راستہ میں جناب اُمُّ البنین نے اسے دیکھ کر پوچھا! اے بشیر!میرے حسین علیه السلام کی کیا خبر ہے؟

بشیر نے کہا: اے اُمُّ البنین علیها السلام ! خدا آپ کو صبر دے کہ آپ کے بیٹے عبا س علیه السلام شہید ہو گئے، جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے پھر کہا: مجھے ابا عبداللہ امام حسین علیه السلام کی خبر دو! بشیر نے ان کے چاروں فرزندوں کے نام لے کر خبرِ شہادت دی، مگر جناب اُمُّ البنین علیها السلام

باربار حضرت امام حسین علیه السلام کی خبرمعلوم کر رہی تھیں۔

جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے بشیرسے فرمایا:”أخبرنی عَن ابی عَبدِاللہِ الحُسَین، اَولادِی وَ مَن تَحتَ الخَضراءِ کُلُھُم فدا لأبی عَبدِاللہ الحُسَین“۔ ” اے بشیر!میرے فرزند اور جو کچھ آسمان کے نیچے ہے یہ سب حضرت ابی عبداللہ امام حسین علیه السلام پرقربان ہوں، مجھے ابا عبداللہ حسین علیه السلام کی خبر سناؤ“۔

پس جیسے ہی بشیر نے حضرت کی خبرِ شہادت دی تو آپ نے ایک چیخ مارکر کہا:”قد قطعت نیاط قلبی“اے بشیر! تم نے میرے دل کی رگیں کاٹ دیں "گویا میرے دل کے ٹکڑ ے ٹکڑے کردیئے،پھر آپ کی صدائے گریہ بلند ہوگئی۔

ص: 60


1- ۔ اللھوف علی قتلی الطفوف، ص 86۔

بشیر نے کہا:"اے شہیدوں کی ماں! خداوند عالم آپ کو اس عظیم مصیبت پر صبر اور اجر کثیر عطافرمائے"۔

یہ تاریخی روایت جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی قوت ِایمان اور حضرت امام حسین علیه السلام سے بے حد محبّت کو واضح و آشکار کر تی ہے کیوں کہ آپ حضرت امام حسین علیه السلام سے منصب امامت کی خاطر محبّت ومودّت رکھتی تھیں اس طرح جناب اُمُّ البنین علیها السلام کا یہ قول کہ میرے چاروں فرزند امام حسین علیه السلام پر قربان ہوں مجھے میرے حسین علیه السلام کی خبر دو، یہ جملہ آپ کے عظیم ترین درجہٴ ایمان پر فائز ہونے کو آشکار کر تاہے((1)

علامہ مامقانی

لکھتے ہیں: ”یہ شدید محبت، آپ کے درجہٴ ایمان کی بلند ی اور مقام امامت کی معرفت کی دلیل ہے کہ آپ اپنے بے نظیر چارفرزندوں کی شہادت کو امام وقت کے دفاع میں آسان تصوّر کرتی ہیں“۔((2)

جناب اُمُّ البنینؑ کی حضرت زینبؑ سے ملاقات

بیان کیا جاتا ہے کہ جب اہل بیت (علیهم السلام) مدینہ میں داخل ہوئے تو جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی حضرت زینب علیها السلام سے ملاقات ہوئی تو یہ قیامت خیز اور بہت درد ناک منظر تھا ہر طرف نوحہ و فغاں اورگریہ وماتم سے کہرام بپا تھا، جب آپ نے ان سے پوچھا! ”اے امیر المومنین علیه السلام کی صاحبزادی!میرے بچوں کی کیا خبر ہے” حضرت زینب علیها السلام نے کہا، ”امّاں! وہ سب شہید ہو گئے“۔

ص: 61


1- ۔ اُمُّ البنین علیها السلام نمادی از خود گزشتگی، ص ٢٦؛ کتاب حضرت زینب کبری علیها السلام ، ص١٣٨؛ ادب الطف، ج ١، ص ٧٤۔
2- ۔ تنقیح المقال ج ٣، ص٧٠۔

جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے عرض کی!”سب حضرت امام حسین علیه السلام پر قربان ہوگئے!الحمد للہ، مگر مجھے بتایئے میرے حسین علیه السلام کی کیا خبر ہے“؟

حضرت زینب علیها السلام نے کہا:"وہ بھی تشنہ لب شہید کردیے گئے"۔

یہ سنکر جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے اپنے ہاتھو ں کو سر پر مارا اور بلند آواز میں روتے ہوئے کہا:واحسیناہ!واحسیناہ!واحسیناہ! ہائے میرے پیارے حسین! ہائے میرے پیارے حسین! ہائے میرے پیارے حسین!

پھر حضرت زینب علیها السلام نے کہا:” امی جان! آپ کے بیٹے عباس علیه السلام کی ایک یاد گار لے کر آئی ہوں“۔ جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے پوچھا!” وہ یادگار کیا ہے”؟

اس وقت حضرت زینب علیها السلام نے جناب عباس علیه السلام کی خون آلود سپر چادر سے نکالی، بس جیسے ہی جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے اسے دیکھا تو آپ تاب نہ لاسکیں اور بے ہوش ہو کر زمین پر گرگئیں۔((1)

اُمُّ البنین ؑ اور بقیع میں نوحہ سرائی

احمد ابن سعید حضرت امام محمد باقر علیه السلام سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:"زیدا بن رقاد جھنی ا ور حکیم ابن طفیل طائی، دونوں جناب عباس علیها السلام کے قتل میں شریک تھے۔

واقعہ ٴکربلا کے بعد ان چار فرزندوں کی ماں جناب اُمُّ البنین علیها السلام بقیع میں آکر اپنے فرزندوں کے لیے غم ناک نوحہ سرائی اورگریہ کرتی تھیں اور لوگ آپ کے اطراف میں جمع

ص: 62


1- ۔ تذکره الشہداء ملا حبیب اللہ کاشانی، ص ٤٤٣۔

ہوجاتے تھے اور آپ کے ساتھ مل کر گریہ کیا کرتے، یہا ں تک کہ ایک دن مروان ابن حکم (حاکم مدینہ)جیسا دشمن بھی بعض لوگوں کے ساتھ بقیع میں پہنچااور ان کے ساتھ وہ بھی گریہ کرنے لگا"۔

علامہ سماوی کتاب ”ابصار العین“ میں ناقل ہیں:

جناب اُمُّ ا لبنین علیها السلام ہر روز بقیع میں آکر مرثیہ پڑھتی تھیں اس طرح کہ مروان (آپ کاسنگ دل دشمن ہونے کے باوجود بھی)آپ کانوحہ سن کر گریہ وبکا کرنے لگتا تھا۔

جب مدینہ کی خواتین آپ کو اُمُّ البنین علیها السلام کہہ کر پکارتیں اور تسلیت پیش کرتیں تو آپ یہ اشعار پڑھتی تھیں!

لا تَدعُونی وَیکِ اُمُّ البَنِینِ تَذَکّرُونی بِلیُوثِ العَرِینِ

کانت بَنُون لِی ادعٰی بِھِم

وَالیَوم اَصبَحت وَ لا مِن بَنِینِ((1))

"ہائے مجھے اب اُمُّ البنین کہہ کر مت پکارو، مجھے ان شیر دل بیٹوں کی یاد مت دلاؤ۔جب میرے بیٹے تھے تو میں اُمّ البنین تھی، آج نہ وہ بیٹے ہیں نہ میں اُمّ ُالبنین ہوں۔"

اُمُّ البنین علیها السلام اور پیامِ عاشورا

صاحب کتا ب ”اعلام النسا” لکھتے ہیں کہ حضرت اُمُّ البنین بہت ہی اچھےا شعار بھی کہتی تھیں، انھوں نے حالات زمانہ کے پیش نظر مرثیہ اور نوحہ کے ذریعہ واقعات کربلا، پیام ِسید الشہداء اور مظلومیت ِاسیران اہل بیت (علیهم السلام) کو بہت عمدہ انداز سے اجاگر کیا اور آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا حق ادا کیا۔

ص: 63


1- ۔ علی ربّانی خلخالی، ستارہ درخشان مدینہ، ص 137۔138؛ ابصار العین، ص 32۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جناب اُمُّ البنین علیها السلام ہر روزاپنے پوتے جناب عبیداللہ فر زند جناب عباس علمدار علیه السلام کے ساتھ بقیع میں جاکر نوحہ سرائی اور گریہ کرتی تھیں، اس طرح ان کی تربیت کر رہی تھیں اور ان کو اس پیغام کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری سونپ رہی تھیں، وہ خاندانی اعتبار سے ایک بہادر قبیلہ سے تعلق رکھنے والی دلیرخاتون تھیں اس لیے حکومت کی کسی دھمکی سے ہر گز خوف زدہ نہ ہوئیں بلکہ پوری شجاعت کے ساتھ جناب زینب کبری علیها السلام ٰ کے ہمراہ اس عظیم ذمہ داری کو پورا کیا، وہ اکثر یہ دردناک اشعار پڑھتی تھیں!

یامن رای العباس کرّ

علی جماہیر النقد

ووراہ من ابناء حیدر کلُ لیث ذی لبد

انبئت ان ا بنی اصیب

برأسہ مقطوع ید

ویلی علی شبلی وأمال برأسہ ضرب العمد

لو کا ن سیفک فی یدیک لَمادَ نا منہ أحَد

((1))

آپ اپنے شجاع وبہادر فرزندوں کے غم میں روتی تھیں اور کہتی تھیں:

اے وہ کہ جس نے میرے بہادر بیٹے عباس علیه السلام کو دشمن پر حملہ کرتے دیکھا، وہ حیدر کرار کا فرزند اپنے باپ کی طرح بڑی جرأت سے حملہ کرتا تھا اورجناب علی علیه السلام شیر خدا کے دوسرے شیر دل بیٹے بھی اپنی مثال آپ تھے، آہ مجھے خبر دی ہے کہ میرے بیٹے کے سر پر عمود آ ہنی سے وار کیا گیا جب کہ اس کے بدن کے ساتھ ہاتھ نہ تھے، ہائے افسوس! میرے بیٹے کے سر پر کیا مصیبت بھری ضرب لگی، اگر میرے بیٹے کے بدن کے ساتھ ہاتھ ہوتے اور ہاتھ میں تلوار ہوتی تو کسی کو ان کے نزدیک آنے کی جرأت نہ تھی۔

ص: 64


1- ۔ ابصارالعین، ص ٣٢؛ ادب الطف، جلد ١، ص ٧١۔

جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے مجالس ِعزاداری اوراشعار کے ذریعہ واقعہ ٴکربلا اور اپنے بیٹوں کی شجاعت، مظلومیت اور پیغام کو اپنے زمانے کے لوگوں اور آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچایا اور تاریخ کربلا کے حقائق بیان کیے اور آپ نے عزاداری اور مرثیہ کی شکل میں حکو مت وقت پر اعتراض و احتجاج کیا، وہ افراد جو ان مجالس اور اطراف بقیع میں جمع ہو جاتے تھے، وہ بنی امیہ کے حکمرانوں اور کارندوں کی نسبت سخت متنفر ہوجاتے تھے۔

سوال: سید الشّہداء حضرت امام حسین علیه السلام ، جناب عبا س علیه السلام اور آپ کے بھائیوں کی قبر یں میدان کر بلا میں تھیں تو پھرجناب اُمُّ البنین علیها السلام بقیع میں کیوں جا کر گریہ کناں ہوتیں تھیں؟ کیاایسا اس لیے نہیں ہے کہ لوگ وہاں جمع ہو ں اور بزرگان ِاسلام جو اس خاک میں دفن ہیں ان کواور صدراسلا م کے واقعات کو یاد کریں پھر رسول صلی الله علیه و آله زادی، مظلومہ ٔ کونین حضرت حضرت فاطمہ الزہرا علیها السلام کوتعزیت و پرسہ دیتے ہوئے حضرت امام حسین علیه السلام اور ان کے جاں نثاروں کی مظلومیت و غربت پر گریہ کرکے ظالمین سے نفرت کریں؟

دوسرا ہم مسئلہ یہ کہ آخر جنا ب عباس علیه السلام کے فرزند کو اپنے ساتھ کیوں لے جاتی تھیں؟ کیا یہ عمل اس وجہ سے نہیں تھا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کو حقائق سے آگاہ کریں؟ کیا یہ ایک سیاسی تربیت نہیں تھی؟ پس ان کا مقصد یہ تھا کہ پیغام عاشورا کو لوگوں تک پہنچائیں؟ اور اس پیغام رسانی کا پر چم حضرت عباّس علمدار علیه السلام کے فرزند عبیداللہ ابن عبّاس کے ساتھ ہو اور آئندہ ان کی ذرّیت اس فریضے کو انجام دے۔

جناب اُمُّ البنین علیها السلام ایک شجاع و بہادر خاتون تھیں جو شہدائے کربلاکا پیغام عام کرنے میں جناب زینب علیها السلام کے ساتھ ساتھ رہیںا ور اس ذمہ داری کو بطریق احسن انجام دیا

ص: 65

واقعہٴ کربلا کے بعد جب تک زندہ رہیں ہر روزانہ اپنے گھر سے جنت بقیع تشریف لے جاتیں اور مجلسِ شہدائے کربلا برپا کرتی رہیں ۔

جس سے طاغوتی حکومتیں بوکھلا اٹھیں ظالم حکمرانوں سے ہر طرف نفرت کا اظہار عام ہونے لگا یہی وجہ تھی کہ درباری علماء کو منہ مانگے دام دے کر حسب دلخواہ فتوے دلائے گئے اور فرزند رسول صلی الله علیه و آله حضرت امام حسین علیه السلام کی مجالس و عزاداری پر پابندی لگانے کی بھر پور سازشیں کی گئیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جناب عباس علیه السلام کے فرزندجناب عبید اللہ اپنی دادی حضرت اُمُّ البنین علیها السلام ، مادرگرامی جناب لبابہ اور پھوپھی حضرت زینب علیها السلام کے ساتھ ہر مجلس میں موجودہوتے تھے جس میں واقعات عاشورا کو بیان کیا جاتا تھا۔

بعد میں اس مشن کو جناب عبیداللہ ابن حضرت عبّاس علمدار علیه السلام نے ا س طریقے سے آگے بڑھایا کہ مکّہٴ مکرمہ اور مدینہ ٴمنوّرہ میں ان کاہی حکم کار فرما ہوتاتھا وہ اس قدرعام میں مقبول تھے کہ بعد میں آنے والی حکومتوں کو بھی ان کومکہ و مدینہ کا رئیس تسلیم کرنا پڑا، آپ عرصہٴ دراز تک حرمین شریفین کے رئیس و متولی رہے۔

ص: 66

پانچواں باب

اُمُّ البنین ؑ اور زیارت کربلا

یہ روایت مشہور ہے کہ حضرت اُمُّ البنین علیها السلام زیارت کے لیے مدینہ سے کربلائے معلی عراق میں تشریف لائیں تھیں، جب سیّد الشہداء حضرت امام حسین علیه السلام کی زیارت کے بعداپنے فرزند کی قبر مبارکہ کی طرف گئیں تو ایک مقام پر آپ کی حالت غیر ہو گئی تھی اسی مقام پر اب ایک دروازہ ہے۔

حضرت عبّاس علمدار علیه السلام کے روضہٴ مبارکہ کے اس دروازہ پر ”باب اُمُّ البنین علیها السلام “ لکھا ہے اس دروازے پر ایک ضخیم سی زنجیر لگی ہے، زائرین اس زنجیر کو پکڑ کر بے تابی سے گریہ کرتے ہیں اور اپنی حاجتیں باب المراد سے حاصل کرتے ہیں۔

اسی دروازہ ”باب اُمُّ البنین“ سے راستہ تہہ خانہ میں موجود حضرت عبّاس علیه السلام کی قبر اطہر تک جاتا ہے جو کسی خاص موقع پر ہی کھولا جا تا ہے ۔

اک دَرِ اُمُّ البنین ہے روضہٴ عبّاس میں

ص: 67

سنتی ہیں بیٹے سے پہلے عرضیاں اُمُّ البنین ((1)

ص: 68


1- ۔ جناب ڈاکٹر ماجد رضا عابدی بحوالہ کتاب اُمُّ البنین ، ص٣٦٦۔

چھٹا باب

اُمُّ البنین علیها السلام کی مظلومیّت

طول تاریخ میں اولیائے خدا دنیا پرستوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے ہیں، پیغمبرخاتم صلی الله علیه و آله فرماتے ہیں:"مااوذی النّبی مثل ما اوذیت"((1)

کسی نبی کو اتنی اذیت نہیں کی گئی جتنی مجھے اذیت دی گئی اور پھر ایک مقام پر حضرت علی علیه السلام سے فرمایا : " اے علی!میرے بعد میری امت کے اشقیا اور منافق آپ کو دکھ آزار و اذیت پہنچائیں گئے اس پر صبر کرنا"۔

ہم دیکھتے ہیں کہ بعد از پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله اس امت کے حاسدین و معاندین اور اشقیانے آپ سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کو ظلم کا نشانہ بنایا۔آپ کے والدین، آپ کی ازواج مطہرات اور اولاد طاہرین

پر وہ ظلم ڈھائے کہ کئی سو سال گزرنے کے بعداب بھی انسان سن کر لرز جاتا ہے اور زمین و آسمان گریہ کنان ہیں۔

ص: 69


1- ۔ بحار الانوار ج٣٩، ص٥٦۔

چنانچہ حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کو بھی آپ کی زوجہ ہونے اور اہل بیت (علیهم السلام) کا فدائی اور عاشق ہونے کی وجہ سے ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔

آپ سے روایات نقل نہیں کی گئیں، آپ کی سیّد الاولیا ء حضرت علی علیه السلام سے نکاح کے ثمرہ میں ہونے والی اولاد کی سیادت سے انکارکرنے کی جسارت کی گئی،شمر ملعون جیسے شقی کو آپ کے خاندان کا فرد بنانے کی بھی سعی کی گئی حالانکہ اس بدبخت کا حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کے خاندان سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا یہ ناآگاہ اور حقیقت سے بے خبر لوگوں کا افسانہ اور شاخسانہ ہے۔ چوں کہ اموی راویوں کے بے ہودہ پروپیگنڈہ کا اثر ہمارے بعض مؤلفین اور مقررین پر بھی ہوا لہذا ہم نے اس حقیقت سے پردہ اٹھانا ضروری سمجھا۔

شمر ذالجوشن الضبابی کی حقیقت

وہ بنی عذرہ ابن زیدلات قبیلہ کی خناز بنت حارث ابن ضنع کے بطن سے پیدا ہوا، خناز اس بدبودار عورت کو کہتے ہیں جس کوبرص(سفید داغ) کا مرض ہو۔شمر کو برص کی بیماری اپنی ماں سے ورثہ میں ملی تھی۔ اس کے باپ کا نام شرجیل ابن اعورابن عمرضبابی بتا یا جاتا ہے، ضباب ایک خاندانی بیماری کو کہا جاتا ہے اوراسے ذی الجوشن اس لیے کہتے تھے کہ اس کا سینہ ابھرا ہوا تھا۔

اس کے متعلق پیشن گوئی کرتے ہوئے رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے فرمایا تھا:” میں ایک مبروص کتے کو دیکھ رہا ہوں جو میرے اہل بیت (علیهم السلام) کا خون چاٹ رہا ہے“ تاریخ ابن کثیرمیں لکھا ہے کہ شمر کو برص (سفید داغ) کا مرض تھا، وہ انتہائی حریص و لالچی اورحرام زادہ تھا۔

ص: 70

حضرت امام جعفر صادق علیه السلام

فرماتے ہیں :"قاتِلُ الحسینِ بن علیٍ ولد زنا"۔ "حضرت امام حسین ابن امام علی کا قاتل زنا زادہ تھا۔"(1)

شمر اتنا بے شرم تھا کہ اس نے اپنی لڑکی شمرانہ کو یزید ملعون کی خدمت میں دے رکھا تھا، جب ابن زیاد کوفہ کا گورنر بنا توشمر اس وقت یزید کے دربار میں تھا اس نے بھی کوفہ جانے کی اجازت چاہی پہلے تو یزید راضی نہ ہوا لیکن پھر اس کی بیٹی کو بھی اس کے ہمراہ کوفہ روانہ کر دیا، شمرنے کوفہ پہنچ کراپنی بیٹی کوابن زیاد ملعون کی خدمت میں دے دی اور خود اس کا مشیر بن گیا۔

٩ محرم جمعرات کے دن ابن زیاد نے شمر کو چار ہزار فوجی دستہ کے ہمراہ ایک خط دے کربھیجا کہ اگر عمر ابن سعد جنگ سے پہلو تہی کرے تو اسے قتل کرکے لشکر کی کمان ہاتھ میں لے لو ۔ عمر ابن سعداس خط کو پڑھتےہی گھبرا گیا اور فوراً جنگ کا اعلان کر دیا۔

ارباب مقاتل نے لکھا ہے کہ ظلم واستبداد کی یہ منحوس صورت قرآنِ ناطق، نواسۂ رسول صلی الله علیه و آله ، پارہ تن امام علی علیه السلام ا ور پیغمبر صلی الله علیه و آله کی لخت جگر حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کے فرزند ِ ارجمند حضرت امام حسین علیه السلام کے سینہ اقدس پر سر تن سے جدا کرنے کے لیے سوار ہوا تو زخموں سے نڈھال مظلوم امام علیه السلام نے اتمام حجت کے لیے پوچھا !!کیا تو مجھے نہیں جانتا ہے؟ کہنے لگا: تو فاطمہ بنت محمد صلی الله علیه و آله کا بیٹا ہے! آپ نے پوچھا؟ پھر مجھے کیوں قتل کر رہا ہے؟ کہنے لگا:مال و زر کی لالچ میں!!

امام علیه السلام ابھی بارگاہ خداوندی میں سجدہٴ شکر میں تھے کہ اس سنگ دل نے پشت گردن پر ضربیں لگانا شروع کیں، اس حال میں ذبح کرنے کے بعدحضرت کے سر اقدس کو

ص: 71


1- ۔ کامل الزیارات، ص 78؛ کشف الغمہ، ج2، ص 9۔

لے کر ابن زیادملعون کے سامنے رکھ کر ناچنے لگا اور پھرنیزہ پر سوار کرکے تمام لشکر میں گھماتا رہا ہے۔

شام جا کر ایک عرصہ تک انعام کی لالچ میں یزید کی چوکھٹ پربیٹھا رہا مگر کچھ حاصل نہ ہوا توپھر سنان ابن انس اور یزید ابن محارب کے ہمراہ کوفہ گیا وہاں خطرہ محسوس کیا تو بصرہ کی جانب روانہ ہوا، جناب امیر مختار کے غلام کو خبر ہوئی تو اس نے کچھ سوار لے کر اس کا تعاقب کیا اور گلتانیہ نامی مقام پراس کو قتل کر دیا، اس طرح یہ ٦٦ھ میں واصل جہنم ہوا۔(1)

امان نامے کی حقیقت

جب شمر چار ہزار کا لشکر لے کر کربلا روانہ ہو رہا تھا تو اس وقت عبداللہ ابن ابی المحل کلابی جو کوفہ میں ایک مقام رکھتا تھا اس نے ابن زیاد سے یہ کہہ کر کہ ہمارے قبیلہ کی ایک خاتون جناب علی ابن ابی طالب’ کی زوجیت میں تھیں، ان کے چار فرزند وں کے لیے امان نامہ لکھ دیجیے اورپھر وہ امان نامہ اس نے اپنے غلام کزمان کو دے کرشمر کے ہمراہ روانہ کر دیا اب کربلا پہنچ کر شمر بھی اس غلام کے ساتھ گیا اور بقول وہ ”این بنو اختنا“” ہماری بہن کے فرزندکہاں ہیں؟“کہہ کر مخاطب ہوئے اور امان نامہ کی بات کی تو حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کے چاروں فرزندوں نے کہا:

”لَعَنَکَ اللّٰہُ وَلَعَنَ اَمَانَکَ وَآتُومننا وَابن رَسُولِ اللّٰہ لَا اَمَانَ لَہ“((2))

تجھ پر اللہ کی لعنت، تیری امان پر لعنت کیا تو ہمیں امان دے رہاہے اور فرزند رسول صلی الله علیه و آله کو امان نہیں“۔

ص: 72


1- ۔ کتاب ام البنین علیها السلام ، از سید ضمیر اختر نقوی؛ ابصار العین، علامہ سماوی نجفی،ص 41۔
2- ۔ ترجمہ ارشاد مفید، ج ٢، ص ٩١؛ ابصار العین فی انصار الحسین، ص ٤١

یہ جملہ ارباب مقاتل نے نقل کیا ہے، اس سے حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کے فرزندوں کی بلند معرفت اور عشق ِامام حسین علیه السلام کی عکاسی ہوتی ہے نیز شمر اور اس کے ارباب سے شدید نفرت ظاہر ہوتی ہے ۔

اب چوں کہ یہ بنی کلاب کے ایک سردار عبداللہ بن ابی المحل جس نے ابن زیاد سے امان نامہ لے کراپنے غلام کزمان کو اس کے ہمراہ روانہ کیا تھا اور کربلا پہنچ کر دونوں امان نامہ لے کر گئے لہذا عربوں کے رسم و رواج اور عام عرفی محاورہ کے تحت” این بنو اختنا“”ہماری

بہن کے فرزند کہاں ہیں؟“ کہہ کر پکارا تھا ۔حالانکہ شمر بنی ضباب سے تھا ، بنی کلاب سے نہیں تھا۔((1))

ص: 73


1- ۔ ام البنین سیدۃ النساء العرب،سید مہدی الیسویج الخطیب۔

ص: 74

ساتواں باب

اولادِ حضرت اُمُّ البنین علیها السلام

جناب فاطمہ اُمُّ البنین علیها السلام کے حضرت امیر المؤمنین علیه السلام سے عقد کے نتیجے میں چار نامور بیٹے پیدا ہوئے،حضرت عبّاس علیه السلام ،حضرت جعفر ؑ، حضرت عبداللہ ؑ، اور حضرت عثمان ؑ ((1))اور ایک بیٹی جناب خدیجہ ؑ۔((2))

انداز تربیت

شریعت ِاسلامی میں تربیت ِاولاد کو بہت ہی اہمیّت دی گئی ہے ۔اسلام نے اس بات کی بہت زیادہ تاکید کی ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت بہتر سے بہتر انداز میں کی جائے اس لیے کہ جب اولاد کی تربیت اسلامی قوانین کے مطابق بہتر انداز میں کی جائے گی تو پھر اس طرح پورے معاشرے کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ تربیت میں ماں کا اہم کردار ہوتاہے اس بنا پر عورت اصلاح معاشرہ کے لیے ایک معلم کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے کہ ہر انسان کے لیے اولین تربیت گاہ

ص: 75


1- ۔ ارشاد المفید، ص186؛ جمھرۃ انساب الکلبی، ص31؛ عمدۃ الطالب،ص356۔
2- ۔ امّ البنین ، سید ضمیر اختر نقوی۔

ماں کی بابرکت آغوش کو قرار دیا گیا ہے۔ پس ایک شائستہ اور تربیت یافتہ خاتون کے ذریعہ ہی بچوں کی اصلاح ممکن ہو سکتی ہے ۔

ہر انسان ایک عورت یعنی اپنی ماں کی آغوش میں ہی پروان چڑھتا ہے اور وہ عورت اس انسان کے لیے معلم اول قرار پاتی ہے۔ بے شک اسلام شناس اور پاکیزہ عورت کی تربیت کا ہی اثر ہوتا ہے کہ پھرآگے چل کر وہی بچے معاشرہ کی اصلاح و فلاح کے لیے جان و مال سب کچھ قربان کر دیتے ہیں اور اصلاح معاشرہ میں پیش آنے والی مشکلات کو دیکھ کر ذرہ برابر بھی قدم پیچھے نہیں ہٹاتے۔

لہذا ہر عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو بخوبی انجام دے اور اپنی آغوش میں پلنے والے ہر بچہ کی بہترین انداز سے تربیت کرے تاکہ معاشرہ اور سماج کی بھی اصلاح ہو سکے۔

بچوں کی اچھی تربیت کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کی سیرت کو اپنایا جائے جس طرح کہ حضرت اُمُّ البنین علیها السلام نے ان کی سیرت کو اپنا کر عملی نمونہ پیش کیا ہے۔

اولاد کی تربیت کے لیے شائستہ عورت کے ساتھ ساتھ نیک کردار مرداور پاکیزہ ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے یعنی ماں باپ دونوں کو چاہیے

کہ اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت کا خیال رکھتے ہوئے دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں اور یہ دونوں اس وقت اس بار کو اٹھا سکتے ہیں کہ جب پاک ہستیوں کی سیرت کو مدنظر رکھنے کے ساتھ ساتھ دونوں کے مزاج میں ہم آہنگی پائی جاتی ہو لیکن اگر مزاج میں ہم آہنگی نہیں ہے تو پھر اس راہ میں ہر قدم پر مشکلات کا سامنا ہوگا اور اس طرح اچھے انداز میں بچوں کی تربیت بہت مشکل ہے کیوں کہ مزاج میں ہم آہنگی نہ ہونے کی بنا پر دونوں کے درمیان رنجش

ص: 76

پیدا ہوگی جس کے نتیجہ میں آپس میں بد کلامی ہوگی پھر شوہر بیوی کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرے گا اور پھر بیوی بھی اگر سامنے نہ سہی تو عدم موجودگی میں شوہر کو نازیبا الفاظ سے یاد کرے گی جس کے نتیجہ میں بچہ ان دو متضاد مزاجوں کے درمیان پِس کر رہ جاتا ہے جس کا اس پر بہت غلط اثر پڑتا ہے کیوں کہ صبح وشام استعمال ہونے والے یہ نازیبا الفاظ اس معصوم بچہ کےذہن میں نقش ہو جاتے ہیں جو بابا جان نے امی جان کی شان میں اور امی جان نے بابا جان کی شان میں کہے تھے۔

جو بچہ ایسی متضاد آغوش میں پر ورش پاتا ہے جہاں مزاج میں ہم آہنگی نہیں ہوتی تو پھر اس ٹینشن اور اختلاف کے زیر سایہ تربیت پانے والا بچہ جب معاشرہ میں قدم رکھتا ہے تو اس کی اصلاح کے بجائے اس کی کج رفتاری کا باعث بنتا ہے اسے نہیں معلوم کہ میراشرعی وظیفہ کیا ہے بلکہ اس کے ذہن میں وہی نا زیبا الفاظ گالیوں کی شکل میں رہتے ہیں جو والدین کو ایک دوسرے کی شان میں استعما ل کرتے ہوئے سنے تھے، دور حاضر میں کثرت سے اس چیز کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے جنہوں نے ابھی بولنا ہی سیکھا ہے انہیں یہ تو معلوم نہیں کہ اللہ ایک ہے؟ نبی کتنے ہیں؟ معصوم کتنے ہیں؟ لیکن مختلف قسم کی گالیاں ان کی زبان پر آتی رہتی ہیں، اس کی وجہ والدین کی ہی آغوش تربیت ہے۔

کاش یہ بچے ان نازیبا الفاظ کی جگہ قرآنی آیات کے زیر سایہ پرورش پاتے تو کمسنی ہی میں حافظ قرآن ہوسکتے تھے! اور یہ کوئی ناممکن بات نہیں ہے، ایران کی سرزمین پر ایک پانچ سالہ بچے”محمد حسین طباطبائی“ نے اس کم سنی میں قرآن مجید اس طرح حفظ کیا کہ اس نے دور حاضر کے اہل دانش کو حیرت زدہ کر دیا اس نے انسانی ذہنوں کو بیدار کیا ہے کہ اس کم سنی میں دنیا کے دیگر بچے بھی حافظ قرآن ہو سکتے ہیں۔صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اس انداز تربیت سے باقاعدہ آشنا ہوں لہٰذا سخت ضرورت ہے کہ ہم خواب غفلت سے بیدار ہوں اور اس پُر فریب دنیا کے دام فریب میں نہ آئیں۔ حضرت علی علیه السلام و جناب فاطمہ زہرا علیها السلام کی سیرت پر عمل کریں تاکہ ہمارے بچے بھی آگے چل کر ہمارے لیے قابل افتخار، اسلام کے

ص: 77

ہمدرد، معاشرہ کے مصلح اور حضرت امام زما ن عجل الله تعالی فرجه کے جانثار بن سکیں اور یہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب والدین حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کی روشِ تربیت سے آگا ہ ہوں اور ان کے مزاج میں فکری ہم آہنگی ہو اس کے بغیر تربیت کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔

عام طور سے تربیت کی بنیاد والدین ہوا کرتےہیں اوربسا اوقات بعض والدین کے درمیان کچھ بنیادی اختلافات پا ئے جاتے ہیں، جو بچے کی تربیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

جس کے متعدد اسباب ہوتےہیں:

جیسا کہ ہر روز معاشرہ کے اندر دیکھنے میں آتا ہے کہ شادی کو ابھی چند روز ہی ہوئے تھے کہ آپس میں لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے اس پُر سکون اور پُر لطف زندگی کا نقشہ بدل گیا، دن کا چین اور راتوں کی نینداڑ گئی، ذہن کشمکش میں مبتلا رہنے لگا آخر کیوں؟ اس کی بنیا دی وجہ شادی میں سنت رسول صلی الله علیه و آله کو فراموش کر دینا ہے، یعنی والدین جبراً کبھی برادری کی بنیاد پر اپنی اولاد کی شادی کر دیتے ہیں، کبھی کسی لڑکی کے حسن و جمال کو دیکھ کر بیٹے کی شادی اس سے کر ڈالتے ہیں اور کبھی دولت مند لڑکا دیکھ کر اپنی بیٹی اس سے بیاہ دیتے ہیں، اب چوں کہ دونوں کی بنیاد ہی غلط ہے لہٰذا نتیجہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لڑکی، لڑکا یا دونو ںمیں سے کوئی ایک راضی نہیں یا ان میں شرعی اور سماجی شرائط مفقود ہوتی ہیں لیکن والدین نے مال و دولت کے لیے جبراً ًشادی کر دی یا بسا اوقات خود انھوں نے کسی ہوس پرستی اور لالچ کی بنا پر شادی کرلی، لہٰذا چند روز بعد لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے جس کے نتیجہ میں طلاق کی نوبت آجاتی ہے حالانکہ والدین کو جبراً شادی کرنے کا اختیار شریعت نے ہر گز نہیں دیا۔

شریعت کا حکم ہے کہ شادی کے لیے والدین کی رضایت کے ساتھ ساتھ لڑکی اورلڑکے دونوں کا راضی ہونا بھی ضروری ہے چوں کہ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی

ص: 78

گزارنی ہے لہٰذا اس سلسلہ میں شریعت نے اجازت دی ہے کہ لڑکا اور لڑکی شادی سے پہلے ایک دوسرے کے مزاج سے آشنائی کے لیے گفتگو کر سکتے ہیں تاکہ مزاج کی نا ہم آہنگی سے پیدا ہونے والی خرابیوں کا پہلے ہی دن سدّ باب کر دیا جائے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کی بیٹی جناب فاطمہ زہرا علیها السلام کے رشتے آنے لگے تو آپ صلی الله علیه و آله نے ان کی رائے ضرور دریافت کی جب حضرت علی علیه السلام شادی کا پیغام لے کر آئے تو پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے خود فیصلہ نہیں کیا بلکہ آپ صلی الله علیه و آله نے جناب فاطمہ زہرا علیها السلام کے سامنے حضرت علی علیه السلام کا پیغام پیش کیا اور جب آپ کی رضا کا یقین ہو گیا تو پھر مولائے کائنات سے آپ کی شادی کا اعلان کر دیا۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله انسانوں کی اصلاح و تربیت کے لیے آئے تھے ان کا کوئی قول و فعل حکمت سے خالی نہیں، آپ صلی الله علیه و آله کا جناب فاطمہ زہرا کی رضا دریافت کرنا، یہ تمام والدین کے لیے درس ہے کہ وہ اپنی اولاد کی جبرا ًشادیاں نہ کریں بلکہ شادی کرنے سے پہلے اولاد کی رائے ضرور معلوم کر لیں، دستور اسلام اوراپنے تجربات کی روشنی میں ان کی بہتر رہنمائی ضرور کریں مگر ان کو مجبور نہ کریں۔

لہٰذا اس بات کی ضرور ت ہے کہ شادی میں خود ساختہ رسم و رواج کو جو ہمارے درمیان رائج ہو گئے ہیں ختم کرکے اسلامی قانون پر عمل کیا جائے اور دولت کے انبار کو ٹھکرا کر متدین کفو کی تلاش کی جائے، جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے اپنے قول و عمل سے اس بات کا درس دیا کہ آپ صلی الله علیه و آله نے بڑے بڑے رؤسائے عرب کے پیغامات رد کر کے جناب فاطمہ زہرا علیها السلام کے لیے حضرت علی علیه السلام کا انتخاب کیا اور مال دنیا کے بجائے آپ نے ایمان وعمل کو معیار قرار دیا۔

اس طرح جناب فاطمہ زہرا علیها السلام کی شہادت کے بعد حضرت امیر المؤمنین علیه السلام نے پیغمبر صلی الله علیه و آله کے اس فرمان کہ”شادی کرتے وقت١چھے خاندان سے اچھی شریک حیات کا

ص: 79

انتخاب کرو کیوں کہ ماں کے عادات و اطوار کے ساتھ ساتھ ماموں کے صفات بھی بچے میں منتقل ہوتے ہیں“ کو مدّنظر رکھتے ہوئے بھائی عقیل سے مشورہ کرکے بنوہوازن کے ایک سردار اور بہادر قبیلہ سے جناب حزام ابن خالد کی ایک شریف و نجیب، معنوی اور باطنی کمال سے سرشار بیٹی حضرت اُمُّ البنین سے شادی کی۔

اس شادی کے نتیجہ میں آپ کے چار ایسے بیٹوں نے دنیا میں ظہور فرمایا جو سب کے سب اولیائے خدا میں سے تھے اور حضرت امام حسین علیه السلام کے ہمراہ معرکہٴ کربلا میں شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے یہ حضرت اُمُّ البنین کی آغوش کی تربیت کا ہی اثر تھا۔ ہم ذیل میں اختصار کے ساتھ ان کے فضائل ذکر کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔

حضرت عبّاس علمدار علیه السلام

آسمانِ ولایت کے یہ پہلے نور ِمہتاب تھے جنھوں نے بیتِ امامت کے گھر ا ٓغوش

حضرت ام البنین علیها السلام میں چارشعبان المعظم ٢٦ھ کو مدینہ منوّرہ میں ظہور فرمایا۔

منقول ہے کہ جب آپ پیدا ہو ئے۔ آپ کی ولادت کی خبر مولائے کائنات کو دی گئی تو آپ نے سجدہٴ شکر ادا کیا پھر تشریف لائے اور بچہ کو آغوش میں لیا، پیشانی کا بو سہ لیا اور گلے سے لگا کر فرمایا:”یہ میرے حسین کے لشکر کا علمدارہوگا اور ان پر میدان کربلا میں اپنی جان فدا کرے گا۔ پھر گریہ کرتے ہوتے حضرت عباس علیه السلام کے بازوؤں کو بوسہ دینے لگے۔

جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے حیرت کے عالم میں پوچھا! مولاآپ گریہ کیوں کررہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اُن بازوؤں کو دیکھ کر مجھے وہ مصیبت یادآگئی جو برادر عزیز رسول اللہ صلی الله علیه و آله بیان فرماگئے تھے۔

ص: 80

جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے حیران و پریشان ہو کر دریافت کیا: کیا میرے اس نورِ نظر پرکوئی مصیبت آپڑے گی؟ حضرت علی علیه السلام فرمایا: اسلام کی حفاظت اور بھائی کی نصرت میں میرے اس بیٹے کے بازو قلم ہو جائیں گے! یہ سن کر تمام اہل بیت (علیهم السلام) کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے!

جناب اُمُّ البنین علیها السلام نے حوصلہ وصبرکے ساتھ خدا کا شکر ادا کیا کہ میرا فرزند رسول اللہ صلی الله علیه و آله کے فرزندپر قربان ہوگا۔((1)

حضرت امام علی علیه السلام نے فرمایا: اے اُم ّالبنین! تمھارا فرزند عباس ، اللہ کے نزدیک عظیم مقام ومنزلت پر فا ئز ہو گا ۔خدا عباس کو ان بازوؤں کے بدلے جنت میں دو پَر عطا فرمائے گا جس طرح بھائی جعفرا بن ابی طالب’ کو عنایت فرمائے تھے جن سے وُہ ملا ئکہ کے در میان پرواز کرتے ہیں۔ (2)

جناب اُمُّ البنین علیها السلام اپنے اس عظیم بیٹے کے بارے میں یہ بشارت سن کر خوش ہو گئیں۔

آفتاب ولایت و امامت کے اس مہتاب نے دنیا کو نورِوفا سے جگمگا دیا، اس لیے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله کے وارث و وصی، سیّد المسلمین امام المتقین، یعسوب الدّین، کاسرالاصنام، منارالایمان، کنزعلم و عرفان، قاضی اعظم، سلطان الاولیائ، فاتح اعظم، اسداللہ الغالب، باب مدینہ العلم، امیرالمؤمنین علی ابن ابی طا لب’ کی با عصمت آغوش میں پروان چڑھے اور

ص: 81


1- ۔ زندگانی حضرت ابوالفضل العباس، ص٣٠۔
2- ۔ صحیفہ وفا،العباس، المقرم، ص 134۔

عزّت نفس، شہامت وشجاعت، جرأ ت و بہادری، طہارت وپاکیزگی، علمِ و افر، خردِ کامل، فقاہت و مجاہدت اور اخلاق حمیدہ کی بلندیوں پر فائز ہو گئے۔

حضرت عباس علیه السلام کے دہن مبارک میں حسنین’کی زبان تھی اور ان کے قلب میں سیّد الشّہداء علیه السلام کی روح کار فرما تھی۔ پیدا ہو تے ہی حضرت امام حسین علیه السلام کی زیارت سے شرفیاب ہوئے، ثانی زہرا حضرت زینب کبری علیه السلام کی چادرتطہیر کا سایہ سر افگن رہا۔ایّام ِولاد ت و شھادت بھی ایک ہی ماہ میں قرار پائے۔ حضرت امام حسین علیه السلام کی ولادت سوّم شعبان المعظم اور حضرت عباس علیه السلام کی ولادت چار شعبان المعظّم کو ہوئی۔ شہادت ایک ہی دن روز عاشور محرم الحرام٦١ھ میں ہوئی۔

حضرت عباس علمدار ؑکے بارے میں پیغمبر ؐکی بشارت

جب حضرت محمد صلی الله علیه و آله کے چچا زادبھائی حضرت جعفر طیار علیه السلام شہیدہوئے جو اس وقت آپ کے لشکر کے علمدار تھے۔ تو آنحضرت صلی الله علیه و آله بحرِ غم والم میں ڈوب گئے۔ اس وقت خداوند عالم نے فرشتہٴ وحی حضرت جبرئیل علیه السلام کے ذریعے پیغام بھیجا:”اے میرے حبیب!اپنے سر کو زانوئے حزن والم سے اٹھا لو۔ میں نے جعفر کو اس کے کٹے ہوئے شانوں کے صلہ میں دو پر عطا کیے ہیں۔ جن سے وُہ بہشت کے ہر مقام پر پرواز کر سکیں گے۔

پھر آپ صلی الله علیه و آله کو اطلاع دی کہ آپ کے بھائی علی ابن ابی طالب’ کا جناب فاطمہ اُمُّ البنین علیها السلام کے بطن سے ایک بیٹا پیدا ہوگا جو تیرے بیٹے حسین پر قربان ہوگا، اس کے بھی دونوں بازو جعفر طیّار کی طرح اشقیا ء ظلم و ستم سے کاٹ دیں گے”۔

ص: 82

آں حضرت محمد صلی الله علیه و آله نے تمام روداد حضرت علی علیه السلام سے بیان کی، اور فرمایا: اے علی! ”تیرے اس بیٹے کو جعفر سے ایک طرح سے مشابہت حاصل ہے لیکن تیرے بیٹے کا مرتبہ جناب جعفر سے بہت بلند و ارفع ہے جب اس بیٹے کی ولادت ہو تو اسے میری جانب سے پیار کرنا چوں کہ میں اس وقت رحلت کر چکا ہوں گا“۔

یہ سن کر حضرت علی علیها السلام نے فرمایا: آپ نے میرے دونوں بیٹوں کے نام شبّر وشبیر یعنی حسن اور حسین’ رکھے تھے، اس لیے آپ ہی میرے اس بیٹے کا نام مقرّر فرما دیں، اس وقت حضرت جبرائیل علیه السلام کا نزول ہوا اور عرض کی اے محبوبِ حق اس بیٹے کا نام اسد یعنی شیر کے معنوں میں عبّاس رکھو، اس وقت حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام نے فرمایا کہ:میں نے اس بیٹے کو اپنی فرزندی میں لیا“((1)

حضرت عبّاس ؑکو حضرت زہرا ؑنے اپنابیٹا کہا

آپ میں فطری ذہانت و ذکاوت موجود تھی جس کو وارث رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے اس قدر جلا بخشی کہ عباس علیه السلام عصمت کبریٰ حضرت فاطمہ الزہرا علیها السلام کی آرزوؤں کا مرکز بن گئے یہاں تک کہ بیان ہوا ہے کہ حضرت فاطمه الزہرا علیها السلام روز قیامت یہ کہہ کر بابا کی امت کی شفاعت کریں گی:

”کفانا لاجل ھذا المقام الیدان المقطوعتان من ابنی العباس“((2))

ص: 83


1- ۔ تاریخ عبّاسی، سیّدشرافت علوی؛کتاب امّ البنین، ص 152 و153۔
2- ۔ معالی السبطین ج١صفحہ٤٢٥۔

”یعنی میر ے بابا کی امت کی شفاعت کے لیے میر ے بیٹے عباس کے دو کٹے ہوئے بازو کافی ہیں“۔

حضرت عبّاس علیه السلام کی زیارت

نقل ہوا ہے کہ ایک سیّد مؤمن ہر روزتین مرتبہ روضئہ حضرت امام حسین علیه السلام میں بغرض زیارت جایا کرتاتھا لیکن ہفتے میں ایک ہی بار حضرت عبا س علیه السلام کی زیارت کو جاتا، ایک دن عالم خواب میں اس نے جناب فاطمہ زہرا علیها السلام کو دیکھا، جنھوں نے اس کی طرف سے منہ پھر لیا! اس نے عرض کیا: اے بنت رسول صلی الله علیه و آله !مجھ سے کیا قصور ہوا ہے کہ آپ مجھ سے ناراض ہیں؟

آپ نے فرمایا: کیونکہ تم میرے بیٹے عبّاس علیه السلام کی زیارت کرنے نہیں جاتے ہو۔((1))

حضرت عبّاس علیه السلام کا علمی مقام

ہر انسان کی شخصیت اور عظمت کا اندازہ اس کے معنوی کمالات اور تزکیہ وتعلیم سے ہی لگایا جاسکتا ہے قرآن مجید میں بعثت انبیاء (علیهم السلام) کا ہدف اور فلسفہ بھی یہی بیان کیا گیا ہے:

{ہُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الُمِّیِّینَ رَسُولًا مِنہُم یَتلُو عَلَیہِم آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِم وَیُعَلِّمُہُم الکِتَابَ وَالحِکمَهَ وَِن کَانُوا مِن قَبلُ لَفِی ضَلَالٍ مُبِین}((2)

ص: 84


1- ۔ معالی السبطین، ج1، ص 452؛ مصائب آل محمد ،ص 274۔
2- ۔ سورہ جمعہ آیت٢۔

”وہ ذات جس نے ناخواندہ لوگوںمیں، انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، انہیں پاکیزہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے“۔

اس اعتبار سے حضرت عباس علمدار علیه السلام کی شخصیت بلند درجہ پر فائز نظر آتی ہے چونکہ آپ نے اللہ کے اس ولی کی گود میں پرورش پائی جو ابو الاائمہ، سیّد الاولیا ء ، باب مدینۃ العلم اور باب اللہ ہیں جو خود سیّد الانبیاء صلی الله علیه و آله کی آغوش میں پروان چڑھے ہیں۔

مولائے کائنات علیه السلام خود فرماتے ہیں:

”وضعنی فی حجرہ وانا ولد یضمّنی الی صدرہ، ویکنفنی فی فراشہ، ویمسّنی جسدہ، و یشمّنی عرفہ، وکان یمضغ الشّیء ثمّ یلقمنیہ“((1)

”رسول صلی الله علیه و آله نے مجھے اپنی آغوش میں لیا جب کہ میں بچہ ہی تھا، وہ مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھتے تھے، بسترمیں اپنے پہلو میں جگہ دیتے تھے، اپنے جسم مبارک کو مجھ سے مس کرتے تھے اور اپنی خوشبو مجھے سنگھاتے تھے، پہلے آپ کسی چیز کو چباتے پھر اس کے لقمے بنا کر میرے منہ میں دیتے تھے ۔

مزید علمی تربیت کے بارے میں فرماتے ہیں:”ھذا ما رزقنی رسول اللّہ زقا زقا“(2)

”میرے سینے میں وہ علم ہے جو رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے مجھے اس طرح بھرایا جس طرح ایک پرندہ اپنے بچہ کو دانہ بھراتا ہے” یعنی رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے تمام علومِ شریعت وطریقت، قرآن و سنت، اخلاق و سیاست، ظاہر وباطن، حاضر و غائب غرض جو کچھ ان کو بارگاہ

ص: 85


1- ۔ نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ، ١٩٢ ۔
2- ۔ نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ، ص 192۔

خداوندی سے ودیعت ہوا تھا وہ حضرت علی ابن ابی طالب’کے سینہ میں منتقل کر دیا اور پھر زبانِ وحی کی ترجمانی کرتے ہوئےفرمایا:

”اَنَا مَدِینَهُ العِلم وَ عَلِیّ بَابُھَا فَمَن ارَادَ العِلمَ فَلیَاتِ البَابَ“((1))

” میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے پس جو علم حاصل کرنا چاہتا ہے وہ دروازہ پر آئے“۔

عبداللہ ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے حضرت علی علیه السلام کو بلایا اور تنہائی میں ان سے دیر تک باتیں کرتے رہے جب واپس آئے تو میں نے دریافت کیا کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله نے کیا فرمایا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے مجھے علم کے ہزار باب تعلیم فرمائے جس کے ہر باب سے میرے لیے ہزار علم کے اور باب کھل گئے“((2)

اب وہ ذات جس کا علم لدنی ہو، جس نے رسول صلی الله علیه و آله کی زبان چوسی ہو، جس کو اللہ نے کائنات کا امام علیه السلام قرار دیا ہو، جس نے منصب ولایت و خلافت محبوب کبریاء محمد مصطفے صلی الله علیه و آله سے پایا ہو ایسے بے نظیر مربی اور عظیم باپ کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی شخصیت کتنی عظیم قابلیت اور معنویت کی مالک ہو گی، اس کا اندازہ کرنا ہم جیسے افراد کے لیے بہت مشکل ہے۔

تربیت کا اصول ہے کہ اولاد اپنے باپ کے طور طریقے پر چلا کرتی ہے اس اصول کی بنیاد پر حضرت عباس علمدار علیه السلام کی عظمت و فضیلت، رفعت و منزلت، علم وادب، حسنِ تربیت اور معنویت سے آشنائی میں مدد مل سکتی ہے کیوں کہ عباس نام ہے اس یگانۂ روزگار کا کہ جس نے باب مدینه العلم سے کماحقّہ فیض کسب کیا اور فقیہ اہل بیت (علیهم السلام) کا لقب پایا۔

ص: 86


1- ۔ مناقب، ابن مغازلی، ص٨٣؛ جامع الصغیر، ج١، ص٣٧٤۔
2- ۔ بحارا لانوار، ج ٤، ص٢١٦ ؛ جلد ٢، ص ٦٤٥۔

فصاحت و بلاغت

تاریخ پر حضرت عبّاس علیه السلام کے بعض خطبات موجود ہیں جو انہوں نے مکّہ اور کربلا کی سر زمین پر ارشاد فرمائے، جو فصاحت و بلاغت، عرفان و معرفت، عشق و عقیدت، خلوص و جرأت اور قوّت بیان و ایمان کا مظہر ہیں، خطیب کعبہ و کربلا کا وہ علمی اور ادبیشاہکارہیں جو عقیدہ و جہاد اور ایمان و آزادی کا مظہر ہیں،کربلائے معلیٰ میں آپ کے خطبات ایمان اورادبی اقدار کی حفاظت کے لیے قلعۂ عظیم کا کام دیں گے،اے کاش! آج کے خطیبوں، ادیبوں اور شاعروں کو آپ کے اس کلام کو سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق شامل حال ہو جائے۔

اس لیے کہ عباس علیه السلام نام ہے اس ولی خدا کا جس نے معدن ِرسالت و امامت، علم ومعرفت جہاد و تقویٰ اور مرکز وحی و اسرار الٰہی میں معنویت کے درجات و مراحل طے کیے ہیں، جن کی ولادت کی خبر خود رسول اللہ صلی الله علیه و آله زبان وحی سے دے گئے تھے۔

حضرت عباس علمدار علیه السلام اپنے والد گرامی سیّدالاولیاء حضرت علی مرتضیٰ علیه السلام کی جیتی جاگتی تصویر تھے وہ یقین و تسلیم کی بلندیوں پر فائز تھے اور عالم لاہوت سے باخبراور انوار ملکوت کا مظہر تھے۔

برادرِ امام حسین علیه السلام

ان کی عظمت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے۔ جن کوذبح عظیم سیدالشھداء علیه السلام فرزندسیدالانبیاء محمدمصطفی صلی الله علیه و آله ، دلبند علی وبتول حضرت امام حسین علیه السلام جب بھی پکارتے تھے تو یوں مخاطب فرماتے تھے: ”بنفسی أنت یاأخی“((1)

ص: 87


1- ۔ الارشاد ص٢١٣ ؛طبری ج ٥ ص٤١٦۔

”اے میرے بھا ئی میری جان تم پرقربان ہو!“ اور حضرت عباّس علیه السلام جواب میں فرماتے” فداک روح أخیک یاسیّدی“ ” اے مولا!آپ پر آپ کے بھائی کی جان قربان ہو“((1))

حضرت ابولفضل العبّاس علیه السلام جب کبھی حضرت امام حسین علیه السلام سے کچھ عرض کرناچاہتے تو یوں مخاطب ہوتے تھے ”فداک روحی یا أخاہ“”اے بھائی !میری جان آپ پر قربان ہو“۔

نو9 محرم کو جب لشکر نے محاصرہ کیا تو ارباب مقاتل نے لکھا”فقال لہ العبّاس بن علی یا أخی أتاک القوم“جناب عبّاس ابن علی’ نے امام حسین علیه السلام سے کہا:اے میرے بھائی!یہ قوم ولشکروالے آپ کی طرف آ رہے ہیں”۔جواب میں امام حسین علیه السلام نے فرمایا: ”ارکب بنفسی أنت یا أخی ، حتیٰ تسألھم عمّا جاءھم“((2)

اے بھائی (عباس) میری جان آپ پر قربان ہو،سوار ہو کر جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کیوں کر آئے ہو؟ اس طرح جب آپ جنگ کی اجازت لینے آئے تو عرض کی: ”یَا أخَاہُ ھَل مِن رُخصَهٍ“اے بھائی!کیا مجھے جنگ کی اجازت ہے"۔ جب

دشمن کو شکست دے کر نہر فرات میں داخل ہوئے تو پانی ہاتھ میں لے کر نہ پیا اور یہ کہہ کر گرا دیا: ” واللہ لا اشرب وأخی الحسین علیه السلام وعیالہ واطفالہ عطاشی لا کان ذالک ابداً“ خدا کی قسم ہرگزپانی نہیں پیوں گا جب تک کہ میرے بھائی حسین علیه السلام ، ان کے اہل وعیال اور بچے تشنہ و پیاسے ہیں“((3)

ص: 88


1- ۔ الارشاد، ص ٢١٣ ؛ طبری، ج٥، ص ٤١٦۔
2- تاریخ طبری، ج4،ص315۔
3- ۔ معالی السبطین، فصل٩؛بحار الانوار، ج٤٤، ص٣٩١و٣٩٢۔

ابو مخنف مقتل کی کتاب میں لکھتا ہے: کہ جس وقت عباس علیه السلام کے ہاتھ جدا ہوئے حالانکہ آپ کے دونوں شانوں سے خون جاری تھا آپ نے اسی حالت میں دشمنوں پر حملہ کیا، یہاں تک کہ ایک ظالم نے آہنی گرز سے آپ کے سر پر وار کیا جس سے آپ کا سر شکافتہ ہو گیا، اس وقت وہ مظلوم زمین پر گرے، خود اپنے خون میں نہائے ہوئے آواز دی ” یا

أخی الحسین علیک منی سلام“ اے بھیا حسین میرا سلام۔ پھر مشہور روایت کی بنا پر آواز دی: " یا اخا ہ ادرک اخاک اے بھائی اپنے بھائی کی خبر لیجئے۔(1)

یہاں اس با ت کی بھی وضاحت کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض نا آگاہ اور بے خبر افرادیہ کہہ دیتے ہیں کہ حضرت عبّاس علیه السلام نے کبھی بھی حضرت امام حسین علیه السلام کو بھائی نہیں کہا ! بلکہ امام علیه السلام کا اصرار تھا مجھے بھائی کہیں مگروہ اپنے آپ کو غلام کہتے رہے۔

یہ بات عربی مقتل اور تاریخوں میں نہیں جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرما لیا بلکہ یہ بات ان لوگوں نے گڑھی ہے جو ان ہستیوں کی معرفت نہیں رکھتے ! کیا یہ ہو سکتا ہے کہ امام علیه السلام جیسی عظیم ہستی کے ساتھ آپ اس عمیق انسانی نسبت اور خونی رشتے کا اظہار نہ کرتے، یہ تو آپ کے لیے مقام فخرتھا کہ حضرت علی علیه السلام جیسا باپ اورحضرات حسنین شریفین’ جیسے بھائی تھے البتہ حضرت عبّاس علمدار علیه السلام منصبِ امامت، جانشین رسالت اور قطب ِعالم کی معرفت میں اس درجہٴ کمال پر تھے جہاں محبّت و مودّت کے ساتھ ساتھ عشقِ حسین علیه السلام میں فنأ فی اللہ بھی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب حضرت عبّاس علیه السلام

اپنے بیٹوں، بھائیوں اور بھتیجوںکو قربان کرنے کے بعدامام حسین علیه السلام اور ان کے بچوں کے لیے پانی لینے گئے، نہر فرات میں داخل ہوئے، شدّت پیاس کے باوجود بھی بھائی اور ان کے بچوں کی پیاس کو یاد کر کے پانی نہ پیا!اور فرمایا”بھائی

ص: 89


1- . [1] لہوف، ص118،

حسین علیه السلام اور ان کے بچے پیاسے ہوں، میں ہرگز پانی نہیں پی سکتا“یہ عشقِ حسین علیه السلام ہی کا ایک نمونہ تھا۔

یہاں ایک جید عالم کا جملہ ہے:”اگر ان دونوں بھائیوں کے کرداروگفتار کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عباس علیه السلام حضرت امام حسین علیه السلام کو رسول اللہ صلی الله علیه و آله کے مقام پر دیکھتے تھے اور ان کے ہر فرمان پر فدا تھے نیزجناب امام حسین علیه السلام جناب عباس علیه السلام کو شیر ِخدا، فاتح خیبرامام علی علیه السلام کے مقام پر سمجھتے تھے۔

منزلت ِشہادت

اللہ کی راہ میں تمام مخلص بندوں کو شہادت کی آرزو رہی ہے، اور شہداء کے مختلف درجات ہیں، حضرت عبّاس علیه السلام تمام شہداء سے بالا تر قرار پائے ہیں، کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ وہ کتنا عظیم مقام ہو گا کہ روز قیامت تمام شہداء بھی اس ذات پر رشک کرتے نظر آئیں گے۔

سید الساجدین حضرت امام علی زین العابدین علیه السلام فرماتے ہیں کہ ”اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک میرے چچا حضرت عباس کا وہ مقام ہے جس پر روز قیامت تمام شہداء رشک کریں گے“((1)

کربلا میں جب حضرت امام سجاد علیه السلام آپ کے جسم اقدس کو سپرد خاک کرنے آئے تو یوں مخاطب ہوئے:

ص: 90


1- ۔ ناسخ التواریخ، کتاب امام حسین -، ص ٣٤٩۔

”عَلَی الدُّنیا بعدکَ العفا، یا قمر بنی ھاشم، عَلَیکَ مِنّی السَّلَام مِن شہیدٍ محتسب“(1)

”اے شہید مخلص راہ خدا، میرا سلام ہو“۔

اور حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کا یوں مخاطب فرمانا:

بَعثَکَ اللّہُ فی الشّہداء((2))

”اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہداء میں مبعوث فرمایا ہے“۔ یہ کلمات آپ کی شخصیّت اور باطنی مقامات کی عظمت کو نمایاں کرتے ہیں۔

جناب ابو حمزہ ثمالی کی روایت میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیه السلام نے حضرت عباس علیه السلام کی زیارت میں فرمایا:

”اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَا اَبَا الفَضلِ العَبَّاس ابنِ أَمِیرِالمَؤمِنِینَ وَالسَّلَامُ عَلَیکَ یَا بنَ سَیِّدِ الوَصِیِّینَ، السَّلَاُم عَلَیکَ یَا بنَ اَوَّلِ القَومِ اِسلَامَا وَ اَقدَمِھَم اِیمَانًا وَ اَقوَمِھِم بِدِین اللّٰہِ وَاَحوَطِھِم عَلَی الاسلَامِ“((3)

”سلام ہو آپ پر اے ابو الفضل العباس ابن امیر المؤمنین’! سلام ہو آپ پر اے سید الاوصیاء کے فرزند!، سلام ہو آپ پر اے علی کے فرزند جو اسلام میں ساری قوم سے اوّل اور ایمان میں سب سے مقدم، دین الٰہی میں سب سے زیادہ مستقیم و استوار اور اسلام کے سب سے بڑے محتاط اور محافظ ہیں “۔

ص: 91


1- ۔ معلی السبطین، ج2، ص66۔
2- ۔ مفاتیح الجنان ،ص 618۔ زیارت العباس علیه السلام ۔
3- ۔ مفاتیح الجنان ص ٦١٩بحوالہ التھذیب، شیخ طوسی۔

حضرت عباس علیه السلام پر سلام بھیجتے وقت امام کا یوں مخاطب ہونا اور آپ کے والد گرامی مولائے کائنات کے ان تمام اوصاف کو شمار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ صادق آل محمد صلی الله علیه و آله حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کی نگاہ میں حضرت عباس علیه السلام ان تمام صفات کے حامل تھے اور ان کو یہ تمام کمالات وراثت میں ملے تھے، وہ ایک مادر زاد ولی تھے اور انہوں نے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کے بعد ان کے بارہ اقطاب میں سے تین اقطابِ عالم، قطب ِاوّل حضرت امام علی علیه السلام ، قطبِ دوّم حضرت امام حسن علیه السلام ، اور قطب ِسوّم حضرت امام حسین علیه السلام کی بیعت میں رہے پھرعشق و وفاء کی بلندیوں پر جا کر جان جان ِآفرین کے سپرد کر دی۔

تسلیم و رضا

قطب ِعالم، صادقِ آل محمد صلی الله علیه و آله حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کا یہ فرمانا:

”أشھَدُ لَکَ بِالتَّسلِیمِ وَالتَّصدِیقِ وَ الَوَفَآءِ وَالنَّصِیحَهِ“((1)

”یعنی میں آپ کے مقام ِتسلیم و تصدیق، وفاداری اور خیر خواہی کی گواہی دیتا ہوں“۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مقام تسلیم پر فائز اور درجہٴ تصدیق کے حامل تھے جو ایک ولی خدا کے لیے اہم مقام اور درجہ ہوتا ہے قرآن حکیم نے شان تسلیم ورضا کی تصویرکشی اس انداز سے کی ہے!

{ثُمَّ لایجِدُوا فِی َنفُسِہِم حَرَجًا مِمَّا قَضَیتَ وَیُسَلِّمُوا تَسلِیمًا}((2)

ص: 92


1- ۔ مفاتیح الجنان فی زیاره العباس بن علی ص ٦١٧۔
2- ۔ سوره النساء آیت: ٦٥۔

یعنی آپ کے فیصلے پر ان کے دلوں میں کوئی رنجش نہ آئے بلکہ وہ اس کو بخوشی تسلیم کریں۔ آیت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ منزل تسلیم و رضاء پر فائز ہونے کے لیے جذبات و رجحانات کی قربانی دینی پڑتی ہے، نفس کو طاہر ومطہر بنانا پڑتا ہے، حضرت عباس علیه السلام نے کربلا میں اپنے آپ کو قطبِ زمان، امام ِوقت کے تابع فرمان بنا دیا اور ہر منزل پر راضی بہ رضائے الٰہی رہے۔

حضرت امیر المومنین علیه السلام فرماتے ہیں:

”أَوَّلُ الدِّینِ مَعرِفَتُہُ وَ کَمَالُ مَعرِفَتِہِ التَّصدِیقُ بِہِ وَکَمَالُ التَّصدِیقُ بِہِ تَوحِیدُہُ“۔((1)

”یعنی دین کی ابتداء معرفت خدا سے ہے اور اس کی معرفت کا کمال اس کی تصدیق الوہیت ہے اور کمال تصدیق خدا کی وحدانیت کا اقرار ہے“۔

حضرت عباس علمدار علیه السلام کی منزل تصدیق اور فنا فی اللہ ہونے کا مقام آپ کے صرف عارف الٰہی ہونے کی ہی عکاسی نہیں بلکہ کمال عرفان پر فائز ہونے کی عکاسی کر رہا ہے۔

ہمارے آقا و مولا حضرت عباس علیه السلام کا شمار تاریخ کے ان منفرد اولیائے عظام میں ہوتا ہے جنہیں مالک نے روز اوّل سے ہی کمال ِعرفان کا حامل بنایا اور شعور کامل دے کر دنیا میں بھیجا تھا۔

حضرت عباس علیه السلام خاندان نبوت و امامت کے برجستہ ترین فرد تھے لہٰذا اس خاندان کی ساری شرافتیں آپ کو ورثہ میں ملی تھیں۔

ص: 93


1- ۔ نہج البلاغہ، خطبہ اول۔

القاب

اشاره

حضرت عباس علمدار علیه السلام کے سولہ ١٦ لقب ملتے ہیں کہ وہ تمام القاب ان کے کسی نہ کسی کمال کے آئینہ دار ہیں۔((1)

قمر بنی ہاشم

آپ بے حد جاذب نظر، حسین اور خوبصورت تھے آپ کی پیشانی سے ایک ایسا نور ساطع ہوتاتھاکہ جس سے تاریکی شب میں بھی آپ کا چہرہ چمکتا رہتا تھا اس لیے آپ کو قمر بنی ہاشم یعنی بنی ہاشم کا چاند کہا جاتا تھا۔ حسن ظاہری اور حسن باطنی و معنوی خدا کی بہترین نعمت ہے جو آپ کو حاصل ہے۔

علامہ دربندی کتاب اسرار الشّہاده میں رقم طراز ہیں کہ جب آخر وقت حضرت امام حسین علیه السلام آپ کے سرہانے پہنچے تو یوں مخاطب ہوئے:

”یَا قَمَراً مُنِیراً کُنتَ عَونِی“((2))

”اے نور افشاں چاند!، تو ہر مشکل میں میرا عون ،یار ومددگار تھا ”۔پھر فرمایا:

”الآنَ انکَسَرَ ظَہرِی وَقَلَّت حِیلَتِی وَشَمت بی عَدُوّی“((3))

”یعنی اے عبّاس !تمہارے بعد میری کمر ٹوٹ گئی میری تدبیر ختم ہو گئی اور دشمن جری ہو گیا“۔

ص: 94


1- ۔ تنقیع المقال، ج ٢، ص ١٢٨
2- ۔ اسرار الشہادہ، ص 323؛ بطل العلقمی، ج2،ص151؛ حضرت ابا لفضل مظہر کمالات، ج1،ص487۔
3- ۔ العباس، ص293۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام علیه السلام کو اپنے بھائی سے کس قدر محبت تھی اورآپ کوکتنا عظیم سہارا سمجھتے تھے، حضرت عباس علیه السلام کا بھی اپنے بھائی مولا حسین علیه السلام سے اس قدر عشق تھا کہ جب پیاس کی شدت کے عالم میں فرات کے ٹھنڈے پانی پر قبضہ کیا تو امام اور ان کے بچوں کی پیاس کو یاد کر کے پانی نہ پیا اور جہاد وایثار کی ایک تاریخ رقم کی، اس لیے جب حضرت امام حسین علیه السلام آپ کے پاس آئے تو فرمایا:

”یاأخی لَقَد جَاھَدتَ فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہِ“((1))

”اے بھیا!عباس

تو نے راہ خدا میں جھاد کا حق ادا کر دیا“۔

قطب عالم اور ناطق قرآن کی یہ گواہی، آپ کی معنوی شخصیت اور باطنی مقام کی عظمت کو نمایاں کرتی ہے۔

علمدار

عَلم کسی لشکرکی شجاعت، شہامت، استقامت، اہداف اور وقار پر دلالت کرتا ہے اس لیے عَلم ہمیشہ اسلام کے عاشق، محافظ، وفادار، بہادر، نڈر، اور جو ہر صورت میں عَلم کو بلند رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اسے عطاکیا جا تا تھا۔ اسی لیے پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله نے لشکر اسلام کا عَلم اپنے تربیت یافتہ اور وفادار بھائی اسد اللہ الغالب علی ابن

ابی طالب’ کے حوالے کیا اور پھرکربلا میں نواسہٴ رسول صلی الله علیه و آله حضرت امام حسین علیه السلام نے اپنے سب سے زیادہ وفادار، جراراور وارث حیدر کرار علیه السلام حضرت عباس علیه السلام کو عَلم سپرد کیا تھا اس بے مثال لشکرِ حسینی علیه السلام کی علمداری کی وجہ سے ہی آپ کا لقب علمدار پڑ گیا اور آپ نے بازو کٹ جانے

ص: 95


1- ۔ تذکرۃ الشہداء، ص 270۔

کے باوجود کچھ اس نمایاں انداز سے عَلَم کو بلندرکھا کہ آج بھی اس عَلم کی یاد آپ کے نام کے ساتھ باقی ہے، اس عَلم کی شبیہ کا احترام چھوٹے بڑے سبھی کرتے ہیں، نو محرم الحرام ”یومُ العَبّاس“ کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ (یہ دن ہند و پاک میں آٹھ محرم کو منایا جاتا ہے) اس دن خاص طور پر اسلامی ممالک میں جلوسِ عَلَم حضرت عبّاس علیه السلام برآمد ہوتے ہیں جن میں شرکت کرنے کے لیے امریکہ اور یورپ سے بھی مختلف قوم و مذہب کے لوگ آتے ہیں اور یہ عَلَم ِحضرت عبّاس علیه السلام بھی تاریخ کربلا کا ایک یادگارمعجزہ ہے۔

غازی

مورّخین نے لکھا ہے کہ صفیّن کے معرکہ میں ایک ستّرہ سالہ نوجوان چہرے پر نقاب ڈالے ہوئے نکلا اور قلبِ لشکرِ معاویہ پر حملہ کیا، لشکر شام کے ایک بہت بڑے پہلوان ابوشعشا اور اس کے سات بیٹوں کو یکے بعد دیگرے واصل جہنم کیا، دشمن یہ سمجھ کر کہ خود حیدرِ کرار آ گئے ہیں، راہ فرار اختیار کی ، جس وقت یہ جوان نقاب پوش فاتحانہ انداز سے میدان کارزار سے پلٹا تو حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام نے بلایا اور اس کے چہرے سے نقاب ہٹائی تواس وقت سب نے پہچانا کہ یہ”قمر بنی ہاشم“ تھے۔[غالباً اسی بنا پر آپ کو ”غازی“ بھی کہا جانے لگا۔]((1)

صاحب ِوفا

آپ کے جملہ کمالات اور معنویات میں سب سے زیادہ شہرت ”وفا“ کی ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیه السلام نے بھی زیارت میں آپ کی ”تصدیق“”وفا“ اور ”نصیحت“ کی

ص: 96


1- ۔ منتخب التواریخ ؛ الکبریت الاحمر۔

گواہی دی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت عباس علمدار علیه السلام اس اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز تھے۔

علمائے عرفان نے وفا کے چھ درجات بیان کیے ہیں:

١۔ کلمہٴ شہادتین کے ساتھ وفا کرنا۔

٢۔ واجبات اور مستحبّات کے ساتھ وفا کرنا۔

٣۔ محرمات سے یکسر پرہیز کرنے میں وفا کرنا۔

٤۔ نفس میں صفات حمیدہ پیدا کرنا اور صفات رذیلہ سے دوری کرنے میں وفا کرنا۔

٥۔ لوگوں کے ساتھ شرعی معاملات اور معاہدوں پر وفا کرنا۔

٦۔ اپنے ربّ اور قطبِ کون و مکان امام زمانہ عجل الله تعالی فرجه سے عشق وعہدوفاداری کرنا۔

اس طرح کہ نفس کو مادیّت سے اتنا جداکر لے کہ بشریت کے پردے ہٹ جائیں، قلبِ انسان ربوبیّت کے انوار سے منوّر ہو جاکراور توحید کے سمندر میں غرق ہو جائے اورپھر اسے ہر آن توحید الہی کا جلوہ نظر آئے یعنی انسان جس قدر احکام شریعت کا پابند ہو گا، اور طریقت میں زندگی کو مرضی الہٰی کے سانچے میں ڈھال دے گا، وہ اتنا ہی بڑا وفا دار اور مرضی الٰہی کا خریدار ہو گا یہی حقیقت میں وفا اور منزل اخلاص ہے، حضرت عبّاس علمدار علیه السلام وفا کے جملہ درجات پر فائز تھے، زندگی کے ہر لمحہ میں شریعت کی حکمرانی اور معنویات کی جھلک نمایاں تھی، نہ کوئی تصدیق میں آپ سے مقدم تھا اور نہ وفا اور نصیحت میں، کیوں کہ ان تینوں صفات کا سرچشمہ بھی تسلیم ہی ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کے کلمات یہ شہادت دیتے ہیں کہ حضرت عباس علیه السلام نے حضرت امام حسین علیه السلام کو جانشینِ پیغمبر، اور امامِ برحق اور واجب الاطاعت

ص: 97

سمجھتے ہوئے ان کی نصرت فرمائی، اسی لیے حضرت امام جعفر صادق علیه السلام نے حضرت عباس علیه السلام کے حق کو نہ پہچاننے والوں اور ان کی عزّت و حرمت اور سیادت کا پاس نہ کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے:

”لَعَنَ اللّٰہُ مَن قَتَلَکَ وَ لَعَنَ اللّٰہُ مَن جَھِلَ حَقَّکَ وَ استَخَفَّ بِحُرمَتِکَ“((1)

اللہ کی لعنت ہو آپ کے قاتل پر، اللہ کی لعنت ہو آپ کے حق سے جاہل فرد پر اور آپ کی عزّت و حرمت کو خفیف سمجھنے والوں پر“۔

طہارت و معنویّت

قمر بنی ہاشم حضرت عباس علیه السلام آغوش طاہرین میں پروان چڑھے اس لیے پاکیزگی و طہارت کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے یہ پاکیزہ تربیت اور آپ کی لازوال استعداد و بصیرت کا ثمرہ تھا اور قطبِ عالم، امام برحق کی گواہی اس پر واضح دلیل ہے کہ ان کی زندگی خطا اور لغزش سے پاک تھی ۔

امام جعفر صادق علیه السلام فرماتے ہیں:”جئتک یا بن امیر المٔومنین وافدا الیکم وقلبی مسلّم لکم و تابع و انا لکم تابع و نصرتی لکم معده...“((2))

”اے فرزند امیر المومنین علیه السلام ! آپ کے پاس آیا ہوں جب کہ دل آپ کے سامنے جھکاہے اور تابع فرمان ہے اور میں آپ کا تابع ہوں اور میری نصرت آپ کے لیے ہے...“ امام علیه السلام کا یہ کلام آپ کے مقام عصمت کو بیان کررہا ہے اس لیے کہ امام علیه السلام کبھی غیر

ص: 98


1- ۔ مفاتیح الجنان، باب زیارت حضرت عبّاس علیه السلام ۔
2- ۔ کامل الزیارات،ص ٢٥٦؛ مفاتیح الجنان، زیارت حضرت عباس علیه السلام ۔

معصوم کی تابعیت نہیں کرتا۔ پھر معصوم علیه السلام کا آپ کی زیارت میں یہ فرمانا:لعن اللہ امه استحلت منک المحارم و انتھکت حرمه الاسلام “((1))”یعنی خدا لعنت کرے اس امت پر جس نے آپ کی ہتک حرمت کی اور حرمت اسلام کو برباد کیا“۔

یہ مقام بھی معصوم کا ہی ہوتا ہے جس کے قتل سے حرمت اسلام پامال ہوجاتی ہے۔

علمائے عرفان فرماتے ہیں: جب انسان عشقِ الٰہی، قطبِ کون ومکان اور دین ِاسلام کا کامل وفادار ہو جاتا ہےتو نفس کو مادیت سے علیحدہ کر لیتا ہے، بشریت کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور انسان ربوبیت کے منارہٴ نور سے مربوط ہو کر توحید کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے تو پھر ہوتا یہ ہے کہ اسے ہر آن توحید الوہیت کا جلوہ نظر آتا ہے۔

یعنی انسان جس قدر احکام شریعت کا پابند ہو گا اور طریقت میں زندگی کو مرضی الٰہی کے سانچے میں ڈھال دے گا، اتنا ہی بڑا وفادار، جانثار اور مرضی الٰہی کا خریدار کہلائے گا۔

حضرت عباس علیه السلام کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے مالک اور اپنے امام علیه السلام کے ساتھ وفا داری کے بلند ترین درجہ پر فائز تھے۔

باب الحوائج

حضرت عباس علیه السلام ایثار و فداکاری، اخلاص و عبادت اور عشق و وفاداری کی اس منزل پر فائز ہوئے ہیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت و رحمت شامل حال ہوتی ہے اوراللہ تعالیٰ ان کے توسل سے حاجت مندوں کی حاجت روائی فرماتا ہے، ہزاروں فہیم و ندیم اور شاہ و گدا جیسے افراد آپ کی بارگاہ سے مرادیں پاتے ہیں، اسی بنا پر آج دنیائے عرب میں آپ کو باب الحوائج کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ چوں کہ حضرت عباس علیه السلام نے راہ خدا میں

ص: 99


1- ۔ مفاتیح الجنان، زیارت حضرت عباس ۔

اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور شہداء اور صدیقین میں ایک مقام پایا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حرمِ حضرت عباس علمدار علیه السلام کو حاجت مندوں کا قبلہ بنا دیا، ایسے اولیائے خدا سے روحانی اثرات، کمالات، کرامات اور معجزات کا رونما ہونا، یہ خدا وند متعال کی خاص عنایت اور عطا ہے۔

اس مقام تک پہنچنے کے لیے ارتقائےمعنوی کے بہت سے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جیسے ریاضت نفس، اطاعت الٰہی، خالص بندگی رب اور تسلیم و رضا کی منازلیں وغیرہ۔

واقعہٴ کربلا سے لے کر آج تک حضرت عباس علمدار علیه السلام کی بارگاہ سے اس قدر معجزات و کرامات ظہور پذیر ہوئے ہیں کہ شاید ہی کسی بشر سے اتنی کثرت سے کرامات کا ظہور ہوا ہو۔

ایران کے معروف عالم علامہ شیخ علی ربّانی خلخالی کی کتاب ”چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم ابو الفضل العباس علیه السلام “ جس کی پانچ جلدیں حضرت عباس علیه السلام کے معجزات و کرامات سے متعلق شائع ہو چکی ہیں ۔

اس طرح حضرت عباس علیه السلام کی اولاد میں سے بھی عظیم الشان صاحبان کرامت بزرگان، اہل علم وفضل اور ارباب کمال و جمال سرزمین حجاز، عراق، مصر، شام، ایران، پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں مرجع خلائق ہیں۔

آج بھی کوئی صدق دل سے باب المراد ابو الفضل العباس علیه السلام کی بارگاہ میں آئے اور ان سے توسل اختیار کرے، تو بارگاہ خدا وندی میں اس کی دعا جلدقبول ہوتی ہے۔منتخب التوریخ میں ہے نام مبارک"عباس" اور کلمہ " باب حسین" حروفِ ابجد کے حساب سے

ص: 100

عدد 133 بنتے ہیں۔ ایک مجرب ختم یہ ہے کہ اگر کوئی نماز کے بعد حضرت عبّاس علیه السلام کے نام کے اعداد کے مطابق ١٣٣ بار اس طرح پکارے تو انشاء اللہ تعالیٰ اس کی مراد یقیناًپوری ہوگی:

یَا کَاشِفَ الکَربِ عَن وَجہِ الحُسَینِ علیه السلام

اِکشِف کَربِی بِحَقِ أَخِیکَ الحُسَینِ علیه السلام ((1)

فقیہ اہل بیت (علیهم السلام)

علمائے احادیث و رجال ناقل ہیں کہ:

”قد کان من فقھاء اولاد الائمه“

یعنی ائمہٴ طاہرین (علیهم السلام) کی اولاد سے حضرت عبّاس علیه السلام ایک عظیم فقیہ تھے۔

”کان عادلاً ثقهً تقیاً“

یعنی حضرت عباّس علیه السلام عادل، ثقہ، متقی اور ہر عیب سے پاک تھے۔

علامہ محمد باقر بیرجندی رقم طراز ہیں: حضرت عباس علیه السلام خاندان عصمت وطہارت کے عظیم المرتبت فقہاء اور فضلاء میں سے تھے بلکہ آپ ایسے عالم ہیں کہ جن کو غیر از معصوم کسی نے تعلیم نہیں دی۔

حضرت امام جعفر صادق علیه السلام فرماتے ہیں:

”کاٰنَ عَمُّنَا العَبَّاٰسِ بِن عَلِیٍ نَافِذُ البَصِیرَهِ صُلبَ الِایمَانِ جَاھَدَ مَعَ اَبِی عَبدِاللّٰہِ وَأَبلٰی بَلائً احَسَناً وَمَضٰی شَھِیدًا“۔((2)

ص: 101


1- ۔ خصائص العبّاسیہ، ص ٢٣٢۔
2- ۔ اعیان الشیعہ، ج٧، ص٤٣٠، عمدهالطالب، ص٣٢٣۔

”ہمارے چچا عباس ابن علی’ قوی بصیرت اور محکم ایمان کے مالک تھے اپنے بھائی ابو عبداللہ حضرت امام حسین علیه السلام کی رکاب میں ایثار و فدا کاری کے ساتھ جہاد کیا اور بہت عمدہ امتحان سر کر کے شہادت کے عظیم درجہ پر فائز ہو گئے۔“

عِلم حضرت عبّاس علیه السلام اور ایک عالِم کا حسد

معتبر اور مستند علماء سے نقل کیا گیا ہے کہ کربلا میں ایک عالم کو یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ علم میں حضرت عباس علیه السلام سے زیادہ ہیں، ایک دن اپنے استاد کے حلقہ درس میں بیٹھا اورکہنے لگا کہ: جو اسباب حضرت عباس کی فضیلت و برتری کے ہیں وہ سارے اسباب مجھ میں پائے جاتے ہیں اور جو مرتبہ انھیں شہادت سے ملا ہے وہ مرتبہ اجتھاد کے مقابلہ میں کم ہے۔ حاضرین کو اس کی یہ جسارت آمیز بات بہت ناگوارگزری اور اس نادان عالم کی اس جسارت پر افسوس کرتے ہوئے بزم سے اُٹھ گئے۔

دوسرے دن حاضرین اس غرض سے اس عالم کی طرف گئے کہ کیا وہ پشیمان ہوا ہے یا اپنی گمراہی پر اڑا ہو ا ہے۔ دق الباب کیاتو گھر سے جواب ملا کہ وہ حضرت عباس علیه السلام کے حرم میں گئے ہو ئے ہیں۔ وہ لوگ حرم میں پہنچے کیا دیکھا وہی عالم ایک رسی سے اپنی گردن کوضریح باندھے ہوئے اور حضرت علیه السلام سے اپنی جسارتوں کی معافی مانگ رہا ہے، لوگوںنے جب اس کی وجہ دریافت کی تو اس نے کہا: میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ علماء کی بزم میں بیٹھا ہوں کہ اچانک کسی نے ندا دی کہ: حضرت ابوالفضل العباس علیه السلام تشریف لارہے ہیں یہ سنتے ہی حاضرین پر ایک رعب سا طاری ہوگیاکہ اچانک حضرت بزم میں داخل ہوئے، چہرہ مبارک کے گرد نور کاہالہ تھا جس کی تابانی سے نظریں خیرہ تھیں، خدّوخال سے امیر المؤمنین علیه السلام کا

ص: 102

جلوہ نظر آ رہا تھا حضرت علیه السلام صدر نشین ہوئے میں اپنی گذشتہ جسارتوں کی وجہ سے خوف زدہ تھا۔

حضرت علیه السلام نے بیٹھنے کے بعد حاضرین میں سے ہر ایک سے باری بار ی بات کی۔ جس وقت میری باری آئی حضرت علیه السلام نے فرمایا: تم کیا کہتے ہو؟ حضرت علیه السلام کے اس سوال سے میرے ہوش وحواس باختہ ہو گئے، میں چاہتا تھا کہ کسی طرح خود کو بچالوں اور عقل و فہم سمجھ کے مطابق اپنے نظریات کوثابت کرنے کی کوشش کرنے لگا، کل جو باتیں میںنے تم لوگو ں سے کہی تھیں، وہی سب کچھ کہہ دیا۔

حضرت علیه السلام میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں نے اپنے باباجان اور اپنے بھائیوں حضرت امام حسن علیه السلام اور حضرت امام حسین علیه السلام سے علم حاصل کیا اور علم حاصل کر کے یقین کی منزل پر فائز ہوا، مگر تم ابھی تک امامت میں شک کر رہے ہو کیا ایسا نہیں ہے؟ مجھ میں قوّت و جرأت نہیں تھی کہ حضرت کے فر مودات کا انکار کرتا۔

حضرت علیه السلام نے دوبارہ ارشادفرمایا: تم نے جس استاد سے علم حاصل کیا ہے اس کے حالات تم سے زیادہ بدتر ہیں۔

سنو! تمھارے پاس حق معلوم کرنے کے لیے کچھ اصول وقواعد ہیں کہ جن کی مدد سے احکام معلوم کرتے ہو اور جاہلوں کو بتاتے ہواور ہم نے تو احکامِ خدا براہ راست مخزن وحی سے دریافت کیے ہیں پھر حضرت علیه السلام نے اپنے صبر و ایثار، کرم وشجاعت اور جہاد کا تذکرہ فرمایا اور کہا: اگر ان صفات کا معمولی سا حصّہ تم لوگوں میں تقسیم ہو جا ئے تو تم لوگوں میں تحمل کی طاقت باقی نہیں رہے گی۔

ص: 103

اس کے بر خلاف تم میں حسد، خود غرضی، ریا، مذموم صفتیں پائی جاتی ہیں، پھر حضرت علیه السلام نے تنبیھاًایک طمانچہ میرے منہ پر رسید کیا، جس سے میری آنکھیں کھل گئیں، میں اس وقت سے حرم میں اپنی تقصیر و جسارت کی معافی مانگ ر ہا ہوں۔((1)

معنوی وراثت اور سیادت

قمر بنی ہاشم حضرت عباس علیه السلام خاندان رسالت و امامت کے بر جستہ ترین اور شائستہ ترین فرد تھے۔ تمام فضائل و منا قب آپ کی سرشت میں پائے جاتے تھے۔ اس لیے کہ آپ امامت کے سائے میں پروان چڑھے آپ کو باپ اور ماں ہردونوں طرف سے شرافت اور شجاعت ورثہ میں ملی تھیں۔ آپ کے خطابات و گفتار اور عمل و کردار کو دیکھ کر معلوم ہو تا ہے کہ آپ جامع خصوصیات و صفات کے حامل تھے۔

علاوہ اس کےاپنی ذاتی و ذہنی استعداد کی بنا پر علوم و معارف الہی کے اعلیٰ مدارج کے ساتھ ساتھ، عصمت کے درجہ پر فائزتھے۔ جناب عبّاس ابن علی’ اس باپ کے وارث ہیں جو تمام انبیاء (علیهم السلام) کے وارث اور جمیع صفات و کمالات تھے۔

حق کی بلندی کے لیے لشکرِ محمدی صلی الله علیه و آله کے علمدار آپ کے والد گرامی حضرت علی علیه السلام تھے اور لشکرِ علوی علیه السلام کے علمدار آپ کے بھائی حضرت محمد حنفیہ ہوتے تھے اور معرکہٴ کربلا میں لشکرِ حسینی علیه السلام کے علمدار حضرت عباس علیه السلام تھے۔ گویا لشکرِ حق کی علمدار ی بھی انہیں کو ورثہ میں ملی تھی۔

ص: 104


1- ۔ صحیفۂ وفا، ص ١٦٢۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت عباس علیه السلام کی عظمت اور سیادت کا اقرار نہ کرنے والے حقیقت میں جاہل اورمجرم ہیں، اسی لیے صادقِ آلِ محمد صلی الله علیه و آله حضرت امام جعفر صادق علیه السلام نے حضرت عباس علیه السلام کا حق نہ پہچا ننے والوں پر لعنت بھیجی ہے:

قال امام الصّادق : ”لَعَنَ اللہ مَن جَھِلَ حَقَّکَ و اِستخَفَّ بحرَمتِک“((1)

” خدا لعنت کرے اس شخص پر جس نے آپ (حضرت عباس علیه السلام ) کے حق کونہ پہچانا اور آپ کی عزّت و ا حترام میں کوتاہی کی“۔

لہذا وہ لوگ جو حضرت عباس علیه السلام اور اُن کی اولاد کی سیادت کے منکر ہیں یاوہ آپ کے بارے میں ایسے کمزور الفاظ استعمال کرتے ہیں جو آپ کی عظمت و سیادت کے منافی ہیں، انھیں توبہ کرنی چاہیے ورنہ وہ صادق آل محمد حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کی لعنت کے مستحق ہوں گے۔

حضرت امام زمان عجل الله تعالی فرجه آپ پر یوں سلام بھیجتے ہیں:

میراسلام ہو جناب عباس ابن امیرالمؤمنین’ پر جنھوں نے اپنے دین اور بھائی کے دفاع میں جان قربان کردی اور آخرت کے حصول کے لیے دنیاکو ٹھوکر مار دی جس نے پیاسوں تک پانی پہچانے کی سعی میں اپنے شانے قربان کردئیے۔((2)

ایک ا یسے فرد کی عظمت کا اندازہ لگا نا اور اُن کے کما حقہ فضائل بیان کرنا، ہمارے بس میں ہی نہیں، جس نے وحی اور خاندان نبوت و امامت کے زیر سایہ تربیت پائی، جس پر فخر انبیاء حضرت امام حسن علیه السلام ا ور حضرت امام حسین علیه السلام فخر و افتخار کرتے نظر آئیں اور

ص: 105


1- ۔ زیارت نامہ حضرت عباس بن علی باب زیارت مفاتیح الجنان۔
2- ۔ بحارانوار، ج٤٥، ص٦٦، باب ٣٤۔

جب بھی پکاریں تو بنفسی أنت یا أخی (اے بھائی! میری جان آپ پر قربان ہو!) کہہ کر پکاریں، اس کی عظمت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے جس کی ولادت اور نام کی خوش خبری زبان وحی سے پیغمبر ِاسلام نے دی ہو، جس کی فضیلت، سیادت، شرافت ا ور شجاعت کے بارے میں خود رسولِ خدا صلی الله علیه و آله فرماگئے ہوں۔لہذاکسی جاہل اور متعصّب کے انکار کرنے سے اُن کی عظمت میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔

اولادِ علی علیه السلام خاندان ِنبوت

آلِ علی علیه السلام کے دشمن یہ سؤال کرتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ان کی اولاد خاندان وحی و نبوت سے کیسے ہوگئے؟ تواس کے جواب میں ہم عرض کرتے ہیں کہ اہل سنّت کے مشہور عالم سورۂ نورکی آیه مبارکہ ٣٦ کی تفسیرکے ذیل میں لکھتے ہیں:

جس وقت یہ آیہٴ مجیدہ”{فِی بُیُوتٍ َذِنَ اﷲُ َن تُرفَعَ وَیُذکَرَ فِیہَا اسمُہُ یُسَبِّحُ لَہُ فِیہَا بِالغُدُوِّ وَالآصَال}“ ”ایسے گھروں جن کی تعظیم کا اللہ نے اذن دیا ہے اوران میں اس کا نام لینے کا بھی، وہ ان گھروںمیں صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں“نازل ہوئی تو صحابہ نے رسول اکرم صلی الله علیه و آله پوچھا؟

اس سے کون گھر مراد ہیں؟ تو پیغمبر خدا صلی الله علیه و آله نے فرمایا: اس سے مراد، انبیاء کے گھر ہیں اس وقت ابوبکر ابن قحافہ نے اُٹھ کر سوال کیا؟ یا رسول اللہ صلی الله علیه و آله ، کیا علی علیه السلام و فاطمہ علیها السلام کا گھر بھی انبیاء (علیهم السلام) کا گھر شمار ہو گا؟ توآپ نے فرمایا: ہاں ایسا ہی ہے بلکہ علی علیه السلام و زہرا علیها السلام کا گھر انبیاء (علیهم السلام) کے گھروں سے افضل اور بالاتر ہے۔

ص: 106

اس طرح حدیث صلب، حدیث سیادت، حدیث منزلت، حدیث اخوت، حدیث علی منی وانا منہ، حدیث وارث، حدیث شجرہ، حدیث ولایت، حدیث وصایت، حدیث بنونا اور اس طرح کی دوسری احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت علی علیه السلام کی تمام اولاد چاہے وہ حضرت فاطمهالزہراء علیها السلام سے ہو یا دوسری ازواج مطہرات سے ہوں، سب کو سیادت و شرافت شجاعت و سخاوت، علم و حلم غرض تمام اعلیٰ صفات ورثہ میں ملی ہیں۔

البتہ حضرات حسنین شریفین ’ کی عصمت وامامت منصوص من اللہ ہے، اوروہ فرزند رسول صلی الله علیه و آله ہو نے کا بھی اعزاز و کمال کے حامل ہیں- وہ اور ان کی نسل سے نو امام اپنے نانامحمد رسول ا للہ صلی الله علیه و آله اور بابا علی ولی اللہ علیه السلام کے بعد، اللہ کی طرف سے کائنات پر حجت اورہادی ہیں نیز اپنے اپنے زمانے میں رسول صلی الله علیه و آله کے خلیفہ و وصی اور قطب ِعالَم بھی ہیں۔

واضح رہے کہ حضرت امام حسن علیه السلام اورحضرت امام حسین علیه السلام کے تمام کمالات جیسے عصمت وامامت، علم و حکمت و شجاعت و غیرہ مواہب الہی ہیں اور حضرت علی علیه السلام کی باقی اولاد کے تمام کمالات اورصفات ارثی و کسبی ہیں، سید الاولیا ء مولا ئے متقیان علی ابن ابی طالب ’ کی نسبت سے عطاء ہوئے ہیں۔ اور یہ بات قابل تعجب نہیں کہ جنھوں نے کل ایمان اور باب العلم کی گود میں تربیت پائی ہو، وہ ان عظیم کمالات کے مالک ہوسکتے ہیں، وہ سب کے سب واجب الاحترام ہیں۔

ص: 107

جناب اُمُّ البنین کے بیٹوں کی سیادت

یہاں یہ تذکر دینا لازم سمجھتا ہوں کہ بعض نادان لوگ، حضرت علی علیه السلام کی حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد جیسےحضرت عباس علمدار علیه السلام اور ان کی نسل کی سیادت کی نفی کا ارتکاب کرتے ہیں جب کہ روایات کی روشنی میں تمام علمائے اسلام اور عقلاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شریعت اسلام میں جس جس کا نسب باپ کی طرف سے حضرت محمد مصطفےٰ صلی الله علیه و آله اور حضرت علی مرتضیٰ علیه السلام کے جد حضرت عبد المطلب ابن ہاشم سے ملتا ہو تو اس کو اہل عرب" ہاشمی" اور اہل عجم میں علماء کی اصطلاح میں "سیّد" کہتے ہیں اور اس پر عام امّتی کی زکوٰه واجبہ حرام ہے اور مستحق ہونے کی صورت میں خمس حلال ہے۔

سیادت حضرت عباس علمدار علیه السلام

نسبی اعتبار سے: جناب عباس ابن حضرت امام علی ابن ابی طالب ابن عبد المطلب ابن ہاشم اور ماں کی طرف سے سلسلہ نسب:حضرت اُمُّ البنین علیه السلام بنت حزام ابن خالد ابن ربیعہ ابن الوحید ابن کعب ابن عامر ابن کلاب۔۔۔ جو پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کے اجداد سے ملتا ہے۔

حضرت امام علی علیه السلام اور حضرت محمد صلی الله علیه و آله کا حسب و نسب ایک ہی ہے نیز پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے شجرہٴ سیادت وولایت میں حضرت علی علیه السلام کو اپنے ساتھ شریک قرار دیا ہے اور صلب حضرت امام علی علیه السلام سے پیدا ہونے والے فرزندوں کو اپنی اولادقرار دیا ہے۔

ص: 108

قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله : ”ان اللہ جعل ذریه کل نبی فی صلبہ وجعل ذریتی فی صلب علی بن ابی طالب “۔ ((1)

یقینًا اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی نسل اس کی صلب سے قرار دی ہے اور میری نسل علی ابن ابی طالب’ کی صلب میں قرار دی ہے۔

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سے مراد فقط اولاد جناب فاطمہ زہرا علیها السلام ہے حالانکہ یہ تحصیل حاصل ہے اولاد جناب فاطمہ زہرا علیها السلام تو خود بخود شامل ہیں اس کے لیے کہنے کی ضرورت نہ تھی چوں کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله جانتے تھے کہ کینہ پرورمنافقین میرے بھائی حضرت علی علیه السلام اور ان کی اولاد کو مجھ سے جدا کرنے کی کوشش کریں گے اس لیے یہ اعلان فرما دیا، اب اس سے مراد حضرت امام علی علیه السلام کی تمام صلبی اور نسبی اولادہے۔

جس طرح حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کی اولاد سیّد ہے اسی طرح حضرت حضرت علی علیه السلام کی دوسری ازواج مطہرات کی اولاد سیّد ہے اور باب خمس و زکوٰه میں واضح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تمام احکام سیادت ان کو شامل ہیں، ان کی سیادت کا منکر در اصل پیغمبر صلی الله علیه و آله کے فرمان کو جھٹلا رہا ہے نیز حلال محمد صلی الله علیه و آله کو حرام اور حرام محمد صلی الله علیه و آله کو حلال کرنے کی جسارت کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہا ہے۔

چوں کہ اس اہم مسئلہ سے بہت سے لوگ بے خبر ہیں اس لیے اس کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔

علمائے اسلام کی نگاہ میں ”سیّد“ کا عنوان کن کے لیے ہے؟

ص: 109


1- ۔ فیض القدیر، ج٢، ص ٢٣٣، مناقب ابن مغازلی، ص ٤٩۔

ہمارے یہاںپاک و ہند میں اس قسم کا سوال عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں پایا جاتا ہے اور وہ اس اصطلاح کی حقیقت کو جاننا چاہتے ہیں، اس لیے اس کی وضاحت کرنا اور غلط فہمی کا ازالہ بہت ضروری ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ عنوان اصطلاح میں کن لوگوں سے مخصوص ہے۔ اور شریعت اسلام میں ان کا کیا حکم ہے۔

سیّد کا لغوی معنی

لفظ سیّد اصل میں سیود تھا واؤ کے زیر کو ما قبل یائے ساکن کو دے دیا اور واؤ، یاء میں تبدیل ہو گئی اور پھر دو یاء ہم جنسن کونے کی بناپر، ادغام کر دی گئیں۔ لہذا سیّد بروزن جیّدہو گیا، سین پر زبر اور یائے مشدّدکے ساتھ بمعنی پیشوا، سردار، شریف اور بزرگ کے معنی میں ذکر ہوا ہے۔

چنانچہ ابن اثیر کتاب نہایه میں لکھتے ہیں:

”السید یطلق علی الرب والمالک والشریف والفاضل والکریم و الحلیم ومتحمل أذی قومہ والزوج والرئیس و المقدم۔((1)

لسان العرب، معجم ،متن اللغہ، مجمع البحرین، مفردات القران راغب میں سیّد کے معنی رئیس، سخی، آقا، مالک، شریف فاضل، حلیم، صابر، عابد، پرہیزگار، جس پرغلیظ و غصب غالب نہ آتا ہو، خدا کی راہ میں عطا کرنے والا، خدا کا شاکر، اہل و عیال کے ساتھ مہربان، شوہر، بزرگ خاندان ۔۔۔وغیرہ الغرض جو شخص ان صفات کاحامل ہو عرب اسے ”سیّد” کہتے ہیں اوریہ تمام صفات پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله اور جناب علی مرتضی علیه السلام کے دادا محترم جناب حضرت عبدالمطلب ابن ہاشم میں بدرجہ اتم موجودتھے نیز آپ کو خانہٴ کعبہ کی حفاظت، بیت اللہ کے زائرین اور حاجیوں کی خدمت کا شرف حاصل تھا۔ اس بنا پر آپ کو سیّد اور شریف کہہ کر پکارا

ص: 110


1- ۔ نہایه ابن اثیر ج٢ ص ٤١٨۔

جاتا تھا۔ یہاں تک کہ یہ صفت عام آپ اور آپ کی اولاد کے لقب خاص کا درجہ اختیار کر گئی، اور چوں کہ آپ نے پہلے ہی سے اپنی اولاد پر صدقات اور زکوٰه حرام کر رکھے تھے اس لیے اسلام نے بھی آکر اس حکم کو بر قرار رکھا۔ اسلام نے آپ کی اولاد پر جہاں عام لوگوں کی زکوٰه وصدقات حرام قرار دی وہاں ان کے لیے خمس حلال کردیا۔

لہذا اسلام کی اصطلاح میں جن جن کا سلسلہٴ نسب باپ کی طرف سے پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله کے جد بزرگوار حضرت عبدالمطلب ابن ہاشم سے ملتا ہو، وُہ سیّد ہیں اُن پر غیر سادات کے صدقات وزکوٰه واجبہ حرام ہیں۔ اور چوں کہ جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے بیٹوں حضرت ابوالفضل العباّس علیه السلام اور ان کے بھائیوں کا سلسلہٴ نسب باپ کی نسبت سے رسول خدا صلی الله علیه و آله کے دادا حضرت عبدالمطلب بن ہاشم سے ملتا ہے۔ پس ان کی سیادت ثابت واستوار ہے۔ اور انکار کرنے والا جاہل اورمقصّر ہے۔

سیّد کی تعریف علمائے اسلام کی نظر

علامہ جلال الدّین سیوطی کتاب ”الزینبیہ“ سیّد کی تعریف میں تحریرکرتے ہیں:

”اسم شریف یطلق فی الصدرالاول علی کل واحد من أھل البیت سواء کان حسنیاً ام حسینیاً ام علویاً من ذریه محمد بن الحنفیہ او غیرہ من اولاد علی ابن ابی طالب اوذرّیه جعفراوذرّیه عقیل اوذرّیه عبّاس“۔

”سیّد” وہ اسم شریف ہے جس کا انطباق اہل بیت کے ہر فرد کے نام سے پہلے ہوتا ہے چاہے وہ حسنی ہو، حسینی ہو یا علوی، محمدابن حنفیہ کی ذرّیت سے ہو یا حضرت علی ابن ابی طالب’ کے دوسرے فرزندوں کی ذرّیت سے ہو یا ذرّیت حضرت جعفر، حضرت عقیل اور حضرت عبّاس علیه السلام سے ہو”۔ اس طرح کتاب احکام سلطانیہ میں ہے کہ ”و ھو اطلاقہ علی

ص: 111

کل علوی و جعفری و عقیلی و عبّاسی“ یعنی سیّد کا اطلاق تمام علوی، جعفری، عقیلی اور عبّاسی حضرات پر ہوتا ہے“۔

اور لغت کی بہت سی مشہور کتابوں میں اسی معنی کو بیان کیا گیا ہے حوالہ کے لیے رجوع کریں۔کریم اللغات، ص ٩٥، بیان اللسان، ص ٣٥١، فیروز اللغات اردو حصہ دوم، ص ٥٩۔

لغت کی معروف کتاب المنجد ص ٥٥١پر ہے، ”العلوی“ نسبه الی علی، لغات کشوری ص ٣٢٦ مؤلفہ مولوی سید تصدق حسین صاحب رضوی، ”علوی” وہ سید جو اولاد علی علیه السلام سے ہو سوائے بطن اطہر حضرت فاطمہ علیها السلام کے، ایضاً ص ٣٢٦پر ہے ”علویان” گروہ سادات، فیروز اللغات حصہ دوم ص ١٤٦، ”علویان” علوی کی جمع سادات۔ حسن اللغات طبع لاہورص ٦٠١ پر ہے ”علوی (ع) وہ سیّد جو حضرت علی علیه السلام کی اولاد ہو لیکن حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کے بطن سے نہ ہو جیسے حضرت عبّاس علمدار ؛ علویان: علوی کی جمع سادات۔

سیدّ مفسرین قرآن کی نظر

اور مفسرین قرآن نے بھی اسی معنی کے ساتھ سّید کی تشریح فرمائی ہے۔

صاحب تفسیر بیضاوی ص ٧٥، سورۂ آل عمران آیہ ٴمبارکہ٣٩ کے ذیل میں رقم طراز ہیں:

{اِنَّ اﷲَ یُبَشِّرُکَ بِیَحیَی مُصَدِّقًا بِکَلِمَهٍ مِن اﷲِ وَسَیِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِیًّا مِن الصَّالِحِین} "اللہ تجھے یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو کلمہ اللہ کی طرف سے ہے وہ اس کی تصدیق کرنے والا ، سیادت کا مالک، خواہشات پر قابو رکھنے والا، نبوت کے مقام پر فائز اور صالحین میں سے ہے"۔

ص: 112

سید وہ ہے جو قوم کا سردار ہو اور ان پر فوقیت رکھتا ہو اور پس حضرت یحٰی علیه السلام تمام لوگوں پر فائق تھے اور کبھی بھی معصیت کا ارادہ تک نہیں کیا تھا۔ تفسیر کبیر میں فخر الدّین رازی اس کے ذیل میں متعدد صحابہ کرام ؓسے ”سید” کے معانی نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”عبد اللہ ابن عباس ؓنے فرمایا کہ :”سید وہ ہے جو کینہ پرور نہ ہو۔

جبائی نے کہا حضرت یحییٰ علیه السلام دین میں مومنوں کے سید و سردار تھے یعنی علم، حلم، عبادت اور پرہیزگاری میں سب پر فوقیت رکھتے تھے، مجاہد نے کہا سید وہ ہے جو صاحب جود و کرم ہو، سعید بن مسیب نے کہا ہے سیدوہ ہے جو دین کی سمجھ رکھنے والا عالم ہو، عکرمہ نے کہا سید وہ ہے جس کی عقل پر غصہ غالب نہ آتا ہو جو لوگوں کا پیشوا اور مرجع ہو یعنی لوگ اپنی حاجتیں لے کر اس کی طرف رجوع کریں۔

حضرت یحییٰ علیه السلام دین میں سید و سردار تھے تو دین میں لوگوں کے مرجع اور پیشوا تھے ان میں یہ ساری صفتیں علم و حلم جود و کرم، فقہ و فقاہت اورزہد و ورع موجود تھیں، پھر تحریرکرتے ہیں کہ آپ نے کبھی کسی پر غصہ نہ کیا اس لیے ربّ نے آپ کو سیّد کہہ کر خطاب فرمایا۔

سیادت کی اقسام

اشاره

سیادت کی دو قسمیں ہیں: عامہ و خاصہ:

١۔عامہ: باعتبار لغت صفات حسنہ، بلند مراتب کے حامل افراداور خاندان کے بزرگ کو عرب السید کہہ کر پکارتے ہیں۔

٢۔ خاصہ کی دو قسمیں ہیں:

1) ذاتی و حقیقی۔

ص: 113

٢) نسبی و شرعی ۔

١) سیادت ذاتی و حقیقی

جیسے حضرت امام باقر علیه السلام ”اللّٰہُ الصَّمَد“ کی تفسیر میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ اپنی شان صمدیت میں سیّد ہے اور یہ صفت اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہے“۔((1)

یا ائمہ کی دعاؤں میں منقول ہے: ”أنت سیّد و أنا العبد“((2)) اے اللہ!تو سیّد ہے اور میں تیرا بندہ ہوں “ یعنی حقیقتا اور بالذّات اللہ تعالیٰ ہی سیّدہے۔

٢) سیادت نسبی و شرعی

علماء کا اتفاق ہے کہ لغت عرب نے ”سیّد“ کے جو جو معانی بیان کیے ہیں، وہ سب معانی اور صفات بدرجہ أتم حضور اکرم صلی الله علیه و آله کے جد بزرگوار میں پائی جاتی تھیں نیز آپ کو خانہٴ کعبہ کی حفاظت اور بیت اللہ الحرام کے زائرین کی خدمت اور کعبہ کی کلید برداری کا شرف حاصل تھا، آپ کو ”سیّداورشریف“ کہہ کر پکارا جاتا تھا یہاں تک کہ یہ صفت آپ کے لقب اور اسم کا درجہ اختیار کر گئی اور پھر آپ کی ذرّیت کو بھی سیّد اور شریف کے خاص لقب سے یاد کیا جانے لگا۔اور چوں کہ حضرت عبد المطلب علیه السلام ابن ہاشم اپنی اولاد پر عام لوگوں کے نذورات، کفارات، صدقات اور زکوٰه حرام جانتے تھے اس لیے اسلام نے بھی اس حکم کو برقرار رکھا اور اس کے بجائے ان کے لیے خمس حلال کر دیا۔

ص: 114


1- ۔ اصول کافی، علامہ کلینی، ج١، ص ٧٠۔
2- ۔ صحیفہ علویہ ص ١٨۔

علامہ حسین واعظ کاشفی تفسیر حسینی جلد دوم اور مولوی شاہ عبد القادر محدث دہلوی تفسیر موضح القرآن منزل پنجم ص ٤٦ میں لکھتے ہیں کہ یٰسین سے مراد ہے :”اے سید محمد صلی الله علیه و آله ! یہ معنی حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے مروی ہے“۔ ((1)

سیادت حضرت عبد المطلب

تاریخ طبری میں ہے کہ حضوراکرم صلی الله علیه و آله کے دادا حضرت عبد المطلب علیه السلام نے اپنے ایک خطبہ میں اپنا تعارف یوں کروایا:

”انا شیبه بن ہاشم بن عبد المناف انا ابن سید البطحاء انا ابن سید مکه و الحجازوانا ابن رئیس القریش من لہ سوده علی سادات العرب“(۔(2))

یعنی میں شیبه ابن ہاشم ابن عبد مناف ہوں، میں بطحاء کے سید و سردار کا بیٹا ہوں، میں مکہ و حجاز کے سیّد کا بیٹا ہوں، میں قریش کے رئیس کا بیٹا ہوں کہ جس کو تمام عرب پر سیادت اور سرداری حاصل ہے“۔

گویا بنی ہاشم کو عرف عام میں قیادت و سیادت حاصل تھی پس اسلام نے اس سیادت پر مہرتصدیق کرکے قیامت تک اس عظمت کو ان کے نام کر دیا۔

سیادت ِ پیغمبر ؐ و آل پیغمبر صلی الله علیه و آله

پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

”نحن بنو عبد المطلب ساده اھل الجنه اناو علی و جعفر وحمزہ والحسن والحسین و فاطمه و المھدی“۔ ((3)

ص: 115


1- ۔ کتاب الشفاء، ص ١٦۔
2- ۔تاریخ طبری، ج2،ص 247؛ الکامل فی التاریخ، ج2، ص11؛ تاریخ الیعقوبی، ج1، ص 245۔
3- ۔ بحار الانوار، ج ٢٢، ص ١٤٩، باب ٣٧، حدیث ١٤٢، تفسیر ابو الفتوح رازی، ج ١٧، ص ١٢٣۔

”ہم بنی عبدالمطلب اہل جنّت کے سادات ہیں: میں، علی ، جعفر ، حمزہ، حسن، حسین، فاطمہ، اور مہدی “

سیادت حضرت علی علیه السلام

جابر ابن عبد اللہ، عبد اللہ ابن الحکیم اور عبد اللہ ابن سعد سے روایت کی گئی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله نے حضرت علی مرتضیٰ علیه السلام کی سیادت کے بارے فرمایا:

قال رسول اللّٰہ: ”انّ اللّٰہ تعالیٰ اوحیٰ الیّ فی علیٍ ثلاث اشیاء انّہ سَیِّد المؤمنین و امام المتقین و قائد الغرالمحجلین“((1)

یعنی رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: ”معراج کی رات خداوند کریم نے مجھ کو علی علیه السلام کے بارے میں تین چیزیں وحی فرمائیں یہ کہ وہ مؤمنین کے سیّد ہیں اور متقین کے امام ہیں اور نورانی چہرے والوں کے پیشواء ہیں“۔

عن ابن عباس قالَ نَظَرَرَسُولُ اللّٰہِ اِلیٰ عَلِیٍٍ ابنِ اَبِی طَالِبٍ فَقَال اَنتَ سَیِّد فِی الدُّنیا وَالَاخِرهِ مَن اَحَبَّکَ فَقَد اَحَبّنِی حبیبی حبیب اللّٰہ وعدوک عدوی وعدوی عدواللّٰہ فالویل لمن ابغضک بعدی“((2)

عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت رسول صلی الله علیه و آله نے حضرت علی ابن ابی طالب کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے علی علیه السلام !تو دنیا و آخرت میں سید ہے جس نے تجھ کو دوست رکھا اس نے مجھ کو دوست رکھا اور جو میرا دوست ہے وہ اللہ کا دوست ہے اور جو تیرا

ص: 116


1- ۔ المطالب و الدیلمی فی فردوس الاخبار و ازاله الخفائ، مستدرک ج٣ ص ١٣٧؛ص ١٢٤۔
2- ۔ بحوالہ الحاکم و الخطیب، زاد السبیل ص ٤٦؛ مستدرک،ج3،ص137؛ تاریخ بغدادج11،ص89۔

دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے اور جو میرا دشمن ہے وہ اللہ کا دشمن ہے اور ویل و جہنم ہے اس شخص کے لیے جو میرے بعد تجھ سے بغض رکھے گا“۔

ابن ماجہ و نسائی نے ابن عباس، ابن عمراور بی بی عائشہ سے روایت کی ہے:

قال النبی صلی الله علیه و آله ”الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنه و ابوھما خیر منھما“

یعنی آپ نبی اکرم صلی الله علیه و آله نے فرمایا:” حسن و حسین’ جوانان جنت کے سید و سردار ہیں اور ان کا باپ ان دونوں سے افضل و بہتر ہے۔ علامہ ابن مغازلی کتاب المناقب میں لکھتے ہیں: پیغمبر صلی الله علیه و آله نے حضرت علی کے بارے میں ارشادفرمایا:

”انّہ سیّد الاولین و الآخرین، خیرالبشروافضل العالمین“((1)

حضرت امام حسن مجتبیٰ علیه السلام اور عبد اللہ ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

”ادعوا الی سیّد العرب (یعنی علیاً) قالت عائشه الست سید العرب قال النّبی ”انا سیدولد آدم وعلی سید العرب“((2)

سید العرب کو بلاؤ! توجناب عائشہ نے کہا: کیا آپ سید العرب نہیں ہیں؟ تو آں حضرت صلی الله علیه و آله نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سیدا ور سردار ہوں اور علی علیه السلام عرب کے سید و سردار ہیں“۔

سیادت حضرت علی علیه السلام علماءکی نظر میں

١۔ مولوی سید غلام یحییٰ نقوی البخاری تحریر کرتے ہیں:

ص: 117


1- ۔ ذخائر العقبیٰ، ص ٧٠۔
2- ۔ ریاض النضره فی مناقب العشره، ج٣، ص ١٣٧ ؛حلیه الاولیاء و الدار قطنی و الحاکم۔

”وقد تحقق النص علیٰ انّ علی ابن ابی طالب کان سید المؤمنین و امام الصدیقین و سید المسلمین و یعسو ب الدین و سید العرب و خیر البشر بعد نبینا سید المرسلین“۔ ((1)

”یعنی یہ بات نص سے ثابت ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب’ تمام مؤمنین کے سیّد و سردار، صدیقوں کے امام، تمام مسلمانوں کے سیّد، دین کے پیشوا، سیّد العرب اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله کے بعد خیر البشر ہیں“۔

مولانا سید مقبول احمد صاحب دہلوی ترجمہ قرآن مجید ص ٩٠ کے حاشیہ میں معتبر احادیث کے ساتھ یہ واضح کرتے ہیں کہ آیہٴ مباہلہ میں ابنائنا سے مراد حضرات حسنین’ اور نسائنا سے مراد جناب فاطمہ زہرا علیها السلام اور انفسنا کے مصداق جناب علی مرتضی علیه السلام ہی ہیں“۔

اہل سنت کے مشہور عالم امام نسائی نے کتاب مناقب مرتضوی میں متعدد صحابہ کرام جیسے حضرت ابوذر، عمران ابن حصین، زید ابن حارث سے یہ روایت نقل کی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله نے فرمایا: ”علی کنفسی“

یعنی علی میری جان کی مانند ہے پھر آپ نے فرمایا:

” انّ علیاً منّی و انا منہ وھو ولی کل مؤمن من بعدی“(2)

یعنی علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میرے بعد وہ ہر مؤمن کا ولی ہے۔

اہل سنت کے جید عالم سید شریف احمد شرافت، کتاب لوامع التنزیل اور مسند احمد حنبل سے صحیح روایات نقل کرتے ہیں:

ص: 118


1- ۔ زاد السبیل ص ٤٥۔
2- ۔ کنزل الحقائق، ص 37؛ ذخائر العقبی، ص 68۔

”قال انا و علی نور واحد و قال انا و علی من شجره واحده و قال علی منی و انا منہ“

یعنی آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: میں اور علی ایک نور سے ہیں، میں اور علی ایک شجرہ سے ہیں، علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔

پھر لکھتے ہیں ”جب علی علیه السلام جان رسول اللہ صلی الله علیه و آله اور ان کی ذات سے ہیں اور پیغمبر صلی الله علیه و آله و علی ایک ہی نور اور شجرہ سے ہیں تو پھر ان کی سیادت میں کوئی شبہ نہیں رہا۔((1)

سمجھ لینا چاہیے کہ جو سیده النساء العالمین کا کفوہے وہ یقینا سادات العالمین کا فخر ہے ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ”احادیث نبوی سے ثابت ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین سیّد ہیں جو لوگ آپ کی سیادت کے قائل نہیں وہ سخت غلطی پر ہیں، آپ ابو السادات والائمہ ہیں آپ کی تمام اولاد خواہ وہ فاطمی ہوں یا علوی سب نسباً سیّد کہلانے کے مستحق ہیں”۔((2)

علی علیه السلام فاطمہ علیها السلام کا کفو ہیں

صاحب تفسیر لوامع التنزیل، پارہ٢، ص٢٠، پر یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ:

قال رسول اﷲ صلی الله علیه و آله : ”لو لا علی لم یکن لفاطمه کفو“

یعنی اگر حضرت علی نہ ہوتے تو جناب فاطمہ کے لیے کوئی کفو نہ ہوتا۔

تعجب ہوتا ہے ان لوگوں پر جو حضرت حضرت فاطمہ الزہرا علیها السلام کے بھی سیّد اور فخر کو جس کا بعد از پیغمبرِ اسلام صلی الله علیه و آله کمالات اور صفات میں کوئی نظیر نہیں، جس کو زبانِ وحی

ص: 119


1- ۔ کتاب انوار السیادت فی آثار السعادت ص ١٢٨
2- ۔ شریف التوریخ، ص٣٣٨۔

سے پیغمبر اسلام

صلی الله علیه و آله سیّد العرب، سیّدالمسلمین، سیّد المومنین، سیّد الصالحین، سیّد الصادقین، سیّد الوصیین، سیّد المجاھدین، سیّد الاولین والاخرین، سیّد الاولیا، سیّدالاوصیأ، سیّد الاتقیأ، سیّد الامّت، سیّد فی الدّنیا والآخره وغیرہ کہہ کر یاد فرمائیں۔ اب اس ہستی کی سیادت میں شک کرنے والے کون ہو سکتے ہیں در اصل یہ لوگ مولائے کائنات اور ان کی طیّب اولاد سے دشمنی اور حسد کی بنا پر ایسی فکر رکھتے ہیں۔

علامہ علاؤ الدین محمد بن احمد سمرقندی کتاب تحفه الفقہاء میں شیعہ وسنی فقہاء کے نظریات کو بیان کرنے کے بعد یہ نتیجہ لکھتے ہیں: ”کل من کان من اولاد ہاشم فھو سید” یعنی ہر وہ شخص جو اولاد ہاشم سے ہے وہ سید ہے۔

علامہ محمد باقر مجلسی ؒ لکھتے ہیں:

مراد از سیّد موافق مشهور کسی است که منسوب باشد از جانب پدر به عبدالمطلب.((1)).

مشہور علماء کے نزدیک سیّد سے مرا د وہ شخص ہے جو باپ کی جانب سے جناب حضرت عبد المطلب سے منسوب ہو۔

ملا احمد بن محمد نراقی +، کتاب مستند ج ٢ ص ٨٤ کتاب الخمس، المسئله الخامسه میں لکھتے ہیں:

”السادات ھم الھاشمیون المنتسبون الی ہاشم جدّ النّبی ای اولاد عبد المطلب۔۔۔“

یعنی سادات وہ تمام ہاشمی ہیں جو نبی اکرم کے دادا حضرت ہاشم سے منسوب ہیں یعنی اولاد عبد المطلب۔

ص: 120


1- ۔ رسالہ زکات و خمس و اعتکاف، فصل دوم، مستحق خمس، ناشرسیّد الشہدا ء قم ایران

مکتوبات شاہ فقیر اللہ علوی مکتوب نمبر ٤٨ میں ہے:

اہل سنت کے مشہور عالم سید مصطفیٰ الیمنی المصری نے“ شرح الوارد” میں لکھا ہے کہ:”ہمارے امام اعظم کے نزدیک آل (سادات) تین عین اور ایک جیم اور ایک حاء ہے۔ یعنی اولاد عباس، اولاد عقیل، اولاد علی، اولاد جعفر اور اولاد حارث“۔

اہل سنت کے مفتی اعظم جناب مولوی محمد یوسف صاحب حنفی خطیب جامع مسجد میرپور و خلیفہ ارجمند حضرت خواجہ حافظ عبد الکریم صاحب نقشبندی راولپنڈی کا فتویٰ:

سوال: کیا اولاد

حضرت عباس علم بردار بن علی مرتضیٰ (علیهم السلام) سادات میں داخل ہیں اور ان کو سیّد کہنا ٹھیک ہے؟2۔ کیا جناب امیر علیه السلام کی تمام اولاد اہل بیت میں شامل ہے یا صرف امام حسن اور امام حسین (علیهم السلام) ۔

جواب: "سیّد کہنا ٹھیک ہے اور جائز ہے۔2 ۔امیر علیه السلام کی تمام اولاد اہل بیت میں شامل ہیں اور سادات کہلانے کے حقدار ہیں"[دستخط و مہر]۔((1))

علامہ محمد بشیر انصاری فاتح ٹیکسلا سے باغ سرداران راولپنڈی میں دوران مجلس سوال ہوا۔ سیّد کہاں سے چلے؟آپ نے جواب میں فرمایا: . .." سید کا لفظ ان کے لیے ہے جن پر صدقہ حرام ہے۔۔۔سرکار دوجہاں سے دریافت کیا گیا کہ صدقہ کن کن پر حرام ہے؟ تو حضور صلی الله علیه و آله نے فرمایا: میں خود، علی ؑ، آل علی ؑ، آل جعفر ؑ، آل عقیل ؑ۔۔۔نیز سید کی اقسام ہیں ایک سید علوی و فاطمی اور ایک صرف سید علوی ،سید دونوں ہیں۔"((2))

مولوی سید غلام یحییٰ بخاری کتاب زاد السبیل ص ٨٣ پر روایت نقل کرتے ہیں:

ص: 121


1- [1]۔ انوار السیادت فی آثار السادت، ص 178۔
2- ۔ کتاب مقامِ اہلبیت (علیهم السلام) ،مجلس 6، ص 95۔

عن جابر قال قال رسولُ اللّٰہ صلی الله علیه و آله : اِنَّ اللّٰہَ جَعَلَ ذُرِّیَهَ کُل نَبیٍ فِی صُلبِہِ وَجَعَلَ ذُرَّیَتِی فِی صُلبِ عَلِی بنِ اَبِی طَالِبِ۔((1)

یعنی جابر سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:” بتحقیق اللہ تعالیٰ نے ہر ایک نبی کی ذرّیت کو اس کی صلب میں قرار دیا ہے اور میری ذرّیت واولاد کو جناب علی بن ابی طالب علیه السلام کی صلب میں قرار فرمایا ہے”۔

شیخ صدوق کتاب ”من لا یحضرہ الفقیہ” میں نقل کرتے ہیں:

”لمّا نَظَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی الله علیه و آله اِلَی اَولَادِ عَلِی وَجَعَفروَعَقِیلٍ فَقَال: ”بَناتُنَا لِبَنِینا وَ بَنُونَا لِبنَاتِنَا”((2))

یعنی جب رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے اولاد علی ، اولاد جعفر اور اولاد عقیل کو دیکھا تو فرمایا:” ہماری بیٹیاں ہمارے بیٹوں کے واسطے اور ہمارے بیٹے ہماری بیٹیوں کے واسطے ہیں۔”

اس حدیث میں گویا پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله نے اولاد حضرت علی ، اولادِجناب جعفر اوراولادِ جناب عقیل ابن ابی طالب (علیهم السلام) کو اپنی اولاد قرار دیا ہے اور سب کو نکاح میں ایک دوسرے کاہم کفو قرار دیا ہے اور ”بناتنا اور بنونا“کہہ کر تمام امّت پر واضح فرمادیا ہے کہ یہ میرے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔

پس سیادت کے اعتبارسے بلا تفریق فاطمی، علوی، عقیلی، جعفری سب سادات ہیں اور ایک دوسرے کا ہم کفو ہیں۔ ان ساری وضاحتوں کے بعد تعجب ہوتا ہے کہ اگر کسی سیّد کے نام کے ساتھ علوی، جعفری یا زینبی لکھا ہو تو متعصبین و حاسدین یہ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بھی سیّد ہیں، ایساکیوں ہے؟ شاید اسی وجہ سے سادات کرام اپنے عظیم الشّان باپ حضرت

ص: 122


1- ۔ فیض القدیر، ج٢، ص ٢٣٣۔
2- ۔ اعتقادات الامامیہ، باب 41؛ بحار الانوار، ج42، ص92، باب 120۔احوال اولادہ و ازواجہ۔

علی علیه السلام کی نسبت " علوی " لکھنے یا کہلانے سے گھبراتے ہیں؟ کیوں مولائے کائنات اپنوں میں بھی اتنے مظلوم واقع ہوئے ہیں، خدا کے لیے حقائق کو سمجھنے اور ان کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کریں نیزاموی فکر متعصب ملاؤں اور دشمنان ِآل ِعلی علیه السلام کی بے ہودہ سازشوں سے ہوشیار رہیں ۔

آل علی علیه السلام معزز ترین نسل

شیخ محمد بن علی ابن نطنزی کتاب خصائص العلویہ میں لکھتے ہیں:

”نسلہ اعزّ نسل”

یعنی حضرت علی کی نسل معزز ترین نسل ہے۔

پاک و ہند میں کم علمی کی بنا پر حضرت علی علیه السلام کی غیر فاطمی اولاد کو نہ صرف سادات کے حکم میں نہیں سمجھا جاتا بلکہ تحقیر اور جسارت آمیز القاب دئیے جاتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ یہ جہالت ، حسد اور تعصب کا نتیجہ ہے۔ کیا آج بھی اموی سیاست کارفرما ہے؟

اگرچہ یہ بات اظہر من الشمس ہے مگر اذعان کے مزید اطمینان کے لیے جناب مفتی سیّد کفایت حسین نقوی اور راقم نے موجودہ مجتہدین عظام اور مفتیان دین کی خدمت میں اسی موضوع پراستفتأ کیے تھے، ان میں سے کچھ استفتاأت کے جوابات قارئین کے استفادہ کے لیے یہاں نقل کیے دیتے ہیں:

سوال: سادات کا عنوان کن کے لیے مخصوص ہے اور ان کا کیا حکم ہے؟

اس کے جواب میں استاد بزرگوارمرشدطریقت و شریعت حضرت آیه اللہ العظمیٰ آقای محمد تقی بہجت مد ظلہ العالی لکھتے ہیں: ”یہ عنوان بنی ہاشم کے لیے ہے، ہر وہ شخص سیّد

ص: 123

ہے جس کا نسب حضرت ہاشم بن عبد المناف سے ملتا ہو اور سیاہ عمامہ سیّدکی علامت ہے ،غیر سید سیاہ عمامہ نہیں لگا سکتا" (مہر و دستخط)۔ ((1)

کیا حضرت امام علی علیه السلام کی تمام ازواج مطہرات سے اولاد ”سیّد” ہیں؟

حضرت آیه اللہ العظمیٰ لطف اللہ صافی گلپائیگانی لکھتے ہیں: "حضرت علی علیه السلام کی تمام اولاد سید ہے اور احکام شرعیہ جو سادات کے لیے ہیں ان کو شامل ہیں چاہے وہ حضرت فاطمہ الزہرا علیها السلام کے علاوہ دوسری ازواج مطہرات کے بطن سے ہوں۔ تمام "وہ لوگ جن کا سلسلہ نسب حضرت ہاشم بن عبد مناف سے ملتا ہے انہیں اصطلاح میں سید کہا جاتا ہے"۔(مہر و دستخط)

حضرت آیه اللہ العظمیٰ سید محمد علی علوی گرگانی مد ظلہ العالی لکھتے ہیں: ”سید اس شخص کو کہتے ہیں جس کا سلسلہ نسب حضرت ہاشم بن عبد المناف سے ملتا ہو“۔ [مہر و دستخط]

حضرت آیه اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی مد ظلہ العالی لکھتے ہیں:

”یہ عنوان (سید) ان افراد سے منسوب ہے جو باپ کی طرف سے حضرت ہاشم کے ساتھ نسبت رکھتے ہیں”۔(مہر و دستخط)

حضرت آیه اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی نجف اشرف: ”یہ عنوان اس شخص کے لیے ہے جو نسباً باپ کی طرف سے حضرت ہاشم تک پہنچے“۔(مہر و دستخط)

ص: 124


1- ۔ استفتاء نمبر ١٨٥٣٤ و مہر۔

حضرت آیه اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی دام ظلہ العالی حوزہ علمیہ قم المقدسہ: ”سید وہ ہے جو باپ کے اجداد کے لحاظ سے حضرت ہاشم تک پہنچے”۔ [مہر و دستخط]

حضرت آیه اللہ العظمیٰ شبیری مد ظلہ العالی: ”سادات کا عنوان ان کے لیے ہے جن کی نسبت حضرت ہاشم کی طرف ہو خمس کے دلائل اس عنوان کو شامل ہیں”۔ [مہر و دستخط]

حضرت آیه اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی: ”ہاشمی سید وہ ہوتا ہے جو باپ کی جانب سے نبی اکرم صلی الله علیه و آله کے دادا حضرت ہاشم کے ساتھ منسوب ہو اور موجودہ زمانے میں ان کی اولاد میں سے جو سادات کے عنوان سے مشہور ہیں وہ حضرت علی علیه السلام کی اولاد سے ہیں چاہے آپ کی وہ اولاد جناب فاطمه الزہرا علیها السلام میں سے ہو یا ان کے علاوہ کسی اور زوجہ سے ہو“۔

نیز حضرت علی کی غیر فاطمی اولاد کے بارے میں لکھتے ہیں:”ان میں اور دوسرے سادات میں کوئی فرق نہیں”[مہر و دستخط]

حضرت آیه اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی لکھتے ہیں: ”سید وہ ہوتا ہے جو حضرت ہاشم کی طرف منسوب ہو”۔ مزید تحریر فرماتے ہیں: " ”جو شخص باپ کی طرف سے جناب عباس ابن علی ابن ابی طالب (علیهم السلام) سے نسبت رکھتا ہو وہ علوی سید ہوتا ہے اور سارے علوی، عقیلی سید ہاشمی ہیں"۔((1))

تاریخ سے آگاہی رکھنے والا یہ جانتا ہے کہ صدر اسلام میں تمام سادات ہاشمی کے عنوان سے پہچانے جاتے تھے، پھر طالبی اور عباسی کے عنوان میں تقسیم ہوئے پھر طالبی سادات بھی علوی، عقیلی، جعفری کے عنوان سے یاد کیے جانے لگے اور پھر حضرت علی علیه السلام کی اولادفاطمی سادات اور علوی سادات کے عنوان سے ذکر کی جانے لگی۔

اس دور میں حضرت علی علیه السلام کی اولاد، حسنی، حسینی، رضوی، نقوی، تقوی، کاظمی، موسوی، علوی، عابدی، زیدی اور محمدی وغیرہ کی نسبت سے جانی پہچانی جاتی ہے در اصل یہ سب مورث اعلیٰ سے نسبتی اور عرفی عناوین یا ہر علاقہ میں موجود مورث اعلیٰ کے نام سے جیسے آل حسن، آل عون

یا حسن آل اور عون آل وغیرہ کی سب کاسٹ سے یاد کیے جاتے

ص: 125


1- ۔ کتاب استفتاأت ، ج ١ ، نمبر٤٣٠١۔مزید فتاوی کے لیے کتاب "صحیفۂ سادات " اور "اولاد امیر المؤمنین ؑ کیا علوی سادات ہیں؟" سے رجوع کریں۔

ہیں۔بلکہ بعض مقامات پر علاقائی، امرائی اورریاستی القاب جیسے سلطان، ملک اور شاہ وغیرہ بھی استعمال ہونے لگے۔

آیات و روایات سے ہرمؤمن کا احترام ثابت ہے اور سادات کا احترام عقلاً و شرعاً واجب ہے، ہتک حرمت، غیبت، تہمت اور پست القاب دینا حرام ہے، کسی کے خلاف بازاری زبان ہرگز استعمال نہ کریں۔ ذریّت علوی کی تو ہین کرکے اپنی عاقبت کوہرگز خراب نہ کریں۔

قال رسول اللّٰہ صلی الله علیه و آله :”ألآ من مات علیٰ حبّ آل محمد بشِّرہُ ملک الموت و نکیرومنکربالجنّه، اَ لآ من مات علیٰ بغض آل محمّد لا یشمّ رائحه الجنّه أبداً“((1))

" آگاہ رہو جو کو ئی آل محمد صلی الله علیه و آله کی محبّت پر مرتا ہے اس کو ملک الموت اور منکر ونکیر جنّت کی بشارت دیتے ہیں۔ اور آگاہ رہو کہ جو کوئی آل محمّد کے ساتھ بغض اور دشمنی میں مرے گا وُہ کبھی بھی جنّت کی خوشبو نہ پائے گا"۔

اہل ایران کے یہاں یہ بات معروف ہے:”با آل علی علیه السلام ہر کہ در افتا د برافتاد“۔جو بھی آل علی علیه السلام سے ٹکرایا وہ پاش پاش ہو گیا۔

تجربہ میں یہ بات آئی ہے کہ١ولادِ علی و آلِ نبی صلی الله علیه و آله کے ساتھ دشمنی کرنے والا آخر کسی مہلک بیمار ی اور عذاب میں مبتلا ہو کرہلاک ہوتا ہے، اہل عبرت کے لیے تاریخ میں بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

لہذا عنادو کینہ اور حسدکی بجائے عقل و دین کا تقاضا ہے کہ ان سے محبّت کی جائے، نیز اس سلسلہ جلیلہ سے نسبت رکھنے والے اپنی سیاد ت، جو عطیّہ الہٰی و نعمتِ خداوندی ہے۔ اس کی حفاظت کریں، غرور و تکبّر سے پرہیز اور تواضع و تقویٰ کو اپنائیں۔ مسائل کو اتحاد و

ص: 126


1- ۔ تفسیر ثعلبی، ج٥، ص٣٩١؛ تفسیرالکشاف زمحشری، ج٣، ص٤٦٧؛ رسالہ الساده فی سیاده ص١٣٨۔

انسجام کے ساتھ حل کریں، افتراق سے دور رہیں چوں کہ اس سے آل ِعلی کے موذی دشمن کو فائدہ ہو گا تاریخ گواہ ہے کوئی بھی قوم و قبیلہ اپنے اندرونی اختلاف و تفرقہ کی وجہ سے تباہ برباد ہوا اور اتحاد و انسجام کی وجہ سے وہ دنیا پر حکومت کرتے نظر آیا۔(1)

ابو الائمہ و السّادات امیر المٔومنین حضرت علی علیه السلام نے شب شہادت اپنی وصیت میں اس اہم مسئلہ کی تاکید فرمائی تھی ان کی وصیت پر عمل کرنا ہم سب پر واجب ہے، آپ نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا:

”اوصیکما وجمیع ولدی و اھلی و من بلغہ کتابی بتقویٰ اللہ و نظم امرکم و صلاح ذات بینکم“((2))

اے حسن وحسین آپ دونوں، اپنی تمام اولاد، اپنے تمام خاندان اور جس جس تک یہ نوشتہ پہنچے وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو اور تقویٰ کو اپناؤ، اپنے معاملات درست اور منظم رکھو اور آپس کے تعلقات سلجھائے رکھو”

سادات فاطمیہّ اورسادات علویہّ و ہاشمیّہ اسلام محمدی کا ہراول دستہ ہیں۔ یہ متحد ہوکر ہی سیاسی، سماجی اور معاشی میدان میں بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس لیے کہ ہر دور میں بالخصوص اس جمہوری دور میں خاندانی قوّت و طاقت سیاسی واجتماعی میدان میں کامیابی کی کسوٹی ہے نیز اس سے دوسروں کو ظلم و زیادتی کرنے کی بھی جرات نہیں ہوگی۔ سورہ مبارکہ ہود میں ہے کہ جس وقت جناب شعیب علیه السلام کی قوم نے ان کی نافرمانی کی اور وہ اپنے موقف پر باقی رہے تو ان کی قوم نے کہا:” اگر تمہاراعشیرہ وخاندان نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے”۔

ص: 127


1- ۔ پیام مسجد، ش نمبر20،ص40 و45۔
2- ۔ نہج البلاغہ، مکتوب ٤٧۔

حضرت امیر المومنین علیه السلام نے حضرت امام حسن علیه السلام کے نام جو وصیت فرمائی ہے اس میں بھی اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا:

”خاندان کے افراد کی توقیر و تکریم کرنا، عزیز اور قرابتدار تمہارے قوت و بازو ہیں جس طرح درخت کی حیات و بقاء جڑوں سے ہوتی ہے اسی طرح انسان کے عزیز و اقارب اس کی زندگی کا باعث ہوتے ہیں"۔

مصیبت کے وقت رشتہ دار دوسروں سے زیادہ دلجوئی کرتے ہیں، اوروں سے پہلے مدد کو پہنچتے ہیں، اگر کسی نے خاندان سے رشتہ توڑ لیا تو خاندان صرف ایک فرد کی مدد سے محروم ہو گا مگر رشتہ توڑنے والا پورے خاندان کی مدد سے محروم ہوجا ئے گا۔

صدراسلام سے لے کراب تک تمام اسلام دشمن طاقتوں نے سب سے پہلے خاندان ِرسالت و امامت کو اپنے مظالم کا نشانہ بنایا ہے۔ آج کی ناصبی اور استکباری قوّتیں بھی سادات کرام اور راسخ ا لایمان مسلمانوں کو مٹانے کے در پے ہیں لہذا آپ لوگوں کو آپس میں اخوت و ہمبستگی کی اشدّ ضرورت ہے۔ خدا ہم سب کو حقائق کو سمجھنے، لکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

فقہ میں سادات کے کچھ مخصوص احکام آئے ہیں مثلاًغیربنی ہاشم کے کفارات، صدقات و زکوٰه واجبہ کا حرام ہونا، مستحق ہونے کی صورت میں خمس کا حلال ہونا، سیاہ عمامہ پہننا اور امام جماعت ہونے میں مقدم ہونا اور علویہ خواتین کا ساٹھ سال میں یائسہ ہونا جب کہ عام خواتین پچاس سال میں یائسہ ہوتی ہیں۔((1) )

ص: 128


1- ۔ مزید تفصیل کے لیے اصول کافی کتاب الصدقہ بنی ھاشم اور صحیح مسلم باب”تحریم الزکاه علی رسول اللہ صلی الله علیه و آله و علیٰ آلہ و ھم بنو ھاشم و بنو عبدالمطلب دون غیر ھم”کتاب وسائل الشیعہ ”کتاب الزکاه، باب قسمه الزکاه”، کتاب الطہارۃ اور فقہ کی کتب سے رجوع کریں۔

اُمُّ البنین ؑکے بیٹوں کے لیے خمس حلال ہے

علماء کا متفقہ فتویٰ ہے جو باپ کی نسبت سے سیّد ہو اس کو اور ان کی اولاد کو خمس دیا جا سکتا ہے۔

صا حب ”شرائع الاسلام” لکھتے ہیں کہ ”خمس میں معتبریہ ہے کہ سہمِ سادات اس کو دیا جائے جس کا سلسلہ نسب باپ کی طرف سے حضرت عبدالمطلب سے ملتا ہو”

اس عبارت کے ذیل میں آیهاللہ رضا ہمدانی لکھتے ہیں کہ خدا نے بنی ہاشم پر زکوٰه و صدقات حرام کیے ہیں اور خمس حلال قرار دے کران کو لوگوں کے صدقات سے بے نیاز کردیا ہے اور خمس کے استحقاق کا میزان یہ ہے کہ وہ عبدالمطلب بن ہاشم کی اولاد سے ہو۔

حضرت امام موسیٰ کاظم علیه السلام فرماتے ہیں: خمس کے مستحق نبی کے وہ قرابتدار ہیں جن کا ذکر اس آیت ٢١٤، سوره الشعرأمیں آیا ہے (وَانذِرعَشِیرَتَکَ الاَقرَبِینَ)اور پھر فرمایا:

”ھم بنو عبدالمطلب انفسم الذکرمنھم ولانثیٰ، لیس فیھم من اھل بیوتات قریش“((1))

اور وہ بنی عبدالمطلب کے مرد اور عورتیں مراد ہیں اس میں قریش کے د وسرے قبیلے شامل نہیں۔

علامہ حلّی اپنی مشہور کتاب ”تذکره الفقھاء” میں لکھتے ہیں:

”المراد بالیتامیٰ و المساکین وابناء السبیل فی آیه الخمس من اتصف لھذا صفات من آل رسول صلی الله علیه و آله وھم ولد عبدالمطلب بن ھاشم وھم آلان اولاد ابی طالب والعباس والحارث خاصہ دون غیرھم وقال الشافعی: سھم ذی القربی لِقرابهالنّبی صلی الله علیه و آله

ص: 129


1- ۔ کتاب الوسائل، ج٩، کتاب الخمس باب قسمته الخمس، حدیث٨۔

وھم اولاد ھاشم وآل عبدالمطلب یقول النّبی: انا و بنو عبدالمطلب لم نفرق فی الجاھلیہ والاسلام المراد با لنصره لا ستحقاق الخمس وقال ابو حنیفہ: انّہ لآل ھاشم خاصہ۔

ترجمہ: آیه خمس میں یتامیٰ، مساکین و ابناء السبیل سے مرادوہ افراد ہیں جوان اوصاف سے متصف ہونے کے ساتھ آل رسول صلی الله علیه و آله میں سے ہوں اور وہ اولاد عبدالمطلب بن ہاشم ہیں جو اولاد ابی طالب وعباس اور حارث ہیں اِن کے علاوہ کوئی نہیں، پھرجناب شافعی کا قول نقل کرتے ہیں کہ جناب شافعی کہتے ہیں:، سہم ذی القربیٰ، بنی صلی الله علیه و آله کے قرابتدا روں کے لیے ہے اوروہ اولادہاشم و عبدالمطلب ہیں۔ اس لیے کہ نبی صلی الله علیه و آله کا فرمان ہے کہ میں اور بنو عبدالمطلب اسلام سے قبل اور بعد کبھی جدا نہ تھے مراد اُن کی نصرت باعث استحقاق خمس ہے۔ پھرجناب ابو حنیفہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد فقط آل ہاشم ہیں۔

ہمارے یہاں شریعت ِاسلام سے بے خبر بعض مفتی اورتعقل و تفکّر سے عاری کچھ عوام یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ حکم فقط اولاد حضرت فا طمہ الزہرا علیها السلام کے ساتھ خاص ہے گویا ان کی نظر میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله اور حضرت علی علیه السلام بھی سیّد نہیں جب کہ

متعدد احادیث مبارکہ سے یہ حکم تمام بنو ہاشم کے لیے ثابت ہے حضرت علی علیه السلام کی اولاد تو بطریق اولیٰ سادات ہیں اور غیر بنی ہاشم کا صدقہ اور زکواه ان پر حرام ہے۔

اُمُّ البنین علیها السلام کی اولاد آل محمد صلی الله علیه و آله میں شامل ہے

جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے شوہر نامدارحضرت علی مرتضیٰ علیه السلام کے بارے میں سید الانبیا حضرت محمدمصطفےٰ صلی الله علیه و آله فرماتے ہیں:

ص: 130

”آلا انّ علی ابن ابی طالب من حسبی ونسبی فمن وأحبّہ فقد أحبنّی و من أبغضہ فقد أبغضنی“(1)

ترجمہ: خبر دار! بالیقین، علی ابن ابی طالب میرے حسب و نسب سے ہیں پس جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے دشمنی کی گویا اس نے مجھ سے دشمنی کی”۔

علی مرتضیٰ علیه السلام کے صُلب سے نبی مصطفی صلی الله علیه و آله کی اولاد

محدثین نے حضرت جابر اور حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں: پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

”اِنَّ اللّٰہَ جَعَلَ ذُرِّیَّهَ کُلَّ نَبِیٍ فِی صُلبِہِ وَ جَعَلَ ذُرِّیّتِی فِی صُلبِ عَلِی ابنِ اَبِی طاٰلِبٍ“

خدا وند عالم نے ہر نبی کی اولاد اس کے صلب میں قرار دی لیکن میری اولاد اورنسل علی ابن ابی طالب (علیهم السلام) کے صلب میں قرار دی۔(2)

ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا:

”انّ جبرائیل نزل علیّ فاخبرنی ۔۔۔انا و علی من شجره واحد ہ و سائرالناس من شجر شتی“

ترجمہ: نبی اکرم

صلی الله علیه و آله فرماتے ہیں جبرائیل علیه السلام نازل ہوئے اور مجھے بتایا کہ میں اور علی ایک شجرہ سے ہیں اور باقی لوگ دیگر شجروں میں سے ہیں۔

ص: 131


1- ۔ بحار الانوار، ج ٧ ، ص ٢٤١۔
2- ۔ ینابیع الموده، ص ٣١٨؛ صوائق محرقہ، ص ٧٤؛ ریاض النضرہ، ج٢، ص١٦٧؛ فیض القدیر، ج٢، ص٢٣٣؛ المناقب ابن مغازلی، ص ٧٢، حدیث٧٢؛ علی خلیفہ رسول صلی الله علیه و آله ، ص١٢٣۔

خود امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام اپنے ایک نورانی خطبہ میں بیان فرماتے ہیں:

فقال: فانّ ”۔۔۔نحن واللہ عنی بذل القربیٰ الذین قرننااللہ بنفسہ وبرسولہ(ﷲ خمسہ وللرّسول ولذی القربیٰ ولیتامٰی و المسٰاکین ابن السبیل)فینا خاصہ۔۔۔ ولم یجعل لنا فی سھم الصدقہ نصیبا، اکرم اللہ رسولہ و اکرمنا اھل البیت ان یطعمنا من اوساخ الناس، فکذبوا اللہ و کذبوا رسولہ و جحدوا کتاب اللّٰہ النّاطق بحقّنا و منعونا فرضاً فرضہ اللہ لنا خاصّہ “((1))

ترجمہ: خدا کی قسم ہم ہیں ذوالقربیٰ جن کو خدا نے اپنے رسول صلی الله علیه و آله کے سہم کے ساتھ ملایا ہے اس کاپانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول صلی الله علیه و آله اور قریب ترین رشتہ داروں اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور یہ گروہ ہم ہیں اور صدقہ میں ہمارا حصہ قرار نہ دے کر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی الله علیه و آله اور ہم اہل بیت کو عزّت و احترام دیا ہے تاکہ ہم لوگوں کے ہاتھ کا میل نہ کھائیں مگر غاصبوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی الله علیه و آله کو جھٹلایا اور اللہ کی کتاب میں جو ہمارا حق بیان ہوا ہے، اس سے انکار کیا اور خدا نے جو ہمارے لیے ان پر فرض کیا تھا وہ ہمیں نہ دیا۔

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیه و آله کی رحلت کے ساتھ ہی بنی تمیم، بنی عدی، بنی امیّہ اور دوسرے ابناء الوقت اکٹھے ہو گئے اور انھوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بنی ہاشم کے اس مسلّم حق خمس اور حضرت علی مرتضیٰ علیه السلام کے حق ولایت و امامت کا انکار کر دیا جس کی بنا پر امّت تفرقہ کا شکار ہو گئی اور آج تک جو فرقے ان کو اپنے دین کی بنیاد سمجھتے ہیں وہ بھی اس حق کے منکر ہیں۔

ص: 132


1- ۔ الوسائل ،ج ٧ ،ص ٣٥٧ حدیث ٧۔

آل اور امّت میں فرق

سنی اور شیعہ محدثین نے بہت سی احادیث نقل کی ہیں، جس سے واضح ہو تا ہے کہ جن جن پر صدقہ و زکوٰه واجبہ حرام ہے وہ تمام بنی ہاشم ہیں اور وہ آل محمد میں شامل ہیں ۔ہم یہاں اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض احادیث ذکر کرتے ہیں:

مامون خلیفہ عباسی کے دربار میں عراق کے علماء نے حضرت امام رضا علیه السلام سے پوچھا کہ آل اور امّت میں کیا فرق ہے؟

قال اخبرونی ھل تحرم الصدقہ علی آل محمد؟ قالوا بلیٰ! قال: فتحرم علی الامّہ؟ قالوا: لا، قال: ھذا فرق بین الآل وبین الامّہ؟((1))

ترجمہ: امام علیه السلام نے دریافت فرمایا: ”مجھے بتاؤ کیا آل محمد صلی الله علیه و آله پر صدقہ حرام ہے؟ علماء نے کہا جی ہاں، پھر آپ علیه السلام نے سوال کیا!کیا امّت پر بھی حرام ہے؟ علماء نے جواب دیا نہیں! آپ نے فرمایا :یہی فرق ہے آل اور امّت کے درمیان”۔

یعنی جن جن پر صدقہ حرام ہے وہ آلِ رسول صلی الله علیه و آله ہیں اور جن جن پر حلال ہے وہ امّت ِ نبی صلی الله علیه و آله ہیں۔

مسلم اور نسائی نے زیدا بن ارقم سے روایت کی ہے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله نے اپنے خطاب میں ارشاد فرمایا: کہ خدا نے میرے اہل بیت پر صدقہ حرام کیا ہے: پوچھا گیا کہ وہ کون ہیں تو آپ نے فرمایا: وہ آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔((2))

ص: 133


1- ۔ تحف العقول ، ص ٤٢٦۔
2- ۔ صحیح مسلم، جلد ٣، ص ١١٧ طبع مصر۔

اہل بیت (علیهم السلام) کون ہیں؟

صحیح مسلم میں زید بن ارقم سے روایت ہے: کہ ”میں نے بہت نیکی پائی، پیغمبراکرم صلی الله علیه و آله کی صحبت میں رہا اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، ایک دن آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: ”آگاہ رہو میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہاہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میرے اہل بیت ، یہ اللہ کی رسی ہے جس نے ان کی اتباع کی وہ ہدایت پر ہے اور جس نے ان کوچھوڑ دیا وہ گمراہی پر ہے”۔

راوی کہتا ہے، ہم نے پوچھا اے زید اہل بیت کون ہیں؟ کیا رسول صلی الله علیه و آله کی بیویاں بھی اہل بیت سے ہیں؟

اس نے کہا: ”نہیں خدا کی قسم عورت، مرد کے ساتھ ایک دور گزارتی ہے پھر اگر اس کو طلاق ہوجائے توواپس والدین اور قبیلہ میں چلی جاتی ہے، جب کہ اہل بیت پیغمبر صلی الله علیه و آله وہ ہیں جن کا آپ سے خونی رشتہ و عصبہ ہواور ان پر صدقہ حرام ہو"((1))

حضرت عباس علمدار ؑ کا آل رسول صلی الله علیه و آله سے ہونے پر ایک تاریخی خطبہ

علامہ دربندی لکھتے ہیں کہ حضرت عباس علیه السلام ایک جسور شخص کے جواب میں بہت محکم اور فصیح و بلیغ

انداز میں فرماتے ہیں: ” تف ہو تم پر کیا مجھے رسول خدا صلی الله علیه و آله سے نسبت نہیں ہے؟ جب کہ میں شجرۂ نبوت کی ایک شاخ ہوں اور اس کے ثمرہ ٔ نور کا ایک گل ہوں جو شخص شجرۂ نبوت سے قرارپائے وہ کیسے آل رسول صلی الله علیه و آله میں داخل نہیں؟”((2)

ص: 134


1- [1] ۔ صحیح مسلم، ج ٧، ص ١٢٣ ؛ احقاق الحق، ج ٩، ص ٣١٩۔
2- ۔ اسرار الشھادہ، ص ٣٢٠ ؛ابطحی، حضرت ابا الفضل ، ص ٢٤٢۔

کتاب ”انوار زہرا ” میں علامہ سید حسن ابطحی تحریر فرماتے ہیں : میں نے سو سے زائد احادیث اور لغت کی کتابوں کا غورو دقّت سے مطالعہ کیا ہے، بہت سی احادیث سے استفادہ ہوتاہے کہ تمام بنی ہاشم روز قیامت تک آل محمدؐ میں شامل ہیں اور باب زکوٰه میں مذکور احادیث میں کہا گیا ہے کہ زکوٰه آل محمد ؐ پر حرام ہے اور باب خمس میں واضح احادیث نقل ہوئی ہیں کہ خمس آل محمد ؐ پر حلال ہے اور یہ بھی تصریح ہوئی ہے کہ جن پر زکوٰه حرام ہے اور خمس حلال ہے وہ بنی عبدالمطلب یعنی تمام بنی ہاشم ہیں”۔((1))

اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اولاد اُمُّ البنین ؑ آل محمد ؐ میں شامل ہیں نیز تمام شرعی احکام مثلاً زکوٰه و صدقات کاحرام ہونا، خمس کا حلال ہونا، صلوات اورلباسِ سادات میں شریک ہیں۔((2))

نماز میں محمد و آل محمد صلی الله علیه و آله پر درود بھیجنا واجب ہے

محدث بیہقی سنن الکبری میں ابن مسعود سے حدیث نقل کرتے ہے کہ اگر نماز پڑھیں اور محمد و آل محمد صلی الله علیه و آله پر صلوات نہ پڑھیں تو نماز نہیں ہوتی۔

شیعہ اور سنی علماء کا فتویٰ ہے کہ نماز کے تشہد میں محمد و آل محمد صلی الله علیه و آله پر صلوات بھیجنا واجب ہے۔اس کو امام شافعی ؒ نے اپنے شعرمیں یوں بیان کیا ہے:

یا اھل بیت رسول اللّٰہ حبّکم فرض من اللّٰہ فی القرآن أنزلہ

ص: 135


1- ۔ کتاب انوار زہرا ، ص ١١٦ و ١١٧، نشر حاذق قم۔
2- ۔ مزید تفصیل کے لیے”صحیح مسلم باب تحریم الزکاه علی رسول اللّٰہ صلی الله علیه و آله وعلیٰ آلہ وہم بنوہاشم وبنوعبدالمطلب دون غیرھم” کے ذیل میں احادیث نقل کی گئی ہیں اس طرح اصول کافی باب الزکوٰه اور احقاق الحق، جلد٩، ص ٣٨٩۔ سے رجوع فرمائیں۔ [2] ۔ مسند احمد بن حنبل، ج6، ص323۔ تفسیر الکبیر، ج27، ص166۔الصواعق المحرقہ ابن حجر، ص228۔

کفاکم من عظیم القدر انّکم من لم یصل علیکم لا صلوٰه لہ ((1))

ترجمہ:اے اہل بیت رسول اللہ صلی الله علیه و آله ! آپ کی محبّت اللہ نے ہم پر فرض کردی ہے اور قرآن میں یہ حکم (قُل لََّا اَسئَلُکُم عَلَیہِ أجراًََ اِلَّا المَوَدََََََََََّهَفِی القُربٰی)آیہ ٢٣، سوره شوریٰ)نازل کردیا ہے، آپ کے لیے یہ عظیم فضیلت اور برتری کا فی ہے کہ اگر کوئی آپ پر صلوات نہ بھیجے تو اس کی نماز ہی قبول نہیں ہو تی۔

حضوراکرم صلی الله علیه و آله پر صلوٰت کس طرح بھیجیں؟

(اِنَ اللّٰہَ وَمَلائِکَتَہ یُصَلُّونَ عَلَی النَبِّیِ یٰا ایُّھَا الذِینَ آمَنُو صَلُّوا علیہِ وَسَلِّمُوا تسلیماً)((2)

اللہ اور اس کے فرشتے یقینا نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو جیسے سلا م بھیجنے کا حق ہے

اس آیۂ مجیدہ میں پیغمبر صلی الله علیه و آله پر درود بھیجنے کا حکم ذکر ہوا ہے ۔ جب آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓنے پوچھا! یا رسول صلی الله علیه و آله ! آپ پر درود کیسے بھیجا جائے؟ تو آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: مجھ پر صلوات ابتر (دم بریدہ ) نہ بھیجنا۔ صحابہ نے عرض کی، صلوت ا بتر کو نسی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اللھم صلّ علیٰ محمد" کہو اور آلِ محمدؐ کو چھوڑ دو۔ بلکہ مجھ پر جب بھی صلوات بھیجو تو کہو ”اللّھمّ صلّ علیٰ محمدوّآل محمد“۔ جوآل محمد صلی الله علیه و آله کو صلوات میں شامل نہ کرے وہ میری شفاعت سے محروم ہوگا۔

جناب حسن امان اللہ دہلوی ناقل ہیں: جب پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله سے صلوات کی کیفیت و طریقہ کے با رے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: کہو اللّٰھم صلّ علیٰ محمدوّآلِ محمد” ایک

ص: 136


1-
2- ۔ آیہ ٥٦، سوره ا حزاب۔

صحابی نے ”وعلیٰ آلِ محمد” پڑھا تو آپ نے فرمایا: جوشخص میرے اور میری آل کے درمیان ”کلمہ علیٰ ”سے فاصلہ لا ئے گا اسے بھی میری شفاعت نصیب نہ ہوگی۔ علامہ جلال الدین دوانی نے شرح تجرید کے حاشیہ میں بھی اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔

بخاری نے کعب ابن عجزہ سے روایت نقل کی ہے کہ جب پیغمبر صلی الله علیه و آله سے پوچھا گیا کہ یا رسول ا للہ صلی الله علیه و آله آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر درود کیسے بھیجیں تو آپ نے فرمایا :

اللھم صلّ علیٰ محمد وّعلی آلِ محمد کما صلیت علی ابراھیم و آلِ ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علیٰ ابراھیم و علیٰ ابراھیم انک حمید مجید۔ ((1))

اے اللہ! محمد صلی الله علیه و آله اور آل محمد پر درود ورحمت بھیج جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی ، اے اللہ برکت بھیج محمد صلی الله علیه و آله اور آل محمد صلی الله علیه و آله پر جس طرح تو نے ابراہیم علیه السلام اور آل ابراہیم علیه السلام پر برکت بھیجی یقینا تو قابل ستایش اور بڑی شان والا ہے۔

فدک و اولاد ِاُمُّ البنین علیها السلام

راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفرصادق علیه السلام سے دریافت کیا؟ اگر فدک آپ کو واپس مل جائے توآپ اس کی تقسیم کس طرح کریں گے؟ توآپ نے فرمایا:

”اعطینا ولد العبّاس الشھید الربع والباقی لنا“۔ ((2))

ص: 137


1- ۔ صحیح بخاری، 4، ص 46، طبع مصر۔
2- ۔ المقرم: العبّاس، ص ١٤٩۔

ترجمہ: چوتھا حصّہ اولاد جناب عبّاس شہید علیه السلام کو دیں گے اور باقی ہمارے لیے ہو گا۔

پس یہ بات واضح ہے کہ حضرت ابولفضل العباس علیه السلام بلکہ امیر المؤمنین علی علیه السلام کی تمام اولاد امجاد اہل بیت کے زمرے میں آتی ہیں، صلوات و سلام اور سیادت کے احکام اُن کو شامل ہیں۔

تعجب ہوتا ہے بعض لوگ کم علمی یا تعصّب کی بنا پر یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ اہل بیت میں سے نہیں یا شرفِ سیادت نہیں رکھتے۔ یہ آل محمد صلی الله علیه و آله کے خلاف دشمنان ِاسلام کی دیرینہ سازش ہے۔

جو میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے

حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے جناب عبید روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو کوئی ہماری اتباع کرے وہ ہم اھلبیت

میں سے ہے”۔ راوی نے پھر پوچھا! مولا وہ آپ میں سے ہو جاتا ہے؟ حضرت فرماتے ہیں: ہاں! ”وہ ہم سے ہو جاتا ہے کیا تم نے حضرت ابراہیم علیه السلام کا یہ جملہ قرآن میں نہیں پڑھا؟

”فَمَن تَبِعَنِی فَاِنّہ مِنِّی“(1) جو میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے۔

گویا حضرت ابراہیم یہ اعلان فرمارہے ہیں بلکہ ایک قانون بنا رہے ہیں جو کوئی میری اتباع اور پیروی کریگاوہ مجھ سے ہے اور جو کوئی بھی میری اتباع نہیں کرے گا وہ مجھ سے نہیں چاہے وہ میری نسل سے ہی کیوںنہ ہو یعنی اگرکوئی راہ توحید وایمان ولایت سے ہٹ جائے تو وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اس لیے فرمایا ”فمن تبعنی فانہ منی” لمحۂ فکریہ ہے ان

ص: 138


1- ۔ سوره ابراہیم، آیہ ٣٦؛تفسیر عیاشی، ج٢، ص٢٣٢۔

لوگوں کے لیے جو سیّد یعنی آل ِ علی و آلِ رسول صلی الله علیه و آله ہونے کا یہ مدعا تورکھتے ہیں مگرآلِ علی ؑ کے دشمنوں کے بنائے ہوئے مذاہب کے پیروکار ہیں، وہ قبل اس کے کہ فرشتۂ اجل آجائے اپنی اصلاح کر لیں۔

حضرت امام محمد باقر علیه السلام فرماتے ہیں:

”تفسیرالفرات عن جعفربن محمد الفزاری ۔۔۔ عن خیثمه الجعفی قال: دخلت علی ابی جعفر- فقال: ”یا خیثمہ ابلغ موالینا منّا السلام و اعلمھم انّھم لم ینالوا ما عند اللہ الا بالعمل و قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله : سلمان منّا اھلبیت انما عنی بمعرفتنا واقرارہ بولایتنا“۔ ((1))

جناب خیثمہ ناقل

ہیں: کہ میں ابو جعفر حضرت امام محمد باقر علیه السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام علیه السلام نے فرمایا: اے خیثمہ ! میرے موالیوں اور پیرو کاروں کو میرا سلام پہنچا ؤاور ان کو آگاہ کر دو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک، مقام اور تقرب بغیر عمل کے نہیں حاصل نہیں کر سکتے اور پیغمبر صلی الله علیه و آله کا یہ فرمانا کہ”سلمان مناّ اھل البیت“ یعنی سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں۔ سلمان کو یہ مقام صِرف معرفتِ امامت او ر اقرارِ ولایت ِ اہل بیت کی بنا پرملا ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بھی محمد و آل محمد صلی الله علیه و آله کی ولایت اور معرفت رکھنے کے ساتھ ان کی اتباع و پیروی کریگا، وہ اس منزلت مناّ اہل بیت کے عظیم مقام پر فائز ہو گا۔ یہ حدیث ایک مؤمن کے معنوی درجہ کو بیان کر تی ہے۔

ص: 139


1- ۔ تفسیر فرات، ص ٥٧؛ حضرت ابا الفضل مظہر کمالات و کرامات، ص٢٥٣۔

معرفت، اتباع اور عظیم معنوی مقام کے ساتھ ساتھ اُمُّ البنین کے بیٹوں کی رگوں میں خونِ آلِ محمد صلی الله علیه و آله ہے رسول اللہ صلی الله علیه و آله اور انکی لخت جگر فاطمه الزہرا علیها السلام نے ان کی ولادت سے پہلے انھیں اپنا بیٹا کہا اور ان کے لیے نام تجویز کیا ہے اوروہ سیّد الاولیاء کی گود میں پروان چڑ ھے، ان کو علم وفضل، شجاعت و شہامت غرض ہر فضیلت ورثہ میں ملی، جوانان جنت کے سردار حضرت امام حسن علیه السلام اورحضرت امام حسین علیه السلام ان کے بھائی ہیں، کیا پھر بھی کوئی شک کرسکتا ہے کہ وہ آل ِمحمد سے جدا ہیں ہرگز کوئی یہ تصور نہیں کر سکتا ۔ اہل بیت کو دوسروں کے ساتھ مقائسہ نہ کرو!

اہل بیت کے کسی فرد کو کسی صحابی و تابعی سے مقائسہ ہرگز نہ کرو اس سلسلے میں واضح احادیث بیان ہوئی ہیں۔

قال رسول صلی الله علیه و آله :”نحن اھل بیت شجره النّبوه ومعدن الرسالہ، لیس احد من الخلائق یفضل اھل بیتی غیری“۔ ((1))

ترجمہ: رسول اللہ

صلی الله علیه و آله فرماتے ہیں کہ ہم اہل بیت شجرۂ نبوت اورسرچشمۂ رسالت ہیں، میرے اہل بیت پر میرے سواء بندگان خدا میں سے کسی کو فضیلت وبر تری نہیں ہے۔

وقال رسول اللہ صلی الله علیه و آله :”نحن اھل بیت لا یقاس بنا احد من الناس“ (2)

نیز آپ نے ارشاد

فرمایا: ہم اہل بیت کو کسی سے مقائسہ و موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

ص: 140


1- ۔ المناقب ابن مغاذلی ؛ احقاق الحق، ج ٩، ص٣٧٨۔
2- ۔ ینابیع الموده، ص ١٥٢۔

جناب عبد ا للہ بن عمر ایک دفعہ اصحاب ِرسول صلی الله علیه و آله کے نام لے رہے تھے تو ایک شخص نے کہا: آپ نے حضرت علی علیه السلام کانام کیوں نہیں لیا تو انھوں نے کہا: حضرت علی علیه السلام اہل بیت رسول صلی الله علیه و آله میں سے ہیں، کسی اور کے ساتھ ان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، وہ رسول اللہ صلی الله علیه و آله کے ہمراہ ہیں ان کے درجہ میں ہیں چنانچہ ارشاد ربّ العزّت ہے:

﴿وَالَّذِینَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتہُم ذُرِّیَّتُہُم بِیمَانٍ َلحَقنَا بِہِم ذُرِّیَّتَہُم ﴾((1))

" اور جو لوگ ایمان لے آئے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی، ہم ان کی اولاد کو (جنت میں) ان سے ملا دیں گے۔ "

لہذا حضرت علی علیه السلام رسول اللہ صلی الله علیه و آله کے ساتھ ہیں اور اس درجہ پر فائز ہیں ان کا کسی صحابی کے ساتھ مقائسہ و موازنہ نہیں کیا جا سکتا اور ان کی تمام اولاد آلِ رسول صلی الله علیه و آله کا حکم رکھتی ہے ان کو کسی امّتی کے ساتھ مقائسہ نہیں کیا جا سکتا۔

وہ لوگ جو حضرت علی علیه السلام کو رسول اللہ صلی الله علیه و آله کے بھائی اور آل کے بجائے اصحاب کے درجے پراور ان کی اولاد کو سادات کے زمرے سے جدا کرنے کی جسارت کر رہے ہیں وہ اپنی عقلوں پر ماتم کریں۔

اُمُّ البنین کے دوسرے فرزندحضرت عبداللہ ابن علی (علیهم السلام)

حضرت عباس علیه السلام کی ولادت کے دس سال بعدجناب عبداللہ کی ولادت ہوئی۔ کربلا کے میدان میں روز عاشورجناب عبداللہ کی فدا کاری اور شجاعت کوتاریخ کبھی نہیں بھول سکتی چنانچہ ان کی زیارت کے جملوں سے اس بات کو تقویت ملتی ہے۔

ص: 141


1- ۔ سوره طور، آیه ٢١۔

”الَسَّلامُ عَلیٰ عَبدِاللّٰہِ ابنِ اَمِیرِالمَؤمِنینَ صاحب الشُجَاعَهِ العَظِیمَه“

سلام ہو امیرالمومنین علیه السلام کے فرزند محترم عبداللہ پر جو عظیم شجاعت کے مالک تھے۔

اُمُّ البنین کے تیسرے فرزندحضرت عثمان بن امام علی علیه السلام اور چوتھے فرزندجعفر بن علی علیه السلام تھے۔

جعفر بن علی علیه السلام اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ جناب عثمان کی کربلا میں ٢٦ سال کے تھے۔ اور جناب جعفر ؑ ١٩ سال عمر میں شہادت کے عظیم درجہ پر فائز ہوئے لوگ ان چاروں بھائیوں کو

”اکبر” کے لقب سے پکارتے تھے۔ مثلاً عباس الاکبر، عثمان الاکبر، عبداللہ الاکبر اور جعفر الاکبر۔

حضرت عباس علیه السلام نے روز عاشور اپنی جان کے علاوہ اپنے ان تینوں بھائیوں کو برادر معظم مولاحضرت امام حسین

علیه السلام کی خدمت میں قربانی کے لیے پیش کیا۔ اور بھائیوں سے مخاطب ہو کر فرما یا:” تقدّ مواحتیٰ اراکم قد نصحتم للّٰہ ورسولہ“۔

بھائیو! آگے بڑھو! تاکہ میں تمہاری فدا کاری کودیکھوں، بیشک تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی الله علیه و آله کے حق میں خیر خواہی کا حق انجام دیا۔ چنانچہ تینوں بھائی لڑتے لڑتے جناب عباس کے سامنے شہید ہوگئے۔

حضرت ام ّالبنین کی دختر خدیجہ بنت حضرت امام علی علیه السلام

حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کی دخترخدیجہ بنت حضرت امام علی علیه السلام ہیں۔ حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کے ایک زیارت نامہ میں آپ کی دخترخدیجہ پر بھی سلام کا ذکر ہے۔

ص: 142

”والسلام علی ابنتک الدره الزاھره الطاھرہ الرضیه خدیجه

فجزاک“

”سلام ہو آپ کی دختر پر کہ جو درمکنون صدف طہارت ہیں اور رضیہ ہیں اور نام ان کا خدیجہ ہے، اللہ جزادے آپ کو اور ان سب کو”۔

”عمده الطالب” میں ہے کہ جناب خدیجہ بنت امام علی کی شادی عبدالرحمن ا بن عقیل ابن ابی طالب سے ہوئی تھی۔

جناب خدیجہ حضرت عباس سے چھوٹی اور تین بھائیوں، عبداللہ، عثمان اور جعفر سے بڑی تھیں۔ سید عبدالمجید حائری کی کتاب ذخیره الدارین میں تحریر ہے کہ خدیجہ بنت امام علی علیه السلام کربلا میں موجود تھیں شدت پیاس سے شہادت پاگئیں۔

ان کی قبرمبارک مسجد کوفہ کے سامنے ایک روضہ مبارکہ میں اب تک موجود ہے۔ حضرت علی علیه السلام کی ایک اور بیٹی خدیجه الصغریٰ تھیں جس نے ٢١ رمضان ٤٠ھ کو وفات پائی۔ جس دن حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام کی شہادت ہوئی اس معصومہ نے فراق پدر میں تڑپ تڑپ کر اپنی جان فدا کردی۔

جناب عقیل کے تین فرزندوں کے نام عبدالرحمن ہیں۔

١۔ عبدالرحمن اکبر (ان کی شادی نفیسہ بنت حضرت امام علی علیه السلام سے ہوئی۔ ان کو زینب صغریٰ بھی کہتے ہیں)۔٢۔ عبدالرحمن اوسط (ان کی شادی رملہ بنت علی علیه السلام سے ہوئی)۔٣۔ عبدالرحمن اصغر (ان کی شادی خدیجہ بنت علی علیه السلام سے ہوئی)۔

ص: 143

ص: 144

آٹھواں باب

حضرت اُمُّ البنین کے نامورپوتے اور پر پوتے

حضرت ام ّالبنین

کے چاروں بیٹے اور بعد ان کے پوتے اور پرپوتے نسل در نسل سب کے سب علم وفضل وتقویٰ اورشجاعت میں نابغہ روزگار تھے، سب کا اسلامی تاریخ اور سیرت نگاری کی کتابوں میں ذکر موجود ہے۔

ایک عرب شاعر نے آپ کو یوں کیا خوب مبارک با د پیش کی۔

لَیھنّک یااُمّ البنین بساده من فضل الابناء والاحفاد((1))

”اے اُمُّ البنین (بیٹوں کی ماں)! آپ کو مبارک باد ی کا تحفہ پیش کر رہا ہوں، آپ کس قدر بابرکت خاتون ہیں کہ آپ کے بیٹے، پوتے اور ان کی اولاد سب کے سب بزرگ سادات میں شمار ہوتے ہیں”۔

ص: 145


1- ۔ سید ضمیراختر نقوی، ا م البنین علیها السلام ،ص 284۔

حضرت اُمُّ البنین کی نسل حضرت عباس ابن امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیه السلام سے آج تک دنیا میں باقی ہے۔ عراق، ایران، یمن، پاکستان، ہندوستان، مصر وغیرہ میں اس نسل کے سادات موجود ہیں جو سادات علوی کہلاتے ہیں، ان کے علاوہ پاکستان میں بعض علوی ہاشمی، علوی نوشاہی، علوی اعوان، علوی قطب شاہی کے القاب سے شہرت رکھتے ہیں جو کہ سادات علویہ ہی کی سب کاسٹ ہیں۔ مورخین، سیرت نگار اور علم انساب کے ماہرین نے حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کے پوتوں کا ذکرا س ترتیب سے کیا ہے۔

١۔ فضل بن عباس علمدار علیه السلام (کربلا سے مدینے واپس آئے)۔

٢۔ محمد بن عباس علمدار علیه السلام (ابن شہر آشوب نے لکھا کربلا میں شہید ہوئے)۔

٣۔ قاسم بن عباس علمدار علیه السلام (کربلا میں شہید ہوئے)۔

٤۔ حسن بن عباس علمدار علیه السلام (شیخ فتونی کا خیال ہے کہ حسن بن عباس سے بھی نسل چلی ہے)۔

٤۔ عبید اللہ بن عباس علمدار علیه السلام (مدینہ میں اپنی دادی جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی خدمت میں رہ گئے تھے)۔

٦۔ ایک دختر (خدیجہ یا نفیسہ)۔

سید عبدالرزاق موسوی المقرّم لکھتے ہیں:

حضرت ابوالفضل العباس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی: جناب فضل، جناب حسن، جناب قاسم، جناب عبید اللہ ، لیکن ابن شہر آشوب نے شہدائے کربلا میں پانچویں فرزند محمد کے نام کا بھی ذکر کیا ہے جو کربلا میں شہید ہوئے۔

جناب فضل اور عبید اللہ کی ماں لبابہ ہیں جو جناب عبدالمطلب کی پرپوتی ہیں، علمائے

ص: 146

ا نساب کا اتفاق ہے کہ جناب ابوالفضل العباس علیه السلام کی نسل جناب عبیداللہ سے باقی ہے۔ شیخ فتونی کا خیال ہے کہ حضرت عباّس علمدار علیه السلام کے دوسرے فرزند جناب حسن سے بھی آپ کی نسل چلی ہے۔ (1)

حیدر المرجانی رقمطراز ہیں:

فارسی کے مقاتل کی کتابوں میں حضرت عباس علیه السلام کی چار اولاد لکھی ہیں:

١۔ فضل ٢۔ محمد ٣۔ قاسم ٤۔ عبیداللہ

ان میں سے محمد اور قاسم نے روز عاشور شہادت پائی۔ اور فضل کربلا سے واپس مدینہ آئے لیکن یہ بات مسلم ہے کہ عبیداللہ مدینے میں تھے اور ان کی اولاد نے اسلامی ممالک میں علم و فضل میں شہرت حاصل کی۔

علامہ سید محسن شامی عاملی اپنی کتاب ” اعیان الشیعہ، جلد ٤ "میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت عباس کے دو بیٹے محمد اور قاسم کربلا میں شہید ہوگئے اور دو بیٹے فضل اور حسن مدینے واپس آئے”۔

اُمّ البنین علیها السلام کے پوتے

اشاره

اب ہم حضرت اُمُّ البنین کے پانچوں پوتوں کے مختصر حالات یہاں تحریر کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

ص: 147


1- ۔ العباس، المقرّم، باب اولاد۔

1۔ شہزادہ محمدا بن عباس علمدار علیه السلام (شہید کربلا)

جب حضرت عباس علمدار علیه السلام کے تینوں بھائی شہید ہو چکے تو آپ نے اپنے فرزند کو کہ جس کا نام محمد تھا بلایاجن کا سن مبارک چودہ یا پندرہ سال تھا، پہلے اسے سینے سے لگایا اور پیار کیا اور پیشانی کا بوسہ لے کر فرمایا: اے فرزندارجمند! اے بیٹا! اے میرے نورِچشم یہ درست ہے کہ تو میرا لخت جگر ہے، تیرا قتل ہونا مجھ پر بہت دشوار ہے لیکن واللہ تو مجھے رسول خدا صلی الله علیه و آله کے بیٹے سے ہرگز زیادہ پیارا نہیں”۔ حضرت عبّاس علیه السلام اپنے نور نظر کو لے کر حضرت امام حسین علیه السلام کی خدمت میں آئے اوراپنے فرزند کے لیے میدان میں جانے کی اجازت چاہی تو حضرت امام حسین علیه السلام نے فرمایا:

"بھیا! صبح سے تیروں کی بارش ہورہی ہے، تلواریں چل رہی ہیں، گرمی کی شدت ہے اس قیامت خیز گھڑی میں معصوم کو بھیجو گے۔"

حضرت عبّاس علیه السلام نے کہا:

آقا یہ میرا بیٹا ہے آپ کا بھتیجا ہے اور حیدر کرّار کا پوتا ہے یہ جنگ کرے گا اور دنیا اس کی شجاعت کو دیکھے گی۔

محمد ابن عبّاس

کو میدان جنگ کی اجازت مل گئی، عباس نے اپنے بیٹے کو گھوڑے پر سوار کیا اورفرمایا: ”بیٹا! تم حیدر کرّار کے پوتے ہو میدان ِ جنگ سے منہ نہ موڑنا، بڑھ بڑھ کے حملے کرنا۔

ص: 148

محمد ابن عبّاس میدان جنگ میں پہنچے اور رجز پڑھا، جس کی شاعر نے یوں حکایت کی: عبّاس جان شۂ دین میرا پدر ہے

اور داد ا میرا امامِ ملک و جن و بشر ہے

بس کھیل چکا بھائیوں کے ساتھ وطن میں

تلواروں سے اب کھیلنے کوآیا ہوں رن میں

جب محمدابن عباس علیه السلام کی صدا میدان سے آئی، تایا جان! میرا آخری سلام ہو،!بابا آپ پر میرا آخری سلام ہو! اس وقت حضرت امام حسین علیه السلام ، جناب عبّاس علیه السلام سے پہلے شہید کے پاس پہنچے اور بھتیجے کی لاش کوگنج شہدا میں لائے تو سیدانیوں میں ماتم کا کہرام مچ گیا۔

بحارالانوار کی روایت کے مطابق محمد ابن عباس بھی لشکر یزید بے دین وناہنجار سے لڑکر دادِ شجاعت حاصل کر کے شہید ہوئے۔((1))

2۔ شہزادہ قاسم ابن عباس علمدار علیه السلام (شہید کربلا)

جب محمد ابن عباس علیه السلام کی شہادت کا منظر ان کے حقیقی بھائی قاسم ابن عباس علمدار نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تو بے چین ہو گئے اور کہنے لگے کہ: اب اے بھائی تمہاری موت کے بعد میری زندگی مشکل ہو گئی، یہ کہہ کر اجازت لی اور آپ میدان کا رزار کی طرف چلے اور جناب اسحاق اسفرائینی رقمطراز ہیں:

ص: 149


1- ۔ خلاصه المصائب، صفحہ ١٠٢؛توضیح عزا،ص ٣٣٦؛ ام البنین علیها السلام ، سید ضمیر اختر نقوی۔

”حضرت قاسم ابن عباس علمدارجب میدان جنگ کی طرف روانہ ہو ئے۔ آپ کا سن مبارک ١٩برس کا تھا۔ آپ رزم گاہ کربلا کی طرف روانہ ہو کر میدان میں پہنچے اور رجز کے یہ اشعار پڑھنے لگے:

الیکم من نبیّ المختار ضرباً یشیب لھولہ الطفل الرضیع

الایا معشر الکفار جمعاً بکل مھند عضب قطیع

”میں تم پر نبی مختار صلی الله علیه و آله کے صدقے میں ایسا حملہ کروں گا کہ تمہارا دودھ پیتا بچہ بھی اس کےخوف اور ڈرکی وجہ سے بوڑھا ہو جائے گا”۔ ”اے کافرو! سنو!میں تم میں سے ہر ایک کو ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا”۔

رجزپڑھنے کے بعدآپ نے ایک زبردست حملہ کیا۔ اس کے بعد پے در پے حملے کرتے رہے، یہاں تک کہ آٹھ سو دشمنوں کو قتل کیا، گرمی کی حدّت پھر زخموں کی شدّت نے دبی ہوئی پیاس کی آگ کو مزید بھڑکایا۔ آپ فوراً حضرت امام حسین علیه السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی تایا جان ! میری آنکھوں میں پیاس سے حلقے پڑگئے ہیں، تھوڑا سا پانی عنایت فرمایئے تاکہ دشمنوں سے لڑنے کے قابل ہو جاؤں، یہ سن کر مجبور امام نے فرمایا، بیٹا! تھوڑی دیر اور صبر کرو، تمہیں تمہارے بابا رسول اللہ صلی الله علیه و آله ایسے جام سے سیراب کریں گے کہ پھر تم کو کبھی پیاس نہ لگے گی، یہ سن کر قاسم ابن عباس پھر میدان کا رزار کی طرف واپس گئے اور دشمنوں پر حملہ کیا، اس حملے میں آپ نے بیس اشقیا کو قتل کیا، لڑتے لڑتے قاسم ابن عباس شہید ہوگئے۔

ص: 150

حضرت امام حسین

میدان کا رزار میں تشریف لائے، دشمنوں سے جنگ کی چار سو دشمنوں کو قتل کر کے حضرت عباس کے فرزند کی لاش گنج شہداء میں لا کر رکھ دی۔ ((1))

3و 4۔ شہزادہ حسن اورشہزادہ فضل ابن عباس علمدار علیه السلام

حضرت عباس علیه السلام کے یہ دوننھے فرزند بہت کمسن تھے، حضرت عباس کی شہادت کے بعد زندہ تھے۔ مورخین میں اختلاف ہے کہ یہ دونوں شہزادے مدینے میں واپس آئے یا پھر کربلا میں شہید کر دیئے گئے۔ ان دونوں شہزادوں کا ذکر مرثیہ نگار شعراء نے کیا ہے، حضرت عباس علیه السلام رخصت ہو کر پیاسے بچوں کے لیے پانی لینے جا رہے تھے تو اس وقت اپنی زوجہ سے دونوں معصوم بچوں کے لیے وصیت بھی فرمائی تھی۔

5۔ السیّد عبیداللہ ا بن حضرت عباس علمدار علیه السلام

آپ حضرت لبابہ بنت عبیداللہ ابن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم کے بطن سے مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، کنیت ابو علی تھی۔

آپ کا شمار جلیل القدر علماء میں ہوتا تھا، شجاعت اورحسن و کمال میں بے نظیر تھے۔ حضرت امام زین العابدین علیه السلام کے خاص اصحاب اور شاگردوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔

راوی کا بیان ہے:

جب بھی امام سید سجاد علیه السلام کی نظر آپ پر پڑتی تھی تو آنکھیں اشکبار ہو جاتیں تھیں جب لوگوں نے اس کی وجہ دریافت کی توآپ نے فرمایا: جب بھی عبید اللہ بھائی کو دیکھتا ہوں تو کربلا میں چچا عبّاس کے کارنامے یاد آ جاتے ہیں اور بے اختیار آنسو نکل پڑتے ہیں۔

ص: 151


1- ۔ نورالعین فی مشہد الحسین، ابواسحاق اسفرائینی، ص٥٢، ٥٣؛ خلاصهالمصائب، ص٢٠؛توضیح عزاصفحہ ٢٢٠۔

شیخ صدوق جناب ابو حمزہ ثمالی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیه السلام جب بھی حضرت عبیداللہ ابن عبّاس علیه السلام کی طرف نگاہ فرماتے رو پڑتے تھے اور فرماتے تھے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله پر جنگ اُحد کا دن سخت ترین تھا چوں کہ آپ کے شیر دل چچا جناب حمزہ اس دن شہید ہوئے اس طرح جنگ موتہ کا دن بہت سخت تھا جس دن آپ صلی الله علیه و آله کے چچازاد بھائی جناب جعفرابن ابی طالب کوشہیدکردیاگیا، پھرفرمایا:

”وَ لَا یَومَ کَیَومِ الحُسَین علیه السلام اِذ دَلَفَ اِلَیہِ ثَلاثُونَ ألف رَجُلٍ۔۔۔“

روزعاشوراسے بڑھ کر سخت دن میرے بابا حضرت امام حسین علیه السلام پر نہ آیا کہ جس دن تیس ہزار اشقیاء امت نے آپ کا محاصرہ کیا اور آپ کا خون بہانے کے لیے جمع ہو گئے، آپ نے ان کوبہت نصیحت کی اور خدا و رسول صلی الله علیه و آله ان کو یاد کرانے کی پوری کوشش کی مگر ان پراثرنہ ہوا اورحضرت کو ظلم و ستم کے ساتھ شہید کر دیا، پھر فرمایا:

”رَحِمَ اللّٰہُ عمّی العبّاس فَلَقَد آثَروَأبلٰی وَ فَدیٰ أخاہُ بِنَفسِہ حَتّیٰ قُطِعَت یَدَاہُ فَأبدلَہُ اللّٰہ عزّ وَ جَلَّ مِنہُمٰا جناحَین یَطیرُ بہما مَعَ الملائِکَهِ فِی الجَنَّهِ کَمٰا جُعِلَ لِجَعفَرِبن أبی طَالِبٍ وَ اِنَّ لِلعَبَّاسِ عِندَ اللّٰہ تَبارَکَ وَ تَعالیٰ مَنزِلَهً یَغبِطُہُ بِہا جَمِیع الشُّہدائِ یَومَ القِیَامَهِ“((1))

"اللہ میرے چچا عباس پر رحمت نازل فرمائے کہ جنھوں نے بے مثال قربانی دی اور اپنی جان اپنے بھائی پر فدا کر دی اور اس راستہ میں ان کے دونوں ہاتھ کٹ گئے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے ان کو دو پر عطا کر دیے ہیں جن سے وہ جنّت میں ملائکہ کے ساتھ پرواز کرتے ہیں جس طرح جناب جعفر بن ابی طالب کے لیے قرار دیے ، بے شک حضرت

ص: 152


1- ۔ خصال صدوق، ج1، ص35،باب خصال دوگانہ؛ امالی صدوق، ص 373؛ عوالم،ج17، ص349؛ ابصار العین، ص ٢٥؛ قاموس الرجال، ج٥، ص٢٤١، عمده الطالب، ص٣٥٦۔

عبّاس علیه السلام کااللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں وہ مرتبہ ہے جس پر روز قیامت تمام شہداء رشک کریں گے"۔

جناب عبیداللہ ابن عبّاس علیه السلام نے مدینہ میں اپنی دادی جناب اُمُّ البنین کی بہت خدمت کی جب بھی وہ عزاداری حضرت امام حسین علیه السلام اور شہدائے کربلاکی مجلس منعقد کرنے جنّت البقیع جاتی تھیں آپ بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔

آپ کو چار اماموں حضرت امام حسین علیه السلام ، حضرت امام زین العابدین علیه السلام ، حضرت امام محمد باقر علیه السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کی خدمت میں رہنے اور فیض حاصل کرنے کا موقع ملا اور حضرت امام حسن مجتبی علیه السلام کی دامادی کا شرف حاصل ہوا۔

علامہ کشی نے یونس ابن یعقوب سے روایت کی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیه السلام نے آپ کی پیشانی کا بوسہ لے کر فرمایا : ”آپ میرے لیے والد بزرگوار کا مقام و منزلت رکھتے ہیں”۔((1))

آپ نے تین عفیف، شریف اور نجیب خواتین سے شادی کی:

١) حضرت رقیہ بنت حضرت امام حسن مجتبٰی علیه السلام ۔

٢) بنت معبدا بن عبداللہ ابن عباس ابن عبدالمطلب ابن ہاشم۔

٣) بنت میسورا بن مخرمہ۔

وفات و مدفن:جناب عبیداللہ ابن عباس علمدار علیه السلام نے بروز جمعہ ٢٧ شوال ١٥٥ہجری مطابق سترہ اکتوبر 738ء میں وفات پائی اور جنت البقیع مدینہ طیبہ میں مدفون

ص: 153


1- ۔ابو شرافت، تاریخ عباسی، ص 294۔

ہوئے۔ آپ کے ایک فرزندالسیّدحسن ہیں جن کی اولاد میں سے علماء، امراء، اشراف اور نامور اولیائے کرام پیدا ہوئے، یہاں تک کہ ان کی نسل سے علوی سادات عراق، یمن، ہندوستان، پاکستان، طبرستان، شام، مصر، ا یران وغیرہ میں پھیل گئے بلکہ صاحب کتاب ”چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم علیه السلام ” کی تحقیق کے مطابق اب دنیا کا کوئی ایسا خطہ نہیں جہاں آ پ کی اولاد کا وجود نہ ہو۔

امّ البنین علیها السلام کے پر پوتے او ر ان کی نسل سے نامور سادات

اشاره

اب ہم یہاں آپ کے بیٹے جناب عباس علیه السلام کی ذریت سے نامور سادات جو علمی ، ادبی اور معنوی اعتبار سے معروف ہیں، ان کا بہت اختصار کے ساتھ ذکر کریں گے۔

جناب السیّدحسن ابن عبیداللہ ابن عباس علمدار علیه السلام

جناب السیّدحسن نے ٦٧برس کی زندگی پائی، آپ کے نوفرزندتھے۔

١۔ فضل ٢۔ حمزه الاکبر ٣۔ ابراہیم ٤۔ عباس

٥۔عبداللہ ٦۔عبیداللہ

٧۔محمد ٨۔علی ٩۔ زید

یہ تمام بھائی اپنے وقت کے مشاہیر علماء وادباء اور اہل شعروسخن تھے۔ ان کی اولاد میں سے نسل در نسل سب کے سب عالم، فاضل، ابرار، متقی، کریم، جلالت و عظمت، علم وحلم، زہد، عبادت، سخاوت اور خطابت میں عظیم الشّان مرتبہ کے مالک تھے۔ لوگ ان کے علوم و کمالات سے ہمیشہ مستفید ہوتے رہے ہیں۔

ص: 154

السیّدفضل ابن حسن ابن عبیداللہ ا بن عباس علمدار علیه السلام

جناب فضل، مرد فصیح و متکلم، دین کے معاملے میں شدید اور عظیم شجاعت کے مالک تھے۔ اپنے وقت کے عظیم ترین ادیب او ر شجاع تھے۔ ان کے تین فرزند تھے اور تینوں ادیب تھے۔ (1)

فضل اپنے بھائیوں میں فصیح متکلم حاضرجواب باتقویٰ اور شجاع تھے۔ خلفاء آپ کو عظمت کی نظر سے دیکھتے

اور ”ابن الہاشمیہ” کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ وہ اپنے وقت کے مشہورادیب ا ور شاعر بھی تھے۔((2))

ان کی نسل تین بیٹوں سے چلی ان میں سے ہر ایک کی کثیر اولاد ہوئی۔ جو عراق، ایران، پاکستان اور طبرستان وغیرہ میں پھیلی ہوئی ہے۔

ابوالعبّاس فضل

آپ کے والد محمد 1بن فضل اور دادا جناب حسن ابن عبیداللہ ا بن عباس علمدار علیه السلام ہیں جو زبردست خطیب و شاعر تھے۔ ان کے اشعار میں سے ایک مرثیہ ہے جو انھوں نے اپنے جد بزرگوار حضرت عباس کے متعلق کہا ہے۔

یہ حضرت عبّاس علمدار علیه السلام کی پانچویں پشت سے زبردست شاعر تھے انھوں نے اپنے جد باوفا کے بارے کہا:

انّی لأذکُرُللعباس موقفہ بکربلا وھامَ القومُ یختطفُ

یحمی الحسین ویحمیہ علی ظمأء لایولی ولایثنی فیختلف

ص: 155


1- ۔ عمده الطالب؛ مقرم، العبّاس صفحہ٣٠٩۔
2-

ولا أری مشہداً یوماًکمشہدہ مع الحسین علیہ الفضل والشرف

اکرم بہ مشھدا بانت فضیلۃ و ما أضاع لہ افعالہ خلف((1))

میں یاد دلاتا ہوں دشت کربلا میں حضرت عباس علیه السلام کے (بلند) مقام کو جب (اعدائے دین کے) تیروں کی بارش ہو رہی تھی، وہ تشنہ لبی میں حسین علیه السلام کی حمایت کر رہے تھے نہ انھوں نے دشمن کو پشت دکھائی اور نہ اپنے حملوں میں کمزور ہوئے جناب عباس علیه السلام نے حضرت امام حسین علیه السلام کے ساتھ شہید ہو کر جو فضل و شرف حاصل کیا، ان کے درجہ

شہادت جیسا مقام مجھے کہیں نظرنہ آیا۔

جناب السید فضل صاحب اولادہیں ان کی اولاد قم، مازندران ایران میں آباد ہے۔((2))

السیّدجعفر ابن فضل ا بن حسن ابن عبیداللہ ابن عباس علمدار

ان کا لقب غریب تھا اور ان کا مقبرہ ایران کے شہر شیراز میں ہے اور سید حاجی غریب کے نام سے مشہور ہیں۔ (3)

السیّد حمزه الاکبر ابن حسن ا بن عبیداللہ ا بن عباس علمدار علیه السلام

حمزہ کی کنیت ابوالقاسم ہے اوروہ اپنے جد بزرگوار حضرت علی علیه السلام کے ساتھ شباہت رکھتے تھے۔ اور یہ وہی ہیں کہ جن کے متعلق مامون رشید نے اپنے قلم سے لکھا کہ حمزہ ا بن حسن شبیہ امیرالمٔومنین علی ابن ابی طالب (علیهم السلام) کو ایک لاکھ درہم دیئے جائیں۔

ص: 156


1- ۔ سفینۃ البحار، محدث قمی، ج6،ص133۔
2- ۔ منتہمی الآمال، ذکر اولاد جناب ابو الفضل العباس بن امیرالمؤمنین (علیهم السلام) ،ص٢32۔
3- ۔ منتخب التواریخ، باب پجنم، ص262۔

علامہ مقرم "العبّاس" میں تحریر فرماتے ہیں کہ ان کی شادی زینب بنت حسین بن علی بن جناب عبداللہ بن جعفر طیار سے ہوئی تھی۔((1)) جن کے دادا کو لوگ علی زینبی کے نام سے یاد کرتے تھے اور ان کی یہ شہرت ان کی مادر گرامی جناب زینب کبریٰ علیها السلام کی وجہ سے تھی آج بھی ان کی اولادکو” زینبی سادات ”کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔

السیّدعلی بن حمزۃ الاکبر

صاحب خلاصہ نے ان کوثقہ شمار کیا ہے۔ نجاشی کے نزدیک ثقہ راوی حدیث ہیں۔ کتاب کا ایک نسخہ ان کے پاس

موجود تھا جس میں ساری احادیث حضرت امام موسیٰ کاظم علیه السلام سے روایت کی گئی تھیں۔

السیّدمحمد بن علی بن حمزۃ الاکبر

السیّدحمزه الاکبربن حسن بن عبیداللہ بن عبّاس علمدار (علیهم السلام) کے پوتے ہیں۔ فاضل، جمیل اور بہترین شاعر تھے۔ شیخ نجاشی نے ان کوثقہ کہا ہے اور صحیح الاعتقاد بھی تھے۔ ان کا قیام بصرہ میں تھا۔ انھوں نے حضرت امام رضا علیه السلام سے احادیث روایت کی ہیں۔ وہ اپنے وقت کے معروف عالم اور شاعر تھے۔ ٢٨٢ہجری میں وفات ہوئی۔(2)

حضرت امام علی نقی علیه السلام اور حضرت امام حسن عسکری علیه السلام کے راوی اور اصحابی تھے۔ ان کی اولاد سمر قند اور طبرستان میں سکونت پذیر ہوئی۔ سب کے سب عظیم القدر اوراپنے اپنے علاقے کے قاضی تھے۔ (3)

ص: 157


1- ۔ صحیفۂ وفا، ص309؛ المعقبون من آل ابی طالب، ج3،ص 479۔
2- ۔ عمده الطالب، ص356۔
3- ۔ کبریت احمر۔

جناب ابوعبید اللہ ابن محمدا بن علی ابن حمزه الاکبر (محافظ امام عصر)

آپ بہت بڑے ادیب، شاعر، عالم اور راوی احادیث تھے۔ اپنے والد محمد بن علی بن حمزہ بن حسن بن عبیداللہ بن عباس علمدار علیه السلام سے احادیث روایت کرتے ہیں۔ اپنے استاد کے واسطہ سے عبداللہ ا بن عباس سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا کہ: جب خدا کسی مخلوق پر غضب ناک ہوتا ہے اور ان کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا (مثلاًہوا اور اس قسم کے دوسرے عذاب کے ذریعے سے انہیں ہلاک کرتا ہے کہ جن کے ساتھ اس نے بہت سی پہلی امتوں کو ہلاک کیا ہے) تو پھر ایسی مخلوق پیدا کر دیتا ہے جو ان کے لیے عذاب بنی رہتی ہے۔(1)

آپ آل محمد صلی الله علیه و آله کے نزدیک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ جس وقت حکومت کو یہ خبر ملی کہ حضرت امام حسن عسکری علیه السلام کا فرزند حضرت امام مہدی علیه السلام اپنے زمانےکے ظلم وجور کے ایوانوں کو تہس نہس کر دے گا تو حکومت کے جاسوس امام عصر علیه السلام کے بیت الشرف میں آپ کی والدہ ماجدہ کی تلاش میں داخل ہوئے۔

حضرت امام حسن عسکری علیه السلام کی شہادت عظمیٰ کا وقت قریب آپہنچا تو جناب نرجس خاتون حالت اضطراب و پریشانی کے ساتھ اپنے بیٹے حضرت امام عصر کو گود میں لیے ہوئے حضرت امام حسن عسکری علیه السلام کی خدمت میں حاضرہوئیں۔ آپ گریہ فرما رہی تھیں اور کہتی جاتی تھیں ”ا ے میرے سید و سردار! ا ے مرے والی و وارث! گھر کو دشمنوں نے گھیر لیا ہے عنقریب میرے نورِنظرکو اور مجھے گرفتار کر لیا جائے گا"۔

حضرت امام حسن عسکری علیه السلام نے فرمایا:

ص: 158


1- ۔ احسن المقال صفحہ ٢٢٤۔

”اے نرجس! پریشان نہ ہو، دجلہ کے کنارے جاؤ ایک کشتی موجود ہے، اس پر میرے بیٹے کو لے کر سوار ہو جاؤ

پھر سرمن رائے کے ایک کوچے میں تمھیں ایک مکان ملے گا۔ اس مکان سے ایک بزرگ نکلیں گے جو ہمارے فرزند اور تمہاری حفاظت کریں گے۔

جناب نرجس خاتون نے دریافت کیا : آقا! وہ بزرگ کون ہیں؟

حضرت امام حسن عسکری علیه السلام نے فرمایا: "نرجس سنو! کربلا میں ہمارے چچا عباس علمدار علیه السلام نے اپنی اولاد کو قسم دی تھی کہ جب تک دنیا میں رہنا میرے مولا حضرت امام حسین ابن علی علیه السلام کی اولاد کی حفاظت کرتے رہنا۔ چچاعباس کی اولاد میں سے ایک بزرگ ابوعبیداللہ اس مکان میں تمہاری حفاظت کریں گے"۔

نجاشی نے لکھا ہے کہ جناب ابوعبیداللہ ابن محمد ابن علی ابن حمزہ ابن حسن ابن عبیداللہ ابن عباس علمدا ر (علیهم السلام) نے جناب نرجس خاتون کو اپنے گھر میں چھپا دیا تاکہ وہ دشمنوں کے شر سے محفوظ رہیں۔

اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جس گھر میں نرجس خاتون تشریف فرما ہوں گی اس گھر میں بہر حال حضرت امام عصر عجل الله تعالی فرجه کی آمدورفت ہو گی، وہ گھر عزت و شرف کا حامل ہو گا۔

آپ نے ائمہ طاہرین (علیهم السلام) سے روایات نقل فرمائی ہیں۔ جلیل القدر عالم وشاعر اور عوام میں قابل احترام شخصیت کے مالک تھے۔ کتب ِانسا ب میں آپ کا ذکر موجود ہے۔

ص: 159

عبداللہ ابن حسن ابن عبیداللہ ابن عباس علمدار (علیهم السلام)

آپ حرمین شریفین کے قاضی القضاه تھے۔ مکہ و مدینہ کے امیر و رئیس بھی تھے۔ آپ سے زیادہ بارعب اور با مروت انسان دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہ مامون کے دور میں حرمین شریفین کے متولی اور شہر کے قاضی تھے۔( (1))

اسی زمانے میں حکومت وقت کے ظلم کا نشانہ بن کر بغداد میں شہادت پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔((2))

آپ کے دو بیٹے علم و فضل میں بہت معروف ہوئے ہیں۔ آپ کی نسل سے جناب سید قاسم بن عبداللہ بن حسن بن عبیداللہ بن عبّاس علمدار علیه السلام ، حضرت امام حسن عسکری علیه السلام کے خاص اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ کتبِ انسا ب میں ان کا ذکر موجود ہے۔

السیّد ابراہیم جردقہ بن حسن بن عبیداللہ بن عبّاس علمدار

یہ اپنے وقت کے زاہد، فقیہ، سخی اور ادیب تھے، ان کاشمار مشہور ادیبوں میں ہوتا تھا ان کے تین فرزند بنام سید حسن، سید محمد اور سیدعلی تھے جو مشہور شاعر تھے۔

صاف گو اور بہادر تھے، ہارون الرشید کے دور میں مدینہ سے بغداد آئے اور وہیں آباد ہو گئے۔ حضرت امام رضا علیه السلام کی ولیعہدی کے موقع پر دربار مامون رشید میں سب سے پہلے آپ نے قصیدہ تہنیت پڑھ کر سنایا پھرعرب و عجم کے شعراء نے اپنے اپنے قصیدے پیش کیے۔

ص: 160


1- ۔ تاریخ طبری ، ج ١ ،ص ٣٥٥۔ 2 ۔ تاریخ بغداد ج ١٠ ص ٣١٣۔
2-

امامزادہ شاہ سیّد علی 1بن ابراہیم ابن حسن ابن عبیداللہ ابن عباس علمدارر (علیهم السلام)

آپ بنی ہاشم کے سخاوت مندوں میں سے تھے اور صاحب عزّت ووقار تھے۔ بڑے فیاض اور جاہ و حشمت کے مالک تھے، نہایت نرم دل اور سخی تھے۔ ان کا انتقال ٢٦٤ھ میں ہوا، قم مقدسہ میں آپ کا روضۂ مبارکہ دنیا بھرسے آنے والے زائرین کی توجہ کا مرکز ہے ۔ ہر منگل کو آش نذری (ہر قسم کی سبزیاں، سوپ سویّاں اور دالیں ملا کر پکائی جاتی ہے یہ ایران کی مخصوص ڈش ہے) کی دیگیں پکا کر زائرین میں تقسیم کی جاتی ہیں اور ان کی ملکوتی بارگاہ لوگوں کے لیے باب المراد سمجھی جاتی ہے۔

آپ کے ١٩ فرزند تھے، آپ کی اولاد ایران، عراق اور مصر میں آباد ہے۔ آپ کے ایک فرزند سیدمحمدجوبصرہ چلے گئے تھے، وہ جیّد عالم تھے، حضرت امام رضا علیه السلام سے روایت نقل کرتے تھے، بڑے فقیہ، زاہد اورشا عربھی تھے۔

امامزادہ سیّد ابوالعبّاس محمد بن عبیداللہ بن حسن بن عبیداللہ بن حضرت عبّاس بن امیر المؤمنین (علیهم السلام) ، جد سادات علویہ اصفہان، ایران۔

امامزادہ سیّد عبیداللہ بن حسن بن عبیداللہ بن حسن بن عبیداللہ بن حضرت عبّاس علمدار (علیهم السلام) ، جد سادات علوی ابو الفضلی، زنجان، ایران۔

مزار مقدس جناب سیّد ابو الطیّب العلوی محمد الشہید شہادت ٢٩١ھ جد سادات بنی شہیدالعلوی، اردن۔

سیّد ابو جعفر محمد العلوی الشہید شہادت ٢٩٧ھ جد سادات علوی، یمن۔

ص: 161

عراق، بغداد میں السیّد محمد بن علی بن حمزہ بن حسن بن عبیداللہ بن حضرت عبّاس بن امیر المؤمنین علیه السلام اور علامہ السید ابو الحسن بن حسن بن علی بن محمد اکبر بن احمد بن عبداللہ بن عباس بن حسن بن عبیداللہ بن عبّاس بن امیر المؤمنین علیه السلام ۔

یمن میں علوی سادات کے جد علامہ السیّدحسن بن الحسین بن الہادی المطاع الیمانی یمن متوفی ١٢٢٣ھ، آپ کی اولاد "بنو المطاع" کے لقب سے معروف ہے۔

السیّدعباس ابن حسن ا بن عبیداللہ ابن عباس علمدار علیه السلام

آپ کی کنیت ابوالفضل ہے۔ اپنے وقت کے بہت بڑے ادیب تھے اُن کے کارنامے تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں، فصاحت بیان ا ورشعر اء میں بنی ہاشم کے نمایاں اور بے نظیر فرد تھے، وہ اپنے زمانے کےفصیح و بلیغ خطیب اورمشہور شاعر تھے۔

اولاد: آپ کے چار بیٹوں سید احمد، سید عبیداللہ، سید علی، اور سید عبداللہ سے نسل باقی ہے۔ جن کا کتب انساب میں ذکر موجود ہے۔ (1)

حضرت ابی یعلیٰ حمزہ بن قاسم علوی

آپ کے والد کا نام السیّدقاسم تھا اور ان کا لقب" طیار" بیان کیا جاتا ہے اور والدہ کا نام سیّدہ فاطمہ تھا، آ پ کے دادا عماد الدین ابو محمد علی بن حمزہ بن حسن بن عبیداللہ بن عبّاس بن امیر المؤمنین (علیهم السلام) تھے جن کا شمار مشہور علمائے امامیہ، فقہاء اور راویان احادیث میں ہوتاتھا ان کا مرقد شریف کربلائے معلی میں طوریج روڈ پر واقع ہے، جس پر شاندار گنبد اور ضریح نصب ہے اور زیارت گاہ خاص و عام ہے۔

ص: 162


1- ۔ المعقبون من آل أبی طالب، ج3، الفصل الرابع،ص396 ۔

آپ ثقہ، محد ث اور سیّد جلیل القدرہیں کہ جن کا شیخ نجاشی اور دوسرے علمائے رجال نے خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ آپ اپنے زمانے کے عظیم ترین علماء میں شمار ہوتے تھے۔ تیسری صدی کے اواخراورچوتھی صدی ہجری کے اوائل میں آپ کا دور حیات تھا، جس کی وجہ سے آپ علامہ کلینی کے ہم عصر تھے۔

شیخ نجاشی نے نجم الثاقب میں بیان کیاہے کہ غیبت کبریٰ میں حضرت اما م صاحب العصر عجل الله تعالی فرجه کی خدمت میں حاضرہوئے۔

ابو یعلیٰ حمزہ سیّد جلیل القدر ہیں، چھ واسطوں سے آپ کا نسب حضرت اباالفضل العبّاس بن امیر المومنین تک پہنچتا ہے۔

نسب

السیّدابو یعلیٰ حمزہ بن قاسم علوی بن علی بن حمزہ بن حسن بن عبیداللہ بن ابوالفضل العبّاس بن امیر المٔومنین علی ابن ابی طالب (علیهم السلام)

علمی مقام

میرزا محمد علی اردوبادی نے آپ کی حیات و کارنامے پر ایک کتاب تالیف فرمائی ہے، وہ رقم طراز ہیں:

”ابو یعلیٰ حمزہ، علمائے اہل بیت (علیهم السلام) میں سے ہیں، خاندانِ وحی اور بوستان ِ علوی و ہاشمی کی نمایا ں شخصیّت ہیں آپ کا شمار مشائخ روایت میں ہوتا ہے آپ علمائے اعلام کے لیے علوم آل محمد صلی الله علیه و آله کا مرجع تھے جن علمی شخصیتوں نے آپ سے استفادہ کیا ان میں سے کچھ حسب ذیل ہیں۔

ص: 163

(١) ابو ہارون بن موسیٰ تلعکبی، آپ کا شمار بزرگ علمائے شیعہ میں ہوتا ہے آپ نے ٣٨٥ ھ میں رحلت فرمائی۔(٢) حسین بن ہاشم مودّب۔ (٣) علی بن محمد۔( ٤) حسین بن ہاشم یہ دونوں شیخ صدوق ابن بابویہ قمی کے مشایخ میں ہیں۔

(٥) علی بن محمد قلانسی، عبداللہ غضائری جو علم رجال کے ماہر تھے، ان کے مشائخ میں ہیں۔

(٦)ابو عبداللہ حسین بن علی خرّاز قمی۔

آغا بزرگ تہرانی نے اپنی کتاب ”نابغه الرواه فی رابعه المئات” میں جناب حمزہ کی بہت تعریف کی ہے ا ور اپنی کتاب میں جناب حمزہ کو علمائے رجال میں شمار کرتے ہوئے خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ (1)

جناب حمزہ کے علمی آثار میں کتاب التوحید، کتاب الزیارات، المناسک، کتاب الرد علی محمد بن جعفر اسدی اور من روی عن جعفر بن محمد‘ ہیں۔

نجاشی اور علامہ

نے ان کی کتابوں کی بہت تعریف کی ہے۔ نجاشی کی اسناد ابن غضائری کے ذریعہ قلانسی تک اور ان سے جناب حمزہ تک منتہی ہوتی ہیں۔

تمام علماء متقدمین و متاخرین نے جناب ابی یعلیٰ حمزہ کو موثق اور معتبر قرار دیا ہے اگرچہ جناب حمزہ علماء ِاہل بیت (علیهم السلام) میں سے نمایاں ہستی ہیں اور ساری خصوصیات ان کی ذاتی ہیں وہ ایک طرف شجرہ ٔطیّبہ رسالت و امامت کی شاخ ہیں تو دوسری طرف احادیث ائمہ طاہرین (علیهم السلام) کے مستند راوی بھی ہیں۔

ص: 164


1- ۔ مصفیٰ المقال فی مصنفی علماء الرجال۔

کتب رجال مثل کتاب کمال الدین شیخ صدوق ؒسے لے کر شیخ نجاشی ؒ تک، آپ کے معروف مشائخ روایت یہ ہیں۔

(١) عالم جلیل القدر سعد بن عبداللہ اشعری۔(٢) حسن بن میثل۔

(٣) محمد بن اسمٰعیل بن زارویہ قمی۔(٤) علی بن عبداللہ بن یحیٰ۔

(٥) جعفر بن مالک فزاری کوفی۔(٦) ابو الحسن علی بن جنید رازی۔

(٧) آپ کے چچا زاد بھائی ابو عبیداللہ ہیں۔

یہ وہ عظیم ہستی ہیں کہ جن کے پاس حضرت امام زمان عجل الله تعالی فرجه کی والدہ نے پناہ لی تھی، اس سے آپ کی حضرت امام عصر عجل الله تعالی فرجه سے گہرے ارتباط کی تائید ہوتی ہے۔

ابن عنبہ نے اپنی کتاب عمدۃ الطالب میں لکھا ہے کہ ابو عبیداللہ نے بصرہ میں سکونت اختیا ر کی اور ائمہ اہل بیت (علیهم السلام) سے روایات نقل کی ہیں۔ آپ عالم، شاعر اور قابل احترام شخصیّت کے مالک تھے۔

شہادت: ٧ محرم ٣٩٠ھ میں دشمنان اہل بیت (علیهم السلام) کے ہاتھوں ایک جنگ میں شہادت پائی اوردریائے فرات اوردریائے دجلہ کے درمیا ن عراق کے شہر حلّہ کے قریب سپرد خاک ہوئے، جہا ں آپ کے وجود بابرکت سے اب ایک شہر ”الحمزہ” آباد ہو گیا ہے جو آپ کے نام سے ہی موسوم ہے۔ شہر ”الحمزہ” میں جناب ابا یعلیٰ حمزہ کا رو ضہ زیارت گاہ خاص و عام ہے، آپ کے حرم مطہرسے بہت سی کرامات بھی ظاہرہوئی ہیں اور درد مندوں کی مرادیں بھی پوری ہوتی رہتی ہیں۔

ص: 165

حضرت أبی یعلیٰ حمزہ کا روضۂ مبارکہ

آپ کے حسب و نسب اور ملکوتی بارگاہ کی عظمت کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ عالم ربّانی، فقیہ بزرگ سیّدمہدی قزوینی مرحوم جس وقت تبلیغ کے سلسلہ میں حلّہ میں مقیم تھے جب آپ

اس مرقد مطہرکے قریب سے گزرے تو اہل قریہ نے آپ سے زیارت جنا ب حمزہ کی درخواست کی لیکن فقیہ قزوینی یہ کہہ کر گزر گئے کہ جس کو میں پہچانتا نہیں، اس کی زیارت کو جاتا نہیں!!

ایک شب سیّد قزوینی نے اس قریہ میں گزاری، نماز شب پڑھ کر طلوع سحر کے انتظارمیں جا نما ز پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی بستی کے ایک سیّد علوی جو متقی و پرہیزگار تھے جنھیں سید قزوینی پہلے سے جانتے تھے وارد ہوئے سلام کیا اور کہا : سید قزوینی آپ نے مرقد حضرت حمزہ کی زیارت نہیں کی اور نہ اس کو اہمیت دی، سید قزوینی نے فرمایا: ہاں زیارت نہیں کی، چوں کہ میں ان کو نہیں جانتا!

سیّد علوی نے علامہ قزوینی کے جواب میں کہا: عوام میں مشہورہے کہ وہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیه السلام کے فرزند جناب حمزہ کی قبر ہے لیکن در حقیقت یہ قبر حمزہ بن قاسم علوی کی ہے جن کی علماء رجال نے بہت مدح کی ہے، صاحب اجازہ حدیث ہیں۔ لیکن سید قزوینی نے ایک عام مؤمن تصور کرتے ہوئے کوئی توجہ نہیں دی، صبح صادق کی تشخیص کے لیے مصلے سے اٹھے تووہ سیّد علوی بھی خدا حافظ کہہ کر روانہ ہو گئے نما ز کے بعد سید قزوینی کے ہمراہ جو علم رجال کی کتابیں تھی ان کو دیکھا تو جناب حمزہ کے لیے حرف بہ حرف وہی پایا جس کی خبر سحر کے وقت سید علوی نے دی تھی۔

صبح کے وقت جب مؤمنین آپ کی ملاقات کے لیے جمع ہوئے تو وہ سید بھی دکھائی دیے جو نماز صبح سے قبل سید قزوینی سے ملے تھے سید نے انہیں بلایا اور دریافت کیا کہ: آپ

ص: 166

نے جو باتیں سحر کے وقت کہی تھیں ان کو کس کتاب میں دیکھا تھا، اس سید نے قسم کے بعد کہا کہ: وہ رات کو اس بستی میں بالکل نہیں تھے۔

اس وقت سید قزوینی متوجہ ہوئے کہ وہ سید علوی حضرت بقیہ اللہ الاعظم عجل الله تعالی فرجه تھے اس واقعہ کے بعد سید قزوینی جناب حمزہ کی زیارت کے لیے گئ ے اور کہاکہ: اب مجھے کوئی شک نہیں رہا، اب مجھ پر ان کی زیارت کرنا واجب ہو گیا ہے، ان کے اس عمل کے بعد مٔومنین کی توجہ بھی ان کی زیارت کے لیے زیادہ ہو گئی۔

پھربعدمیں سیدقزوینی نے ”فلک النجاه” میں اس کی تصدیق کی۔ اس کے بعد علماء نے بھی اپنی کتب مثلاًمحدث علامہ نوری نے ”تحیّه الزائر” میں، علامہ مامقانی نے کتاب ”تنقیح المقال” میں اور محدث قمی نے کتاب ”کنی و القاب” میں اس انتساب کی مکمل تائید کی۔

روضہ کی عمارت ١٣٣٩ھ میں از سر نو تعمیر کی گئی اور مؤمنین کے تعاون سے قبہ کی تزئین کی گئی۔ پھر ١٩٨٤ء بمطابق ١٣٩٤ھ میں عراق کے صدر حسن البکر نے اپنی آنکھوں سے کرامات مشاہدہ کیں تو حرم کی توسیع کی۔ آج سبز گنبد اور سفید مناروں سے مزین آپ کا روضۂ مبارکہ مرجع خلائق ہے۔

شرفِ زیارت

راقم (سیّد ابو الحسنین وزیر حسین علوی) کو جب عراق میں زیارات مقدسات کی سعادت حاصل ہوئی تونجف اشرف میں اپنے جدِّ پاک مولائے کائنات حضرت امام علی ابن ابی طالب ‘اور کربلا ئے معلیٰ میں سیّد الشّھداء حضرت امام حسین علیه السلام اور ان کے وزیر اور علمدار حضرت ابوالفضل العبّاس علیه السلام کے روضۂ اقدس میں حاضری دینے کے بعدرمضان المبارک ١٤٢٤ھ کے آخر میں بمطابق ٢٤ نومبر٢٠٠٣ء

ص: 167

کو حلّہ کے جنوب واقع شہرالحمزہ میں حضرت أبی یعلیٰ حمزه الثانی علیه السلام کے روضہ مبارکہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔

میرے ہمراہ ہندوستان کے ایک عالم حجهالاسلام جنا ب مہدی حیدری صاحب فاضل حوزہ علمیہ قم المقدسہ بھی تھے، بارش کا سماں تھا اور بہت زیادہ تعداد میں عرب زائرین بہت عقیدت سے روضہ پر حاضری دے رہے تھے اور اپنی اپنی مرادیں مانگ رہے تھے، بے شک مالک ِکائنات، حضرت اُمُّ البنین کے فرزند حضرت عبّاس علمدار علیه السلام کی نسل سے اس جلیل القدر سیّدِ بزرگوار کے طفیل زائرین کی مرادیں پوری کرتا ہے اور وہ دامن تمنّا کو گوہر مراد سے بھر کر جاتے ہیں۔

ہم حرم پاک کے دفتر میں گئے، جب ان سے تعارف ہوا اور ان کو معلوم ہوا کہ بندہ حقیرجناب حضرت ابا یعلیٰ حمزہ کے ایک پوتے السیّد عون بن یعلیٰ المعروف عون قطب شاہ کی ذرّیت سے ہے جنھوں نے برصغیر ہند میں ہجرت کی تھی اور وہاں ان کی کثیر اولاد موجود ہے تو انہوں نے بہت پر تپاک استقبال کیا۔

متولی محترم سے لے کر تمام ذمہ داران سے مفید اورمفصل گفتگو رہی، انھوں نے بتایا کہ "قوّام قبیلہ "اور" انجمن ابناء الحمزہ" کے تعاون سے اس حرم پاک کا انتظام چل رہا ہے، یہاں زائرین ِ محترم کی خدمت میں اسّی سے زائد خادمین کرام ہر وقت مصروف ہیں، اور حرم کمیٹی کی طرف سے ایک ادبی، علمی اورتاریخی پندرہ روزہ مجلہ بنام "أٔبی یعلیٰ" بھی شائع ہوتا ہے پھر مجلہ "أبی یعلیٰ حمزہ"کے ایڈیٹر اور عملے سے گفتگو ہوئی، انہوں نے حالات بہتر ہونے پر پاکستان کا دورہ کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا تھا۔

نماز مغربین حرم مبارک

میں ہی با جماعت ادا کی، تمام نمازیوں کوافطاری میں کھجور اوردودھ پیش کیا گیا، حرم مطہر کے متولی محترم کی پر خلوص دعوت پر ہم نے افطار ان کے

ص: 168

ساتھ کیا، اس کے بعد رات کی مجلس میں مجھے منبرپر حاضرین سے خطاب کرنے کی دعوت دی گئی، میں نے اپنے مختصر خطاب میں حرم پاک کے انتظام اور زائرین محترم کی پر خلوص خدمات پر ان سب کاشکریہ ادا کیا۔

دوسرے دن عید الفطر تھی، ہم نے عید کی نماز السیّدعون قطب شاہ کے جد امجد حضرت ابی یعلیٰ حمزہ علیه السلام کے حرم میں ہی ادا کی، اس دن حرم میں زائرین کا بہت ہی ہجوم تھا۔ ہم نے سلامِ وداع کیا اور کربلائے معلی کی طرف عازم ہوئے۔

اولاد

آپ کے چار بیٹے ذکر کیے جاتے ہیں، سیّد یعلیٰ، سیّد حسن، سیّد محمداور سید احمد۔ آپ کی نسل جناب یعلیٰ اباالقاسم سے باقی ہے، سیّد یعلیٰ کے دو بیٹے تھے:

١) سید صدر الدین ۔ ٢) سیّد عون المعروف قطب شاہ جنہوں نے بغداد سے پاک و ہند کی سرزمین پر ہجرت کی تھی۔

السیّد عون قطب شاہ ابن یعلیٰ ا بن ابی یعلیٰ حمزہ الثانی ؒ

اشاره

آپ کا نام سیّد عون اور معروف لقب قطب شاہ تھا۔ آپ کے وا لد جناب یعلیٰ ابوالقاسم اور آپ کے دادا نام حضرت ابی یعلیٰ حمزہ بن قاسم علوی ہے۔

والد کی طرف سےنسب: عون بن یعلیٰ بن ابی یعلیٰ حمزہ بن قاسم بن علی بن حمزۃ الاکبر بن حسن بن عبیداللہ بن ابوالفضل العبّاس بن امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (علیهم السلام)

آپ کی والدہ بھی سادات علویہ سے تھیں والدہ کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے: سیّدہ فاطمہ بنت سیّد محمد بن سید علی بن سید داؤد بن سیّد عبداللہ بن سید محمد بن سیّدعلی بن

ص: 169

سید حمزه الاکبر بن سید حسن بن سید عبیداللہ بن حضرت عبّاس بن علی ابن ابی طالب (علیهم السلام) ۔(1)

آپ نجیب الطرفین علوی تھے، آ پ کی کنیت ابو عبداللہ تھی اور شہرت قطب شاہ تھی۔ عجمی معاشرہ میں سادات کے نام کے ساتھ ”میر اور شاہ” لکھنے کا عام رواج تھا اس لیے بعض کتب میں آپ کو میر قطب شاہ بھی لکھا گیا ہے۔

قطب سے کیا مرادہے؟

عرفا اور صوفیاء کی اصطلاح میں قطب اس ولی خدا کو کہتے ہیں جو کسی خطہ کے لوگوں کی معنوی اور روحانی تربیت کرے۔

لیکن دینی اصطلاح میں قطب عالم ِکون ومکان اس ولی خدا کو کہتے ہیں جو پیغمبر ِاسلام صلی الله علیه و آله کا حقیقی جانشین اور زمین پرخلیفه اللہ اور حجه اللہ علی النّاس ہوتا ہے وہ غیر معصوم کی بیعت اور خلافت سے مبرا و منزہ ہوتا ہے اورتمام انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اطاعت اور بیعت واجب ہوتی ہے وہ ہر زمانے میں ایک ہی ہوتا ہے۔

رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے اپنے بارہ خلفاء، جو اپنے اپنے زمانے کے کامل قطب ہیں۔ اُن کے بارے میں آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

"اَلخُلَفَائُ مَن بَعدِی اثنَاعَشَرَ بِعَددَ نُقَبَا ئِ بنی اسرائیل و کُلّھُم مِن قُریش"(2)

میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کے برابر اوروہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔

ص: 170


1- ۔ تاریخ عباسی، ص 331،332۔
2- ۔ صحیح بخاری ، ج٤،ص44؛ صحیح مسلم ج ٢، ص79؛ کنزالعمال ج ٦،ص160؛مسند احمد بن حنبل، ج1، ص398۔406۔

قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله : انا سیّدالنّبیّین وعَلی سیّد الوصیین وانّ اوصیائی بعدی اِثنَاعَشَرَ، اوّلھم عَلِی وآخرُ ھم القائم المھدی۔(1)

"آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: میں سیّد الانبیاء ہوں اور علی سیّد الاوصیاء ہیں اور میرے بعد میرے بارہ وصّی ہوں گے ان میں سے پہلے علی علیه السلام اور آخری قائم مہدی علیه السلام ہوں گے"۔ اس وقت اس اصول نبوی صلی الله علیه و آله پرفقط شیعہ امامیّہ اثنا عشری ہی ا عتقاد کامل رکھتے ہیں باقی تمام فرقے اورمذاہب انحراف رکھتے ہیں۔

شیخ محی الدین عربی رقم طراز ہیں: "اقطاب کامل ترین انسان ہیں۔ بعثت حضرت محمّد صلی الله علیه و آله سے پہلے پیامبران ِالٰہی تھے۔ لیکن اس کے بعد خود پیغمبراسلا م صلی الله علیه و آله تھے اور اُنکے بعد تا روز قیامت بارہ قطب ہوں گے۔ یہ اقطاب سابقہ تمام امتوں سے بہتر ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ تمام عرب قبائل سے قبیلہ قریش مقدم اور بہتر ہے اور یہ بارہ قطب اس قبیلہ سے قرار پائے ہیں۔ ہر عصر و زمانہ میں ایک قطب سے زیادہ نہیں ہوا کرتا ۔۔۔وہ مصلح اور امّت کی اصلاح کرنے والا ہوتا ہے ایسا خلیفہ جو ظاہر تلوار اور باطن میں ہمّت سے آراستہ ہوتا ہے'(2)۔

پس مذکورہ احادیث سےثابت ہو گیا کہ یہ خلفاء یا اوصیاء اور قطب حضرت امام علی علیه السلام کی نسل سے آج تک قائم ہیں، حضرت علی علیه السلام سیّدالاوصیاء اور سیّد الاقطاب ہیں، اُن کی پیروی اور محبّت ہم پر واجب ہے۔ مگر افسوس لوگ اُن کو چھوڑ کر کسی اور طرف چلے گئے۔ جس کی وجہ سے آج فرقہ واریت کے عذاب میں مبتلا ہیں اورسکون و امنیت اور عدل و انصاف جیسی نعمتوں سے محروم ہیں۔

ص: 171


1- ۔ ینابیع المودۃ،ص 445۔
2- ۔ فتوحات مکیّہ، ج ٤،

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کوئی ولی یا قطب اصلاح امّت کے فریضہ کو ادا کرنے کے لیے ظاہر ہوا تو لو گوں نے زہر یا تلوار سے شہید کردیا۔

برادرِ رسول صلی الله علیه و آله سیّد الاقطاب حضرت امام علی علیه السلام سے لے کر حضرت امام حسین علیه السلام اور ان سے لے کر حضرت امام حسن عسکری علیه السلام تک ان فرزندانِ رسولِ خدا صلی الله علیه و آله کے ساتھ امّت نے جوظلم روا رکھا جس کی بنا پر موجودہ زمانہ کا قطب یاخلیفہ رسولخدا صلی الله علیه و آله حضرت امام مہدی عجل الله تعالی فرجه پردہ غیبت میں ر ہ کر امّت کی ہدایت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

اسی بنا پر حقیقی مشایخ اور اولیاء کرام بھی اپنے نام و نسب کو ظاہر نہیں کرتے تھے بلکہ انسانی معاشرے میں بے نام و نشان رہ کر اپنے الہٰی فریضے کو انجام دیتے رہے۔ جس کی بنا پر ان کی زندگیوں کے بہت سے پہلو ہم سے پوشیدہ رہ گئے۔

حضرت سید عون بن یعلیٰ العلوی چوں کہ دین ِاسلام کی تبلیغ اور لوگوں کی معنوی اور روحانی تربیت کے لیے عراق سے ہجرت کرکے اس سر زمین پر جلوہ فگن ہوئے تھے اس لیے جناب السیّد عون بن یعلیٰ العلوی کو قطب الہند لکھ دیا جاتا ہے، علاوہ ازیں پاک و ہند میں ہر قبیلہ اپنے مورث اعلیٰ اور ہر سلسلہ معنوی، اپنے مربی اوّل کو قطب کے عنوان سے یاد کرتا ہے اور اسی طرح صوفیاء بھی اپنے اپنے سلسلے کے مؤسس کو قطب کا عنوان دے دیتے ہیں یہ سب معانی مجازی ہیں۔

حضرت سید عون قطب شاہ نے اپنے جد پاک کی سیرت طیبہ پر چلتے ہوئے اس سر زمین پر کچھ اس انداز سے کلمہ حق کی تبلیغ کی کہ جس کی برکات و فیضان باطنی سے بہت لوگ فیضیاب ہوئے۔

ص: 172

سید شریف احمد رقم طراز ہیں کہ ”آپ کے ہاتھ پر قوم منج ، قوم بھٹی، قوم وینس، قوم جنجوعہ، قوم بھاؤچھ، قوم چوہان راجپوت، قوم کھوکھر راجپوت وغیرہ نے اسلام قبول کیا”۔(1)

ازدواج

سیّد عون قطب شاہ

نے چار شادیاں کیں، آپ کی پہلی بیوی بغداد کے حسینی ساد ات سے تھیں: جناب سیّدہ عائشہ بنت سیّد عبداللہ الصومعی بن سید محمد بن سیّد طاہر بن سیّد عبداللہ بن سیّد عیسیٰ بن سید محمد الجواد بن سید ابو الحسن علی العریضی بن حضرت امام جعفر صادق علیه السلام بن حضرت امام محمدباقر علیه السلام بن حضرت امام علی زین العابدین علیه السلام بن حضرت امام حسین علیه السلام بن امیر المؤمنین حضرت امام علی علیه السلام ۔ ان کے بطن سے دو بیٹے سیّدعبداللہ اورسیّد محمد پیدا ہوئے۔

یہاں برصغیر پاک و ہند ہجرت کرنے کے بعد آپ نے مسلمان ہونے والے راجپوت سرداروں کی بیٹیوں سے شادیاں کیں، چنانچہ منشی ہنومان پرشادتحریر کرتے ہیں:

”گویند قطب شاه نام شخصی از بغداد به هند آمد، سه زنانِ درعقد درآورده بود و ازایشان نسل بسیارشد“۔(2)

”کہتے ہیں کہ سیّد قطب نام کا ایک شخص بغداد سے ہند میں آیا، اور تین ہندوستانی عورتوں سے نکاح کیا، ان سے اس کی کثیر نسل ہوئی“۔

ص: 173


1- ۔ تاریخ عبّاسی، ص ٣٣٥۔
2- ۔ تاریخ مخزن ہند، فصل پنجم۔

دوسری شریک ِ حیات

زینب بنت عبّاس قبیلہ کھوکھر سے تھیں، ان کے بطن سے تین بیٹے سیّد مزمل علی کلغن شاہ، سیّد زمان علی محسن شاہ، سیّد درّ یتیم جہان شاہ اور ایک بیٹی سیّدہ رقیہ تھی۔

تیسری بیوی جناب خدیجہ بنت عبداللہ قبیلہ چوہان، ان کے بطن سے بھی تین بیٹے سید محمد علی، سید فتح علی، سید نجف علی اور ایک بیٹی سیّدہ فاطمہ تھی۔

چوتھی زوجہ جناب اُمُّ کلثوم بنت عبدالرحمن قبیلہ راجپوت سے تھیں، ان کے بطن سے بھی تین بیٹے بنام سید کرم علی، سید بہادرعلی، سید نادر علی اور ایک بیٹی سیّدہ ہاجرہ تھی۔

ملا محمد نجف کرمانی ”خلاصهالانساب” میں رقم طراز ہیں:

”سیّد عون قطب شاه بن یعلیٰ بن ابی یعلیٰ حمزه ثانی در هند اعقاب بسیار داشت آثار بسیاری از خودش باقی گذاشت و بعد از نصف قرن جهت بازدید خویشاوندان و زیارات عتبات عالیات به عراق تشریف برد که همان جا به رحمت حق شتافت و در مقبره القریش (کاظمین شریفین) بغداد به خاک سپرده شد“۔

ترجمہ: سیدعون قطب شاہ بن یعلیٰ بن ابی یعلیٰ حمزہ ثانی کی ہندوستان میں کثیر اولاد ہے اور وہ بہت سے اپنے آثار چھوڑ کراپنے عزیز و اقارب کو ملنے اور زیارات مقدسہ کے لیے عراق تشریف لے گئے جہاں دارالفناء کو وداع کرکے عالم اعلیٰ سے جا ملے اور مقبره القریش (کاظمین شریفین) بغداد میں سپرد خاک کر دیے گئے۔(1)

ص: 174


1- ۔ چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم ابو الفضل العبّاس علیه السلام ، ج ٥، ص ٢٦٨۔

سید عون قطب شاہ کی اولاد

مورّخین نے آپ کے گیارہ بیٹے ذکر کیے ہیں لیکن سلسلہ نسل پانچ بیٹوں: سیّد عبداللہ گورا شاہ، سیدّ محمدکندان شاہ، سیّد زمان علی محسن شاہ، سیّد مزمل علی کلغن شاہ اور سیّد درّ یتیم جہان شاہ سے اب تک باقی ہے۔ دوسرے چھ بیٹوں سید نجف علی، سید فتح علی، سید محمد علی، سید نادر علی، سید بہادر علی اور سید کرم علی شاہ کی اولاد تحقیق طلب ہے۔

آپ کی اولاد علمائے اسلام اور عرف عقلاء کی نظرمیں ”سادات علویہ” ہیں جو کہ سرزمین پاک وہند کے بعض مقامات پرعلوی ہاشمی، علوی اعوان اور قطب شاہی اعوان کے القاب سے بھی معروف ہے۔

سیّد عون قطب شاہ کی نسل آل عون یا اعوان قطب شاہی

”اعوان” اصل میں ”آل عون” (عون کی نسل) تھا جیسا کہ کتاب ”معجم البلدان و القبائل” صفحہ ١١٤٥ پر" آل ِعون قبیله من آل ِمحمد صلی الله علیه و آله و آلِ علی" "آل ِعون” آلِ محمد صلی الله علیه و آله اور آلِ علی کا ایک قبیلہ ہے جو غالباً مرورِ زمانہ کے ساتھ آل عون سے ”اعوان” کی صورت میں کثرت سے استعمال ہونے لگا ہے ۔

اس لیے کہ پاک و ہند میں حضرت عبّاس علمدار علیه السلام کی نسل سے آلِ علی علیه السلام کے مورث اعلیٰ سید عون علوی تھے گویا بر صغیر میں آپ اپنے زمانے میں خاندان علوی کے قطب تھے نیز صوفیا نے بھی آپ کو معنوی اور باطنی مربی تسلیم کرتے ہوئے اپنا قطب مانا جس کی بنا پر آپ کو قطب شاہ کے نام سے بھی یاد کیا اور لکھا جانے لگا جس کی بنا پر آپ کی نسل کو سرکاری محکمہ مال و ثبت احوال اورنسابہ حضرات عون آل کی بجائے عون قطب شاہی یا اعوان قطب شاہی کے عنوان سے لکھنے لگے۔

ص: 175

بلکہ تحقیق اور تاریخی شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سادات پر ایک زمانہ اتنا سخت گزرا کہ وہ اپنے دین اور جان و مال کی حفاظت کے لیے اصلی القاب اور نسبت کی بجائے مستعار نام اور نسبت کو استعمال کرتے تھے۔لیکن اب جب اپنی اصلی نسبی عنوان و القاب کا استعمال کرنے لگے تو دشمنوں کے ساتھ دوستوں کوبھی تعجب ہونے لگا۔

یہ بھی واضح رہے کہ عجمی معاشرہ میں ”میر” اور” شاہ” سادات یا خاندان کے بزرگ کے اسماء کے ساتھ لکھا جاتا تھا ، اس لیے بعض تذکروں میں آپ کے نام کے ساتھ میر اور شاہ کے القاب بھی نظر آتے ہیں۔بلکہ بعض مقام پر” ملک ”بھی لکھاجاتا ہے جو سراسر غلط ہے ، یہ بدعت ظالم سلاطین کے دور میں شروع ہوئی اس لیے کہ جب وہ کسی گاؤں اور ریاست کو فتح کرتے تھے تو پھروہاں اپنی طرف سے جو حاکم معیّن کرتے تھے اس کو ”ملک ”کا عنوان دیتے تھے۔

کسی شخص کو”مَلِک ”کہنا جائز نہیں

اشاره

قرآن نے ”ملک ”اللہ تعالیٰ کے خاص اسما ئے حسنیٰ میں بیان کیاہے ﴿ھُوَاللّٰہُ الَّذِی لَآاِلَہَ اِلَّاھُوَالمَلِکُ﴾(1)"وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی ملک ہے"۔ پس یہ اسم ذات اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے کسی انسان کو اس عنوان سے پکارنا اور لکھنا جائز نہیں ہے۔

امام جعفر صادق علیه السلام کے حضور میں ایک صحابی نے کسی شخص کو ملک کہا تو امام نے سختی سے منع کیا اور فرمایا :"یہ بندہ ہے اسے عبدالملک کہو"، ملک کا مطلب ہے مالکِ کل اور وہ فقط ذات باری تعالیٰ ہے۔لہذا آسمائے الہی کے ساتھ عبد کے اضافہ مثلاً عبد الرحمن، عبد

ص: 176


1- ۔ سورہ مبارکہ حشر ،آیت ٢٣۔

الملک کہنے میں حرج نہیں، لیکن عبد کے اضافہ کے بغیر کسی شخص کو ”ملک” کہنا جائز نہیں ہے۔

بعض دانشور وں نے مولا ئے کائنات حضرت علی علیه السلام کا اس تمنّا کے ساتھ جناب امّ البنین علیها السلام سے نکا ح کرنا” لا تزوجھا فتلدنی غلاماً فارساً یکون عوناً لولدی الحسین فی کربلا”(1)۔" تاکہ اس سے شادی کروں جس سے بہادر بیٹا پیدا ہو اور وہ میرے بیٹے حسین کا عون و مددگار ہو" نیز کربلا میں حضرت امام حسین علیه السلام کاحضرت عبّاس علیه السلام کویوں مخاطب ہونا "یا قَمراً مُنِیراً کُنتَ عَونی"(2) اے نورافشاں چاند تو ہر مشکل میں میرا عون و مددگار و یاور ہے "کے پیش نظرکہا ہے کہ شاید اسی بنا پر پاک و ہند میں موجود حضرت عبّاس علیه السلام کی اولاد، علوی سادات کا ایک لقب ”اعوان”( مددگار) معروف ہو گیا۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ چوں کہ خاندان کے بزرگ مورث اعلیٰ کا نام" عون "اور مشہور لقب" قطب شاہ" تھا اس لیے آپ کی اولاد کو اعوان قطب شاہی کے لقب سے یادکیا جانے لگا۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سادات علویہ اپنے عظیم الشّان جد کی نسبت سے "علوی" لکھا کریں۔

پاک و ہند میں آپ کی نسل سے بہت سے اولیائے خدا اور علماء ہوئے ہیں جن میں سے بعض مرجع خواص و عام قرار پائے ہیں:

ص: 177


1- ۔عمدۃ الطالب، ص 357۔
2- ۔ بطل العلقمی، ج 2، ص151۔
١)سیّد عبداللہ ابن سیّد عون قطب شاہ

ان کے آٹھ بیٹے بنام سید عالم دین، سید احمد علی، سید زمان علی، سید غلام علی، سید محمد، سید علی، سید عمر اور سید زید ذکر کیے جاتے ہیں۔

آپ کی سب سے زیادہ اولاد وادی سون سکیسر میں آباد ہے جو تقریباً ساٹھ قصبوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ یہ راولپنڈی، جہلم، چکوال، خوشاب، جھنگ، ملتان، مظفر گڑھ، میانوالی، اٹک، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، آزادکشمیر اور ہندوستان کی بعض ریاستوں میں بھی موجود ہے۔

آپ کی نسل سے کچھ مشہور اولیاء، زعماء اور علمائے کرام:

٭ حضرت سید سلطان مہدی علوی ؒ مرقد وادی سون، آ پ صاحب کرامت اور عظیم روحانی شخصیّت کے مالک تھے، بیان کیا جا تاہے کہ مغلیہ بادشاہ اکبر کے دور میں دریائے سندھ پر پل بنانے کا منصوبہ بنایا گیا مگر پانی کو مہار کرنے کی ساری تدبیریں ناکام ہوگئیں تو ان کو ایک مجذوب نے بتایا کہ وہ وادی سون کے ایک بزرگ سلطان مہدی علوی کی مدد سے یہ کام کر سکتے ہیں، کافی اصرار کے بعد انہیں وہاں آنے پر راضی کیاگیا تو انھوں نے آ کر دریا کوکہا ”اٹک” یعنی رک جا چنانچہ دریا رک گیا حکومت کے اہل کا روں نے پل تعمیر کرلیا تو پھر پانی رواں ہو گیا۔ آپ کی اس کرامت اور زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کی بنا پر اس پل اور قریب ہی ایک قلعہ اور شہر کا نا م ہی ”اٹک” پڑ گیا۔((1))

٭ حضرت سخی محمد خوش حال

مرقدموضع دھدھڑ، وادی سون سکیسر۔

٭ حضرت شاہ سیّد محمد غوث علوی مرقدیوپی، ہندوستان۔

ص: 178


1- ۔ استفادہ ازکتاب وادی سون سکیسر، ص١٣٨۔

٭ سیّد قدرت اللہ بن سیّد رزاق علی علوی مرحوم چارہان مری۔

٭ حضرت سیّد سلطان ابراہیم ساڑھی والے، مرقد انب شریف، وادی سون۔

٭ جناب محمد سرور بن غلام علی صاحب مرحوم، مولف کتاب وادی سون سکیسر۔

٭ حضرت علامہ فیض محمد مکھیالوی مرحوم مکتب امامیہ کے معروف مبلغ و مناظر۔

٭ مؤلف و محقق محترم جناب السید آفتاب حسین جوادی، اسلام آباد۔

٭حضرت علامہ محمد یوسف جبریل متوفی ٢٠٠٦ ،مرقد نواب آباد واہ کینٹ۔

٭ جناب السید شوکت محمود صاحب مدیر ادارہ افکارِ جبریل نواب آباد۔

٭ حضرت شاہ سیّد محمدنور علوی تاج بادشاہ بن حضرت سالار قلندر غازی،جوشال۔ان کی ہی اولاد سے ڈاکٹر السیّد محمدرفیق عالم علوی ، نواب آباد ہیں۔((1))

٢) سید محمد شاہ ابن سیّد عون قطب شاہ

آپ کی نسل سیدسکن شاہ سے چلی ان کا ایک بیٹا بدیع شاہ ہوا اور اس کے دو بیٹوں شاہ فیروز اور مالک شاہ سے اولادخوشاب، چکوال، اٹک، حضرو اور جالندھر (ہندوستان) میں آباد ہے۔

مسلم لیگ ومسلم اسٹوڈنٹس کے راہنما اورسادات علویہ کونسل کے سیکریٹری جنرل السیّدجناب ممتاز اعوان علوی صاحب بھی سیّدبدیع الدین بن محمد شاہ کی اولاد سے ہیں((2)

ص: 179


1- ۔ ڈاکٹرسیّد محمدرفیق عالم علوی ابن حضرت امیر عالم علوی ابن حضرت غلام رسول علوی ابن حضرت محمد نور علوی تاج بادشاہ ؒ ابن محمد ظریف علوی ابن اللہ داد ابن کرم الہی ابن محمد صالح ابن محمد اعظم ابن دریاخان ابن طیب ابن محمدعلی ابن کمال الدین ابن حیدر علی ابن بصیر الحسن ابن بدیع الزمان ابن مراد شاہ ابن پہلوان شاہ ابن حسن علی ابن غلام علی ابن شاہ جہان ابن بہادر علی ابن رحیم اللہ ابن عطا ابن امان اللہ ابن داؤد علی ابن تراب علی ابن طاہر علی ابن محمد علی ابن عبداللہ گولڑہ ابن سیّدعون قطب شاہ بغدادیؒ (مراسلہ ڈاکٹرسیّد محمدرفیق عالم علوی )
2- ۔ السیّد ممتاز محمّد اعوان العلوی ابن السیّد تاج محمد علوی ابن السیّد فقیر محمد علوی ابن سیّد علی احمد علوی ابن سیّد طورہ باز علوی ابن ذوالفقار علوی ابن سردار خان علوی ابن سلطان علی علوی ابن بہادر علی علوی ابن شیرعلی علوی ابن محمد حسین علوی ابن محمد طالب علوی ابن حیدر علی علوی ابن مزمل علی علوی ابن احمد علی علوی ابن رجب علی ابن مرتضی علوی ابن سلطان حسن ابن ذوالفقار علوی ابن اسد اللہ ابن عبداللہ علوی ابن نجف علی ابن قائم علی ابن سلطان عبّاس ابن طاہر علی ابن نادر علی ابن قاسم علی ابن اسماعیل علوی ابن اکبر علی ابن سلطان ابراہیم ابن ابو حمزہ جعفر ابن السیّد ہاشم علوی ابن السیّد بدیع الدین ابن السیّد سکن العلوی ابن السیّد محمد شاہ ابن السیّد عون قطب شاہ العلوی ؒابن السیّد یعلیٰ ابوالقاسم علوی ابن السیّد ابو یعلیٰ حمزہ الثانی ابن السیّد القاسم ابن السیّد علی ابن السیّد حمزۃ الاکبر ابن السیّد حسن ابن السیّد عبیداللہ المدنی ابن حضرت السیّد غازی ابوالفضل العبّاس علمدار ابن حضرت امیر المؤمنین حضرت امام علی ابن ابیطالب ۔(انساب الابرار فی آل عباس علمدار،ص ٢٣٩)۔
٣) سیّد مزمل علی شاہ ابن سیّدعون قطب شاہ

آپ کے١٤ بیٹے ذکر کیے گئے ہیں، جناب سید نذیر علی، سیّد امیر علی، سیّدنصیر علی، سیّدبشیرعلی، سیّد غلام علی، سیّد کرم علی، سید خیر علی، سیّد بہادر علی، سیدقاسم علی، سیّد ابراہیم، زمان علی شاہ، نواب علی، سیّدمحمد مبین اور سیّد محمد آمین۔

آپ کی اولاد ضلع سیالکوٹ، مانسہرہ، جموںو کشمیر اور لدھیانہ (ہندوستان) میں آباد ہے۔ نقل کیا جاتا ہے کہ سیّد مزمل علی شاہ کا مزار لدھیانہ (ہندوستان) میں ہے اور ہرسال ان کے مزار پر ایک عظیم الشّان عرس منعقد ہوتاہے۔

آپ کی ہی نسل سے حضرت میاں غلام حسین علوی مرقد پونچھ کشمیر، حضرت صاحب زادہ سیّد قطب شاہ مرقد سری نگر کشمیر، حضرت سید فتح الدین علوی مرقد نیریان شریف، پلندری کشمیر، مولوی السّید حسام الدّین علوی مؤلف کتاب"نسب الاعوان"، بساڑی کشمیر، مولوی سیّد زین العابدین علوی مؤلف کتاب ”تاریخ سادات علوی اور اعوان مشائخ کرام” ۔

ص: 180

٤)السیّد درّ یتیم جہان شاہ ابن سیّد عون قطب شاہ

ان کے تین فرزند سید محمود علی، سیّد محسن علی، سیّد نور علی تھے جن میں سے سید محمود علی علوی کے دو بیٹے محمد مقبول اور محمد عثمان تھے۔ سید محمد عثمان شاہ کا ایک بیٹا سید محمد بشیر تھا جس کی نسل سید محمد پیر سے چلی۔

سیّد نور علی کا ایک ہی بیٹا سید امیر علی تھا اور سیّد محسن علی کے تین بیٹے، سید ضیا الدین، سید سکندر اور سید محمد علی شاہ تھے۔

٥)سیّد زمان علی شاہ محسن ابن سیّد عون قطب شاہ
اشاره

آپ بھی اپنے والد کی طرح اپنے علم و عمل سےاسلام کی تبلیغ کرتے رہے اور معنوی وباطنی اعتبار سے آپ اپنے والد گرامی حضرت سید عون قطب شاہ کے جانشین تسلیم کیے تھے۔

صاحب شریف التواریخ نے لکھا ہے کہ آپ کوہ کرانہ بار ریاست پرحکمرانی کرتے رہے ہیں، آپ کی نسل ضلع سرگودھا، جھنگ، جہلم، گجرات، پاک پتن، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور مظفر آبادکشمیر وغیرہ میں موجود ہے۔

وفات: آپ کی تاریخ وفات تقریباً ٥٧٦ھ مطابق ١١٨٠ئ بیان کی گئی ہے، آپ کامزار قُری شریف کوہ کرانہ ضلع سرگودھا میں ہے۔

اولاد: آپ کے بیٹوں کے اسما یہ ہیں: سید عبدالحق سجن شاہ، سیّد عبد العزیز اجن شاہ، سیّد ادریس وگرا شاہ، سید محسن جگرا شاہ اور سید عبّاس شاہ علوی، ان میں سے سید عبد الحق سجن شاہ اور سید ادریس وگر اشاہ کی کثیراولاد باقی ہے۔(1)

ص: 181


1- ۔ باغ سادات قلمی؛ تاریخ عباسی ص٣٨٣۔
آپ کی نسل سے کچھ مشہور اولیاء، زعماء اور علمائے کرام

آپ کی اولاد میں بہت بڑے بڑے اولیائے کرام پائے جاتے ہیں جن کے مزار ات آج بھی زیارت گاہ ِ خاص و عام ہیں۔

حضرت سیّدعبد الحق سجن شاہ

آپ حضرت سیّد زمان علی شاہ محسن بن سیّد عون قطب شاہ کے فرزند ارجمند اور ان کے روحانی سلسلہ کے وارث وجانشین تھے، عرصہ دراز تک ریاست کرانہ سرگودھا پرآپ اور آپکی اولاد حاکم رہی ہے۔

آپ کی وفات جمعرات ٢ ١ربیع الاوّل٥٩٦ھ مطابق ٢١ جنوری١٢٠٠ ء اور مرقدکوہ کرانہ سرگودھا میں ہے۔

اولاد: آپ کا ایک ہی بیٹا سیّد اسحاق المعروف سلطان کوٹ تھا، کوٹ وہ قصبہ ہے جس کو آپ نے آباد کیا تھا۔

آپ کا ایک ہی فرزند سیّد عزّ الدین عزّت المعروف سلطان عزّت تھا، ان کی کثیر اولاد تھی جن میں سے سید برہان الدینّ ہبیرہ زیادہ مشہور تھے آپ کو ریاست جموں پر بھی سلطنت حاصل تھی او ر دہلی تک آپ کا اثر و رسوخ تھا آپ نے بھرت پور کے نام سے ایک نئی آبادی کی بنیاد رکھی اور اس کو اپنی سکونت اور دار الامارت بنایا، جس کی بنا پر آپ کوسلطان بھرت کے عنوان سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

آپ کی وفات تقریباً ٦٧٥ھ مطابق ١٢٧٧ء بمقام بھرت ضلع سرگودھا میں ہوئی اور وہیں مدفون ہوئے۔ آپ کے دو بیٹے سیدّ سلطان سکندر شاہ اور سیدّ سلطان نصرت شاہ تھے۔

حضرت سیّدسلطان سکندرشا ہ منوّر کا ایک بیٹا بنام سیّد سلطان جلال الدّین علوی المعروف بابا شاہ سلطان ؒ علوی تھا جو بہت معنوی و روحانی شخصیت کے مالک تھے۔

ص: 182

سیّد سلطان جلال الدّین علوی المعروف بابا شاہ سلطان

آپ اپنے والد کی وفات کے بعد ١٢٧٧ء میں مسندِ امارت پر بیٹھے، آپ کو علاقہ کرانہ بار سرگودھا کی ظاہری و باطنی سلطنت حاصل تھی، آپ نے بہت سی بستیاں آبادکیں اور عوام کی رفاہ و آسائش کے لیے بہت سے امور انجام دیے۔

جناب سیّدشریف احمدشرافت لکھتے ہیں کہ :علاقہ کرانہ بار موضع رام دیانہ کے قریب ایک ٹیلہ ہے جو آپ کے نام سے مشہور ہے، ممکن ہے وہا ں آپکی سکونت رہی ہو اور وہ آبادی گردش زمانہ سے ویران ہو گئی ہو۔((1) )

آپ کو فقاہت و روحانیّت اپنے آبائی سلسلہ علویہ سے وراثت میں ملیں، اس مقام پر بھی آپ صاحب ِقدرت و تصرّف رہے ہیں۔

وفات و مدفن

حضرت سید سلطان شاہ علوی کی وفات ١٢ ربیع الثّانی٧٣٥ھ مطابق١٠ دسمبر ١٣٣٤ ء بروز ہفتہ ہوئی اور رام دیانہ ضلع سرگودھا میں دفن ہوئے۔ ایک عارف نے آپ کا مادۂ تاریخ ﴿ و قُومُوا لِلّٰہِ قَاٰنِتِین﴾((2)) سے اخذ کرتے ہوئے سخی ِ دین، شریف الاقطاب، پیرِعاشقان، کبیر العشاق لکھا ہے۔((3) )

اولاد: تما علمائے انساب کا اتفاق ہے کہ سیّد سلطان شاہ علوی کے بارہ بیٹے تھے اور سب ہی بہت لائق فائق تھے کسی پنجابی شاعر نے اپنے شعر میں بھی اس کا ذکر کیا ہے:

باراں پت سلطان دے سبھو چنگے (4)

ص: 183


1- ۔ تاریخ عبّاسی ص ٤٠٦۔
2- ۔ آیہ مجیدہ٢٣٨، سورہ بقره ۔
3- ۔ تاریخ عبّاسی، ص ٤٠٨۔
4- ۔ حوالہ ایضاً

خاندانی تذکروں

کے مطابق وہ سب کے سب اولیائے خدا میں سے تھے اسی لیے بابا جی نے انہیں ایک جگہ پر رہنے سے منع کیا اور سب کو مختلف مقامات پر چلے جانے کا حکم دیا تھا تاکہ سلسلہ علویہ کو رونق اور مکتبِ امامیہ کو فروغ ملے اور اس طرح دشمنوں اور حاسدوں کے شر

سے بھی محفوظ رہیں۔

معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ فرصت نہ ہونےکی بنا پر ہم تما م شجرہ نگاروں اور تذکرہ نویسوں سے رابطہ نہ کر سکے اس لیےہمیں تین بیٹوں کے نا م ہی فراہم ہو سکے ہیں: سید علی سلطان ؒ، سید احمد سلطان ؒ اور سید سنگین سلطان ؒ۔

ان میں سے سیدعلی

سلطان المعروف باباسلطان ؒ کی اولاد ضلع راولپنڈی کےموضع ڈہوک اڈرانہ، نئی آبادی سلطان آباد، چک امرال،گگن ، کھبہ بڑالہ اور وادی سواں کےمتعدد مقامات میں آباد ہے اورسید احمد سلطان کی اولاد گجرات،منڈی بہاؤالدین اور جہلم کے مختلف مقامات میں آباد ہے۔ لیکن ان کے دوسرے دس بیٹوں کی اولاد کے بارے میں معلومات فراہم نہیں ہو سکیں، محترم قارئین اگر مطلع ہوں تو ہمیں آگاہ فرما کر ممنون کرم فرمائیں، انشاء اللہ اگرممکن ہوسکا توہم آئندہ ایڈیشن میں اسے بھی ذکر دیں گے۔

حضرت بابا سیّد سلطان ؒ

نام و کنیت: آپ کا معروف نام سلطان ،کنیت ابو امر اور یہ کہ اصلی نام سید علی سلطان تھا۔ بابا سلطان کے نام سے شہرت رکھتے تھے چوں کہ آپ ریاست اڈرانہ کے حاکم رہے نیز آپ کے والد کی شہرت بھی اپنے امرائی اور ریاستی لقب "سلطان" کے نام سے تھی، اس لیے آپ بھی اپنے امرائی اورآبائی لقب ”سلطان” کے نام سے معروف ہو گئے۔

خاندان کے تذکروں کے مطابق آپ کے والد گرامی حضرت سید جلال الدین سلطان شاہ علوی علاقہ کرانہ بار موضع رام دیانہ، ضلع سرگودھا کے بہت بڑے ولیِ خدا تھے، ان کے

ص: 184

بارہ بیٹے تھے اور وہ سب کے سب اولیائے خدا میں شمار ہوتے تھے،انھوں نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ ایک مقام پر نہ رہیں بلکہ مختلف علاقوں میں سکونت اختیار کریں تاکہ اپنے آبا و اجداد کی سیرت پر چلتے ہوئے مختلف علاقوں میں جا کر لوگوں کو شرک و بت پرستی کی وادی سے نکال کر راہ توحید کی طرف دعوت دیں۔

کہا جاتا ہے کہ اس مشن کو لے کر حضرت بابا سلطان وادیٔ سواں میں آئے، اس توحید کے منادی کی معنوی اور روحانی شخصیّت سے متاثر ہو کر لوگ حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے تو یہ بات اڈرانہ ریاست کے ایک سکھ سردار کو پسند نہ آئی تو اس نے آپ کوقتل کرنے کی ناکام سازش کی۔

صدری روایت کے مطابق اس نے آپ کو اپنے دربار میں بلوایا اور ایک خونخوار گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے اصرار کیا اور کہا: جناب سلطان ! میری ریاست کی حدود میں جہاں تک آپ کو یہ گھوڑا لے جائے وہ آ پ کے سپرد کر دوں گا، چوں کہ وہ جانتا تھا کہ جو بھی اس وحشی گھوڑے پر سوار ہوتا ہے وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

باباسیّد سلطان نے کہا: تو ولیٔ خدا حضرت علی مرتضیٰ علیه السلام کی اولاد کو آزماتا ہے؟ تو پھر دیکھ! چنانچہ آپ اس خونخوار گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس کی پوری ریاست کے گرد گھوم کر آگئے۔

سکھ سردار اس بات کو برداشت نہ کر سکا تو اس نے اپنے اہلکاروں کوحکم دیا کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں باندھ کر ایک کمرے میں ڈال دیا جائے اور پھر اس میں خونخوار گھوڑے کو چھوڑ دیا جائے۔

مگر جب صبح جا کر دیکھا! توبابا سلطان عبادت میں مشغول ہیں اور گھوڑا ان کی حفاظت کے لیے ایک طرف مستعد و چوکس کھڑا ہے۔

ص: 185

سکھ سردار وحشت زدہ ہو کر اپنے خاندان کو لے کر فرار ہوگیا۔ ((1)) تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ذکر ہیں کہ حیوانوں اور غیر مسلموں نےبھی اولاد علی کا احترام کیا، مگر وہ لوگ کس قدر پست ہیں جو ظاہر میں مسلمان ہیں لیکن آل علی علیه السلام کی توہین اور قتل کرنے میں جری ہیں۔

بعض لوگ ناقل ہیں کہ وہ گھوڑا دراز مدت تک آپ کی خدمت میں رہا اور جب یہ گھوڑا راہی اجل ہوا تو دریائے سواں کے کنارے اس کو دفن کردیا گیا۔

آپ کے حالات زندگی، کرامات نیز آپ کی اولاد کا تذکرہ اور آپ کے معزّز ترین ا ور طاہرین أبا و اجداد کا تفصیلی ذکر راقم کی کتاب ”ولیٔ فیض رسان بابا سیدّ سلطان ” میں ملاحظہ فرمائیں۔

وفات ومدفن: آپ کی وفات تقریبا ٧٥٤ھ مطابق ١٣٥٣ء کے حدود میں ہوئی۔ دار فانی سے عروج کے بعدآپ کو دریائے سواں کے کنارے اڈرانہ قلعہ کے قریب ہی دفن گیا ہے۔ جہاں پر اس ولی فیض رسان کا مزار شریف زیارت گاۂ خواص و عام ہے۔

حضرت بابا سیّد سلطان کا نسب بیس واسطوں سے مولائے کائنات حضرت علی علیه السلام سے ملتا ہے، آپ کے اجدا د پاک اور طیّب و طاہر تھے جیسا کہ ہم زیارت نامہ میں پڑھتے ہیں:”اشھد انک طھر طاھر من طھر مطھر و اشھد انک کنت نوراً فی الاصلاب الشامِخَهِ و الارحام المطھره“(2)

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ پاک و پاکیزہ ہیں اور پا ک ہستیوں کی اولاد ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نور تھے بلند مرتبہ صلبوں میں اور پاکیزہ ارحام میں رہے”۔

ص: 186


1- ۔ چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم ابوالفضل العباس، ج5، ص277، طبع ایران۔
2- ۔ مفاتیح الجنان، باب زیارات، شیخ عبّاس قمی۔

شجرہ ٔ نسب

حضرت باباالسّیدسلطان علوی (مرقدشریف سلطان آباد، ڈہوک اڈرانہ چکری روڈ، راولپنڈی) بن السیّدجلال الدّین المعروف باباشاہ سلطان علوی(مرقدمطہررام دیانہ، سرگودھا) بن سیّدمحمدشاہ منّور علوی بن السیّد سکندر شاہ علوی بن السیّد برہان الدین عرف ہبیرہ شاہ علوی بن السیّدگوہر علی علوی عرف گوراشاہ (مدفن کوہ کرانہ، سرگودھا) بن السیّدعزّالدین عرف سلطان عزّت علوی بن السیّداسحاق علوی بن السیّد عبدالحق سجن علوی بن السیّدزمان علی محسن علوی بن السیّد عون قطب شاہ علوی(مرقد مطہر مقبره القریش، کاظمین شریفین، بغداد، عراق) بن السیّد یعلیٰ ابوالقاسم علوی بن السیّد ابویعلیٰ حمزهالثانی علوی (مرقد مطہر حلّہ الحمزہ، عراق) بن السیّدالقاسم علوی بن السیّد علی علوی (مرقد باب طوریج کربلا) بن السیّد حمزّهالاکبرعلوی بن السیّد حسن العلوی بن السیّدعبیداللہ الر ئیس المدنی (مدفن جنت البقیع مدینہ منوّرہ) بن السیّدابوالفضل العبّاس الشہید (روضہ مبارکہ کربلائے معلیٰ عراق) بن السیّد ابوالحسن حضرت امام علی بن ابی طالب (علیهم السلام) (روضہ مبارکہ نجف اشرف)۔(1)

ص: 187


1- ۔ (١) چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم علیه السلام ، ص ٢٧٧؛ تاریخ عباسی علوی،سید شریف احمد شرافت؛ جمھرۃ النسب،ص31؛ عمدۃ الطالب فی آل علی ابن ابیطاالب‘،ص356، جمال الدین احمد بن علی،متوفی 828ھ؛ خلاصه الااقوال لعلامه الحلّی؛ خلاصه الانساب، علامہ محمد نجف کرمانی؛المجدی فی انساب الطالبین،نجم الدین ابی الحسن علی بن محمد العلوی العمری؛ شجرۃ الطیّبۃ،ص13۔ٖ14؛ معجم الرجال، آیت اللہ العظمیٰ الخوئی؛ اعقاب وزراره ابوالفضل العبّاس مقدّمہ آیت اللہ العظمیٰ مرعشی قدّس سرّہ فی تاریخ زندگانی قمر بنی ہاشم، حسین عماد زادہ اصفہانی؛ منتہی الامال، شیخ عباس قمی؛ العبّاس، سیّد عبد الرّزاق موسوی المقّرم؛ ذکرالعبّاس، مولانا نجم الحسن کراروی؛ منتخب التواریخ،محمد ہاشم خراسانی؛ رجال النجاشی؛ انوار السیادت فی آثار السعادت، سید شریف احمدشرافت نوشاہی؛ حقیقه الاعوان، صوبیدار محمد رفیق علوی ہاشمی؛ ستارہ درخشان، ج١٥،ص5، علامہ محمد جواد نجفی؛ سرالسلسلهالعلویه، لابی نصر البخاری علق علیہ علامه السیّد صادق،بحرالعلوم المطبعه الحیدر یه فی النجف الاشرف؛ اولاد امیرالمٔومنین علیه السلام کیا علوی سادات ہیں؟،سید وزیر حسین علوی؛ قلمی شجرہ خاندان علوی و نسابہ حضرات۔ شجرہ مٔولف :

راقم کا نسب بائیس واسطوں سے حضرت بابا سیّد سلطان ؒ اور ان سے بیس واسطوں سے سیّد الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه و آله کے بھائی مولائے کائنات ابوالائمه والسّادات حضرت امام علی مرتضیٰ علیه السلام سے ملتا ہے۔((1))

٭بابا سیدسلطان ؒ کی نسل سے صاحب کرامات حضرت السیّدشمس شاہ الشہیدؒ، علوی سادات کے جدِّمحترم، مرقد مطہر، قدیمی قبرستان کھبہ بڑالہ۔

٭ جناب حجه الاسلام السیّد محمد زمان العلوی بن مولوی سید مصری جان کربلائی علوی، خطیب جمعہ و جماعت پشاوریونیورسٹی صوبہ سرحد، مرقد شریف نزدبقعہ مبارکہ حضرت سیّد صادق حسین مٹھے شاہ کاظمی ؒ،موضع کھبہ ، راولپنڈی۔

ص: 188


1- .[1] السیّدوزیر حسین العلوی ابن السیّددل باغ علوی الشہید ابن السیّد مقرّب علوی ابن السیّدشہباز علوی ابن السیّدغلام علی علوی بن السیّدعمیر علوی بن السیّد شمس شاہ الشہید (مرقد شریف کھبہ راولپنڈی) بن السیّدمیاں محمد علوی بن سید سلطان علی جنداعلوی بن السیّد سلطان سجاول علوی (مرقدشریف گگن) بن السیّدسلطان یوسف علوی بن السیّد سلطان بوطیّار علوی بن السیّد میاں راجا شاہ الشہید علوی(مرقد شریف ڈھوک اڈرانہ) بن السیّد سلطان عباس علوی بن السیّد سلطان جودی علوی بن السیّدعین الدین علوی بن السیّد سلطان عبادی علوی بن السیّد بدیع الدین علوی بن السیّد بدرالدین علوی بن السیّدغیاث الدّین علوی بن السیّد امرالدین علوی بن حضرت باباالسّیدسلطان علوی (مزارشریف سلطان آباد، ڈھوک اڈرانہ راولپنڈی) بن السیّدابوالمنصور جلال الدّین المعروف با با سلطان شاہ علوی(متوفی ٧٣٤ھ؛ ١٣٣٤ء مرقد مطہررام دیانہ، سرگودھا) بن سیّدمحمدشاہ منّور بن السیّد سکندر شاہ علوی بن السیّد برہان الدین علوی عرف ہبیرہ شاہ بن السیّد گوہر علی علوی عرف گورا شاہ (متوفی ١٢٥٧ء مدفن کوہ کرانہ، سرگودھا) بن السیّد عزّالدین علوی عرف سلطان عزّت شاہ بن السیّدعلی اسحاق علوی (مرقدسلطان کوٹ) بن السیّد عبدالحق سجن شاہ علوی بن السیّد زمان علی محسن شاہ علوی بن السیّد عون قطب شاہؒ (مرقد مطہر مقبره القریش، کاظمین شریفین، بغداد، عراق) بن السیّد یعلیٰ ابوالقاسم بن السیّد ابویعلیٰ حمزهالثانی علوی (مرقد مطہر حلّہ الحمزہ، عراق) بن السیّدالقاسم علوی بن السیّد علی علوی(مرقد باب طوریج کربلا) بن السیّد حمزه الاکبر علوی بن السیّد حسن العلوی بن السیّدعبیداللہ الرئیس المدنی (م ٢٧ شوال١٢٠ھ مدفن جنت البقیع مدینہ منوّرہ) بن السیّدابوالفضل العبّاس الشہید (روضہ مبارکہ کربلا معلیٰ عراق) بن السیّد ابوالحسن حضرت امام علی علیه السلام (روضہ مبارکہ نجف اشرف) بن سیّد البطحاء جناب ابی طالب ابن عبدالمطلب ابن السیّد ہاشم (علیهم السلام) ۔

٭مرحوم جناب السیّدنادر علی عرف نذرا، بانی مجلس ٢١ رمضان بسلسلہ شہادتِ اول المظلوم حضرت امیر المٔومنین علیه السلام ، مدفن قدیمی قبر ستان کھبہ وڈالہ۔

مرحوم کے پوتے محترم جناب ابرار حسین صاحب اپنے والد مرحوم غلام حیدر بن نادر علی نذرا سے ایک دلچسپ کرامت نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: کہ انگریز کے دورِ حکومت میں آپ عراق کے شہر نجف اشرف میں مولائے کائنات امیر المؤمنین حضرت علی علیه السلام کے روضہ مبارکہ کی زیارت سے مشرف ہوئے تو وہاں آپ نے ایک عظیم الشّان کرامت دیکھی جس سے آپ نے حق و حقیقت کو پالیا۔روضہ مبارکہ پر حاضری دینے کے بعدجب آپ نماز پڑھنے کے لیے ہاتھ باندھتے تو کوئی غیبی قوت آپ کے ہاتھ کھول دیتی یہاں تک کہ آپ نے کئی بارہاتھ باندھنے کی کوشش کی مگرہر بار کسی غیبی قوّت نے ہاتھ کھول دیے ، جب ایسا ہوا توآپ ایک عالم دین کے پاس گئے اور پیش آنے والے واقعہ کو بیان کیا !۔ اس عالم دین نے پوچھا؟ آپ کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟جواب میں آپ نے کہا جی میں ہندوستان سے آیا ہوں ، حضرت علی کی نسل سے ہوں اور سنی مذہب سے تعلق رکھتا ہوں۔اس وقت اس عالم دین نے کہا کہ حضرت علی بن ابی طالب کی اولاد ہو کر غیروں کا مذہب رکھتے ہواور ان کی بارگاہ میں آکر رسول اللہ صلی الله علیه و آله کے طریقہ کے خلاف نماز میں ہاتھ باندھنے کی جسارت کرتے ہو۔سنو !اس کے بعدہاتھ کھول کر نماز پڑھو اور اس کرامت اور عطا پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار رہو۔پھر آپ نے علماء کے مشورہ کے مطابق اس عظیم عنایت پرشکرانے کے طور پرہر سال ٢١ ماہ رمضان بسلسلہ شہادت مولائے مظلوم امام علی علیه السلام ایک مجلس عزا اور ختم قرآن مجید کا سلسلہ شروع کیا جو الحمد للہ آج تک برقرار ہے۔

٭معروف ادیب، خطاط اور سماجی خیر خواہ جناب السیّد خان زمان العلوی، اسلام آباد۔

ص: 189

٭ قرآنی فونٹ اور علوی نستعلیق سوفٹ ویٔرز کے بانی محترم برادرالسیّد امجد حسین العلوی، پشاور۔

٭حضرت السیّدمیاں راجا الشہیدمرقد شریف، قدیمی قبرستان ڈھوک اڈرانہ۔

٭ علامہ السیّدمحمد عوض علوی جونپوری متوفی ١١٨٠ھ، ہندوستان۔

٭ مولوی السیّد فتح محمد علوی متوفی ١٨٢٤ء جونپور ہندوستان۔

٭ حضرت حاجی سیّدشاہ محمد نوشہ گنج بخش ؒ جن کا مزار رنمل شریف گجرات((1))، پاکستان میں زیارت گاہ خاص وعام ہے، اس بزرگ کے عقیدت مند دنیا بھر میں موجود ہیں، ان کی اولادنوشاہی سادات کہلاتی ہے۔ جن میں اکثرصاحبانِ علم ہیں اور بعض باطنی علوم پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔صوفی منش ہونے کے باوجودصوفیوں کی طرح رہبانیّت اختیار نہیں کرتے، خانقاہوں کے بجائے مساجد کو آباد کرتے ہیں اور تعلیمات ِحضرات محمد و آل محمد صلی الله علیه و آله سے اپنی کتب اور نشرو اشاعت میں استفادہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کوقرآن اور اہل بیت (علیهم السلام) سے کما حقہ متمسک فرمائے۔ تاریخ عبّاسی، سیادت علویہ،تاریخ نوشاہی ، انوار السیادت فی آثار السعادت اور دوسری متعدد تالیفات کے مؤلف جناب سیّد شریف احمد شرافت کا سلسلۂ نسب حضرت حاجی سیّد محمد شاہ نوشہ گنج بخش ؒ سے ملتا ہے۔

ص: 190


1- ۔ حضرت حاجی سیّدشاہ محمد نوشہ گنج بخش ؒ بن سیّد علاؤالدین حسین غازی شاہ بن سیّد شمس الدین الشہید بن سید جلال محمد بن سیدعبداللہ ذاکر ہو بن سید شاہ محمد بن سید گل محمد بن سید معزّالدین بن سید عبد الصمد بن سید عطاء اللہ بن سید عبد الاوّل بن سید محمود شاہ العرف پیر جالب شاہ بن سیّد احمد شاہ بن سید سلطان شاہ بن سید محمد شاہ منوّر بن سیّد سکندر شاہ بن سید ہبیرہ شاہ بن سید گوہر علی گورا شاہ بن سید عزّ الدین عزّت شاہ بن سیدعلی اسحاق علوی (مرقد سلطان کوٹ) بن سید عبدالحق سجن شاہ بن سید زمان علی محسن شاہ بن السیّد عون قطب شاہ ؒ (مرقد مطہر مقبرۃ القریش، کاظمین شریفین، بغداد، عراق) بن السیّد یعلیٰ قاسم بن السیّد ابویعلیٰ حمزۃالثانی (مرقدمطہر حلّہ الحمزہ، عراق) بن السیّدالقاسم بن السیّد علی (مرقد باب طوریج کربلا) بن السیّدحمزۃالاکبر بن السیّد حسن العلوی بن السیّدعبیداللہ بن السیّدابوالفضل العبّاس علمدار الشہیدؑ (روضہ مبارکہ کربلا معلیٰ عراق) بن سیّد الا ئمہ ابوالحسن امام علی مرتضیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین ۔ (کتاب شجرہ شریف نوشاہی، ص14۔15، پیر سید ابو کمال برق نوشاہی)۔

٭ السیّد پیرمعروف حسین شاہ عارف نوشاہی العلوی((1))، آپ اسی سلسلۂ جلیلہ سے تعلق رکھتے ہیں ہر دلعزیز معنوی شخصیت کے مالک ہیں، علوم ظاہری و باطنی کے ساتھ جہلم پاکستان اور بریڈ فورڈ برطانیہ میں مسندِ ارشاد رکھتے ہیں، انتہائی متواضع، خوش اخلاق اور علم دوست ہیں، آپ نے سلسلہ جلیلہ علویہ سے متعلق بہت ہی مفید کتب شائع کی ہیں، زیارات مقدسہ عراق و حجاز اور حج بیت اللہ سے کئی بار مشرف ہو چکے ہیں۔((2) )

٭ معروف محقق پروفیسر السید محمد عارف نوشاہی، گارڈن کالج راولپنڈی۔

٭ حضرت پیرطریقت شمس العارفین السید شمس الدین العلوی متوفی ١٢١٤ھ مرقد سیال شریف ضلع سرگودھا۔ آ پ کاشجرۂ نسب بتیس واسطوں سے حضرت سید زمان علی محسن شاہ ابن حضرت سیّد عون قطب شاہ سے ملتا ہے۔

٭ حضرت پیر سیّد فیض رسول داد علوی ، مہار شریف ضلع گوجرانوالہ، پاکستان۔

٭ حضرت پیر سید عبدالرحمان علوی ، مرقد محمدی شریف، ضلع سرگودھا۔

٭ پیرسیدّ فضل الدین قلندر علوی ، مزار چاچراں شریف، سرگودھا۔

٭ حضرت سید عبد الرحمن علوی، مرقد محمد ی شریف ضلع جھنگ ،پاکستان۔

٭ حضرت پیرشاہ غازی قلندر ، مرقدکھڑی شریف ضلع گجرات ،پاکستان۔

٭ السیدحافظ اسماعیل عرف میاں وڈا ، مرقد درس میاں وڈا، لاہور۔

٭ السید پیر مخدوم عبدالکریم، مرقد، لنگر مخدوم نزد چینوٹ پاکستان۔ ((3))

ص: 191


1- ۔ السیّد پیرمعروف حسین شاہ عارف نوشاہی العلوی ابن سیّد چراغ محمد شاہ ابن شاہ اللہ دتہ بحرالعلوم ابن سید غلام محمد شاہ ابن سید حسن شاہ عارف ابن حافظ سید خان محمد شاہ ابن حافظ سید ابراہیم شاہ ابن سید سلطان محمد سعیدشاہ دلا ثانی ابن سید محمد ہاشم شاہ دریا دل ابن حضرت حاجی سیّد محمد شاہ نوشہ گنج بخش ۔ (شجرہ شریف نوشاہی ص ١١٥)۔
2- ۔ چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم علیه السلام ، ج ٥ ، ص283۔
3- ۔ استفادہ از کتاب تاریخ سادات علوی اعوان مشائخ، زین العابدین

ص: 192

نواں باب

جناب اُمُّ البنین سے توسل و کرامات

عالمِ مجاہد آیه اللہ العظمٰی سید محمد حسین شیرازی، جناب عباس علیه السلام کی عظمت وشخصیت کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے، آپ نے کہا: ایک شخص نے مکا شفہ کے عالم میں جناب عباس علیه السلام کو دیکھا، اس نے آن جناب سے عرض کیا: مولا ایک ضرورت پیش آگئی ہے کس سے توسّل کروں تاکہ میری حاجت پوری ہو جائے، آنجناب نے جواب میں فرمایا، میری مادرگرامی جناب اُمُّ البنین سے توسّل اختیارکرو۔

توسّل کا معنی ہے تقرب الٰہی کے لیے کسی مقدس ہستی مثلاً انبیاء (علیهم السلام) ا ور اولیائے کرام کو بارگاہ الہٰی میں وسیلہ قرار دینا اورپھر ان کے واسطے سے دعا کرنا اوراپنی مراد پانا۔

قرآن مجیدمیں ارشاد ربّ العزّت ہے:﴿یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ وَابتَغُوا ِلَیہِ الوَسِیلَهَ وَجَاہِدُوا فِی سَبِیلِہِ لَعَلَّکُم تُفلِحُونَ﴾۔((1))

ص: 193


1- ۔ سورہ مائدہ ،أٓیت٣٥۔

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جد و جہد کرتے رہو شاید اس طرح تم کامیاب ہو جاؤ۔

صاحبان ِلسان العرب اور صحاح اللغہ وغیرہ نے لکھا ہے: الوسیله ما یتقرّب بہ الیہ یعنی جس کے ذریعے کسی دوسرے کا قرب حاصل کیا جائے۔ اب یہ توسّل وتقرب عبادات، صدقات اور مقربان الہٰی کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ارشاد ہے:﴿وَاستَعِینُوا بِالصَّبرِ وَالصَّلاَه﴾(1) روزہ اور نماز سے مدد مانگو۔

قرآن کہتا ہے: ﴿قَالُوا یَاَبَانَا استَغفِر لَنَا ذُنُوبَنَا ِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ﴾ ((2))

ترجمہ: حضرت یعقوب علیه السلام سے بیٹوں نے کہا: اے ہمارے بابا! ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کیجیے ، یقیناً ہم ہی خطا کار تھے”۔ ﴿ قَالَ سَوفَ َستَغفِرُ لَکُم رَبِّی﴾(3)

حضرت یعقوب علیه السلام نے کہا: عنقریب میں تمہارے لیے اپنے ربّ سے مغفرت کی دعا کروں گا۔

عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله علی ابن ابی طالب ‘ کے واسطہ سے یوں دعا مانگ رہے تھے:

”اَللَّھُمَّ بِحَقِ عَلِی ٍ عَبدِ کَ اِغفِر لِلخٰاطِیِٔنَ مِن اُمَّتِی“(4)

اے اللہ تجھے اپنے بندہ علی کا واسطہ میری امت کی خطاؤں کو بخش دے۔

اس طرح صحابہ ٔکرام یوں دعا کیا کرتے تھے:

ص: 194


1- ۔ سورہ بقرہ، آیت 45۔
2- ۔سورہ بقرہ ،آیت ٤٥۔
3- سورہ یوسف، آیت٩٨۔
4- ۔ مسند احمد بن حنبل،ج4، ص138۔

”اَللَّھُمَّ أِنّی أسئَلُکَ وَأتَوَجَّہُ اِلَیکَ بِنَبِّیکَ مُحَمَّد نَبِّیِ الرَّحمََهِ”

" اے اللہ! تحقیق میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طر ف متوجہ ہوں تیرے پیغمبر نبی رحمت حضرت محمد صلی الله علیه و آله کے وسیلہ سے"

امام شافعی بھی آل نبی صلی الله علیه و آله کو وسیلہ قرار دیتے تھے انھوں نے اپنے اشعار میں اس حقیقت کا بیان یوں کیا ہے:

آل النّبی ذریعتی

ھم الیہ وسیلتی

أرجوبھم غدا اعطی بیدی الیمین صحیفتی

پروردگار تک پہنچنے کے لیے پیغمبر صلی الله علیه و آله کی آل میرے لیے وسیلہ ہیں میں ان کی وجہ سے امیدوار ہوں کہ میرا نامہ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں دیا جائے۔

الغرض آیات، روایات اور سیرۂ صحابہ اور علماء سے یہ بات ثابت ہے کہ توسّل جائز ہے اس کو شرک و بدعت کہنے والے جاہل اوربے شعور ہیں۔

حضرت اُمُّ البنین ولیّہ کامل تھیں، سیّد الاولیا حضرت علی مرتضی علیه السلام کے عقد میں آنے سے پہلے اللہ کی طرف سے ان کو اس شادی کی بشارت مل چکی تھی، سیّداولیاء کا آپ کے احترام کا اہتمام کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ عظیم منزلت کی مالک تھیں۔

کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ جس کے بیٹے کے دو کٹے ہوئے بازوؤں سے مادر حسنین شریفین‘، ملکہ کونین حضرت حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام روز محشر بابا کی امّت کی شفاعت کریں گی، خد ا کی بارگاہ میں اس کی عظمت کیا ہو گی۔

اس لیے آج عرب و عجم میں آپ کے فرزند حضرت عباس علمدار علیه السلام کے علاوہ لوگ آپ کے توسّل سے مرادیں پا رہے ہیں۔ یہ خاتون مسلمانوں کے نزدیک

ص: 195

ایک خاص عظمت و منزلت کی حامل ہے اور ان میں سے بہت سے معتقد ہیں کہ خداوند عالم کے نزدیک آپ کا بلند مرتبہ ہے اور اگر کوئی بیمار بارگاہ ٔخدامیں آپ کو شفیع وواسطہ قراردے تو اس کا غم و اندوہ بر طرف ہو جائے گا، لہٰذا سختی اور عاجزی کے وقت اس عظیم المرتبت خاتون کو شفیع قرار دیتے ہیں اور سچ ہے کہ جناب اُمُّ البنین علیها السلام مقر ب بارگا ہ پرور دگار ہیں کیوں کہ آپ نے اپنے فرزندا ور جگر پاروں کو مخلصانہ طور پر خد اکی راہ میں دین حق کی سر بلندی کے لیے قربان کر دیا۔

سو100 صلوات ہدیہ

حضرت آیۃ اللہ العظمٰی آقای سید محمود حسینی شاہرودی (متوفی ١٧ شعبان ١٢٩٤ھ ق) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: جب میں مشکلات سے دوچار ہو تا ہوں تو جناب عباس علیه السلام کی مادرگرامی جناب ام ّالبنین علیها السلام کے لیے سو مرتبہ درود پڑھتا ہوں تومیری مشکل آسان ہو جاتی ہے۔

یہ مجرب عمل ہے کہ جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے لیے نذرکر نا اور آپ کے نام سے غریب و مسکین کو کھانا کھلا نا، دعا کی قبولیت کے لیے بہت مؤثر ہے۔(1)

صلوٰات اور سورہ فاتحہ ہدیہ کرکے گمشدہ کو پانا

جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی عظمت ومنزلت سے معرفت رکھنے والوں میں مشہور ہے کہ جب بھی کسی گمشدہ شئے کی تلاش ہوتو سورہ فاتحہ اور درود پڑھ کر آپ کو ہدیہ کریں تو خد ا کے فضل و کرم سے گم شدہ چیز یاجس کی ضرورت ہے حاصل ہو جائے گی اور یہ عمل مجرب ہے۔

ص: 196


1- ۔ چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم ابو الفضل العباس علیه السلام ، ج ١، ص ٤٦٤۔

ختم سورہ یٰسین

چار شب جمعہ دس مرتبہ سورۂ یٰسین کواس طرح پڑھاجائے تو انشاء اللہ دعا پوری ہوگی، پہلی شب جمعہ تین مرتبہ، دوسری شب جمعہ تین مرتبہ تیسری شب جمعہ تین مرتبہ اور چوتھی شب جمعہ ایک مر تبہ جناب عباس علیه السلام کی طرف سے پڑھے اور اس کا ثواب آپ کی مادرگرامی جناب ام ّالبنین علیها السلام کو ہدیہ کر دے، انشاء اللہ دعا قبول اور حاجت پوری ہو گی۔((1))

جناب اُمُّ البنین کی نیابت میں سفر کربلا

حضرت آیهاللہ العظمٰی سید محمد روحانی ؒ (متوفی جمعہ ١٩ ربیع الا وّ ل ١٤١٨ ہجری قمری) کا جناب اُمُّ البنین سے توسل کا طریقہ!

جناب حجهالاسلام والمسلمین شیخ محمد خلیلی نے ماہ شوال ١٤١٨ہجری قمری میں آیۃ اللہ العظمٰی سید شھاب الدّین مرعشی نجفی کے گھر مجھ سے بیان کیا کہ مرحوم آیت اللہ سید محمد روحانی سخت مشکلات سے دو چار ہوتے تو جناب حضرت عباس علیه السلام کی والدہ ماجدہ حضرت اُمُّ البنین علیها السلام سے توسل کر تے تھے۔

جناب اُمُّ البنین علیها السلام سے توسل کا طریقہ یہ تھا کہ نذر کر تے تھے پھر مشکلات بر طرف ہونے کے بعد کربلا جانے کے لیے کسی کو زادِ راہ دیتے تھے تاکہ وہ آپ کی نیابت میں زیارت کر ے۔

ص: 197


1- ۔ حیاۃ العباّس علیه السلام ، ص ٤٦، شیخ جعفر۔

مجھے خوب یاد ہے کہ ١٣٨٣ہجری قمری میں یہ افتخار یعنی جناب اُمُّ البنین کی طرف سے کربلا کی نیابتی زیارت کے لیے زادِ راہ مجھے نصیب ہوا، نصف دینار برابر دس درہم مجھے دیئے اور یہ اس زمانہ میں تھا کہ جب کربلا آنے جانے کا کرایہ چار درہم یا تین درہم ہوتا تھا۔

نیز بیان کرتے ہیں کہ حضرت آیۃ اللہ رو حانی نے فرمایا: ایک بار میرے دانتوں میں سخت درد ہو ا، میں دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس گیا، اتفاق سے ڈاکٹر نہیں تھا بس جب درد زیادہ ہوا تو میں نے فوراً نذر کی کہ اگر مجھے اس شدید درد سے نجات مل گئی تو آئندہ شب جمعہ کو جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی طرف سے نیابتاً کسی کو زیارت کے لیے بھیجوں گا، ابھی زیادہ دیر بھی نہ گزری تھی کہ درد بالکل ختم ہوگیا دوسرے دن عصر کے وقت گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک دو بارہ درد شروع ہوگیا، میرے ذہن میں آیا کہ ڈاکٹر آگیا ہو گا اب اس کے پاس جاؤں فوراً ڈاکٹر کی کلینک پر گیا، دیکھا کہ ڈاکٹر موجود ہے، جس دانت میں شدید دردتھا اور اس مدت میں اس عظیم المرتبت خاتون کی برکت سے آرام تھا اسے نکلوایا، خلیلی کہتے ہیں کہ جو افراد مشکلات سے دو چار تھے میں نے انہیں اس طریقہ کے ساتھ اس توسل کی تعلیم دی، انہو ں نے بھی عمل کیا اور مشکلات سے نجات حاصل کی۔

ہزار صلوات کا ختم

ہمارے معاشرہ میں صرف حضرت عباس علیه السلام ہی سے توسّل نہیں کیا جا تا بلکہ آن جنا ب کی مادرگرامی جناب اُمُّ البنین سے بھی توسل کیاجاتاہے۔

بہت نیک اور متدین افراد اپنی مشکلات بر طرف کرنے کے لیے جناب اُمُّ البنین سے توسل کر تے ہیں اور بہت جلدان کی حاجت پوری ہوجاتی ہے، اس سے معلوم ہو تا ہے کہ

ص: 198

خداوندعالم کی بارگاہ میں جناب اُمُّ البنین علیها السلام باعظمت اور بلند مرتبہ ہیں۔ اس لیے چودہ معصوم (علیهم السلام) کے بعد جناب اُمُّ البنین کو بارگاہ خداوندی میں تقرّب کا وسیلہ قرار دیتے ہیں اور بارگاہ خداوندی سے اپنی مرادیں اور دعائیں مقبول پاتے ہیں اس کا طریقہ کتاب ”مجموعہ علم جفر” میں اس طرح ذکر ہوا ہے۔

اس کا وقت نماز صبح یا نماز عشاء کے بعد ہے اور اگر اوّل ماہ شروع کریں تو بہتر ہے پہلے دن خاتم الانبیاء حضرت محمد بن عبدللہ صلی الله علیه و آله کی نیت سے، دوسرے دن حضرت امیر المؤمنین علیه السلام کی نیت سے، تیسرے دن حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کی نیت سے، چوتھے دن حضرت اما م حسن مجتبی علیه السلام کی نیت سے۔۔۔ تا چودہویں دن چودہویں معصوم حضرت امام مہدی عجل الله تعالی فرجه کی نیت سے ہر روز ایک ہزار مرتبہ ذکر صلوات مع عجل اللہ فرجہم یوں پڑھے :

(اللھم صلی علی محمد وآل محمد و عجل فرجھم)

اور پندرہویں دن جناب حضرت عباس علیه السلام کی نیت سے، اور سولہویں دن جناب اُمُّ البنین کی نیت سے، سترویں دن جناب زینب کبری کی نیت سے ہزار مرتبہ درود پڑھے آخری دن درود پڑھنے کے بعد دعائے توسّل جو کہ معروف ہے اور مفاتیح الجنان میں ذکر ہے جس کا پہلا جملہ، ”اللّھمّ انّی اسئلک و اتوجہ الیک بنبییک نبی الرحمہ“ہے پڑھے، مذکورہ کتاب میں ایک موثق و معتمد آدمی سے نقل ہو ا ہے کہ چند لوگوں نے مل کر اس عمل کو انجام دیا اور آخری عمل میں حضرت ابوالفضل العباس علیه السلام کی زیارت سے مشرف ہوئے تو آنجناب نے ان سے فرمایا ”حاجتکم مقضیه” یعنی تمہاری دعا قبول ہو گئی۔

اس شخص نے قسم کھائی ہے کہ ہم چند افراد تھے کہ ہم میں سے ہر ایک کی دعا پوری ہوئی۔ (از حجه الاسلام آقای سید مرتضی مجتہدی سیستانی)

ص: 199

اُمُّ البنین کودس مرتبہ زیاراتِ عاشورا کا ہدیہ

جناب محمد حسین رقم طراز ہیں: جمہوری اسلامی ایران کی فوج میں ٣٠ سال خدمت کے بعد جب میں ریٹائرڈ ہوا تو پہلے ادارہ تبلیغات اسلامی اور اس کے بعد کرج کے ایک مرکزی ادارہ کی طرف سے جہاں نوحہ ومرثیہ خوانی کی تعلیم دی جا تی ہے حقیر کو دعوت دی گئی کہ میں طلباء کومقتل خوانی اور نوحہ ومرثیہ پڑھنے کی تعلیم دوںیہ بات قابل ذکر ہے کہ میں اب تک چار کتابیں ”پیام خون” کے عنوان سے لکھ کر نوحہ ومر ثیہ پڑھنے والوں کو ہدیہ کرچکا ہوں۔

ایک بارمیں جمعہ کے دن عصرکے وقت جب کہ کلاس کا وقت تھا، میں کرسی کے پیچھے کھڑا ہو کرقرآن ونوحہ ومرثیہ کا درس دے رہا تھا کہ ایک طالب علم آیا اور اس نے کہا: میرے بابا موت کے ہم کنار ہیں، یہاں تک کہ میں نے انہیں قبلہ رخ کردیا ہے، میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ کو خبردے کر واپس چلاجاؤں، میں نے اس سے کہا: میں تمھیں حضرت فاطمہ زہرا

علیها السلام کی ایک حدیث سناتاہوں، آپ نے کہا: "ایک دن میں نے اپنے بابارسول خدا صلی الله علیه و آله سے دریافت کیا: باباجان! دعا کی قبولیت کا وقت کون سا ہے؟ آنحضرت صلی الله علیه و آله نے فرمایا: یہ روز جمعہ غروب کا وقت ہے"، لہٰذاہم دعا کرتے ہیں، البتہ بہتر ہے کہ تم بھی نذر مان لو، اس نے کہا: میں اس قدر پریشان ہوں کہ نہیں معلوم کہ کیا کروں؟ آپ خود میری راہنمائی کیجئے۔

میں نے کہا: ابھی نذر مان لو کہ بابا کی نجات کے لیے دس بار زیارت عاشورا پڑھ کر اس کاثواب جناب ام ّالبنین علیها السلام کو ہد یہ کروں گا۔

ص: 200

اس نے کہا: ٹھیک ہے، میں ایسا ہی کروں گا اور پھر گھر واپس چلاگیا، گھر پہنچ کر تعجب سے دیکھا کہ اس کے باباجان صحن میں وضوکرکے مغرب کی نماز کے لیے تیاری کر رہے تھے! جب اس نے حال پو چھا؟ تو بابا نے جواب دیاکہ:

تقریبا آدھا گھنٹہ پہلے ایک دم بخار اتر گیا، اور بیماری کے اثرات جاتے رہے چوں کہ خود اس مرثیہ خوان اور اس کے باباسے اجازت نہیں لی ہے، لہٰذا شاید راضی نہ ہوں کہ ان کا نام لوں البتہ اس کا باپ ابھی تک صحیح وسالم اور معماری کے کام میں مشغول ہے۔

جناب ام ّالبنین کے توسّل سے شفاء

٢٤رمضان المبارک١٤٢٠ھ میری بیوی نے مجھ سے کہا: میری بغل میں انڈے کے برابر ایک غدود نکل آیا ہے، ہم ان کوچیک اَپ کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے گئے، رپورٹ دیکھنے سے پہلے مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ غدود ہے اور اس کا اندازہ مجھے ڈاکٹر کے اشارہ اور دیگر ذمہ دار افراد کی نگاہو ں سے بھی ہوگیا تھا۔ لہذا آئمہ (علیهم السلام) سے توسّل کیا خاص کر حضرت علی علیه السلام ، حضرت فاطمہ زہرا اور حضرت اُمُّ البنین سے۔

جب کہ ابھی چیک اَپ کی رپورٹ نہیں آئی تھی، کہ ایک شب میں نے خواب میں دیکھاکہ کوئی مجھے آواز دے رہا ہے مگر اس کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا وہ فرمارہے تھے! اے فرزند جعفر ! تمھیں مبارک ہو کہ تمہاری زوجہ کو ہم نے شفا دے دی ہے، میں نیند سے بیدار ہو گیا، بہت خوش تھا، میں نے نماز شب پڑھی اور پھر سو گیا، دوبارہ خواب میں دیکھاکہ حضرت علی علیه السلام ، جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے ساتھ ہمارے گھر تشریف لائے ہیں، میں حضرت علی علیه السلام کی خدمت میں حاضر ہوااور جناب اُمُّ البنین بھی میری اہلیہ کے پاس

ص: 201

بیٹھ گئیں اور آپ نے اپنا ہاتھ غدود کی جگہ رکھا اچانک میں بیدار ہوا اور دوبارہ خدا کا شکرادا کیا پھرحضرت علی علیه السلام ، جناب فاطمہ زہرا علیها السلام اورحضرت اُمُّ البنین علیها السلام کا شکریہ اداکیا۔

مجھے یقین ہوگیا تھا کہ انھیں شفا مل گئی، اس سے پہلے کہ چیک اَپ کی رپورٹ آئے میں نے ایک انجمن کو گھر پر مدعو کیااور اہل بیت ٪ کے لطف وکرم کا شکریہ ادا کرنے کے لیے مجلس عزا برپا کی، نیز جب رپورٹ مل گئی اور ڈاکٹر کو دکھائی تو ڈاکٹر مسکرا دیا، جب کہ اصلی ڈاکٹر (حضرت ابو الفضل العباس علیه السلام ) اس سے پہلے بتا چکے تھے۔

جناب اُمُّ البنین کا دستر خوان

حجتہ الاسلام والمسلمین آقا صاد ق واعظ جو خاندان عصمت وطہارت اہل بیت (علیهم السلام) کے چاہنے والے ہیں اور حوزۂ علمیہ قم میں رہتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سال میں تہران مجلس پڑھنے گیا، نومحرم کو ٹیکسی میں سوار ہوا تاکہ مسجد آیت اللہ زادہ سید احمد برو جردی کی طرف جاؤں، راستہ میدان شہداء کی طرف سے تھا، جہاں ماتمی انجمنوںکی آمد ورفت کے سبب بہت بھیڑ تھی، ڈرائیور نے کہا: کیا خبر ہے؟ آج تو بہت ہجوم ہے!! میں نے کہا: کیاتم مسلمان نہیں ہو؟ آج ٩محرم ہے، عزاداری اہل بیت (علیهم السلام) کا دن ہے، اس نے کہا: میں عیسائی ہوں، میں نے کہا: آج جناب عباس علمدار علیه السلام کا دن ہے۔

اس نے کہا: میں حضرت ابو الفضل العباس علیه السلام کو بخوبی جانتا ہوں، اس کے بعد اس نے بیان کیا کہ: میری کوئی اولاد نہیں تھی، کچھ عرصہ کے بعد جب بچہ ہوا تواس کے دونوں پاؤں پر فالج پڑ گیا جو کچھ مال ودولت تھی سب خرچ کردی، گھر اور گاڑی بھی فروخت دیے، مگر کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا ایک شب جب گھر آیا تو دیکھا کہ بیوی رورہی تھی، میں نے کہا: کیا ہوا؟ کہنے لگی:

ص: 202

آج مکان کی مالکہ نے مجھے جناب اُمُّ البنین کے دسترخوان پر دعوت دی ہے۔ اس نے مجھ سے کہاکہ: میں بھی اپنے مفلوج بچہ کی شفا کے لیے جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے فرزند جناب ابوالفضل العباس علیه السلام سے متوسل ہوں تاکہ وہ شفا پائے۔ میں نے دریافت کیا! یہ اُمُّ البنین کون ہیں؟

میری بیگم نے کہا: آئیں آج ہم دونوں بچے کو لے کر چلتے ہیں اور اُن سے توسّل کرتے ہیں، ہم نے اسی طرح توسّل کیا، اورجب رات کے وقت ہم برآمدہ (دالان) میں سوئے ہوئے تھے کہ آدھی رات کومیں نے دیکھا کہ بچہ اٹھا اور دوڑنے لگا! میں نے کہا: بیٹے کیا ہوا؟ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، کہنے لگا: یہ آقا جو گھوڑے پرسوار ہیں انھوں نے مجھے شفا دی۔ یہ حضرت ابو الفضل العباس علیه السلام کا معجزہ تھا۔

میں آ ج ہی کربلا کا ویزا چاہتا ہوں

حضرت آیۃ اللہ سیّد طیّب جزائری تحریر کرتے ہیں:

تقریباً١٣٤١ ھ ش بمطابق ١٣٨٢ ھ کا واقعہ ہے کہ جب میں نجف اشرف میں رہتا تھا تو سال میں ایک دفعہ تبلیغ کے لیے پاکستان جاتاتھا۔

اس سفر میں ایک بار مشہد مقدس میں ایک پاکستانی عالم دین سے کہ جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں ہے ان سے ملاقا ت کی، میں نے ان سے دریافت کیا: مشہد کی زیارت کے بعد آپ کا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: پاکستان واپس جاؤں گا! میں نے کہا: مولانا صاحب! کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ انسان اتنی دور سے سفر کرکے مشہد تک آئے اور یہاں سے واپس چلاجائے اور کربلا ونجف زیارت کے لیے نہ جائے؟ جب کہ یہاں سے کربلا تک نصف راستہ ہے۔

ص: 203

میری یہ بات موئثر واقع ہوئی اور انہو ں نے قبول کیا کہ کربلا چلیں گے، لہذا ہم ایک ساتھ مشہد سے تہران آئے اور عراقی سفارت خانہ گئے، وہاں دیکھا کہ سفارت خانہ کا دروازہ بندہے اور زائر فٹ پاتھ (سڑک کے اطراف کا وہ حصہ جہاں لوگ پا پیادہ چلتے ہیں) پر بستر بچھا کر لیٹے ہوئے ہیں، ان میں سے ایک شخص نے کہا: میں دودن سے یہاں ہوں دوسرے نے کہا میں تین دن پہلے سے یہاں ہوں ویزہ دینے میں بہت سختی کررہے ہیں یہاں تک کہ سفار ت خانہ کا دروازہ بھی بہت کم کھلتا ہے۔

میں نے اس شخص سے کہاجو میرے ساتھ تھا، آپ کربلاجانا چاہتے ہیں؟

اس نے کہا، مشھد سے تہران کس لیے آیاہوں؟

میں نے کہا، عراقی ویزا کی حالت تو ایسی ہے، لہذا کیسے کربلا جاؤ گے؟

اس نے کہا: نہیں معلوم!میں نے کہا: اس کاراہ حل مجھے معلوم ہے۔

اس نے کہا، وہ کیاہے؟

میں نے کہا، جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے لیے ایک ہزار مرتبہ درود پڑھنے کی نذرکرو، میں بھی ایسی ہی نذر کرتاہوں، انشااللہ ویزا مل جائے گا۔

ہم دونوں نے نذر کی کہ ہزار ہزار مرتبہ درود پڑھ کر جناب اُمُّ البنین کوہدیہ کریں گے اس کے بعدبہت دیر سفارت خانہ کے دروازہ پر کھڑے رہے، دیکھا کہ وہاں آمد و رفت کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہیں۔

امید کا درکھلا

اچانک میرے دوست نے کہا، جناب میرے پاس سفیرپاکستان کے نام ایک خط ہے، بہر حال جب یہاں تک آگئے ہیں تو

آیئے ساتھ چلتے ہیں اور یہ خط انہیں دے دیتے ہیں پھر دوبارہ واپس آجائیں دیکھتے ہیں اس وقت تک کیاہوتاہے۔

ص: 204

ہم ٹیکسی میں سوار ہوکر سفارت خانہ پاکستان گئے وہاںپہنچ کر اس شخص کودیکھا اور اسے خط دیا، اس شخص نے ہمارا کافی احترام کیااور کہا: آپ تہران کے بعد کہاں جائیں گے؟ ہم نے کہا، ہم دونوں عراق جانا چاہتے ہیں اگرویزہ مل جائے۔

اس نے کہا، اتفاق سے میرابھی عراق جانے کا ارادہ ہے آپ تھوڑا انتظار کیجئے تاکہ میں ضروری کاغذات و اسناد جمع کر لوں پھر ساتھ چلتے ہیں، میں آپ کے لیے بھی ویزہ لے لوں گا۔

وہ یہ کہہ کر ایک دوسرے کمرے میں چلاگیااور اپنے مدارک ٹائپ کرنے لگا،

امید کادرپھر بندہوگیا کچھ دیر بعد کمرہ سے باہر آیا اور کہا: میری ٹائپ مشین خراب ہوگئی ہے، تھوڑی دیر اور انتظار کیجیے تاکہ لیٹر ٹائپ کر کے آپ کے ساتھ چلوں یہ کہہ کردوبارہ گیااور ٹائپ کرنے لگا اس وقت میں ویزا کے لیے پھرنگران و پریشان ہوا کیوں کہ ویزا دینے کا وقت جو سفارت خانہ کے دروازہ پر لکھا ہوا تھا وہ ایک بجے تک تھا اور اس وقت تقریبا گیارہ بج چکے تھے اور ان کے آنے کی کوئی خبر نہیں تھی اور وقت ختم ہورہاتھا اسی اثنامیں وہ شخص دوبارہ کمرہ سے باہر آیا اس کے ہاتھ میں ایک نامہ تھا اس نے کہا، نہیں معلوم کہ کیا مصلحت ہے! مشین خراب ہو گئی ہے اورمیرے اسناد لکھے نہیں گئے لیکن اتنا کام کردیا ہے کہ میں نے آپ دونوں کے لیے عراقی قونسلیٹ کے نام خط لکھ دیا ہے امید ہے کہ آپ کا کام ہوجائے گا۔

ہم نے جلدی سے اس کے ہاتھ سے نامہ لیا اور تیزی کے ساتھ سفارت خانہ سے باہر نکل گئے ا ور ٹیکسی میں سوار ہوکر ہم سفارت خانہ کے لیے روانہ ہوگئے، گھڑی دیکھی تو بارہ سے زیادہ بج چکے تھے۔

ہماری ٹیکسی تیزی سے عراقی سفارت خانہ کی طرف چل رہی تھی میں نے دل میں کہا: کہ ہماری ایک دو مشکل نہیں ہے

ص: 205

بلکہ کئی مشکلات ہیں، پہلی مشکل یہ کہ نامہ کسے دینا ہے؟ چوں کہ وہ سفارت خانہ کا دروازہ کسی کے لیے نہیں کھولتے، دوسری مشکل یہ کہ وہ ہمیں کونسلیٹ سے ملنے نہیں دیں گے، تیسری مشکل یہ کہ معلوم نہیں اس خط میں کوئی اثر بھی ہے یانہیں، کیوں کہ ہم پاکستانی سفارت خانہ کے آدمی تونہیں ہیں بلکہ عام آدمی ہیں، اس وقت میں نے کہا: اے شہزادی اُمُّ البنین مجھے کربلا جانے کے لیے عراق کا ویزا چاہیے اور آج ہی چاہیے ، کل نہیں، اس لیے کہ اگر کل ویزا ملے گا تو یہ ایک عادی چیز ہو جائے گی اور میں چاہتا ہوں کہ غیر عادی طریقہ سے ملے، کیوں کہ میں جانتاہوں آج اس کم وقت میں ویزا ملنا محال ہے لہٰذا اگر آج ویزا مل گیاتو مجھے سو فیصد یقین ہوجائے گا کہ یہ کام آپ کے لطف وکرم سے ہوا ہے۔

خلاصہ یہ کہ گاڑی نے ہمیں سفارت خانہ کے سامنے اتاردیا، وہاں پہنچ کر عجیب چیز یہ نظر آئی کہ جب ہم سفارت خانہ پر پہنچے تو سفارت خانہ کا دروازہ کھل گیا اور وہاں سے ایک انگریز باہر آیا، میں فورا ًاس دوست کے ساتھ اندر داخل ہوگیا، گیٹ کیپر نے پوچھا، کیوں آئے ہو؟ میں نے بغیر کچھ کہے وہ نامہ اس کے ہاتھ میں دے دیا، اس نے در وازہ بند کر کے کہا: یہیں کھڑے ہوجائیے، جب تک کہ میں واپس نہ آجاؤں یہ کہہ کر چلاگیا۔

ہم دونوں وہیں کھڑے ہوگئے، میں دل میں کہنے لگا: احتما ل قوی یہ ہے کہ یہ شخص ابھی واپس آئے گا اور اگر اس نے منفی جواب بھی نہیں دیا، تو حتماً یہی کہے گا کہ جایئے کل آنا، اس کے علاوہ ممکن نہیں ہے، سوائے اس کے کہ کوئی معجزہ ہوجائے اسی اثنا میں وہ وہاں سے دوفارم لیکر واپس آیا اور اس نے پوچھا، فوٹو لے کر آئے ہو، ہم نے کہا جی ہاں! اس نے کہا: ان فارموں کوپر کرو۔

ہم چاہتے ہیں کہ فارموں کواطمینان سے بھریں کیوں کہ اس میں کافی مختلف پیچیدہ سوالات ہیں احتمال تھا کہ اگر جواب میں غلطی ہوگئی تو ویزا ردہو جائے گا، لہٰذا فارم پُر کرنے کے لیے کافی وقت درکار تھا، لیکن دربان نے ہمیں زیادہ مہلت نہیں دی اور کہا، جلدی کیجیے،

ص: 206

کونسلیٹ جا رہا ہے، ہم نے بھی تیزی سے الٹا سیدھا، باپ کے نام کی جگہ ماں کانام اور ماں کے نام کی جگہ باپ کانام لکھ کر، جیسا بھی ہوا بھر دیا اور فوٹو و پاسپورٹ کے ساتھ اس شخص کو دے دیا اس نے فارم اور پاسپورٹ لیکر کہا: آپ جایئے اور ایک بجے کھڑکی کے سامنے آ کرکھڑے ہوجایئے گا۔

ہم باہر آگئے، گھڑی دیکھی اور ایک بجنے میں ٢٠منٹ تھے ۔پہلے ہی کھڑکی کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے ،حالانکہ د ل دھڑک رہاتھا، کیوں کہ معلوم نہیں تھا کہ آخر کار کیاہوگا؟

ٹھیک ایک بجے کھڑ کی کھلی، سب سے پہلے نام جوپکارا گیاوہ میرا تھا اور دوسرا میرے دوست کا تھا! پاسپورٹ ہمیں دے دئیے، البتہ ابھی تک یقین نہیں ہورہا تھا، کہ کام صحیح طور پر ہوگیا ہے، میں نے جلدی سے پاسپورٹ کھو لا تو دیکھا کہ تین مہینے کا ویزا لگ گیا ہے، اس قدر خوش ہوا کہ بس خدا ہی جانتا ہے، یہاں تک کہ خوشی سے میری آنکھوں میںآنسو آگئے۔

اس کے بعد ہم فوراً تہران میں حضرت عبدالعظیم علیه السلام کی زیارت کے لیےگئے اور زیارت ونماز کے بعد ہم دونوں نے ایک ہزار کے بجائے دو دو ہزار درود پڑھ کر حضرت اُمُّ البنین علیه السلام کو ہدیہ کیا۔ خدا وند عالم سب کی دعاؤں کو حضرت باب الحوائج جناب قمر بنی ہاشم ابوالفضل العباس علیه السلام کی مادر گرامی کی برکت سے قبول فرمائے، آمین ۔

خدا نے ہم پر بڑا رحم کیا

حامی دین اور مروج مکتب اہل بیت عصمت وطہارت (علیهم السلام) جناب شیخ علی میرخلف زادہ ایک متدین آدمی ہیں وہ بیان کر تے ہیں!

میں نے١٣٦٥ھ شمسی میں ایک گھر خریدا، میں نے اپنے اختیار میں مکان لینے کے بعد ارادہ کیا کہ اس میں ہاتھ منہ دھو نے کے لیے بیسن بناؤں، میں نے جیسے ہی پھاؤڑا مارا

ص: 207

فو راً کمرہ نیچے آگیا۔ خدا نے ہم پر بڑا رحم وکرم کیاکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اس کے بعد ہم کہنے لگے اب کیا کیا جائے؟

چوں کہ گھر بنانے کے لیے پیسہ نہیں تھا، لہذا رہنے کا انتظام کہاں ہو؟ یہاں تک کہ ضرورت کے مطابق پیسہ کہاں سے آئے؟۔

اس بات کو کئی مہینے ہوگئے اور پھر حضرت امام زمانہ عجل الله تعالی فرجه کی طرف سے لطف کرم ہوا، اور مجھے گھربنانے کی استطاعت نصیب ہوئی، جب شہر کے بلدیہ کا آدمی اس گھر کودیکھنے آیا تو اس نے کافی نقص بتائے اور ہمارے کام کو روک دیا، میں نے جناب ام ّالبنین علیها السلام کی طرف سے سلامتی حضرت امام زمانہ عجل الله تعالی فرجه کے لیے ١٠٠مرتبہ درود پڑھنے کی نذرکی تاکہ میراکام جلدی حل ہوجا ئے، جیسے ہی درود پڑھ کرفارغ ہوا تو بلدیہ کا انجنیئرآیا اوراس نے مجھے آواز دے کر کہا تمہاراکام ٹھیک ہوگیاہے کوئی مشکل نہیں ہے لہذا جس کام کوکئی مہینہ لگنے تھے وہ دود ن میں حل ہوگیا، اور یہ مشکل اسی درود کی برکت سے حل ہوئی ہے۔ اللھم صلی علی محمد وآل محمد و عجل فرجھم۔

میری مادر گرامی کی زیارت کے لیے کیوں نہیں گئے؟

اشاره

عبد الرسول علی الصفار بہت مشہور تاجر ہیں وہ ناقل ہے کہ میں تقریباً ١٣١٩ھ میں خانۂ کعبہ، حضرت رسول اکر م صلی الله علیه و آله اور اہل بیت (علیهم السلام) کی زیارت سے مشرف ہوا اس میں ہمارے ایک دوست سیدہادی جو کہ قبیلہ فرات کے رئیسوں میں سے تھے نیز انقلابی آدمی تھے اور دوسرے شیخ عبد العباس جو قبیلہ آل فتلہ کے رئیس تھے، ہم قبرِ پیغمبر صلی الله علیه و آله اورقبور ائمہ (علیهم السلام) کی زیارت کے لیے مدینہ میں داخل ہوئے اور چند روز وہیں قیام کیا۔

ص: 208

ایک دن عصر کے وقت حسب عادت قبورِ اہل بیت (علیهم السلام) کی زیارت کا ارادہ کیا، زیارت کے بعد اہل بیت (علیهم السلام) سے منسوب افراد اور دیگر بعض اصحابِ پیغمبر صلی الله علیه و آله کی زیارت کو گئے یہاں جناب عباس علمدار علیه السلام کی مادر گرامی حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کی قبر مبارک ہے، میں نے عبدالعبّاس سے کہا: آیئے! جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی قبر بھی زیارت کرتے ہیں لیکن اس نے بے اعتنائی سے کہا: آئیے چھوڑیئے! واپس چلتے ہیں۔

چاہتے ہو کہ ہم ان خواتین کی قبور کی بھی زیارت کریں؟ !یہ کہہ کر وہ ہمیں چھوڑکر بقیع سے نکل گیا، پھر میں نے اور سید ہادی نے مرقداُمُّ البنین علیها السلام کی زیارت کی، زیارت کے بعد ہم گھر آئے، رات میں ہم اور عبد العبّاس ایک ساتھ کمرے میں سوئے دوسرے دن جب صبح سویرے نیند سے بیدار ہوئے تو میں نے دیکھاکہ عبدالعباس بستر پر نہیں ہیں، کچھ دیر ان کا انتظار کیا کہ شاید حمام گئے ہوں لیکن مجھے انتظار کرتے ہوئے کافی دیر ہو گئی مگروہ واپس نہیں آئے میں ان کی فکر کرنے لگا دوسرے دوست سید ہادی کو نیند سے بیدارکیا اور کہاکہ عبدالعبّاس کا بستر اور سامان تو یہاں ہے مگر وہ خود نہیں ہے، کسی کو ان کی کوئی خبر نہیں تھی، ہم ان کے بارے میں بہت پریشان ہوگئے، آخر کارہم نے یہ سوچا کہ چل کر انہیں تلاش کریں مگرخود سے کہنے لگے کہ انہیں کہاں تلاش کریں؟ انہیں کس طرح تلاش کیاجائے اور کس سے معلوم کریں؟

بہر حال کچھ دیر بعد اچانک دروازہ کھلا اور عبدالعبّاس اس کمرہ میں داخل ہوئے درحالانکہ بہت متاثر نظر آرہے تھے اور ان کی آنکھیں گریہ سے سرخ تھیں ہم نے ان سے کہا: انشاء اللہ خیریت ہے نا؟

کہاں تھے؟ تمہیں کیاہوگیاہے؟ جو یہ حالت بنا رکھی ہے!

اس نے کہاچھوڑئیے! کچھ دیر آرام کرلوں بعد میں بتاؤں گا۔

ص: 209

تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد کہا: تمہیں یاد ہو گاکہ کل میں تکبّرکرتے ہوئے بے اعتنائی کے ساتھ جناب ام ّالبنین علیها السلام کی زیار ت کیے بغیر بقیع سے نکل آیا۔

میں نے کہا: ہاں!

اس نے کہا: صبح صادق سے پہلے میں نے خود کو خواب میں حضرت عباس علیه السلام

کے صحن میں پایا، لوگ اندر حرم میںداخل ہورہے تھے، میں نے حضرت ابو الفضل العباس علیه السلام کی زیارت کے لیے کافی کو شش کی کہ لوگوں کے ساتھ حرم مبارک میں داخل ہوجاؤں لیکن داخل ہونے سے نگہبان نے مجھے روک دیا تھا، مجھے بڑا تعجب ہوا، میں نے پوچھا:مجھے کیوں روک رہے ہو؟ اور مجھے کیوں اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے؟

نگہبان نے کہا: درحقیقت مجھے مو لا عباس علیه السلام نے حکم دیا ہے کہ تمہیں اندر داخل نہ ہونے دوں۔ میں نے نگہبان سے پوچھا: آخر کیوں؟ اس نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم۔

خلاصہ یہ ہے کہ میں نے لاکھ سعی وکوشش کی مگر مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی باوجود یکہ میں نے گریہ اور مجبوراً توسّل کیا، یہاں تک کہ تھک گیا، جب میں نے دیکھا کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے، تومیں نے نگہبان سے جاکر گزارش کی کہ آپ مولا عباس علیه السلام کے پاس جاکر حضرت سے حرم مطہر میں داخل نہ ہونے کی وجہ پوچھئے، نگہبان گیا اور اس نے آکر کہا: مولا وآقا نے فرمایا: کہ تم نے میری مادر گرامی کی قبر زیارت سے کیوں گریز کیا؟ چوں کہ تم نے ان سے بے اعتنائی کی؟ !اس بناپر میں تمہیں اپنے حرم میں بھی داخل ہو نے کی اجازت نہیں دوں گا جب تک کہ ان کی زیارت کو نہ جاؤ گے۔

ص: 210

یہ دیکھ کر میں بہت پریشان ہوا اور نیند سے بیدار ہوا اور جلدی سے حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کی قبر مطہر کی زیارت کے لیے بقیع گیا تاکہ ان سے گستاخی کی معذرت کروں تاکہ آپ اپنے فرزند سے میری شفاعت کریں، لہذا میں بقیع گیا تھااور اب انھیں کے پاس سے واپس آیا ہوں۔

ڈاکٹر حیران رہ گئے!

قدس ٹاؤن کے امام جمعہ حجۃ الاسلام جناب سید جواد موسوی زنجانی نے جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی ایک کرامت تحریر کی ہے کہ:

میری بڑی بیٹی ایک دن اسکول سے واپس آئی تو اس کے سر میں شدید دردہو رہا تھا نیز اس کے چہرہ سے پریشانی اور بیماری کے آثار ظاہر تھے وہ معدہ کی بیماری میں مبتلا رہتی تھی، اس کی یہ حالت دیکھ کر میں بہت پریشان ہوا اوراسے ڈاکٹر شمس صاحب کے پاس لے گیا۔ لیکن افسوس کہ ڈاکٹر نے بیماری کو تشخیص دینے میں غلطی کی۔ اس نے کہا: کو ئی خاص بات نہیں ہے اسے کچھ سردی لگ گئی ہے اورپھر اس نے اس کے لیے دوا کا نسخہ لکھا اور ساتھ کہا :کہ آج رات میری سینا ہسپتال میں ڈیوٹی ہے، اگر بیمارکی حالت اچھی نہ ہو تو مجھ سے فوراً رابطہ قائم کرنا۔

بیمار نے دواکھائی مگرکو ئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس کے برخلاف طبیعت سخت ناساز ہوتی گئی، پس نصف شب کے بعد ہم نے ڈاکٹر صاحب سے جو سینا ہسپتال میں تھا رابطہ کیا اور کہا: آپ کی دواء نے کوئی فائدہ نہیں دیا اور بچی اس وقت بے ہوشی کی حالت میں ہے۔ ڈاکٹر نے کہا، بیمارکو فورا ًمہر ہسپتال میں لے جائیے، لہذا ہم ہسپتال میں لے گئے اور معائنہ کیاگیا تو اسپیشلسٹ ڈاکٹر وں میں سے ایک نے بیان کیا کہ آپ کی بیٹی کے پورے دماغ میں انفیکشن ہو گیا ہے اور اب اس کے علاج کا وقت نہیں رہا، اور اب کچھ نہیں کیا جا سکتا، ڈاکٹر کی اس بات کا اظہار کرنے سے بیمار کی والدہ اور رشتہ دار بہت پریشان ہوئے یہاں تک کہ

ص: 211

ان میں سے بعض چیخ و پکار کرتے ہوئے زمین پر گر گئے۔ آخر کار ڈاکٹروں نے میٹنگ کی اور بیمار کا معائنہ کرنے کے لیے باہرسے کچھ ڈاکٹر صاحبان کو بلایا گیا، معائنہ کے بعد انہوں نے علاج میں بہت دقّت کی، مگر افسو س کہ علاج کا کوئی فائد ہ نہیں ہو ا اور بیمار کی حالت روز بروز خراب تر ہوتی گئی اور میری بیٹی ایک ہفتہ بے ہوش پڑی رہی یہاں تک کہ نو محرم ہو گئی، میں نے دیکھا کہ ایک طرف تو بیمار ی کے علاج سے مایوسی ہے اور دوسری طرف گھر میں لڑکی کی ماں، بہنوں اورعزیز و آقارب کی گریہ و زاری ہے۔ میں نے دورکعت نماز پڑھی اور سومرتبہ درود پڑھ کر اس کا ثواب جناب عباس علمدار علیه السلام کی والدہ گرامی حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کو ہدیہ کیا اور میں نے شہزادی سے عرض کیا! اے شہزادی ہر فرزند اپنی ماں کا فرماں بردارہوتاہے لہٰذا میں آپ سے گزارش کرتاہوں کہ آپ اپنے فرزند جناب ابوالفضل العبّاس علیه السلام سے کہیے کہ وہ خداسے میری بیٹی کوشفاء بخشیں، تقریباً صبح ہوچکی تھی کہ بیمار کے ساتھ رہنے والے ایک شخص نے ہسپتال سے ٹیلیفون کیاکہ بیماربیٹی بے ہوشی سے ہوش میں آگئی ہے اور اسے مکمل شفاء مل گئی ہے اور اس طرح سے کہ جیسے وہ بیمارہی نہیں تھی۔ میں جلدی سے ہسپتال گیا اورو ہاں میں نے بچی کو نارمل حالت میں دیکھا، جب کہ ڈاکٹر یہ کہہ چکے تھے کہ اگر بالفرض بچی شفایاب بھی ہو گئی تو آنکھ اور کان سے توا سے ہاتھ دھونا ہی پڑے گا یافالج پڑ جائے گا۔ لیکن مولاو آقا حضرت ابوالفضل العباّس علیه السلام کی بر کت سے میری بیٹی جو کسی سے منسوب ہو چکی تھی، اس کو شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو خوبصورت بیٹے بھی دیے ہیں اور وہ صحیح و سالم ہے۔

ضمناً یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسی شب جب حضرت ابوالفضل العباّس علیه السلام نے میری بیٹی کو شفادی تھی اس وقت ایک نیک خاتون نے جناب عباّس علیه السلام کو خواب میں دیکھا کہ آن جناب نے اس سے فرمایا: موسوی نے اپنی صاحبزادی کی شفا میری مادر گرامی کے وسیلہ سے مجھ سے مانگی تھی تو میں نے خداسے دعاکی اسے شفامل گئی، ان سے کہا جائے کہ

ص: 212

ہمیشہ ہمارے عزاداروں کا خیال رکھیں لہذا جناب کے حکم کے مطابق ہر سال ٩ نو محرم کو عَلَم غازی عبّاس علیه السلام کے ہمراہ ماتمی دستہ جات ہمارے گھر آتے ہیں اور ہم ان کے لیے دوبکرے ذبح کر تے ہیں اور کھانے کا اہتمام کرتے ہیں۔

اے اُمُّ البنین علیها السلام

اشاره

آپ سے متمسک و متوسل ہیں

ماہ ذی الحجہ سن ١٤١٥ھ میں ایک شخص بنام عبد الحسین اپنے اہل وعیال کے ساتھ بغداد سے باہر سیرو تفریح کے لیے گیا ہوا تھا کہ واپسی پر اچانک راستہ میں گاڑی خراب ہو گئی، عبد الحسین نے لاکھ سعی و کوشش کی مگر اس کی خرابی کاپتہ نہ لگا سکے کہ کیا ہوا ہے۔ افسوس یہ کہ آمد و رفت سے سڑک بھی خالی تھی اور کسی سے مدد کا کوئی امکان نہیں تھا ہم حیرا ن وپریشان کھڑے تھے۔ ان کی اہلیہ رات کی تاریکی اور گاڑیوں کے نہ آنے جانے کی وجہ سے خوف زدہ تھیں، اسی دوران اس کی زوجہ نے خدا وند عالم سے دعا کی کہ اے اللہ بحق جناب اُمُّ البنین علیها السلام ہماری مشکل کشائی فرما تا کہ گاڑی چلنے لگے۔ عبد الحسین کی زوجہ نے حزن وملال اور بڑی امید کے ساتھ فریاد کی اے اُمُّ البنین ہمارے ہاتھ میں آپ کا دامن ِتوسّل ہے، ہمیں اس بلا سے نجات دیجیے؟

عبد الحسین دوبارہ گاڑی صحیح کرنے میں لگ گئے، اور اس بار گاڑی جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی برکت سے اسٹارٹ ہوگئی پھر گاڑی بہت تیزی کے ساتھ چلی یہاں تک کہ گھر پہنچ گئے، اور راستہ بھرا ن کی اہلیہ اس جملہ کی تکرار کر رہی تھیں کہ:

”یااُمُّ البنین دخیلکِ” اے اُمُّ البنین علیها السلام ! ہماری امید آپ سے وابستہ ہے۔

ص: 213

جناب اُمُّ البنین کا شکریہ!

توفیق افندی موصل شہرکے رہنے والے تھے لیکن کربلا میں سرکاری نوکری کرتے تھے، جولائی ١٩٦١ء ساتویں مہینے کے شروع میں انہو ں نے اپنے مثانہ میں درد محسوس کیا تو وہ بغداد میں علاج کے لیے ایک اسپیشلسٹ ڈاکٹر کے پاس گئے۔

چیک اپ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کے مثانہ میں ایک بڑی پتھری ہے اور اسے نکالنے کے لیے آپریشن کے علاوہ کوئی علاج نہیں۔ آپریشن کے لیے ڈاکٹر سے ایک دن معین کیا اور واپس کربلا آ گئے، کربلا پہنچ کر وہ کافی پریشان حال تھے، زیارت کے لیے حضرت امام حسین علیه السلام اور جناب عباس علیه السلام کے روضہ ٔمبارک پرحاضری دی ۔

اہل وعیال کے پاس پہنچنے سے پہلے ایک جوان سے ملاقات ہوئی جو حضرت عباس علیه السلام کے حرم مطہر میں اپنی مراد پانے کے بعدمٹھائی تقسیم کر رہا تھا، جوان نے ا س کو کچھ مٹھائی پیش کی تاکہ وہ کھائے اور وہ بھی اس طرح جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی نذر دلائے، توفیق افندی نے اس میں سے کچھ مٹھائی کھائی اور پھر نذر کی کہ ایک کلو مٹھائی قربۃً الی اللہ لوگوں میں تقسیم کروں گا، اگر جناب اُمُّ البنین علیها السلام میری مشکل حل کرنے کے لیے خداوند عالم کی بارگاہ میں میری شفاعت کریں تاکہ اس مصیبت سے مجھے نجات مل جائے۔

اس کے بعد دوسرے دن صبح کے وقت انہوں نے محسوس کیا کہ مثانہ کی پتھری ایک شدید درد کے بعد مثانہ سے باہر آگئی، اسے دیکھ کر وحشت ہو رہی تھی۔

ص: 214

اس وقت خوشی خوشی سڑک کی طرف گیا مٹھائی لی، لوگوں میں تقسیم بھی کر رہا تھا اور بلند آواز میں کہہ رہا تھا: الحمداللہ، اللہ اکبر، شکراً شکراً اے اُمُّ البنین علیها السلام ! پھر حضرت عباس علیه السلام کے حرم مطہر میں حاضری دی۔ ((1)

ترک فیملی کو اولاد کی تمنّا

جو واقعہ یہاں نقل کر رہاہوں یہ تیس٣٠ سال پہلے رونما ہوا ہے، میں اس قصہ کو ان بیماروں کے لیے نقل کرنا چاہتا ہوں کہ جن کی بیماری کے علاج سے ڈاکٹر بھی عاجز رہ گئے ہوں، اس کی شفایابی وعلاج کیسے حاصل ہو گا، جب آپ خاندان عصمت وطہارت اہل بیت (علیهم السلام) کی معرفت حاصل کریں اور فکری ومعنوی لحاظ سے مکتب ِ حسینی سے وابستہ ہوں اور سیّده النساء العرب جناب اُمُّ البنین علیها السلام اور ان کے شہید فرزندوں کے وسیلہ سے خداوندعالم سے اپنی شفایابی کا سوال کریں تو ہر گز مایوسی نہ ہو گی۔

ایک ترک فیملی جو سنّی مذہب کی ماننے والی تھی، ہمارے محلہ میں آباد ہوئی مگراسے مجالسِ حسین علیه السلام اور پرچم ِغازی عبّاس علیه السلام برے لگ رہے تھے۔ اس فیملی میں ایک خاتون جس کانام وزیرہ تھا اوردس سال اس کی شادی کے گذر چکے تھے مگر ابھی تک اس کے یہاں کوئی اولا د نہیں تھی، محلہ کے کچھ لوگوں نے اس سے کہا: آپ جناب اُمُّ البنین علیها السلام سے توسّل کیوں نہیں کر تیں؟

اس خاتون نے کہا: اس کام میں کوئی فائدہ نہیں ہے کیوں کہ ڈاکٹر بھی علاج نہیں کر سکے، یہاں تک کہ میں نے دوائیں کھائیں اور جناب زکریا علیه السلام کی ولادت کے دن روزہ

ص: 215


1- ۔ از کتاب اُمُّ البنین ، ص٤٣، تالیف سلمان ہادی۔

رکھا مگرنتیجہ حاصل نہیں ہوا، لوگوں نے کہا، یہ عمل مجرب ہے کہ جو بھی جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے دستر خوان سے کھاتاہے اورخداکی بارگاہ میں انہیں وسیلہ قرار دیتا ہے تو خداوند عالم اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، کیا حرج ہے اگر آپ بھی ایسا کریں، ہو سکتا ہے خداوند عالم آپ کو بیٹی عطاکر ے اور آپ جناب ام ّالبنین کی برکت سے اس کانام فاطمہ رکھیں، لہٰذا آپ کاکیاخیال ہے؟

وزیرہ جو اُن کی طرف خاموشی کے عالم میں دیکھ رہی تھی، اس نے کپکپا تے لہجہ میں کہا: کہ یہ بات صرف میرے اور آپ کے درمیان رہے اور میرے شوہر اور گھر کے افراد کواس کی خبر نہ ہوانہوں نے کہا ٹھیک ہے کل یا پرسوں آپ حاجیہ خانم کے گھر تشریف لایئے وہاں مجلس عزا ہوگی، جس میں جناب اُمُّ البنین علیها السلام کے مصائب بیان کیے جائیں گے۔

اس نے ان سے خداحافظ کہا: اور پھر فکر کرنے لگی کہ کیا کرے وہ اس حالت کے ساتھ گھرمیں داخل ہوئی تو اس پر غم و غصہ غالب تھا اور وہ کانپ رہی تھی۔

وزیرہ اور مجلس عزا

وزیرہ نے خوف وہراس کے عالم میں اپنے چہرہ کو مقنعہ سے ڈھانپ رکھا تھا، گھر سے باہر آئی اور حاجیہ خانم کے گھر کی طرف روانہ ہوگئی، وہ شرم و حیاسے پسینہ میں شرابور تھی اور ذہن پریشان تھا وہ جتنا جتنا مجلس کے مکان سے قریب ہو رہی تھیں، ذاکر کی آواز اس کے کانوں کو سکون پہنچا رہی تھی رنج وغم سے نجات اور امیدوں سے ہم کنار ہو رہی تھی۔

وزیرہ جب گھر میں داخل ہو ئی تو ذاکر مصائب اُ مُّ البنین علیها السلام کے پہلے مرحلہ کو ختم کر چکاتھا اور خواتین اس قدر گریہ کر رہی تھیں کہ اس کا دل غم میں ڈوب چکا تھا لیکن ابھی اس کی

ص: 216

آنکھوں سے آنسو جاری نہیں ہوئے تھے، ذاکر نے کچھ دیر بیان میں وقفہ کیا، اس کے بعداس نے جناب ام ّالبنین علیها السلام کے خاندان کی شخصیت اور آپ کے أباو اجداد کے فضائل وکمالات بیان کرنے کے بعد شاعر مکرم شیخ احمد دوجیلی کے کچھ اشعار پڑھے:

اُمُّ البنین وما اسمی مزایاک خلدت بالعبر والایمان ذکراکِ

ابنائک الغرّفی یوم الطفوف قضوا وضمّخوافی ثراھابا لدم الزّاکِ

اے اُمُّ البنین

آپ کی شخصیت کتنی بلند مرتبہ ہے، صبر و حوصلہ اور ایما ن کی خاطر آپ کا ذکر جاوداں ہے۔

آپ کے چاند جیسے فرزند واقعہ طف میں شہید ہو گئے اور اس سر زمین کواپنے پاک خون سے رنگین کر گئے۔

لما أتی بشیر ینعاھم ویند بھم الیکِ لم تنفجربالدمع عیناکِ

جب بشیر آیا اور ان کی شہادت کی آپ کو خبر دی تو آپ نے آنسو نہیں بہائے

و قلت قولتک العظمٰی التی خلّدت الی القیامه باقٍ عطر ھا الزاک

اور آپ نے اپنی زبان پر وہ عظیم کلام جاری کیاکہ جس کی خوشبو قیامت تک باقی رہے گی۔

افدی بروحی وابنا ئی الحسین اذا عاش قریر العین مولاک

میں اور میرے فرزندحسین پر قربان، اگر میری آنکھو ں کا نور مولا حسین زند ہ ہوں۔ (ان اشعار کو سیدعلی میلانی نے جناب اُمُّ البنین کے سلسلہ میں مجلس پڑھتے وقت بیان کیا) ۔شیخ

محمد علی یعقوبی کہتا ہے:

تنوح علیھم بوادی البقیع قیذری الطرید لھا الا دمعا

انہوں نے بقیع میں اپنے فرزندوں کے لیے اس طرح نوحہ و گریہ کیا کہ دشمن (مروان) کی آنکھوں میں بھی ان کی مظلومیت پر آنسو آجاتے۔

ص: 217

ولم تسلّ من فقدت واحدا فما حال من فقدت اربعاً

جس خاتون کا ایک بیٹا مارا جائے وہ صبر نہیں کر سکتی، تو پھر اس خاتون کی کیا حالت ہوگی، جس کے چار بیٹے مارے گئے ہوں۔

وزیرہ اور جناب اُمُّ البنین علیها السلام کادستر خوان

جب ذاکر مصائب پڑھ چکا تو اس نے بیمار وں کی شفایابی کے لیے دعا کی، اس کے بعد جناب اُمُّ البنین علیها السلام کا دستر خوا ن بچھایاگیا، محترم خواتین دسترخوان کی غذا کوبطور تبرک اٹھارہی تھیں، انہوں نے دسترخوان پر بیماروں کی شفا اور اپنی دیگر ضرورتوں کے پورا ہونے کی درخواست کی، وزیرہ نے جب کہ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے دستر خوان سے مختصر ساکھا نا اٹھا یا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر مجلس سے نکل گئی اس وقت اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، اس نے اور اس کے شوہر نے اس غذاکوکھا یا۔

تقریبا ایک ماہ یا اس سے کچھ زیادہ وقت گزر نے کے بعد وزیرہ کے چہرہ کارنگ زرد پڑ گیا، ا سے چکر آنے لگے اور سینہ میں درد ہونے لگا، کھانا کھانا کم کردیا اور شوہر سے دوری اختیار کرنے لگی، نیند زیادہ آنے لگی اور اس کے لیے لوگوں کی بھیڑ میں آنا مشکل ہو گیا، جو کام بھی اس کے ذمے ہوتے بمشکل انجا م دیتی تھیں اور دل میں اضطراب سا پیدا ہوا، اس کے شوہرنے کہا: اے وزیرہ تمہیں کیاہوگیاہے، کیاتم بیمار ہو؟ اس نے جواب دیا! نہیں معلوم! انہیں ڈاکٹر کے پاس لے گئے، ڈاکٹر نے معاینہ کرنے کے بعد کہا، کوئی خاص بات نہیں ہے انہیں حاملہ ہو نے کی وجہ سے تھوڑی پریشانی ہورہی ہے اور ہاں یہ کہ آپ مطمئن ہوجائیں، کل آپ چیک اپ کے لیے آجائیں، اس وقت وزیرہ کے شوہر نے خوش ہوتے ہوئے کہا، ڈاکٹر صاحب کیا آپ کو یقین ہے، ڈاکٹر صاحب نے بڑے اطمینان سے جواب دیا: جی ہاں!

ص: 218

دوسرے دن وہ چیک اَپ کے لیے ہسپتال گئے، دریافت کیا کہ کیا رپورٹ ہے؟ نرس نے رپورٹ دیکھ کر کہا، مبارک ہو! یہ امید سے ہیں، یہ سنکر ان کا شوہر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا، الحمدللہ خدا کا شکر ہے، اس نے وزیرہ سے کہا، مجھے یقین نہیں آتا وزیرہ یہ خبر سن کر مسکرائیں اور ا ن کی امید بر آئی اور تمام سختی و پریشانی دور ہوگئی۔

وزیرہ اپنے شوہر کے ساتھ گھرمیں داخل ہوئی اور دونوں نے سجدہ شکر کیا، یہ خبر سن کر پڑوسی بھی خوش ہو گئے اور انہوں نے جو جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی نذر کی تھی اسے سینہ میں چھپائے رکھا۔

حمل کے تیسرے مہینے میں ایک دن انہوں نے شکم میں اور کمر میں شدید درد کا احساس کیااور کافی غمگین ہوگئیں۔

وزیرہ نے پھر جناب ام ّالبنین علیها السلام سے توسّل کیاکہ شہزادی آپ مدد فرمائیں، اس کے بعد درد کم ہوگیا اورپھر اس کے شوہرکے چہرہ پرخوش کے آثارنظر آنے لگے، مہینے گزرتے گئے یہاں تک کہ موسم بہار میں اذان صبح سے کچھ دیر پہلے دردِزہ ہو ا اور رشتہ داروں اور پڑوسیوں نے وزیرہ اوراُن کے بچہ کی سلامتی کے لیے دعا کی اور جس وقت موذن نے کہا (اَشھَدُاَنَّ عَلیاً وّلِیُ اللّٰہِ) وزیرہ کے ہاں بچہ کی ولادت ہوئی، لڑکی پیدا ہوئی اور سب خوش ہوگئے، وزیرہ نے کہا، جناب اُمُّ البنین علیها السلام سے خیر و برکت کی خاطر بچی کانام فاطمہ رکھیں، لیکن رشتہ داروں اور اس کے شوہر نے مخالفت کی اور کہا :کہ اس کا نام عائشہ رکھیں گے، آخر کار اختلاف ختم کرنے کے لیے بچی کا نام بشریٰ رکھا گیااور وزیرہ نے جو قسم کھائی تھی اس کے بدلہ میں کفارہ دیا۔(1)

ص: 219


1- ۔ اُمُّ البنین علیها السلام نماد از خود گزشتگی، ص ٤٢۔

شفاء ازحضرت عبّاس علمدار علیه السلام

اشاره

حجه الاسلا م جناب شیخ علی برہان ایک خط میں درج ذیل کرامت لکھتے ہیں اس حقیر کی فیملی ١٣٤٥ش میں سات مہینے پہلے ایک بیماری میں مبتلاتھی، جدید وقدیم طبیبوں کے یہاں علا ج کرایا مگر کو ئی فائدہ نہ ہوا بلکہ بیماری میں مزید اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ ایک شب میں نے خود اپنی بیمار زوجہ کو خبر دیے بغیر حضرت ابوالفضل العباس علیه السلام کے لیے ایک عریضہ لکھا اور چشمہ کے پانی میں ڈال دیا جو کہ امام زادہ سے منسوب تھا اور میں نے آن جناب سے اس کی شفاء کی درخواست کی، میں بہت پریشان تھا، کیوں کہ دو چھوٹے بچے بھی تھے، بہر حال خود بیمار اہلیہ نے بھی مکرر عرض کیا، اے مولاابوالفضل العبّاس علیه السلام : آپ ہی مجھے شفا دیجیے۔

یہاں تک کہ ایک دن صبح کے وقت جب نماز پڑھنے کے لیے بیدار ہوا تو دیکھا کہ وہ سکون سے سوئی ہوئی ہے اور پچھلی راتوں کی طرح اس کے نالہ وبکا کی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے، کچھ دیر بعد بیمار اہلیہ بیدار ہوگئی اور وہ درودشریف پڑھتی جاتی او ر کہتی تھی اے مولا ابوالفضل العبّاس علیه السلام میں آپ پرقربان کہ آپ نے مجھے شفادی۔ پہلے کے آثار اس کے جسم سے پوری طرح ختم ہوچکے تھے پس وہ مکمل صحت و سلامتی کے ساتھ کھڑی ہوئی اور گھر کے کام کاج اور بچوں کی دیکھ بھال میں لگ گئی، اور دلچسپی کے ساتھ کھانا کھا یا۔

میں نے اس سے پوچھا: کس طرح تمہیں شفاء ملی؟ اس نے جواب دیا کل رات بے حد پریشانی کے عالم میں، میں نے پے درپے فریاد کی اے مولا ابوالفضل العبّاس علیه السلام : میری مدد کیجئے، یہاں تک کہ مجھے نیند آگئی، میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک وسیع جنگل میں ہوں جس کے آخر میں نہرہے وہ وسیع و عریض اورطولانی نہر پانی سے بھر ی تھی اور اس کے

ص: 220

کنارے کھجور کے درخت بھی تھے نیز ایک بہت بڑی عمارت دکھائی دے رہی تھی جو دومنزلہ تھی اورہر منز ل میں چند کمرے تھے اور کافی تعداد میں لوگ ایک دوسرے کے پیچھے یا ابوالفضل العبّا س علیه السلام کہتے ہوئے اس قصر کی طرف دوڑرہے ہیں، میں نے ان سے پوچھا: آپ لوگ کو ن ہیں او رکہا ں جارہے ہیں اور یہ محل کس کا ہے؟

وہ کہنے لگے: ہم سب بیمار اور حاجت مند ہیں اور مشکلات میں گرفتارہیں اوریہ محل جناب عبّاس علیه السلام کا شفاخانہ ہے، اس وقت آن جناب خود اس محل میں تشریف لائے ہیں اورہم ان سے تمسّک کے لیے جارہے ہیں۔

میں بھی ان کے ساتھ اس محل کی طر ف چل پڑی، جب میں محل کے پاس پہنچی تو بہت متحیر اور خستہ تھی اور شدید بیمار ی کے باوجود میں نے پوچھا، مولا ابوالفضل العبّاس علیه السلام کہاں ہیں؟

بتایا گیا وہ دوسری منزل میں ہیں؟ پس میں زینہ کے پاس بیٹھ گئی، اچانک میں نے دیکھا کہ اوپروالے برآمدے سے ایک صاحب نے جس کا چہر ہ نورانی اور سرپر سبز عمامہ تھا، خم ہوکر مجھ سے کہا: میں ابوالفضل العبّاس علیه السلام ہوں، زینہ سے اوپر آجاؤ اور دائیں طرف والے پہلے کمرہ میں چلی جاؤ اور وہاں ایک معظم خاتون ہیں تم ان کے پاس بیٹھ جاؤ تاکہ میں آکر تمہارے لیے بھی خدا سے شفایابی کی دعا کروں۔

میں زینہ کے ذریعہ اوپر گئی اور اوپر والی منزل پر پہنچ کرمیں نے اس کمر ے دیکھا کہ وہاں ایک جلیل القدر نورانی چہرہ والی با وقارخاتون تشریف فرماہیں، انہوں نے مجھ سے فرمایا: آیئے کمرہ میں آکر بیٹھ جایئے، میں نے معزّز خاتون کوسلام کیا اور بیٹھ گئی، میں نے عرض کیا! اے بی بی! آپ کون ہیں؟

ص: 221

فرمایا: میں عبّاس

کی ماں اُمُّ البنین علیها السلام ہوں۔ کئی دن ہو گئے کہ اپنے فرزند کو نہیں دیکھا ہے بیمار اور پریشاں حال لوگ ان کے پاس آتے ہیں، تم پریشان نہ ہو، ابھی میرے فرزند عبّاس علیه السلام آئیں گے اور وہ اذ ن خدا سے تمہیں بھی شفا دیں گے۔

ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ مولا و آقا حضرت ابوالفضل العبّاس علیه السلام آگئے اوراپنی مادر گرامی کو سلا م کرنے کے بعد کہا، مادرگرامی آپ پریشان نہ ہوں کہ میں کئی دن سے کیوں نہیں

آیا ہوں، ہمارے شیعہ مشکلات میں ہیں، اوروہ مجھ سے بارگاہ خداوندی میں توسّل کرتے ہیں، میں جد ِبزرگوار حضرت رسول اکرم صلی الله علیه و آله ، والد مکرم حضرت علی علیه السلام ، مادر گرامی جناب فاطمہ زہر ا علیها السلام ، بھائی جناب حسن علیه السلام اور جناب حسین علیه السلام کو دعوت دیتا ہوں وہ تشریف لاتے ہیں اوربیماروں کی شفایابی اور حاجت مند وں کی حاجت روائی کے لیے دعا کرتے ہیں، خداوندِ عالم بھی ہماری دعا کو ہم سے توسّل کرنے والوں کے حق میںقبول کر لیتا ہے، اور ان کی پریشانیاں بر طرف ہو جاتی ہیں اور بیماروں کوشفا مل جاتی ہے پھر انہوں نے میری طرف رخ کر کے فرمایا: آج کی نشست میں تمہا رے لیے بھی دعا کی گئی ہے اور خدا وند عالم نے تمہیں بھی شفاء دے دی ہے، پریشان ا ور فکر مند نہ ہو۔

نیز میں نے دیکھا جس جلیل القدر خاتون نے فرمایا تھا کہ میں اُمُّ البنین ہوں انہوں نے ان کاطواف کیا اور وہ اپنے فرزند سے ملاقات کے بعد بہت خوش ہوئیں اورفرمایا: ہاں، خداوندکریم میرے فرزند کی بر کت سے تمام ان بیماروں کو جو خلوص نیت کے ساتھ ان سے توسّل کر تے ہیں شفادیتا ہے۔ اس وقت وہ اچانک غائب ہوگئے اور میں نیند سے بیدا ر ہو گئی، تو میں نے حضرت ابوالفضل العبّاس علیه السلام کی برکت سے خود کو صحیح وسالم اور شفا یافتہ پایا۔ (1)

ص: 222


1- ۔ چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم ابوالفضل العبّاس علیه السلام ، ج ١، ص ٣٧٢۔

مولا عباس علیه السلام سے مدد

شیخ احمد صابری ہمدانی، شیخ ملاعلی معصوم ہمدانی کے حوالہ سے بیان کر تے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

ہمدان کے گاؤں میں ایک عورت رہتی تھی کہ جسے کئی سال شادی کیے ہوئے ہوگئے تھے مگر اس کے یہاں کو ئی اولاد نہیں ہوئی تھی یہاں تک کہ ایک دوسری عورت نے اس سے کہا، تم منت مان لو کہ اگر خداوند کریم نے تمہیں لڑکا عنایت کیا تو اس کا نام ابوالفضل العبّاس رکھو گی، پھر خداوند عالم نے اسے لڑکا عنایت کیا اور اس کا نام اس نے ابو الفضل العبّاس رکھا، جب وہ لڑکا ١٤یا ١٥ سال کا ہو گیا تو سخت بیمار ی میں مبتلاہوگیا، اس طرح کہ سب اس کی زندگی سے مایوس ہوگئے پس جس نے اس سے کہا تھا کہ اپنے بچہ کا نام ابوالفضل العباس کے نام پر رکھو اس نے دوبارہ اس بچہ کی ماں سے کہا کہ آپ توسل میں کو شاں رہیں اورمولا حضرت عباس علیه السلام سے توسل کیجیے، اس بچہ کی ماں نے پوری توجہات اور سعی و کو شش کے ساتھ جناب ابوالفضل العباس علیه السلام سے توسّل کیا۔

جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ کوئی دقّ الباب کر رہا ہے نوجوان کی ماں نے جاکر صحن کا دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہی عورت ہے جس نے کہا تھاکہ بچہ کا نام ابوالفضل رکھو۔ اس عورت نے بچہ کی ماں سے کہا، زہر ا بیگم خدانے تمہارے بچہ کو شفادے دی ہے اب پریشان وفکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے پوچھا؟ کہ یہ بات تم کیسے کہہ رہی ہو؟ اس نے جواب دیا: میں نے خواب میں دیکھا کہ چند عورتیں تمہارے گھر کی طرف آرہی ہیں جس

ص: 223

کے درمیان اُمُّ البنین تھیں، جو فرما رہی تھیںکہ میں اس بچہ کی شفا کے لیے جارہی ہوںپس جب صبح ہوئی تو سب نے دیکھا کہ بچہ کو حضرت ابو الفضل العبّاس علیه السلام کی برکت سے شفا مل گئی ہے۔ (1)

فرزندِحضرت اُمُّ البنین کے نام کی برکت

کھبہ ضلع راولپنڈی سے محترمہ زوجہ شیرباز علوی بیان کرتی ہیں کہ: میرے یہاں جب بھی فرزند کی ولادت ہوتی تھی تو وہ زندہ نہ رہتا تھا، ہم لوگ اس وقت نواب شاہ، سندھ میں رہتے تھے، ایک دن وہاں ایک مؤمنہ نے کہا:

اب جب تمہار ے یہاں بیٹا پیدا ہو تو اس کا نام ”غلام عبّاس” رکھنا، انشاء اللہ وہ حضرت ا مّ البنین علیها السلام کے بیٹے حضرت عبّاس علمدار علیه السلام کے نام کی برکت سے زندہ و سلامت رہے گا، اگر ہو سکے تو آ پ لوگ حضرت عبّاس علمدار علیه السلام کی حاضری نیاز (مخصوص حلوا) پکا کرمؤمنین کو ضرور کھلائیں۔

پھراللہ تعالیٰ نے ہمیں بیٹا دیا اس کا نام ہم نے" غلام عبّاس " رکھا جو اس عظیم الشّان نام کی برکت سے اب صحیح و سالم ہے۔ جب ہماری مرادپوری ہوئی تو ہم نے کھبہ گاؤں میں منعقدہ دو روزہ مجالس عزاء حضرت امام حسین علیه السلام کے مو قع پر حاضری نیاز پکا کرجلوسِ عَلَم حضرت غازی عبّاس علیه السلام کے ہمراہ آنے والے تمام مؤمنین عزاداروں کو کھلائی۔(2)

ص: 224


1- ۔ چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم ابوالفضل العبّاس، ج ١، ص٤١٤۔
2- ۔ فیملی ڈائری 1996۔

اُمُّ البنین کے بیٹے غازی عباس سے منسوب عَلَم کی برکت و کرامت

پاکستان میں ٢٠١٠ء کے قیامت خیز سیلاب کا ریلہ جب موچھ کے نردیک موضع شمی والا کی طرف بڑھا تو پورے گاؤں کے لوگ عَلَم مبارک لے کر شہر سے باہر آگئے اس موقع پر فخر ِملت امام خمینی ٹرسٹ کے سربراہ علامہ سید افتخار حسین نقوی دامت برکاتہ نے اپنے ہاتھوں سے ایک عَلم پاک نصب کرکے دُعا کی جس کے بعد موضع شمی والا کی طرف بڑھتے ہوئے سیلابی ریلے نے اپنا رُخ موڑ لیا۔ اس طرح یہ گاؤں بہت بڑی آفت سے بچ گیا۔حضرت غاری عباس علمدار علیه السلام کی اس کرامت کو سننے کے بعد جوق در جوق لوگ حضرت غازی عباس علیه السلام کے عَلم پاک کی زیارت کے لیے اس گاؤں میں جانے لگے۔

ایک مقامی عالم مولانا قنبر عمرانی صاحب نے بتایا کہ جب بھی دریا کا کٹاؤ شروع ہوتا ہے اور سیلاب کا خطرہ منڈلانے لگتا ہے تو لوگ دریا کے سامنے ایک لکیر لگا کراُس پر علم مبارک گاڑھ دیتے ہیں جس سے یہ کٹاؤ رُک جاتا ہے اسی طرح اگر کوئی دریا میں ڈوب جائے تو لوگ دریا کے کنارے غازی عباس علمدار علیه السلام کا عَلم مبارک نصب کر دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ ڈوبا ہوا شخص خودبخود کنارے تک آجاتا ہے۔(1)

ثواب ِسورہ فاتحہ اُمُّ البنین کوہدیہ

محرر کابیان ہے کہ:

ایک دن میں مکتب محمد وآل محمد (علیهم السلام) کے مبلغ جناب حجهالاسلا م والمسلمین سید احمد حکیم کے پاس گیا تو انہوں نے جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی ایک کرامت اس طرح بیان کی۔

ص: 225


1- ۔ ہفت روزہ ”ایوان صداقت ”شمارہ نمبر ٢٨۔

١٤١٦ہجری قمری آخرذی الحجہ میں مجھے بعض لبنانیوں نے جو افریقہ کے مغرب میں رہتے تھے، دعوت دی، میری پرواز کا راستہ تہران سے جدّہ اور جدّہ سے غرب افریقہ تھا۔

جدّہ ایر پورٹ پر چھ گھنٹے قیام کے بعدجوں ہی ہوائی جہاز اڑنے میں ١٥منٹ باقی رہ گئے تو اچانک ایر پورٹ کے ایک ملازم نے آکر مجھ سے کہاکہ چوں کہ تمہارے پاس مراکش کا ویزہ نہیں ہے لہٰذا آگے سفر نہیں کرسکتے اس آدمی کی بات ناقابل قبول تھی کیوں کہ مراکش کے ویزا کی ضرورت نہیں تھی، مغربی افریقہ کا ویزا میرے پاس تھا اور مجھے مراکش سے صرف عبور کر نا تھا اور اس کے لیے صرف عبور ی ٹرانزٹ ویزا کی ضرورت تھی۔

میں نے سعودی عر ب کے عملہ سے کہا: آپ مجھے مراکش کے دفتر لے کر چلیں تاکہ میں اس سے میں گفتگو کروں، پس ہم ایک ساتھ اس دفتر میں گئے جہاں مراکش کا نمائندہ تھا اور اس سے کہا: آپ مجھے سفر کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟

اس نے کہا: کیوں کہ آپ کے پاس عبوری ٹرانزیٹ ویز ا نہیں ہے۔

میں نے کہا، ویزا کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ مراکش میں صرف کچھ دیر توقف کرنا ہے اور مجھے داخل شہر نہیں جانا ہے، لیکن وہ کہنے لگا کہ یہ کا م خلاف قانون ہے میں نے اس سے کہا: میں نے ماہ مبارک رمضان یعنی تین مہینہ پہلے اسی دارالبیضاء ایر پورٹ سے بغیر ویزا کے عبور کیا ہے، اس نے پھرکہا: یہ خلاف قانون ہے۔

میں نے کہا: اب کیا کیاجائے؟ محرم میں صرف دودن رہ گئے ہیں! اس نے کہا: یہ آپ کی اپنی مشکل ہے۔

یہ با ت بھی قابل ذکر ہے کہ یہ شخص بہت عناد اور تعصّب رکھتا تھا، میں مایوس اور پریشان تھا اس وقت مجھے الہام سا ہوا کہ ایک مرتبہ سورہ حمد پڑھ کر اس کا ثواب جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی روح پاک کو ہدیہ کرو ں، کیوں کہ یہ خاتون خدا تک پہنچنے کا وسیلہ تھیں اوریہ عمل متدین افراد کے درمیان مرسوم تھا، لہذا جب لو گ ہوائی جہاز میں سوار ہونے والے تھے

ص: 226

کہ میں نے سورۂ حمد پڑھناشروع کردیا، پس جیسے ہی میں "ولاالضآلین" تک پہنچا تو مراکش کا و ہ آفیسرجومیرے پہلومیں بیٹھا ہوا تھا اس نے ایک دم میری طرف رخ کر کے کہا: تمہارا بیگ کہاں ہے؟ میں نے کہا تہران ایر پورٹ پرجمع کرادیا تھا کیوں کہ میرا ارادہ مغربی افریقہ کا سفرتھا۔

لہذا جب میں نے کہا: ہوائی جہاز میں ہے تواس نے کہا: جایئے ہوائی جہاز میں سوار ہوجایئے، پس میں گیا اور لباس پہن کرآگیا، میراٹکٹ سیکنڈکلاس میں تھا مگر فرسٹ کلاس میں جگہ ملی۔ یہ سب کچھ جناب اُمُّ البنین علیها السلام سے خلوص کے ساتھ توسّل کرنے کا نتیجہ تھا۔

کیا کربلا میں حضرت اُمُّ البنین موجود تھیں؟

خطیب اعظم حجه الا سلام و المسلمین جناب سید احمد حکیم ماہ صفر ١٤١٩قمری میں امام بارگا ہ ٔ نجفیہ قم میں انجمن حضرت ابوالفضل العباس علیه السلام کی دعوت پر مجلس پڑھنے منبرپرگئے، چوں کہ انجمن جناب عباس علیه السلام کے نام سے منسوب تھی اوردوسری شب، شب جمعہ تھی پس انہوں نے جناب عباس علیه السلام سے توسّل کیا اور حضرت کے مصائب ذکر کیے، مجلس ختم ہونے کے بعد اہل مجلس میں سے ایک شخص نے آکرکہا: کچھ دیر رک جایئے چائے پی لیجیے، تو انہوں نے قبول کرلیا، اس دوران ایک جوان آیا اور اس نے سوال جواب کرنا شروع کر دیے لیکن معلوم ہو رہاتھا کہ کوئی دشمن اہل بیت (علیهم السلام) ہے۔

اس نے پوچھا: آپ نے مصائب میں جناب عباس علیه السلام کے بازو کا ذکر کیا ہے، آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟

کیا آپ عراق میں تھے؟ کیاآپ کو یاد ہے کہ بدن کہا ں اور بازو کہاں تھے؟ کہ مولاحضرت امام حسین علیه السلام نے آکر بازو اٹھائے اور بوسہ دیا؟

ص: 227

دوسرا سوال یہ تھا کہ جناب لیلیٰ کر بلا میں تھیں یا نہیں؟ انہوں نے اس کج فہم یامنحرف فکر جوان کے سوالات کے مناسب جواب دیئے۔

اس کے بعد جوان نے دریافت کیا : کیا حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کربلا میں تھیں یا نہیں؟ نیز یہ کہ مدینہ میں واپسی کے بعد حضرت اُمُّ البنین زندہ رہیں یا نہیں؟

جناب سید احمد حکیم نے فرمایا: اس وقت مجھ سے برداشت نہ ہوا اور میں نے دندان شکن جواب اس کج فہم جوان کو دیا اور کہا کہ کیاتم اہل بیت (علیهم السلام) کے دشمنوں کی طرف سے وکیل ہو کہ تم شک کر نے والوں کی ترجمانی کر رہے ہو؟ بہر حال ناراضگی کے عالم میں نشست برخواست ہوئی۔

اہل مجلس میں سے ایک شخص اس جوان کی باتوں سے کافی ناراض ہو ا اور اس نے کہا: یہ کیوں اس طرح شک وتردید کے بیج بوتے ہیں؟

مختصر یہ کہ یہی محتر م شخص رات میں گھر گیا اور نافلہ شب اوردعائیں وغیرہ پڑھ کرسو گیا، اس نے خواب میں دیکھا تمام اہل قم اپنے گھروں سے باہر ہیں، نیز وہ بھی ان کے درمیان ہے لیکن معلوم نہیں تھا کہ شہر کی حالت کیوں دگر گوں ہو گئی ہے اس نے ایک شخص سے پوچھا: شہر کی حالت کیوں بدلی ہوئی ہے؟

اس نے جواب دیا: حضرت اما م صادق علیه السلام حوزہ علمیہ قم کو دیکھنے آئے ہیں، ساتھ والے شخص نے دریافت کیا: حضرت اما م صادق علیه السلام کی زیارت کہاں ہوسکتی ہے؟

میں نے جواب دیا: مجھے بھی نہیں معلوم لیکن میں بھی زیارت ہی کی نیت سے آیا ہوں اس وقت اچانک انہوں نے دیکھا کہ جلی حروف میں لکھا ہو اہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیه السلام نے اپنے جد حضرت امام حسین علیه السلام کے لیے مجلس عزا منعقد کر رکھی ہے ہم اس

ص: 228

مجلس کی طرف بڑھے میں نے دیکھا کہ آن جناب کاوجود مبارک نورکے ایک ٹکڑے کی طرح ظاہرتھا۔

آپ کے دائیں طرف مرجع عظیم الشان آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسین طباطبا ئی بروجردی تھے اور بائیں طرف آیۃ اللہ العظمٰی سید محسن حکیم طبا طبائی تھے اور منبر پر حجهالاسلام سید احمد حکیم تھے، جو شفاعت اہل بیت (علیهم السلام) کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے اس وقت امام علیه السلام اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور ذاکر سے خطاب فرمایا:

"قل لیس منّا من شکّ فینا" " کہہ دو جو شخص ہمارے بارے میں شک کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے"۔

دوسر ی شب یعنی شب ہفتہ میں نے مذکورہ خوا ب منبر سے اہل مجلس کے لیے بیان کیا توسبھی گریہ وزاری کرنے لگے۔

بہر حال اہل بیت (علیهم السلام) کے مخالفین لوگوں کے عقائد کمزور کر نے کے لیے مختلف سازشیں کر تے رہتے ہیں، خدا ان کو ہدایت فرمائے، آمین۔(1)

(ستارۂ درخشان مدینہ حضرت اُمُّ البنین ، کرامات)۔

ص: 229


1- ۔ استفادہ از ستارہ درخشان مدینہ، حضرت ام البنین علیها السلام ،140،180۔

ص: 230

دسواں باب

جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی رحلت و وفات

جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی زندگی کے آخر ی ایّام تھے آپ نے ایک عظیم شہید کی زوجہ ہونے کی بناپر اپنی ذمہ داری کو بہترین طریقہ سے ادا کیا اور ایسے فرزندوں کی تربیت کی جو ولایت و امامت کے شیدائی اور فدائی تھے چنانچہ چاروں فرزند اپنے مولا و امام بھائی پر کربلا میں قربان ہوگئے اور ایثار و قربانی اور وفا و وفاداری کی ایک تاریخ رقم کی۔ اس طرح جناب اُمُّ البنین علیها السلام کی عمدہ تربیت پر مولا امیر المؤمنین علیه السلام کی آرزو کی تکمیل ہوئی۔

کربلاکے بعد آپ نے سیاسی و اجتماعی رسالت کا کام بطور احسن انجام دیا اور شہداء کربلاکے پیغام نیز مظلومیّت کواجاگر کیا اور کربلا کے اس دلخراش واقعہ کی عرفانی اور معنوی اہمیّت کو کماحقہ زندہ رکھا۔آپ کو سیّدالاولیا، اوّلین شہیدِ محراب کی زوجہ، چار شہیدوں کی مادر گرامی اور مدینہ منوّرہ میں جلوس ِماتم و مجالس ِ سید الشّہداء کی بانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

ص: 231

جناب زینب کبریٰ کے بعد کہ جنہوں نے اپنی زندگی کے ہرہر لمحہ کا خدا سے معاملہ کیااوران کی زندگی میں خطا و انحراف کا نام ونشان تک نہیں تھا وہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے۔

کتاب ”وقایع الشہور و الایّام” میں علامہ بیرجندی نے کتاب ”اختیارات” سے اعمش کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے کہا: میں ١٣جمادی الثانی بروز جمعہ حضرت امام زین العابدین علیه السلام کے حضور شرفیاب ہوا کہ اچانک جناب فضل بن عباس علیه السلام داخل ہوئے اور گریہ کرتے ہوئے آپ سے کہا: میری جدّہ مکرمہ جناب اُمُّ البنین دنیا سے رحلت فرما گئیں ہیں، خد ا کے لیے آپ ان دنوں کو دیکھیں کہ کس طرح خاندانِ کساء ایک ہی مہینہ میں دوبار مصیبت سے دوچار ہوا ہے۔

اس طرح علامہ بیر جندی نے کتاب ”وقایع الشہور والایّام” کے حاشیہ پر بھی اسی روایت کو اعمش کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ ١٣جمادی الثانی٦٤ھ میں جناب اُمُّ البنین کی وفات ہوئی اور قول ِمشہور کی بنا پر آپ قبرستان بقیع میں دفن ہوئیں۔ پس بروز جمعرات1٣جمادی الثّانی ٦٤ ہجری قمری میں آپ نے دار فانی کو وداع کہااور قبرستان بقیع میں نوا سۂ رسول

صلی الله علیه و آله حضرت امام حسن مجتبیٰ علیه السلام ، جناب فاطمہ بنت اسد اور پیغمبر صلی الله علیه و آله کی لخت ِ جگر حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کے پہلو میں سپرد لحد ہوگئیں۔

اگرچہ ان کاجسم سپرد خاک ہے لیکن ان کی روح اور ان کی عظیم صفات نے انہیں آفتاب کی سی بلندی عطاء کی ہے اور آپ کی محبّتوں اور شفقتوں کے سائے میں ان افراد نے تربیت پائی جو اپنی مثال آپ تھے کہ جن کا ذکر تاریخ میں ہمیشہ باقی رہے گا۔

ص: 232

گیارہواں باب

آپ کے آستانہ عالیہ پر حاضری کے وقت سلام ِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اس زیارت نامہ کو پڑھیں اس زیاتنامہ میں بھی آپ کے فضائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

زیا رت نامہ حضرت اُمُّ البَنِین علیها السلام

اَشہَدُاَن لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَ اَشہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبدُہُ وَرَسُولُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، اَلسَّلَامُ، عَلَیکَ یَا أمِیرَ المَؤمِنِینَ، اَلسَّلَامُ علَََیکِ یَا فَاطِمَهُ الزّھرَا

سَیِّدَهَ نِساء العٰالَمِینَ، اَلسَّلَام عَلَی الحَسَنِ وَالحُسَینِ سَیّدَی شَبَابِ أھلِ الجَنَّهِ۔

اَلسَّلَامُ عَلَیکِ یَا زَوجَهَ وَصِیِّ رَسُولِ اللّٰہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیکِ یَا عَزِیزَهَ الزَّھرا، اَلسَّلَامُ عَلَیکِ یَا اُمُّ البَدُورِ السّوَاطِعِ یَا فَاطِمهَ بِنت حِزامِ الکِلَابِیَّهِ المُکَنّاه باُمِّ البَنِین وَرَحمَهُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہُ۔

اُشھِدُ اللّٰہَ وَرَسُو لَہُ اِنّکِ جَاھَدتِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أِذ ضَحیّتِ ِبِاولادِکِ دون َالحُسینِ ابنِ بِنتِ رَسُولِ اللّٰہِ وَعَبدتِ اللّٰہِ مُخلِصَهً لَہُ الدِّینَ بِولائِکِ لِلا ئمَّهِ المَعصُومِینَ وَصَبَرتِ عَلَی تِلکَ الرَّزِیّهِ العَظِیمَهِ وَاَحتَسَبتِ ذَلِکَ عِندِ اللّٰہِ رَبِّ العٰالَمِینَ وَازَرَتِ الاِمَام عَلِی بن أبِی طَالِبٍ

ص: 233

عَلَیہِ السَلَام فیِ المِحنِ وَالشّدَائِدِ وَالمُصَائِبِ وَ کُنتِ فِی قُمّهِ الطّاعَهِ وَالوَفَائِ وَ انّکِ أحسَنتِ ِالکَفَالَه وَأدّیتِ الَامٰانَهِ الکُبریٰ فِی حِفظِ وَدِیعتِی الزِّھرَا ئِ البَتُولِ عَلَیھَا السََّلَام، السّبطَینِ الحَسَنِ وَ الحُسَینِ وَ باٰلَغتِ وَ آثَرتِ وَرَعیتِ حُجَجَ اللّٰہِ المِیَامِینِ وَسَعَتِ فِی خَدمَهِ أبناء رَسُولِ رَبِّ العٰالَمِینَ عاَرِفهً بِحَقِِّھم مَوقِنهً بِصِدقِھِم مُشفِقَهً عَلَیھِم، مؤ ثِرَهً ھَوَا ھُم وَ حُبُّھُم عَلَی أولادِ کِ السُّعدَاء فَسَلَامُ اللّٰہِ عَلَیکِ یَا سَیِّدَتِی یَا اُمُّ البَنِینِ! مَا دَجَنَ الّلَیلِ وَأضَاء النّھارِ فَصَرتِ قُدوَهً لِلمَؤمِنَاتِ الصَّا لِحٰاتِ لِانَّکِ کَرِیمَهُ الخَلَائِق عَالِمَهً مُعَلِّمَهً تَقِیَّهً نَقیَّهً زَکِیَّهً فَرَضِیَّ اللّہُ عَنکِ وَ اَرضٰاکِ وَ جَعَلَ الجَنَّهَ مَنزِلَکِ وَمَاوٰایکِ فَلَقَد اَعطاٰکِ مِنَ الکَرَامَاتِ البٰاھِراتِ حتّٰی أصبَحتِ بِطَاعتِکِ لِلّٰہِ وَلِسیّدِ الاوصِیاٰئِ وَ بِحُبّکِ لِسیّدهِ النِّسٰاء الزّھراعَلَیھَا السّلَام وَ فِدائکِ بِأ ولادِکِ الاربعهَ لِسیّد ِالشُّھدائِ عَلَیہِ السّلام، باباً للحوائجِ۔ فانّ لَکِ عِندَ اللّہِ شاناً وَ جَاھاً مَحمُودا۔

وَالسَّلَام عَلیٰ أولَادِکِ الشُّھَدَائِ العَبَّاسِ عَلَیہِ السََّلَام قَمَربَنِی ھَاشِمٍ بَاب الحَوائِجِ وَ عَبدِ اللّٰہِ وَ عُثمَانَ وَ جَعفَرٍ الّذِینَ استُشھِدُوا فِی نُصرَهِ الحُسَینِ عَلَیہِ السّلَامِ بِکَربَلائِ[وَ السَّلَامُ عَلیٰ ابنَتَکِ الدُّرّهِ الزَّاھِرَهِ الطَّاھِرَهِ الرَّضِیَّهِ خَدِیجَه] فَجَزَاکِ اللّٰہِ وَاجزاھُم أفضلَ الجزائَ فِی جَنَّاتِ النّعیمِ۔ اللّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّد وَّ آلِ مُحَمّدٍ عَدَدَ الخَلائِقِ الّتی حَصَرُھا لَا یُحتَسَبُ أو یُعدُّ وَ تَقَبَّلَ مِنّا یاٰ کَرِیمُ۔((1))

میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی عبادت کے لائق نہیں سوائے اللہ کے جو یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمّد صلی الله علیه و آله اس کے رسول ہیں۔ آپ پر سلام ہو

ص: 234


1- ۔ حضرت امّ البنینؑ،سید ضمیر اختر نقوی؛ امّ البنینؑ سیدۃ النساء العرب ، الشیخ نعمہ ھادی الساعدی،چہرہ ٔ درخشانِ مدینہ امّ البنین علیها السلام ، ص١٨٤۔

اے رسول صلی الله علیه و آله ! آپ پر سلام ہو اے امیرالمؤمنین علیه السلام ! سلام ہوآپ پر اے حضرت فاطمۃ الزہرا سیّدهالنسا ء العالمین علیها السلام ! سلام ہو حضرت امام حسن علیه السلام اور حضرت امام حسین علیه السلام پر جو جوانانِ جنّت کے سیّد وسردار ہیں۔

سلام ہو آپ پر اے وصی رسول صلی الله علیه و آله کی زوجہ گرامی! سلام ہو آپ پرکہ آپ رسول خدا صلی الله علیه و آله کی بیٹی حضرت فاطمه الزہرا علیها السلام کی عزیزہ ہیں، سلام ہو آپ پر اے کامل درخشندہ چاند جیسے بیٹوں کی ماں جناب فاطمہ بنت حزام الکلابیہ کہ جن کی کنیت اُمُّ البنین ہے اور آپ پر اللہ کی ر حمت وبرکت ہو۔ اللہ اور اس کا رسول صلی الله علیه و آله گواہ ہے کہ آپ نے بنت رسول اللہ

صلی الله علیه و آله کے فرزندا مام حسین علیه السلام کے ساتھ اپنی اولاد کی قربانی کے ذریعے راہِ خدا میں جہاد کیا اور اس کے دین کی مخلص ہو کر اس کی عبادت کی، معصومین (علیهم السلام) کے ساتھ آپ کی ولایت ومحبّت اور آپ کا اس عظیم مصیبت پر صبراللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت اجر رکھتا ہے اور یہ کہ آپ نے رنج و غم کی شدّتوں میں حضرت امام علی بن ابی طالب ‘کی یاری و غم خواری کی اور اطاعت اور وفا کی بلندی پر فائز رہیں اور آپ نے جناب بتول زہرا علیها السلام کی امانتِ کبریٰ کی بہت خو ب کفالت اور حفاظت کی، آپ نے اللہ ربّ العالمین کے رسول صلی الله علیه و آله کے بیٹوں حسنؑ و حسینؑ کو پا لا، حجج اللہ کی رعایت کی ، ان کی خدمت میں بھرپورسعی کی، اس طرح کہ ان کے حق کو پہچانتی تھیں اور ان پرصدق دل سے یقین رکھتی تھیں اور ان پر شفیق و مہربان تھیں اور ان کی آرزؤں اور تمناؤں کا مرکز تھیں اور اپنی سعادت مند اولاد کی محبت پر ان کی محبّت کو ترجیح دیتی تھیں۔

پس اللہ کا سلام ہو آپ پر اور ہر اس کا جس پر رات چھائے اور دن روشن ہو اے اُمُّ البنین علیها السلام ! آپ تمام مومنات صالحات کی سیّدہ و سردار اور ان کے لیے نمونہ و اسوہ ہیں، اس

ص: 235

لیے کہ آپ کریمۂ خلائق ہیں تقیّہ و نقیہّ ہیں عالمہ و معلمہ ہیں اللہ نے آپ کے لیے جنّت کو گھر بنایا ہے، اللہ آپ سے راضی ہے اور اللہ نے روشن کرامتیں آپ کو عطا کی ہیں یہا ں تک کہ اپ نے سیّد الاوصیاء کی اطاعت پرصبح کی اور سیّدہ ٔعالمین کی محبت میں اپنے چار بیٹے سیّد الشّہداء پر قربان کیے وہ باب الحوائج ہیں۔

بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے حضور عظمت و جاہ، بلند مرتبہ اور مقام ِمحمود پر فائز ہیں اور سلام ہو آپ کے شہید فرزندوں پر جناب قمر بنی ہاشم عبّاس ؑباب الحوائج پر، جناب عبداللہ پر، جناب عثمان ؑ پر اور جناب جعفر ؑ پر جنھوں نے سرزمین کربلا پرحضرت امام حسین علیه السلام کی نصرت میں اپنی جانیں قربان کر دیں، سلام ہو آپ کی بیٹی جناب خدیجہ پر جو دُرّ مکنون طاہرہ و رضیہ پر، اللہ جزا دے آپ کواور ان سب کو اور عطا کرے جنّات نعیم، اے اللہ درود و رحمت بھیج محمد و آل محمد پربے حساب اوراے کریم ہماری دعا کو مقبول فرما۔

ص: 236

بارہواں باب

جناب اُمُّ البنین کامدفن مد ینه النّبیّ صلی الله علیه و آله ، جنّه البقیع

قول ِمشہور کے مطابق آپ مدینہ کے مشہورقبرستان جنه البقیع میں نوا سہ رسول صلی الله علیه و آله حضرت امام حسن مجتبیٰ علیه السلام و جناب فاطمہ بنت اسد اور پیغمبر صلی الله علیه و آله کی لخت ِ جگر حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کے پہلو میں دفن ہوئیں، اس سرزمین کی عظمت کے بارے میں حضرت امیر المؤمنین علیه السلام نے فرمایا:

”المکۃ حرم اللّٰہ والمدینه حرم رسول اللہ صلی الله علیه و آله والکوفه حرمی لا یرید ھا جباربحادثه الا قسمہ اللّہ“(1)

مکّہ حرمِ خدا ہے اور مدینہ حرم رسول اللہ صلی الله علیه و آله ہے اور کوفہ میراحرم ہے کوئی بھی جابرحاکم ان کی طرف برا

قصد نہیں کر ے گا مگر یہ کہ اللہ اس کو تباہ کر دے گا۔

ص: 237


1- ۔ الوسائل، شیخ حر عاملی، ج ٨، ص ٢٨٢۔

مدینہ منوّرہ کے قرآنی اسمائے مبارکہ

اشاره

سمہودی نے اپنی معروف کتاب ”الوفا” کی پہلی جلد میں اس مقدس شہر کے ٩٤نام ذکر کیے ہیں کہ جن میں سے بعض کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے:

١۔ المدینہ (سورۂ توبہ، آیت١٢٠)۔٢۔ارض اللہ (سورۂ نساء، آیت ٩٧)۔

٣۔ الدّار والا یمان (سورہ ٔحشر آیت ٩)۔جناب بیضاوی بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ کواس وجہ سے شہر ایمان کہتے ہیں چوں کہ مدینہ، مظہر اورمرکز ایمان ہے۔

٤۔ مدخل صدق {وَقُل رَبِّ َدخِلنِی مُدخَلَ صِدقٍ وََخرِجنِی مُخرَجَ صِدقٍ وَاجعَل لِی مِن لَدُنکَ سُلطَانًا نَصِیرًا}((1)

بعض علمابیان کرتے ہیں کہ مذکورہ بالاآیت اس وقت نازل ہوئیں کہ جب رسول خدا صلی الله علیه و آله نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور جس وقت آنحضرت صلی الله علیه و آله غار ثور میں پناہ کے لیے داخل ہوئے تھے اس وقت اس آیت کی تلا وت فرمائی۔(2)

محل وقوع

شہرمدینہ جغرافیائی لحاظ سے جدہ کے مشرق اورمکّہ کے شمال میں واقع ہے او ر جدہ تک اس کا فاصلہ ٤٢٥کیلومیٹر اورمکّہ سے ٤٩٨کیلومیٹر ہے۔ (3)

شہر مدینہ کی اہم خصوصیات

١۔ شہر امن و ایمان۔٢۔مدفن النّبی صلی الله علیه و آله ۔ ٣۔سر زمین شہدائے راہ ِاسلام ۔

ص: 238


1- . سورۂ اسرا، آیت ٨٠
2- ۔ تفسیر أبو الفتوح، ج ٦، سورۂ اسرا، آیہ٨٠۔
3- ۔ حج بیگلری ص ٢٩٢۔

٤۔ مدینہ منورہ وہ سرزمین ہے کہ جسے خدا وند عالم نے اپنے رسول صلی الله علیه و آله کے لیے محل سکونت قرار دیا۔

٥۔ خداوند ِعالم نے دین کے لیے انصار کواس سرزمین سے چنا او ر مہاجر ین کو اس میں جگہ دی۔

٦۔خدا وند عالم نے اس سرزمین کواپنے دین کے لیے محل تجلی قرار دیا اور اس شہر سے نورِ ایمان تمام شہروں میں پھیلا۔

٧۔مسجد نبوی: جس کی بنیاد خود آن حضرت صلی الله علیه و آله کے دستِ مبارک سے رکھی گئی نیز آپ نے اس کے بنانے میں بذاتِ خود شرکت کی۔

٨۔ اس مقدس شہرمیں

ایسی مخصوص مسجد کا ہونا جو کہ تقوی وپرہیز گار ی کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔

٩۔ اس شہر میں مسجد قبا کا ہونا کہ جس میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک حج و عمرہ کے برابر ہے۔

١٠۔ اس مقد س شہر

کا مخصوص احترام و تواضع کا حامل ہونا کہ جیسے محضرِ مبارک رسول خدا صلی الله علیه و آله میں قرار پایا چنانچہ قرآن مجید سورۂ حجرات آیت ٢ میں ارشاد ہواہے۔

١١۔جس شخص نے رسو ل خدا صلی الله علیه و آله کی اس مقدس شہر میں زیارت کی وہ آن حضرت صلی الله علیه و آله کی شفاعت سے بہرہ مندہوگا۔

١٢۔مدینہ اور اہل مدینہ کا سب سے دور میقات سے اختصاص پانا یعنی مسجد شجرہ سے جو کہ سب سے افضل میقات ہے۔ ١٣۔مدینہ میں محل سکونت انتخاب کر نا۔

لوگوں نے مذہب مالکی کے پیشوا جناب مالک سے پوچھا؟ آپ کے نزدیک مدینہ میں جائے مسکن قراردینا زیادہ بہترو محبوب ہے یا مکّہ میں! توانھوں نے جواب دیا: مدینہ میں !کیوں کہ اس میں کوئی گلی و شاہراہ ایسی نہیں کہ جس سے رسول خدا صلی الله علیه و آله نے عبور نہ

ص: 239

کیا ہو اورحضرت جبرئیل علیه السلام خداوند عالم کی طرف سے آنحضرت صلی الله علیه و آله پر نازل نہ ہوئے ہوں۔(1)

مسجد نبی صلی الله علیه و آله

یہ مسجدخود رسول خدا صلی الله علیه و آله کے زمانہ میں ٣٥یا٣٠میٹر زمین میں ]شمال مغرب کی طرف ٣٥میٹر اور مشرق سے مغرب کی طرف ٣٠میٹر دائرہ میں[کھجور کے درختوں کے دس ستونوں کے ساتھ بنائی گئی تھی اور ساتویں صدی میں اس میں مختصر سااضافہ ہوا اور اسے مربع شکل دی گئی، رسول خدا

صلی الله علیه و آله کے بعد خلفاء اور سلاطین کے دور میں ہر ایک نے اپنے زمانہ میں اس میں تصرف کیا، بعض نے تعمیر کی اور بعض نے دوسری تبدیلیاں کی یہاں تک کہ تقریبا ً ہجرت رسول خدا

صلی الله علیه و آله کے چودہ سوسال گزرنے کے بعد اس کی مساحت ١٦٣٢٦ میٹر ہوگئی اور اب ٦٠٢٤ میٹر کا مزیداس میں اضافہ ہوا ہے۔

اگر چہ ان تبدیلیوں نے اصل مسجد کو جو رسول اللہ صلی الله علیه و آله کے مبارک ہاتھوں اور دیگر اصحاب کےذریعے سے بنی تھی کافی بدل دیا ہے مگر الحمد للہ آج بھی اس مسجد کا دائرہ شمال سے جنوب اور مشر ق سے مغرب تک حجرہ مطہر کے وسیلہ اور ان ستونوں کے ذریعہ جومسجد کے چاروں طرف نصب ہیں معین ومشخص ہے۔

حضرت رسول خدا صلی الله علیه و آله و فاطمہ زہرا کا حجرہ

٨٨ہجری تک رسول خدا صلی الله علیه و آله و جناب فاطمہ زہر ا علیها السلام کا حجرہ ساد ہ اور اپنی اصلی طبیعی حالت میں باقی تھا اور رسول خدا صلی الله علیه و آله کے فرزندحضرت

ص: 240


1- ۔ سمہودی، کتاب ”وفاء الوفا” ج ا، ص ٧٣و٩٩۔

امام حسن علیه السلام اور حضرت امام حسین علیه السلام اس میں رہتے تھے لیکن بعد میں ولید ابن عبدالملک نے اس حجرہ کو مسجد کا جز قرار دیا اور اس طرح وہ نورانی اثر ختم ہو گیا۔

محراب مسجد نبی صلی الله علیه و آله

مسجد نبی صلی الله علیه و آله میں آنحضرت اور صدر اسلام کے زمانے میں محراب نہیں تھا، محراب کی شکل جو آج نماز ومصلٰے کی جگہ نظر آتی ہے اسے عمر ابن عبدالعزیزنے بنوایا ہے جو کہ آنحضرت کے نماز پڑھنے کی جگہ بنائی گئی ہے۔

رسول خدا صلی الله علیه و آله کی قبر مطہر

رسول خدا صلی الله علیه و آله کامرقد مطہر آپ کے حجرہ میں مسجد کی مشرقی سمت میں واقع ہے آپ کے مقدس حجرہ کا طول ١٦میٹر اور عرض ١٥میٹر ہے اور اس کی پوری مسافت ٢٤٠میٹر ہے، حجرہ کے گوشوں میں سنگ مرمر کے ستون لگے ہوئے ہیں کہ جس پر گنبد مطہر استوار ہے، ان مذکورہ ستونوں کو باریک اور عمودی شکل میں تراشاگیا ہے جو مسجد کے ستونوں سے خاصا فرق رکھتے ہیں در حقیقت یہ حجرہ اور مسجد کے ستونو ں میں فر ق نمایاں رکھنے کاذریعہ بھی ہے۔

گنبد خضراء

رسول اکرم صلی الله علیه و آله کا گنبدمطہرسبزرنگ خوبصورت پتھر سے بناہوا ہے اور عربی زبان میں اسے ” قبهالخضرا“ سبز گنبدکہتے ہیں۔

ص: 241

ضریح مقدس

آنحضرت صلی الله علیه و آله کی ضریح مقدس فولاد سے بنی ہوئی ہے اور اس کے چار دروازے ہیں۔

(١) باب الرسول

صلی الله علیه و آله ، جنوب کی طرف۔ (٢) باب الفاطمہ ، مشرق کی طر ف۔

(٣) باب التّہجد، شمال کی طرف۔ (٤) باب الوفود، مغرب کی طرف۔

بالائے سر مطہر سبز زمرد کا ایک عمامہ رکھا ہوا ہے جس کی آج اربوں روپیہ سے زیادہ قیمت ہے۔

ستون مسجد نبی صلی الله علیه و آله

مسجد نبی صلی الله علیه و آله میں متعدد ستون ہیں ان میں سے بعض اپنے مخصوص تاریخی نام کے ساتھ منسوب ہیں۔

ستون التوبہ، ستوان السریر، ستون المحرس، ستون الوفود، ستون المھاجر، ستون مقام جبرائیل ، ستون التھجد۔(1)

١) استوانہ التوبه: یہ وہ ستون ہے کہ جس سے ابولبابہ نے خود کو باندھ کر اس قدرگریہ و زاری

کیا کہ ان کی توبہ قبول ہوگئی۔

٢) استوانہ السریر: یہ وہ ستون ہے جو رسول اللہ صلی الله علیه و آله کی مبارک مسند کی جگہ بنایاگیاہے۔

ص: 242


1- ۔ وفاء الوفاء،ج 1، ص439۔

٣) استوانہ المحرس: سمہودی نے بیان کیاہے کہ اس جگہ حضرت علی ابن ابی طالب ‘ نے رسول اللہ

صلی الله علیه و آله کی حفاظت کی، جس کی وجہ سے اس ستون کو استوانہ المحرس واستوانۂ امیرالمؤمنین علیه السلام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

٤) استوانہ الوفود: یہ ستون اس جگہ قائم ہے جس جگہ رسول اکرم صلی الله علیه و آله اپنے مقررکردہ نمائندوں سے ملاقات فرمایا کرتے تھے جو عرب میں آپ کی طرف سے نمایندہ کی حیثیت سے تبلیغ وغیرہ کے لیے جا تے تھے۔

٥) استوا نه المھاجر ین: کہاجاتاہے یہ وہی ستون ہے جو منبر اور حضور صلی الله علیه و آله کی قبر مطہر کے درمیان واقع ہے جو دائیں طرف سے منبر تک دوستون اور بائیں طرف سے قبر تک نیز دوستون کے فاصلہ پر ہے۔ نیز معروف ہے کہ اس جگہ دعا مستجاب ہوتی ہے اور رسول خدا صلی الله علیه و آله کا مصلی مقام

معہود تک منتقل ہونے سے پہلے، آپ نے کچھ مہینے اس ستون کی جگہ نماز پڑھی اور چوں کہ مہاجرین اس جگہ جمع ہوتے تھے اورایک دائرہ میں بیٹھتے تھے لہٰذا یہ استوانہ المھاجرین کے نام سے مشہور ہوگیا۔

٦) استوانہ مقام جبرئیل علیه السلام : سمہودی کے قول کے مطابق اس ستون کی جگہ حضرت فاطمہ زہر ا علیها السلام کے گھر کا دروازہ تھا اور حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ‘ اس طرف سے آتے جاتے تھے۔

ابو الحمراء اس ستون کی فضیلت کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ: میں چالیس دن اور دوسری روایت کے مطابق سات مہینے رسول اکرم صلی الله علیه و آله کی خدمت میں شرفیاب رہا آنحضرت صلی الله علیه و آله ہر روز حضرت علی علیه السلام ، حضرت فاطمہ علیها السلام ، حضرت امام حسن علیه السلام اور حضرت امام حسین علیه السلام کے گھر کے دروازے پرتشریف لا تے اور دروازہ پکڑ کر فرماتے تھے:

ص: 243

”َلسَّلامُ عَلَیکُم أَھلَ البَیتِ، اَلصَّلاۃ،﴿اِنَّمَا یُرِیدُ اﷲُ لِیُذھِبَ عَنکُم الرِّجسَ اھلَ البَیتِ وَیُطَھِّرَکُم تَطھِیرًا﴾“(1)

٧) استوانہ التہجد: یہ ستون اس جگہ نصب ہے جہاں رسول اکرم صلی الله علیه و آله نماز شب (تہجد) پڑھتے تھے۔

دور حاضر مذکورہ ستونوں میں سے بعض پیغمبر صلی الله علیه و آله کی قبر اطہر کے دائرہ میں داخل ہیں اور مومنین ان جگہوں پر نماز پڑھنے کی فضیلت سے محروم ہیں۔

اصحاب صُفّہ ؓ

یہ جگہ پیغمبر صلی الله علیه و آله کے حجرہ مطہر کی شمالی سمت میں واقع ہے جو مربع مستطیل شکل میں موجود ہے اور مسجد کی سطح عمومی سے تقریبا بیس ٢٠سینٹی میٹر بلند ی پر ہے اور اصحاب صفّہ کے نام سے مشہو ر ہے، اصحاب صفّہ مسلمانوں کے ایک ایسے گروہ کوکہتے ہیں کہ جس کے پاس ہجرت کے ابتدائی دور میں رہنے کے لیے گھر وغیرہ نہیں تھے، رسول اکرم صلی الله علیه و آله نے ان لوگوں کو رہنے کے لیے اس مقام پر جگہ دی اور ان میں سے ہر ایک کے لیے اپنے گھر یا اصحاب کے گھر سے کھانا بھیجتے تھے اور کبھی انہیں خود اپنے حصے میں شریک کر لیتے تھے۔

اصحاب صفّہ نماز جماعت میں صف اول میں رہتے تھے اور میدان جنگ میں بھی پیش قدم رہتے تھے، ابن عبید ؓ بیان کر تے ہیں: میں ہمیشہ نماز جماعت میں حاضر ہوتاتھا، خدا کی قسم ! بعض مسلمان اتنے غریب و فقیر تھے کہ شدید بھو ک کی وجہ سے پوری نماز میں کھڑے نہیں ہوسکتے تھے اور بسا اوقات نماز میں گر جاتے تھے۔(2)

ص: 244


1- ۔ سورہ احزاب، آیت ٣٣۔
2- ۔ وفاء الوفا، ج١، ص٤٥٣۔

مدینہ اور اس کے اطراف کی مشہور مسجد یں

مدینہ میں بہت زیادہ مسجدیں ہیں جن میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں:

مسجد قبا، مسجد ذوقبلتین، مسجد جمعہ، مسجدفضیح، مسجدفتح، مسجد حضرت علی علیه السلام ، مسجدحضرت فاطمہ زہرا علیها السلام ، مسجدغمامہ، مسجد مباہلہ، مسجد شجرہ، مسجد ابوذرؒ، مسجد مشربۂ اُمُّ ابراہیم، مسجد الشمس، مسجد الا جابہ، مسجد العسکر، مسجد ظفر، مسجد نفس ذکیّہ، مسجد الأبوا، مسجد جحفہ، مسجد غدیر خم، مسجد بدر۔(1)

مرقد مطہرہ حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام

مشہور قول کی بنا پر مدینۂ منورہ کے قبرستان جنّت البقیع میں دفن ہونے والے اولیائے خدا میں سے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کی بیٹی سیّده النساء العالمین اُمُّ الائمہ حضر ت فاطمہ زہرا علیها السلام ہیں کہ جن کی قبر مطہر آلِ محمد صلی الله علیه و آله پر ہونے والے ظلم وستم کے نتیجہ میں مخفی ہوگئی ان کی فضیلت اور مظلومیت تاریخ کے اوراق پر امّت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

فضائل حضر ت فاطمہ زہر ا علیها السلام

کے لیے بس یہی کافی ہے کہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں آپ کی محبت و مودّت واجب قرار دی اور آپ کی شان میں آیہ تطہیر نازل کی اور آپ کوقرآن میں"کوثر" کہاگیا، نیز آپ مباہلہ کے افراد میں سے ایک ہیں اورآپ کی شان اقدس میں قرآنی آیات و سورتیں نازل ہوئیں اوررسول اللہ صلی الله علیه و آله نے آپ کے بارے ارشاد فرمایا: ”فاطمہ اُمُّ ابیھا“ ”فاطمۃ بضعۃ منی“، نیز گیارہ اماموں کی ماں اور سیّد الاولیاء امام اوّلین حضرت امیر المومنین علی علیه السلام کی شریک حیات ہیں۔ حضرت امام

ص: 245


1- ۔ وفاء الوفاء، ج ، ٤، ص1018؛ قبل از حج بخوانید، ص 133،137۔

مہدی عجل الله تعالی فرجه فرماتے ہیں: میری مادر گرامی جناب فاطمہ زہر ا علیها السلام میرے لیے اسوهٔ حسنہ ہیں((1)

آپ کے بہت سے القاب ہیں جن سے آپ کے فضائل و مناقب کے باب کھلتے ہیں ہم اختصار کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ان کا ذکر یہاں کیے دیتے ہیں، علماء فرماتے ہیں کہ مومنین اپنی بچیوں کے نام بھی ان القاب مبارکہ سے انتخاب کریں یہ باعث خیر و برکت ہیں:

حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام

اشاره

کے نام اور القاب

١۔ انسیہ: وہ خاتون جو انسانی خوبیوں سے آراستہ ہو۔

٢۔ بتول: پاک و پاکیزہ، جو ہر طرح کی آلودگی سے پاک ہو۔

٣۔ نقیہ: پاک و بے گناہ۔

٤۔ حبیبہ: دوست، دوست رکھنے کے لائق۔

٥۔ حرّہ: آزاد و خود دار۔

٦۔ حوراء: فرشتہ، وہ خاتون جو فرشتوں کی خصوصیتوں سے آراستہ ہو۔

٧۔ حوریہ: جنتی خاتون، فرشتہ صفت۔

٨۔ راضیہ: وہ خاتون جو اپنے لیے تقدیر الٰہی پر راضی رہے۔

٩۔ را کعہ: بارگاہ خدا میں اہل رکوع و سراپا خم۔

١٠۔ رشیدہ: بافہم ،سمجھدار، غور و فکر کرنے والی۔

١١۔ رضیہ: وہ خاتون جو رضائے الٰہی کے مقام و مرتبہ تک پہنچ جائے۔

١٢۔ ریحانہ: خوشبودار پھول، لطیف و مہربان(عورت سے متعلق ایک لطیف تعبیر)۔

ص: 246


1- ۔ الغیبۃ طوسی، ص286،ح245، بحار الانوار، ج53، ص180، ح9۔ احتجاج، ج2، ص279۔

١٣۔ زکیہ: پاک و متقی و پرہیزگار۔

١٤۔ زہرا: درخشاں، روشن۔

١٥۔ زُہرہ: درخشان، نورانی۔

١٦۔ ساجدہ: وہ خاتون جو بارگاہ خدا میں سجدہ ریز ہو۔

١٧۔ سعیدہ: خوش بخت، خوش نصیب۔

١٨۔ سیدہ: سردار۔

١٩۔ شہیدہ: وہ خاتون جو راہ خدا میں اپنی جان قربان کر دے۔

٢٠۔ صابرہ: بردبار، صبر کرنے والی، ثابت قدم رہنے والی۔

٢١۔ صادقہ: سچ بولنے والی اور نیک کردار۔

٢٢۔ صدوقہ: وہ خاتون جو نیک کردار کے ساتھ سچ بولنے والی ہو۔

٢٣۔ صدیقہ: وہ خاتون جو سچ بولنے میں مشہور اور نیک سیرت و باعمل ہو۔

٢٤۔ طاہرہ: وہ خاتون جو پاک دامن اور ہر برائی سے پاک ہو۔

٢٥۔ طیبہ: پاک و پاکیزہ۔

٢٦۔ عارفہ: با معرفت خاتون۔

٢٧۔ عالیہ: بلند ہمت اور دور اندیش۔

٢٨۔ عدیلہ: نظیر اور مانند، حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام کو ”عدیلۂ مریم” کہتے تھے کیوں کہ یہ دونوں خواتین پاکیزگی اور پاک دامنی میں بے مثال ہیں۔

٢٩۔ عذراء: پاک دامن۔

٣٠۔ عزیزہ: با عظمت، گراںقدر۔

٣١۔ علیمہ: دانشمند اور آگاہ۔

٣٢۔ فاضلہ: با ارزش اور صاحب فضیلت۔

ص: 247

٣٣۔ فاطمہ: بچانے والی، جہنم کی آگ اورہرنادانی و برائی سے دور رکھنے والی ۔

٣٤۔فریدہ: یکتا، درّ نفیس۔

٣٥۔ کریمہ: جو عورت اہل کرم اور اہل جود و سخا ہو۔

٣٦۔ کوثر: خیر کثیر۔

٣٧۔ کوکب: روشن، درخشاں۔

٣٨۔ مبشرہ: خوش خبری و بشارت دینے والی خاتون۔

٣٩۔ محدّثہ: حدیث بیان کرنے والی خاتون۔

٤٠۔ محمودہ: پسندیدہ، وہ خاتون جسے خدا وند عالم دوست رکھے۔

٤١۔ مرضیہ: وہ خاتون جس سے خدا راضی ہو۔

٤٢۔ مطہرہ: پاک خاتون، ہر گناہ و برائی سے پاک۔

٤٣۔ معصومہ: وہ خاتون جو گناہ نہ کرتی ہو، بے گناہ۔

٤٤۔ ملہمہ: وہ خاتون جس پر خدا وند عالم الہام فرمائے۔

٤٥۔ممتحنہ: وہ خاتون جو امتحان میں کامیابی سے ہمکنار ہو جائے۔

٤٦۔منصورہ: وہ خاتون جس کی مدد کی گئی ہو۔

٤٧۔مؤفقہ: وہ خاتون جس کے خدا وند عالم کی توفیق ہمیشہ شامل حال رہے۔

٤٨۔مہدیہ: وہ خاتون جس کی خدا وند عالم نے ہدایت فرمائی ہو۔

٤٩۔مومنہ: وہ خاتون جو خداوند عالم اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہو۔

٥٠۔ناعمہ: وہ خاتون جس کی زندگی خوش گزرے، شاداب۔

٥١۔تقیہ: پاک و بے گناہ، صاحب تقویٰ۔

٥٢۔والہہ: محبت کرنے والی۔

٥٣۔وحیدہ: یکتا، تنہا۔

ص: 248

٥٤۔حانیہ: یہ آپ کا آسمانی نام ہے، اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہت مہربان۔

٥٥۔نوریہ: وہ جس سے نور ساطع ہوتا ہو۔

٥٦۔حصان: پارسا اور عفیف۔((1))

ولادت وشہادت، حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام

ولادت فاطمہ زہر ا علیها السلام : مشہور یہ ہے آپ کی ولا دت بعثت کے پانچویں سال٢٠ جمادی الثانی کو مکّہ معظمہ میں ہوئی۔((2))

آپ نے اپنے والد گرامی کے ساتھ آٹھ سال مکّہ میں زندگی بسر کی اور بقیہ دس سال مدینہ منورہ میں، آپ اپنے والد بزرگوار حضور صلی الله علیه و آله کی رحلت کے تقریباً تین ماہ بعد قول مشہور کے مطابق تین جمادی الثانی گیارہ ١١ہجری کو اسلام میں بیٹیوں کے حقوق و وراثت، ولایت و امامت اور نظام ِقرآن کادفاع کرتے ہوئے درجہ شہادت پر فائز ہوئیں۔(3)

حضرت عثمان ابن مظعون

قبر ستان ِ جنّت البقیع میں سب سے پہلے حضرت عثمان ابن مظعونؓ دفن ہوئے تھے، وہ متقی وپر ہیز گا ر، زاہد و عابد اور صالح انسان تھے جب ان کے جنازہ کو زمین سے اٹھایا گیا تو رسول خدا صلی الله علیه و آله نے فرمایا:”طوباک یا عثمان! لم تلبسک الدنیا ولم تلبسھا”

اے عثمان ! تم خوش نصیب ہو کہ دنیا تمہیں فریب نہ دے سکی اور خود تم نے بھی اپنے آپ کو دنیا کے دام فریب میں نہیں ڈالا۔ پھر جناب عثمان ؓکو بقیع میں دفن کر دیاگیا۔

ص: 249


1- ۔ مفاتیح الجنان، باب زیارت، زندگانی حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام و دختران او، ص ١٣، ١٥۔
2- ۔ کشف الغمّہ ج ٢، ص ٧٥۔
3- ۔ ستارہ درخشان ِ مدینہ، علیها السلام ص ٢٠٤ ؛ صحیح بخاری، ج٢، ص ٢١٠۔

مرقدجناب ابراہیم علیه السلام ابن رسول اللہ صلی الله علیه و آله

پیغمبر صلی الله علیه و آله نے اپنے فرزند جناب ابراہیم کے دفن کرتے وقت فرمایا:

”الحق بسلفک الصالح عثمان بن مظعون“اور ان کو جناب عثمان ابن مظعون ؓکے پہلومیں دفن کر دیا۔

صاحب مراه الحرمین تحریرکرتے ہیں، اصحاب اور تابعین میں سے دس ہزار سے زیادہ افراد اس قبرستان میں دفن ہیں جن میں سے بعض کے نام ذیل میں ذکر کررہے ہیں:

جناب ابراہیم علیه السلام فر زند رسول صلی الله علیه و آله :جن کی بچپنے میں وفات ہوئی، جناب سمہودی اپنی کتاب ”وفاء الوفا” کی تیسری جلد میں لکھتے ہیں:جناب ابراہیم کی قبر حضرت فاطمہ زہر ا علیها السلام کے بیت الاحزان کے پاس ہے اور بیت الاحزان وہ جگہ ہے کہ جسے حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام نے بقیع میں اپنے بابا پر گریہ کر نے کے لیے اختیار کیا تھا۔

مرقد جناب عقیل بن ابی طالب علیه السلام

بعض کا قول ہے کہ آپ کی قبر شام میں ہے اور شام میں قبہ و مزار ہے۔

مرقدمطہرہ جناب فاطمہ بنت اسد علیها السلام

حضرت علی بن ابی طالب علیه السلام کی والدہ گرامی، آپ کی قبر جناب ابراہیمؑ اورعثمان بن مظعونؓ کی قبر کے پاس ہے اور تمام لوگ ان قبور کی بقیع کے باہر سے زیارت کرتے ہیں۔

قبر عبداللہ بن مسعود ؓ

آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے عثمان بن مظعون ؓکے پہلومیں دفن کرنا، عبداللہ ؓجلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے اور آپ فضیلت کے عظیم درجہ پر فائز ہیں آپ کی فضیلت کے بارے میں رسول اکرم صلی الله علیه و آله کی یہی حدیث کافی ہے کہ آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: ”اگرقرآن کو جیسے وہ نازل ہو ا ہے یاد کرنا چاہتے ہو توابن مسعود سے سیکھو” ۔

ص: 250

قبرِ سعد بن معاذ ؓ

یہ وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں، کہ جن کے جنازے پر رسول خدا صلی الله علیه و آله نے ٩٠ہزار فرشتوں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھی، اور حضرت علی علیه السلام سے دوستی و محبت کی خاطر آپ نے ان سے کہا:”ابشر یا سعد فانّ اللّہ یختم لک بالشھاده”۔

قبر ابو سعید خدریؓ

یہ صحابی اپنے زمانہ کے فقیہ اور محب اہل بیت (علیهم السلام) تھے۔ ((1))

ثواب زیارت اورتعمیر مراقدِ خاندان رسالت

پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله اور آپ کے خاندان کی زیارت کے اجر و ثواب اور مرقد کی تعمیر کے بارے میں روایتوں میں کافی تاکید ہے، منجملہ حضرت امام رضا (علیهم السلام) فرماتے ہیں:

”فمن زارھم رغبهً فی زیارتھم و تصدیقاً بما رغبوافیہ کان ائمتھم شفعاء ھم یوم القیامه“ (2)

ترجمہ:جو شخص رغبت و معرفت کی بناپر ائمہ (علیهم السلام) کی زیارت کا شرف حاصل کرے اور ان کی زیارت میں ان کے مقدس اہداف کی طرف توجہ دے تو قیامت کے دن ائمہ ٪ اس کی شفاعت کریں گے۔

رسول اکرم صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

”من زارنی اوزاراحد اًمن ذریتی زرتہ یوم القیامه فانقذتہ من اھوالھا“۔(3)

جس شخص نے میری یامیری ذرّیت میں سے کسی ایک کی زیارت کی، میں قیامت کے دن اس کا دیدار کروں گا اور اسے قیامت کی وحشت سے نجات دلاؤں گا۔

ص: 251


1- ۔سفینه البحار، ج ١، ذیل سعد؛ ستارۂ درخشان مدینہ، ص 235۔
2- ۔ وسائل الشیعہ ج، ٥، ص٢٥٣؛عیون الا خبار الرضا علیه السلام ،ج ٢، ص ٢٦٠۔
3- ۔ کامل الزّیارات ابن قولویہ، متوفی٣٦٨قمر ی مکتبہ صدوق، ص٧۔

رسول خدا صلی الله علیه و آله نے حضرت علی علیه السلام سے گفتگوکے دوران فرمایا:

”ان اللہ جعل قلوب نجباء من خلقہ و صفوه من عبادہ تحن الیکم وتحتمل المذلّه والا ذیٰ، فیعمرون قبورکم ویکثرون زیارت ھا تقربا منھم الی اللہ و موده منھم لرسولہ اولئک یا علی المخصوصون بشفاعتی الواردون حوض وھم زوّاری غداً فی الجنہ“۔ (1)

خداوند عالم نے اپنی مخلوق میں سے نجیب اور برگزیدہ لوگوں کے دلوں کو تمہارا مشتاق قرار دیا اور وہ تمہاری خاطر سختی اور رنج کو برداشت کر تے ہیں اور تمہاری قبروںکو تعمیر کرتے ہیں اور ان کے وسیلہ سے بارگاہ خدا میں تقرب حاصل کرنے کے لیے اور رسول خدا صلی الله علیه و آله کی خاطر ا ن سے دوستی و محبت کی بناپر ان کی زیارت کو کثرت سے آتے ہیں، اے علی میں خاص طور پران کی شفاعت کروں گا اور یہ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے اور یہ کل جنت میںمیری زیارت کریں گے اس کے بعد آپ نے فرمایا:

”یا علی! من عمرقبورکم وتعاھد ھا، فکانھا اعان سلیمان بن داود علی بناء بیت المقدس“۔ (2)

جو شخص تمہاری قبور کو تعمیر کرے گا اور پابندی سے ان کی زیارت کے لیے آئے گا تو ایسا ہے کہ گویااس نے بیت المقد س بنانے میں جناب سلیمان ابن داؤود‘کی مدد کی۔

مکّہ اورمدینہ میں وہابیوں کی تباہ کاریاں

وہابیوں کے ایک ٹولے نے استعما ر کے اشاروں پراسلام کے مقدس مقامات اور عرفان و معرفت سے سرشار تاریخی نشانات نہایت بے دردی سے مٹا دیے، سب سے پہلے

ص: 252


1- ۔ بحار الانوار، ج 100، ص121۔
2- ۔ بحار الانوار، ج 100، ص121۔

طائف میں عبداللہ ابن عباسؓ کے گنبد کو خراب کیا، اس کے بعد مکہ میں حضرت رسول خدا صلی الله علیه و آله کے دادا جناب عبدالمطلبؑ اور ان کے چچا جناب ابو طالب ؑاور زوجہ جناب اُمّ المؤمنین حضرت خدیجہ کبری علیها السلام کی قبروں اور اس طرح محلِ ولادت رسول خدا صلی الله علیه و آله اور محلِ ولادت حضرت فاطمہ زہر ا علیها السلام کو ویران کیا۔

جدہ میں قبر ِحضرت حواء علیها السلام اور مکہ و جدہ کے تمام مزاروں کو ختم کردیا، جب مدینہ میں جنا ب حمزہ ؑ کے مزار اور شہدائے احد کے مقبروں خاص کر قبور بقیع کو خراب اور ویران کرنے کی جسارت کی گئی۔((1))

تمام اسلامی ملکوں میں شیعہ اور سنی مسلمانوں نے اس عظیم حادثہ پر سخت احتجاج کیا۔عراق، ایران ، پاکستان اوردیگر ممالک سے اعتراض کی آواز بلند ہوئی،مدارس میں کلاسوں کی تعطیل ہوئی اور اعتراض کے طور پر جلوس اور مجالس عزا بر پا کی گئیں۔ اب بھی احتجاج کے طور پر دنیا بھر میں ہر سال 8 شوال یوم انہدام جنّۃ البقیع کے طور پر منایا جاتا ہے۔

تمّت بالخیر

بِسمِ اللّٰہ ولہ الحمد و الشّکر

آج بروز اتوار١٣ جمادی الثّانی ١٤٣٠ھ مطابق ٧ جون ٢٠٠٩ء یہ کتاب مکمل ہوئی اور اتفاق سے آج حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کی رحلت کا ١٣٦٦ واں سال ا ور والد مرحوم السیّد دل باغ العلوی الشہید ؒ کی پندرہویں برسی بھی ہے۔ خدا وندکریم ان کوشافع محشر رحمه العالمین حضرت محمدمصطفی صلی الله علیه و آله کی شفاعت اور مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیه السلام کی

ص: 253


1- ۔ وہابیان، ص٢١٤؛ ستارہ درخشان مدینہ، ص٢٤٠۔

عنایت شامل حال فرمائے، آمین۔آخر میں قارئین کرام سے تمام مرحومین مؤمنین وسادات اور شہدائے راہ خدا کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ کی اپیل ہے۔

ملتمس دعا:

سیّد ابو الحسنین وزیر حسین علوی

ص: 254

اہم ضمیمہ

اشاره

مؤلف نے اسلام آباد سے چھپنے والے ماہنامہ اورتاریخ علوی اعوان میں لکھے گئے کچھ متعصّبانہ اعتراضات کے محقّقانہ جوابات دے کر حضرت اُمُّ البنین علیها السلام کی ذرّیت کا دفاع کیا تھا جن کو اصول ِصحافت سے نابلدمجلہ کے متعصّب ایڈیٹر اور مؤلف نے شائع نہیں کیا اور نہ ہی جواب دیا! ہم اس کی افادیت کے پیش نظر یہاں قارئین کے لیے بطورضمیمہ پیش کر رہے ہیں: ناشر

بِسمِ اللّہ الرّحمٰن الرّحیم

حقّانیّتِ اولاد ِقمرِبنی ہاشم حضرت ابوالفضل العبّاس علیه السلام

ما ہنا مہ ”اعوا ن” دسمبر ٢٠٠٧ء کے شمارہ میں جمہوری اسلامی ایران سے چھپنے والی مقبول ترین کتاب "چہرۂ درخشان قمر بنی ہاشم ابو الفضل العباس علیه السلام " جلد پنجم جس کے مؤلف جناب علامہ الحاج شیخ علی ربّانی خلخالی حفظہ اللہ تعالیٰ ہیں، الحسین ؑپبلیکیشنزقم، ایران نے شائع کیا ہے۔ مصنّف کی روش یہ ہے کہ وہ ہر جلد میں حضرت عبّاس علمدار علیه السلام کے فضائل، ان سے منسوب مقامات مقدّسہ، امام زادوں، ان کی نسل سے صاحب کرامت بزرگان دین اوراولاد کا مختصر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ ہر جلد میں، ولی خدا، صاحب ِوفا حضرت عبّا س بن حضرت امام علی ‘ کی بارگاہ سے رونما ہونے والے٢٤٠ کرامات و

ص: 255

معجزات مختلف شیعہ، سنّی ٫مسیحی، کلیمی اور زرتشتی راویوں سے نقل کرتے ہیں، مصنّف کا ارادہ ہے کہ وہ آخر ی جلد میں جناب قمر بنی ہاشم علیه السلام کی دنیا بھر میں موجود تمام اولاد کا تفصیل سے ذکر کریں۔

مذکورہ کتاب کی جلد پنجم کے باب ششم صفحہ ٢٥٩ سے ٢٩١ میں پاک و ہند میں موجود حضرت عبّاس علمدار علیه السلام کی کچھ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنّف نے متعدّد منابع سے استفادہ کرتے ہوئے پوری دیانت اور خلوص کے ساتھ ا سناد اور حوالہ جات کے ہمراہ نقل کیا ہے ، اللہ تعالی ٰان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

ایک بہترین مورّخ اور مؤلّف کی بہترین صفت یہی ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کی تحقیق سے اگر استفادہ کرے تو دیانت داری کے ساتھ اسی کے حوالہ سے ذکر کر دے، اگر راوی نے غلط بیانی کی ہو تو ”دروغ بر گردن راوی” ذمہ داری اسی پر ہو گی اور مؤلّف اس سے بری الذّمہ ہو گا۔

مذکورہ کتاب پرایک متعصّب تبصرہ نگار نے ا پنے غیر منطقی تبصرہ میں کچھ بے جا الزامات لگائے ا ور اعتراضات کیے ہیں۔ مثلاًیہ کہ:

(١)مؤلف کتاب ہذانے حقیرکے کہنے پر پاکستان کے علویوں کو سیّد بنا دیا اور ان کو حضرت عبّاس علمدار ابن حضرت علی ‘سے ملا دیا۔

(٢) حضرت عبّاس علمدار علیه السلام کی اولاد پر اعتراض کے ساتھ ساتھ اہل سنّت کے ایک جید عالم مولوی نور الدّین مرحوم اور محسن قوم حکیم غلام نبی مرحوم پر بھونڈے قسم کے الزامات تراشے ہیں۔

(٣) کتاب میں مذکور اپنے جنرل سیکریٹری اور اپنے چیف کوارڈی ینٹر کے شجرہ کو جعلی قرار دیتے ہو ئے، "دونوں میں سے سچا کون ہے؟" کا استفسار کرتے ہیں۔

ص: 256

(٤) مشائخ کرام کے حالات وانساب کے حوالے سے بھی بندہ ٔحقیر پر بے جا الزام تراشے ہیں۔

(٥)پھر آخر میں باب ششم میں ذکرکیے گئے علویوں کے حالات و انساب اور اولاد حضرت علی علیه السلام کے لیے سیّد کے عنوان کو متکبرّانہ انداز سے مستر د کرتے ہوئے، اپنے منکر ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ تھا ان کے اعتراضات کا خلاصہ!

اگرچہ منطقی طریقہ یہی تھا کہ وہ مجھ پر الزام لگانے کی بجائے مصنّف موصوف سے رابطہ برقرارکرتے اور اُن سے وضاحت طلب کرتے شاید ان کی مشکل حل ہو جاتی مگر انھوں نے ہمیشہ کی طرح غیر منطقی انداز اپنایا۔ بعض دوستوں نے ماہنامہ ”اعوان” سے اس تبصرہ کی کاپی مجھے ارسال کی اوربہت سے احباب نے اصرار کیا کہ اس کا جواب دیا جائے، اگرچہ میں ان کو دوسرے ذرائع سے تذکر دیتا رہاہوں کہ وہ ضد اور ہٹ دھرمی کے بجائے براہ راست ہم سے گفتگو یا مناظرہ کریں اور کمزور باتیں کر کے مسخرے پن کاباعث نہ بنیں۔ مگر انہوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم اس طرح سے ان کو جواب دیں: ؎

نہ تم صدمے ہمیں دیتے، نہ ہم فریاد یوں کرتے

نہ کھلتے راز سر بستہ، نہ یوں رسوائیاں ہوتیں

مبسوط و مفصل جواب دینے سے قبل کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ !

(١) محبّت حسین اعوان کو اپنے جعلی نظریہ کے برخلاف حقائق کو مسخ کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟ چوں کہ مذکورہ کتاب میں ان کا تو کسی حوالے سے ذکر ہی نہ تھا، اگر کسی کو اعتراض ہوتا تو وہ خود مصنّف کتاب سے رجوع کر سکتا تھا۔ جیسا کہ جب محبّت حسین اعوان نے وادی سون سکیسر کے شجر نامے جو صوبیدار گل محمّد مرحوم کے قلم سے تحریر تھے یا وادی کشمیر کے علوی اعوانوں کے نسب نامے جو مولوی حسام الدّین مرحوم مؤلف”نسب الاعوان” نے تحقیق سے لکھے ہوئے تھے جس میں سب کے سلسلۂ نسب حضرت عبّاس بن حضرت ا مام

ص: 257

علی‘ سے ملتے تھے۔ ان میں بے جا تصرّف کیا تو وادی سون کی بعض مقتدر شخصیّات منجملہ مرحوم محمّد سرور اعوان صاحب نے بھر پور اعتراض کیا اور اپنی تاریخی کتاب ”وادی سون سکیسر” میں ان کی جعل سازی کو مسترد کر دیااس طرح مولوی زین العابدین علوی صاحب جنہوں نے مشائخ کرام کے شجرہ نامے جمع کیے تھے، جو حضرت عبّاس علمدار علیه السلام سے ملتے تھے، کے بدلنے اور اس تصنیفی خیانت پر بھرپور اعتراض کیا تھا۔

(٢)کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تبصرہ نگار کو نواسہ رسول صلی الله علیه و آله ، دلبند بتول ، محسن انسانیت حضرت امام حسین علیه السلام کے بھائی اور ان کے لشکر کے علمدارحضرت عبّاس ابن حضرت امام علی‘ سے کیا دشمنی ہے ؟ جو اتنے سیخ پا ہو جا تے ہیں اور اس طرح کے مضحکہ خیز تبصرے پراترآتے ہیں۔ حالانکہ ان کی کتاب کے بعد چھپنے والی بہت سی کتب میں ان کے بنائے ہوئے شجرہ کو مسترد کر دیاگیا مگر انہوں نے ان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ظاہراً محبت حسین اعوان اپنے آپ کو حضرت علی علیه السلام سے منسوب کرتے ہیں حالانکہ وہ اموی لشکر میں کھڑے ہو کر اولاد حضرت علی علیه السلام پر تیر چلا رہے ہیں۔

(٣)کیا میں ان سے دریافت کر سکتا ہوں کہ ہمارے ایک اہل علم دوست نے آٹھویں صدی ہجری تک کی تمام معتبر کتب انساب ان کو ارسال کیں تھیں۔ کیا ان کتب سے اپنا بنا یا ہوا شجرہ ثابت کر سکتے ہیں ؟

(٤)کیا وہ دنیا و آخرت میں جواب دے سکتے ہیں کہ جمہره الانساب العرب سے لیے گئے محمد ابن علی ابن محمد حنفیّہ کی اولاد میں عون عرف سکندر کہاں سے آیا۔ جب کہ انساب کی کسی کتاب میں ان کی اولاد کا ذکر نہیں ملتا۔ اس صدی میں یہ کہاں سے پیدا ہوگئی؟

ص: 258

(٥)کیا "تاریخ علوی اعوان" کےمؤلف یہ بتانا پسند کریں گے کہ اصول انساب کا یہ کون سا اصول ہے کہ ”تین نام کتاب جمھره انساب العرب سے اور باقی مراه مسعودی سے لے لیں تو اعوانوں کا شجرہ نسب بن جائے گا”۔ کیا کوئی بھی غیرت مند علوی اعوان یہ برداشت کرے گا کہ وہ اپنے آبائی شجرہ نامے جو ان کے پاس محفوظ ہیں وہ چھوڑکر اس جعلی اور نیو برانڈ شجرہ کو اپنا لے۔ یقینا کوئی بھی حقیقی اور نسبی علوی اس کو ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ جب کہ وہ کتاب "تاریخ علوی اعوان کے صفحہ371" کا مطالعہ کر کے مؤلف کی واضح جعل سازی سےآگاہ ہو چکا ہو۔

(٦)آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ غزنوی سلطان کا سالار ”ملک غازی” علوی تھا۔ جب کہ غزنوی سلاطین پر مستند ترین تاریخی کتاب جو ان کے دور میں ہی لکھی گئی، جس کے مصنف خوا جہ ابوالفضل محمد بن حسین بہیقی دبیر دربار غزنوی ہیں۔ اس پر ڈاکٹریٹ کرنے والے تمام ڈاکٹر وں نے اپنے تعلیقات میں ”ملک غازی” کو ایک سامانی نسل کا سالار لکھا ہے۔ ڈاکٹر فیاض اپنے حاشیہ میں لکھتے ہیں۔

”غازیان مردمی بودند کہ در شہر ھا داؤ طلبانہ برای جہاد با کفاّر جمع می شدند و لشکری تشکیل می دادند کہ سالاری مخصوص داشت”۔

"غازی وہ لوگ تھے جو رضاکارانہ طور پرکفّار کے ساتھ جہاد کے لیے جمع ہوتے تھے جب لشکر بن جاتا تھا تو اس کا سالاربھی مخصوص ہوتا تھا، جس کو ”ملک غازی” یا ”سالار غازی” کہا جاتا تھا۔ "

ڈاکٹرسید احمد حسینی کازرونی لکھتے ہیں: ”سلاطین غزنوی کے دور میں ”حاجب، سالار، ملک” ریاستی عہدے تھے۔ ”ملک غازی” کا اصلی نام ”آسیغتگین” تھا یہ سب سے جوان اور باہوش تھا۔ سلطان محمود کے دربار کے حاجب کبیر کے عہدے پر بھی فائز رہا، پھر غازیوں کے لشکر کا ملک اور سالار بنا دیا گیا اس لیے اس کو ”سالار غازی یا ملک غازی” کے نام سے یاد کیا جاتا

ص: 259

تھا کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ ایک سامانی نسل کے ملک کو علوی اعوانوں کا زبر دستی دادا بنا دیا جائے اور اس پر فخر کیا جائے اتنی بے شرمی اور بے حیائی!! کاش قوم بیداری کا ثبو ت دیتے ہوئے اس شخص کا محاسبہ کرتی تا کہ پھرکوئی ایسی جسارت نہ کرتا۔

(٧) اعوان کا خطاب کس سلطان نے کب اور کہاں دیا ؟ کیا یہ غزنوی تاریخ سے ثابت کر سکتے ہو؟نہیں تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ جناب عون سے عون آل کی بجائے اس کی جمع اعوان کو استعمال کرنا شروع کر دیا گیا تھا، معجم البلدان و القبائل، لغت نامہ دہخدا اور حافظ ابرو کی تاریخ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

(٨) سلاطین غزنوی جب کسی گاؤں یا شہر کو فتح کرتے تو کسی اپنے وفادار کو وہاں کا ملک بنا دیتے تھے۔ اس لیے بہت سے ملک ملتے ہیں۔ مرأه مسعودی میں بہت سے ملکوں کا ذکر ہے جنہوں نے سید سلطان مسعود کی اعانت کی۔ آپ نے تاریخ غزنوی سے ملک غازی، مرأه مسعودی سے ملک حیدر اور تاریخ علوی سے قطب شاہ کو ساتھ ملا کر اعوانوں کا دادا بنانے کی تاریخی دھاندلی کی۔ جب کہ ان ملکوں میں کوئی بھی علوی نہیں تھا۔ یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ وہ علوی اعوانوں کے جد ہیں۔ البتہ وہ غزنوی اعوانوں کے جد ہو سکتے ہیں۔

(٩) کہاں سے ثابت ہوا کہ سالار ساہو، ملک حیدر اور سالار سیف الدین بھائی تھے۔ جب کہ آپ نے جس کتاب کو معتبر سمجھا ہے اس میں سالار سیف الدین کو سید سلطان مسعود کا چچازاد بھائی لکھا ہے۔ اور ملک حیدر کے ساتھ کسی قسم کے رشتہ کا ذکر نہیں کیا۔

(١٠) آپ میں سے کسی کو قطب حیدر ملک غازی کے شجرہ بالا اور زیریں پر اتفاق نہیں ہے ہر ایک نیا شجرہ لایا ہے، جعل سازی پر نظریہ پردازی کب تک رہے گی۔

(١١)ہمیں یہ بتائیں کہ آپ نےکس دلیل کی بنا پر ”تاریخ علوی” کو معتبر سمجھا ؟ کیا ملک شیر محمد کی اندھی تقلید کرتے ہوئے کہ جس نے داد تحقیق دیتے ہوئے لکھ دیا کہ ”مولوی حیدر علی اعوان کی تربت کو اللہ تعالیٰ عنبرین کرے، جنہوں نے بے شمار کتب تواریخ

ص: 260

کے مطالعہ کے بعد دو کتابیں موسوم بہ تاریخ حیدری و تاریخ علوی لکھیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے تحقیق عمیق کے بعد اعوان قوم کوحضرت محمد حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد ثابت کیا ہے”۔((1) )

جب کہ لدھیانوی صاحب نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ میرے پاس ایک دو شجرے جن کو پڑھنا بھی دشوار ہے اور کوئی کتاب نہیں!

ہم یہاں مولوی حیدر علی لدھیانوی مرحوم کی کتاب سے من وعن ان کی عبارت نقل کرتے ہیں تاکہ قارئین کو اندازہ ہو سکے کہ ملک شیر محمد خان اور ان کے اندھے مقلدین نے کس طرح کذب پردازی کی ہے اور محسن قوم حکیم غلام نبی مرحوم اور مولوی نور الدین مرحوم کی کتب کو لوگوں کی نظروں سے گرانے کے لیے کس قدر بے جا الزامات لگائے ہیں۔

مولوی حیدر علی لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں: "اس عاجز سے خاص کر حکیم ڈاکٹر زبده الحکماء لاہور نے فی زمانہ فخر قوم اور لائق ہیرو ہیں آپ کا اپنا شفاء خانہ شہر میں بڑی رونق سے جاری ہے۔ اللّٰھُمَّ زدفزد۔ آپ نے بہت تاکید کی، آپ کی فرمائش نے مجبور کیا جس میں کمر ہمّت باندھ کر لکھنے کو مستعد ہوا، اگرچہ میرے پاس کوئی ذخیرہ پورا نہیں بلکہ وہ پرانا سلسلہ نسب میرے پاس اتنا پرانا اور بودا ہو گیا تھا، کئی نام بالکل پڑھے نہیں جاتے تھے جن کی درستگی کے لیے بہت تلاش کی کہ کسی سے سالم سلسلہ لے کر مقابلہ کیا جائے۔ مگر کہیں نہیں ملا، میں بڑا شکر گزار بھائی وزیر علی اعوان سکنہ جمال پور کا ہوں کہ جن کے پاس سے وہ نسب نامہ بعد مایوسی کے مل گیا[ اس کے بعد مولوی صاحب نے اپنا شجرہ نسب درج کیا مگر اس کو تحقیق عمیق قرار دینے والوں نے بھی قبول نہیں کیا حتیٰ کہ ان کے اپنے بیٹے نے بھی ٹھکرا دیا] اس کے بعدلکھتے ہیں کہ: ”کتاب ہذا تاریخ علوی نام جو یہ عاجز پیش کرتاہے اس میں کوئی نئی بات نہیں عموماً وہی باتیں ہیں جو بطور قصہ جات کے قوم میں چلی آتی ہیں ۔۔۔میں یہ نہیں

ص: 261


1- ۔ تاریخ اعوان ،صفحہ ٢٢ ، ملک شیر محمد خان اعوان۔

کہتا کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے، وہی صحیح ہو گا ممکن ہے کہ کسی بھائی کی تحقیق بعید اس سے زیادہ ہو”۔((1) )

لدھیانوی مرحوم کا یہ اعتراف ہے کہ میرے پاس کوئی سند اور کتاب نہیں بلکہ سنی سنائی باتیں ہیں مگر کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ملک شیر محمد خان اور ان کے اندھے مقلدین اس کوبے شمار کتبِ تاریخ کا نچوڑ اور تحقیق عمیق قرار دے رہے ہیں۔ آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ گروپ کذب آرائی میں کتنی مہارت اور جسارت کا حامل ہے۔

اگر کوئی بھائی یقین حاصل کرنا چاہے تو کتاب ”تاریخ علوی” لوک ورثہ اسلام آبادکی لائبریری میں جا کر مطالعہ کر سکتاہے۔بلکہ کتاب کی کاپی بھی حاصل کر سکتا۔

اس کتاب کے ٹائٹل پر لکھا گیا ہے کہ ”یہ کتاب حسب فرمائش زبده الحکماء حکیم غلام نبی اعوان ،موچی دروازہ لاہورطیار ہوئی اور بغرض آگاہی مفت قوم میں بانٹی گئی”۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ تاریخ علوی اور تاریخ زاد الاعوان دونوں ہی حکیم غلام نبی مرحوم کی فرمائش پر لکھی گئیں اور یہ دونوں کتابیں انھوں نے اپنے خرچ سے چھپوا کرمفت تقسیم کر کے ثواب دارین کمایا ہے۔ چوں کہ اس سر زمین پر حضرت عبّاس علمدار ؑ اور حضرت محمد حنفیہ ؑ، دونوں کی اولاد کا وجود بابرکت تھا اس لیے کسی کو اصل پر کوئی اعتراض نہیں تھا، البتہ ان بزرگان علویان سے منسوب احباب عرف عام کی کھلی کتاب میں نمایاں تھے، فقط ان کے نسب ناموں کی تحقیق ا وراصلاح کی ضرورت تھی۔

مگر بعض کو ”زاد الاعوان” اور ”باب الاعوان” پر اعتراض اس لیے ہے کہ وہ ان کے ذاتی خود ساختہ شجروں کے برعکس نسبی، تاریخی کتب اور عرفی حقائق کے مطابق مرتب کی گئیں تھیں۔ یاد رہے ان کتابوں کی مخالفت کرنے والے متضاد نظریہ کے حامل

ص: 262


1- ۔ تاریخ علوی، صفحہ ١ تا ٣، مولفہ مولوی حیدر علی اعوان سکنہ لدھیانہ۔

لوگ ہیں، جن کو جناب محمد حنفیہ کی اولاد ہونے کا دعو یٰ بھی ہے اور سلطان محمود غزنوی کے ایک سالار ملک غازی یا ملک حیدر کی اولاد بننے کا شوق بھی ہے جب کہ اس کا علوی ہونا ثابت ہی نہیں، لیکن زبر دستی اس کو سید مسعود غازی مدفون بہرائچ ہندوستان، کا کبھی چچا اور کبھی چچا زاد بھائی بنا کرمرحوم عبدالرحمن چشتی کا تاریخ مسعودی میں بنایاہوا خیالی شجرہ، جس کا ما قبل کسی کتاب میں کوئی حوالہ نہیں ملتا، کو اٹیچ کر کے اپنا شوق پورا کر لیا۔

مذکورہ کتاب کے مولف مولوی نور الدین سلیمانی مرحوم جو مسلک اہلسنت کے ایک جیّد عالم تھے موضع کفری کے امام جمعہ جماعت تھے نیز سلسلہ نقشبندیہ کے پیر طریقت تھے۔ ایسی شخصیّت کو کسی قوم کی نسبی تاریخ میں غلط بیانی کی کیا ضرورت پڑی ہے، پھر اگر کوئی واعظ اور امام جماعت کذ ب بیانی کا مرتکب ہو تو اس کی عدالت ساقط ہو جاتی ہے اس کی اقتدا کرنا جائز نہیں ہے۔ ہمیں ایسی کوئی شھا دت نہیں ملتی کہ ان کے دور میں کسی نے ان پر خیانت یا جھوٹ کا الزام لگایا ہو۔ یا علوی قبیلہ میں سے کسی نے اعتراض یا تنقید کی ہو۔

ان کی وفات کے عرصہ دراز بعد ایک غیر محقق، تاریخ اور انساب سے نا بلد شخص نے اپنی انتہائی غیر مہذب زبان سے بے ہودہ الزام لگائے اوران کوکرائے کا مولوی ، سازشی، بینگن کا نوکروغیرہ قرار دیااور دستگیر نامی شخص سے ملاقات کی جھوٹی داستان میں الزامات کی انتہا کر دی، جب کہ اپنا شجرہ بھی درست پیش نہ کر سکے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اور ان کے مقلدین اپنے نظریے کو ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کی جعل سازی اور جھوٹ کو روا سمجھتے ہیں۔

ہمارا مقصد مولوی صاحب مرحو م کی ہر بات کا دفا ع کرنا نہیں ہے۔ کیوں کہ انھوں نے بھی اس تاریخ میں اپنے مسلک کے تحت کچھ بے سرو پا باتیں بھی لکھ دیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجودہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان پر تنقید کرنے والے ان کی قدآور شخصیت کے مقابلے میں علمی اور تحقیقی اعتبار سے کوتاہ قد نظر آتے ہیں، بھلا جس کا اپنا نسب نامہ ہی درست نہ ہو نیز

ص: 263

حقائق اور انساب کو سمجھنے سے عاری ہو اس کو ایک عالم پر تنقید کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں وادی سون سکیسرکے مشہوردانشور محقق محترم جناب محمد سرور اعوان مرحوم نے اپنی کتاب میں جواب دے دیے ہیں، تفصیل کے لیے ان کی کتاب کی طرف رجوع کیا جائے۔

پاک وہند میں اولاد قمر بنی ہاشم علیه السلام

پاک وہند میں اولاد قمر بنی ہاشم علیه السلام کا وجود اظہر من الشّمس ہے۔کتاب ”چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم علیه السلام ” میں زاد الاعوان اور باب الاعوان جیسی کسی کتاب کا حوالہ نہیں تھا۔ ایران کے شہر قم مقدسہ میں دنیا کا عظیم ترین کتاب خانہ (لائبریری) موجود ہے جس میں ہندوستان کے مذہبی، سیاسی رجال پر بھی بہت سی کتب موجود ہیں۔ ان کے واقعا ت وحالات سے اس چیز کی شہادت ملتی ہے کہ مولوی نور الدین سلیمانی مرحوم سے بہت پہلے لکھی جانے والی متعدد کتب من جملہ کتاب ”تکملہ نجوم السما ء” صفحہ ٢٩ و ٣٠ مؤلف میرزا محمد مہدی کشمیری، کتاب ”تجلی نور فی مشاہیر جونپور” مؤلف مولوی سید نور الدین زیدی، وغیرہ اس طرح کتاب ”مطلع انوار” مؤلف علامہ سید مرتضی حسین صدرالافاضل، تذکرہ بے بہا فی تاریخ العلماء مؤلف مولانا محمد حسین نوگانوی عابدی، مؤلفین علماء امامیہ قرن ١٢، ازمحقق علامہ محمد اصغر صادقی وغیرہ سے پتہ چلتا ہے کہ پاک وہند کی سرزمین حضرت عباس علمدار علیه السلام کی اولاد کے وجود سے خالی نہیں تھی۔

مثلاً صاحبِ کتاب ”مولا حضرت عباس علمدار علیه السلام کے معجزات” میں فاضل حنفی ظفرآبادی کے حوالے سے مولانا محمد عوض علوی متوفی ١٢٠٠ھ کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ: ”وہ اپنے زمانے کے مشہور عالموں اور ریاضت کردہ فاضلان جونپور میں سے تھے ان کے

ص: 264

نسب کا سلسلہ حضرت عباس علمدار علیه السلام تک پہنچتا ہے وہ شیخ علی حزین متوفی ١١٨٠ھ کے ہم عصر تھے ان کے فرزند کا نام ملافتح محمد متوفی (١٢٤٠ھ مطابق ١٨٢٤ء) تھا، اس سے واضح ہوا کہ اولادِحضرت عبّاس علمدار علیه السلام کے وجود سے ظلمت کدہ ہند بھی خالی نہیں”۔((1) )

علامہ سید ضمیر اختر نقوی صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ”حضرت امّ البنین علیها السلام کا سلسلہ نسل حضرت عباس علمدار بن امیر المؤمنین کی اولاد سے آج تک دنیا میں باقی ہے۔ عراق، ایران، یمن، ہندوستان میں اس نسل کے سادات موجود ہیں جو علوی کہلاتے ہیں، بعض اپنے نام کے ساتھ ہاشمی لکھتے ہیں”۔((2) )

خلاصه الانساب

بہت سے علمائے انساب نے کتاب ”خلاصه الانساب” کے حوالے سے بھی پاک و ہند میں حضرت عباس علمدار علیه السلام کی اولاد کا ہونا ذکر کیا ہے۔ اور اس کتاب کے مؤلف کی تعریف و توثیق فرمائی ہے۔ مثلاً اس صدی کے شہرہ آفاق نسّابہ علّامہ آیۃ اللہ شہاب الدین مرعشی نجفی قدس سرہ لکھتے ہیں:

”ملا محمد نجف کرمانی نسب شناس، لغوی، شاعر، متکلم، ثقہ، استوار و بزرگوار، مورد اعتماداور احادیث شناس تھے، وہ شہر کرمان میں پیدا ہوئے اور خراسان مشہد حضرت امام رضا علیه السلام کے جوار میں اپنی تعلیم مکمل کی، نوے سال سے زیادہ پر برکت عمر گزار کے ١٢٩٠ھ میں وفات پائی اور حسب وصیت حرم حضرت امام رضا علیه السلام میں صاحب وسائل کی قبر کے پاس دفن ہوئے۔ انہوں نے بہت سی معتبر کتب تالیف فرمائیں ان میں سے کتاب خلاصه

ص: 265


1- ۔ مولا عباس علمدار علیه السلام کے معجزات، ص ٣٤۔
2- ۔ کتاب اُمُّ البنین ، صفحہ ٢٨٤۔

الانساب جس میں انساب قریش اور علویوں کا ذکر کیا ہے، کتاب خلاصۃ العروض، شرح خطبہ حضرت زہرا ، شرح دعائے جوشن کبیر، شرح دعائے صباح حضرت امام علی علیه السلام ، جامع الاحادیث فی الاخبار وغیرہ۔((1) )

علاوہ ازیں اس کتاب کے حوالہ جات بہت سی کتب میں ملتے ہیں من جملہ کتاب تاریخ خراسان ص ١١٢، کتاب ایضاح المکنون جلد ١ صفحہ ٤٣٣، کتاب ہدیه العارفین ج ٢ ص ٣٨٠، کتاب اعیان الشیعہ ج١ ص٧٩، کتاب الذریعہ ج ٤ ص٤٦٥، اور ج١٣ ص٣٣١، وغیرہ میں ملتا ہے۔ بہت سے علمائے انساب نے اس کتاب کو معتبر جاناہے اب اس قدر مشہور کتاب کی حقیقت کا انکار کرنا اور جھوٹا قرار دینا، سراسر جہالت اور ہٹ دھرمی ہے۔

اس طرح ”میزان ہاشمی” کے مصنف ملا محمد ہاشم علوی متوفی ١٢٨١ء کو بھی علمی حلقوں میں ایک معتبر نسب شناس تسلیم کیا ہے، جن کا ذکر کتاب ”المأثرو الآثار ص١٤٥” اور الذّریعہ ، ج ٢٣ ،ص ٣٠٧ ،طبع دارالضواء بیروت پر ملتا ہے۔

کوئی عقلمند ١ور دانشمند ان کتابوں کے وجود سے انکار نہیں کر سکتا، تعجب ہے ایک شخص بغیر اس کے کہ وہ علماء یا دنیا کی کسی بڑی لائبریری سے رابطہ کرتا، کچھ لائبریریوں کو خط لکھ کر انکار کرتاہے اور پھر جعل ساز اس کو دلیل بنا کر روشن حقائق سے انکار کرنے لگتے ہیں۔ در اصل علم انساب، رجال اور اصول فقہ جیسے علوم مدارس علوم دینیہ میں پڑھائے جاتے ہیں اور یہ لوگ علماء سے رجوع کرنا کسر شان سمجھتے ہیں، اس لیے گمراہ کن قضاوت کر بیٹھتے ہیں۔

ص: 266


1- ۔ کتاب کشف الارتیاب فی مقدمہ لباب الانساب ،بہیقی، ص ١٢٠؛ مہاجران آل ابو طالب، ص662،ناشر آستان قدس رضوی،مشہد، ایران۔

کتاب نایاب کیوں؟

سوال یہ ہے کہ اس قسم کی بہت سی کتابیں نایاب کیوں ہو گئیں آج ہمارے محققین کی دسترس میں کیوں نہیں؟اہل نظرجانتے ہیں کہ انگریزوں کے دورحکومت میں انگریز سکالرز کوایشائی اقوام اور عرب قبائل کے بارے میں تحقیق کرنے اورحقیقت جانے کا بہت شوق تھا اس لیے انہوں نے کتب انساب کے خطی اور غیر خطی نسخے جمع کرلیے، حتی قبروں کے کتبے تک کندہ کرکے لے گئے۔ مسلم ممالک سے خطی اور قلمی نسخوں کی کشتیاں بھربھرکر یورپ منتقل کی گئیں۔ ہمارے کتاب خانوں کو ویران اور اپنے کتاب خانے اور میوزیم آباد کرتے رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں آج ہم بہت سی کتب سے محروم ہو گئے ہیں۔ لہذا اب اگر کوئی کتاب دسترس میں نہ ہو تو فوراً اس کا انکار کر دینا دانشمندی نہیں ہے۔

مولانا سیّدآغا مہدی لکھنوی رقم طراز ہیں:

”برٹش میوزیم کی فہرست مرتبہ ڈاکٹر چارلس صفحہ٤٣٧ پر محمد بن عبداللہ حسینی سمرقندی کی کتاب تحفہ الطالب، مخطوطات میں موجود ہے۔ جس میں شرح وبسط سے اولاد حضرت محمدحنفیہ علیه السلام اور اولاد حضرت عباس علیه السلام کی تفصیل موجود ہے۔ اس طرح محمد حسین بن عبد الکریم کے قلم کا شاہکار، ٦ذی الحجہ روز جمعہ وقت ظہر ١١٧٩ھ کا خطی نسخہ ہے۔ یہ وہ جواہر پارے ہیں جو کچھ تو غدر ١٨٥٧ء لکھنؤ کی لوٹ میں یورپ منتقل ہوئے اور کچھ صاحبان احتیاج نے اپنی تنگدستی کے سبب انگریزوں کے ہاتھ بیچے، دوسو سات برس کا یہ صحیفہ عتیقہ اگر آج سامنے ہوتاتو کیا کچھ نہ ملتا”۔(1)

تعجب ہوتاہے! منکرین کی عقل پر کہ وہ جناب کراروی مرحوم کے بلا دلیل جملے کو تو اہمیت دیتے ہیں مگر تحقیق اور دلیل کے ساتھ علماء نے جو لکھا ہے اس کو خاطر میں نہیں

ص: 267


1- ۔ کتاب اُمُّ البنینؑ ، ص، 314،٣١٣، علامہ سید ضمیر اختر نقوی۔

لاتے ہیں۔ واضح حقائق کو لینے کی بجائے مبہم اور مرحوم ملک شیر محمدخان کی خودساختہ داستانوں کولے لیتے ہیں جو ان کی جعل سازی میں کار ساز ہوں اورپھر اپنے جعل و قیاس کو تاریخ کا نام دے دیتے ہیں۔

ابن خلدون کا قول ہے: ”تاریخ، واقعات کی کڑیوں کے تلاش کرنے کا نام ہے مورّخ کا کام اسباب وعلل کی جستجو کرنا ہے” نہ کہ اپنے ذوق و مسلک کے مطابق حالات مرتب کرے اور جو اس کے مزاج و نظرکے مطابق نہیں اس کا انکار کر دے پھر تحقیق کے دروازے بند کر دے اور خود کو خاتم المحققین قرار دے دے۔

حق تو یہ ہے

حق تو یہ ہے کہ اگر کوئی محقق بنی ہاشم کے کسی بھی شجرہ کی تحقیق کرنا چاہتا ہے تو وہ حجاز، عراق اور ایران اور پاکستان میں انساب پر لکھی گئی کتب کا مطالعہ کرے، پھر کڑی سے کڑی ملاتا جائے تو ایک نتیجہ پر پہنچے گا۔ لیکن ان کتب کی حقانیت کا انکارکرنے والا متعصّب شخص کبھی حق نہیں پا سکتا ہے۔

جیسا کہ ملک شیر محمد خان مرحوم اور ان کے اندھے مقلدین بغدادی مصنّفین کے نظریہ کو اس لیے قبول نہیں کرتے کہ وہ ان کے ذاتی اور خود ساختہ شجرہ کے موافق نہیں جب کہ اس حقیقت کا اعتراف یوں کرتے ہیں۔ ”اہل بغداد نے یہ باور کر لیا کہ یہ لوگ [علوی اعوان] عون بن یعلیٰ بغدادی معروف بہ قطب الہند کی اولاد سے ہیں۔ چوں کہ عون بن یعلیٰ حضرت عباس نامدار ابن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد سے تھے اس وجہ سے بغدادیوں نے جو سفر نامے مرتب کیے ان میں عون بن یعلیٰ قطب الہند کی اولاد لکھ دیا”((1)

ص: 268


1- ۔ تاریخ الاعوان ،ص ٥٠۔

اس طرح محمد خواص خان مرحوم اور ان کے ہمنوا متعصّبین، ایرانی مصنّفین کے مخالف نظرآتے ہیں جب کہ اس حقیقت کا اعتراف یوں کرتے ہیں کہ ”حافظ ا برو کی تاریخ میں جو آیا ہے کہ قوم اعوان اولاد حضرت عبّاس سے ہیں جو لوگوں میں مشہور ہے کہ شاہ زبیر کی اولاد ہیں۔ یہ درست نہیں وہ لا ولد فوت ہوئے اس میں آخری جملہ کہ زبیر لا ولد فوت ہوئے، علماء اسماء الرجال کے خلاف ہے”۔(1)

یاد رہے جناب حافظ ابرو متوفٰی٨٣٣ ھ ایران کے بہت مشہور اور معتبر مورّخ ہو گذرے ہیں جو متعدد تاریخی کتابوں کے مصنّف ہیں۔ من جملہ زبده التّواریخ، جامع التّواریخ، تاریخ آل مظفر، تاریخ امیر ارغوان، تاریخ شاہرخ میرزا، تاریخ حضرت صاحبقرانی وغیرہ، ان کی بعض کتابوں کے خطی نسخہ جات بر ٹش میوزیم نمبر ٩٣١٦، آکسفورڈ نمبر ٣٥٧ میں بھی موجود ہیں۔(2)

کتاب چہرۂ درخشان قمر بنی ہاشم علیه السلام کے مؤلف نے اصول ِتاریخ کے مطابق نسبی روایات کو ان کے مأخذ و ناقل کے حوالہ سے نقل کیا۔ مثلاً وادی سون کے شجرہ نامے صوبیدار گل محمد مرحوم اور وادی کشمیر کے شجرہ نامے سید زین العابدین علوی اور مولوی حسام الدین مرحوم مؤلف کتاب ”نسب الاعوان”، مشائخ کرام اور سادات علویہ نوشاہیہ کے حالات اور شجرے ان کی کتب تاریخ عباسی، شجرہ شریف نوشاہی، سیادت علویہ کے حوالہ سے نقل کیے، اور ان تمام بزرگوں نے اپنے شجرے حضرت عون بن یعلیٰ المعروف قطب شاہ سے حضرت عباس علیه السلام ہی تک ملائے تھے، یہ توکوئی جرم نہیں ہے۔البتہ آپ کےایک

ص: 269


1- ۔ تحقیق الاعوان مؤلف محمد خواص خان بحوالہ تاریخ علوی اعوان، ص ٢٦٢۔
2- ۔ حاشیہ و تحقیق زبده التواریخ از ڈاکٹر سید کمال جوادی۔

کوارڈینیٹر نے جعلی شجرہ بھیجوا کر سوء استفادہ کیا ہے۔آپ کے توجہ دلانے پر آیندہ ایڈیشن میں وہ اس کا سدّ باب کر دیں گے۔لیکن تصنیفی خیانت تو تب تھی کہ وہ بزرگوں کی دی ہوئی نسبت کو ختم کر کے ایک نئی نسبت دے دیتے جیسا کہ تاریخ علوی اعوان اور اس کی تقلید کرتے ہوئے ”نسب الصالحین” میں بھی اس تصنیفی خیانت کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ آپ دوسروں پربرسنے کے بجائے اس دھاندلی پر قوم سے معافی مانگیں اور اپنی عاقبت کی فکر کریں۔

جناب محبت حسین نے اپنے جنرل سیکریٹری کی نسبت سے جو لکھاہے، وہ سراسر غلط ہے، ان سے ہماری ملاقات ہوتی رہتی ہے، وہ ہر مؤلف کے ساتھ تعاون کرنے والے اور روشن فکر انسان ہیں، قومی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں۔ ان کے تعاون سے ہی ہمیں وادی سون کے شجرے میسر ہوئے، انہوں نے مذکورہ کتاب بھی لی اوروہ اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ پوری وادی اور برادری حضرت عباس بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ہی نسل سے ہونے پر یقین رکھتی ہے۔

پوری وادی سون سے صرف

علامہ یوسف جبریل مرحوم نے آپ کی کتاب کی تعریف کی ہے، چوں کہ وہ تاریخ اور علم انساب کے ماہر نہیں تھے لہذا ان کی تعریف کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اگر ان کو بھی معلوم ہو جاتا کہ آپ نے غزنوی سلطان کے ایک سامانی نسل کے سالار ”ملک غازی” کو علوی اعوانوں کا دادا بنا دیا ہے تو یقیناً وہ شدید احتجاج کرتے نظر آتے جیسا کہ وہ ایٹم بم کے خلاف سر تا پا احتجاج تھے۔ انہوں نے قبیلہ کا جو تعارف لکھا وہ کوئی تحقیق نہیں تھی ۔شاید ان کے پاس اس موضوع پر تحقیق کرنے کی اتنی فرصت ہی نہ تھی۔

تبصرہ میں جناب محبت حسین اعوان نے اپنے ایک چیف کوارڈی نیٹر کے شجرہ کی تبدیلی کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اپنے چیئرمین کی طرح جعل سازی کیوں کرنے لگے ہیں۔ ”کُلُّ ُشیئٍ یَرجعُ اِلیٰ اَصلِہ” ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے۔

انہوں نے ایک دفعہ ایک چارٹ کی شکل میں اپنا خوبصورت شجرہ دکھایا جس میں حضرت عون قطب شاہ سے اوپردوشجرے درج تھے، ایک جناب حسن بن عبیداللہ بن عباس

ص: 270

سے اور دوسرے جناب عبد المنان بن عون بن محمد حنفیہ سے ملا رکھے تھے۔ میں نے ان سے کہا: یہ تو بہت مضحکہ خیز بات ہے کہ آپ نے ایک شخصیت کے دو باپ لکھ دیے ہیں۔ پوچھنے لگے پھر کون سا شجرہ صحیح ہے؟ میں نے کہا:جناب حسن بن عبیداللہ ابن عبّاس بن امیرالمومنین (علیهم السلام) والی شاخ صحیح ہے چوں کہ کتب انساب و رجال اورآباء و اجداد سے متواتر اور تسلسل سے نقل ہوئی ہے اور ہاں عون بن محمد حنفیہ کے بارے میں ابو نصر بخاری نے واضح لکھا ہے کہ ”لا عقب لہ” اس کی کوئی اولاد نہیں ہوئی، پھر لکھتے ہیں کہ جو بھی اپنا شجرہ نسب عون بن محمد حنفیہ سے ملائے، ”فھو دعی کذّاب قطعاً” اس کا دعوی یقیناً جھوٹا ہے”۔(1)

(یہاں معذرت کے ساتھ ایک تردید کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی کتاب ”اولاد امیر المؤمنین علیه السلام کیا علوی سادات ہیں” میں نے قطب حیدرسےعبدالمنان… بن عون بن محمد حنفیہ کی نسبت سے ایک شجرہ نقل کر دیا تھا کہ شاید مدعی کے پاس کوئی دلیل ہوگی۔ مگر یہ شجرہ کتب ِانساب سے ثابت نہیں ہواہے)۔

الغرض ان کے چیف کوارڈی نیٹر نے حضرت عباس والی شاخ کو کمپوزکر کے تین کاپیاں ارسال کیں مع اپنے جدِ مرحوم کے حالات زندگی بھی بھیجے۔ جس کی ایک کاپی اب بھی میرے ریکارڈ میں موجود ہے۔ جس کو دیکھ کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ سچا کون ہے؟۔

تبصرہ نگار اور ان جیسے تمام برادران دینی سے گذارش ہے کہ وہ اپنی آبائی نسبت کو ہر گز نہ بدلیں اگرشجرہ کی سند صحیح اور عرف میں علوی النسب ہونے کی شہرت ہے تو شرعاًاسی پر عمل کرنے کا حکم ہے۔ اگر مشکوک ہے توکالعدم سمجھیں، اپنے آپ کو جعلی نسبت دینے والے کے لیے حدیث میں سخت مذمت آئی ہے:

ص: 271


1- ۔ کتاب سر السلسله العلویہ ص ٨٥، مؤلفہ ابو نصر بخاری۔

قال رسول اﷲّٰ صلی الله علیه و آله :”من ادّعی الیٰ غیر أبیہ فالجنّه علیہ حرام“۔(1)

” جو اپنے باپ کے علاوہ کسی غیر کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرے اس پر جنّت حرام ہے۔ “۔ ورد فی الصحیح البخاری عن ابن عباس :

قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله :”من انتسب الی غیرابیہ اوغیرموالیہ فعلیہ لعنه اللہ والملائکه والنّاس اجمعین“۔(2)

صحیح بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: جو اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور سے منسوب کرے یا اپنے مولا کے علاوہ کسی غیر کو مولا بنائے اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے”۔

اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ جو شخص علوی سیّد ہے وہ اپنی سیادت کو نہ چھپائے اور جو علوی نہیں وہ اپنے آپ کو سیّد کہلانے کی جرأت نہ کرے چوں کہ رسول کریم صلی الله علیه و آله نے دونوں قسم کے افراد پر لعنت فرمائی ہے۔ اس سلسلے میں مولانا سیّدنجم الحسن کراروی لکھتے ہیں:

”اس سے باخبر رہنا چاہیے کہ ہمارے نزدیک اولادِ علی علیه السلام جو بطن حضرت فاطمہ سے نہیں وہ سیّد شرفی ہیں، چوں کہ شرافت نوریہ وجودیہ میں حضرت علی علیه السلام حضرت رسول کریم صلی الله علیه و آله کے برابر کے شریک و سہیم ہیں اس لیے ہم حضرت عبّاس علیه السلام اور حضرت محمد حنفیہ علیه السلام کو سیّد سمجھتے ہیں اور جوشخص سیّد ہے وہ اپنی سیادت کو نہ چھپائے اور جو سیّد نہیں وہ اپنے آپ کو سیّد کہنے کی جرأت نہ کرے چوں کہ رسول کریم صلی الله علیه و آله نے دونوں قسم کے افراد پر لعنت فرمائی ہے”۔(3)

ص: 272


1- ۔ کنزالعمّال ج ٦، ص ١٩٤ ،حدیث ١٥٣١٥۔
2- ۔ صواعق محرقہ ابن حجر؛ صحیح مسلم، حدیث ٣٦٨٥ ص ٧٣٣، بیروت۔
3- ۔ کتاب عظمت سادات صفحہ ٥، مؤلف سیّد فضل عباس ہمدانی، طبع راولپنڈی۔

بقول علامہ اقبال:

؎

منکر حق نزد ملا کافر است منکر خود نزد من کافر تر است

اگر کوئی نسباً علوی نہیں تو کیا ہوا عملاً علوی بن کر دکھائے یعنی حضرت امام علی علیه السلام کی سیرت اور ولایت کو اپنائے۔ لیکن اگر کوئی لشکر اموی میں بیٹھ کر علوی ہونے کا دعوی بھی کر رہاہو تو اسے کچھ حاصل نہ ہو گا جیساکہ حضرت نوح علیه السلام کے بیٹے کو نسبت کا کوئی فائدہ نہ ہوا، باپ کی نا فرمانی کی تو غرق ہو گیا۔

حضرت امام جعفر صادق علیه السلام فرماتے ہیں:

”ولایتی لامیرالمؤمنین أحبّ الیّ من ولادتی منہ“

"میرے نزدیک امیر المؤمنین کی ولایت ان کی اولاد ہونے کی نسبت سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے"((1)

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سلسلہ ٔ ولایت علی علیه السلام سے منسلک رہیں یہ عظیم نعمت ہے نسبی تعلق کی نسبت سے، اس لیے کہ نسبتِ خون اساس شرافت ہے مگر ولایت علی علیه السلام اساس دین ہے جس کے بغیر کوئی عمل اور دین قبول نہیں ہے۔

ہمارے پاس تواتر اور تسلسل کے ساتھ اپنا سلسلہ نسب پہنچا ہے، اس لیے جناب عون بن یعلیٰ الملقب قطب شاہ کا ایک ہی نسب نامہ تمام نسّابوں کے پاس درج ہے اگر کہیں ایک نام کی کمی یا اضافہ ہو تو وہ شاید کاتب یا ناقل کی لغزش ہو گی۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ نسب میں تمام مرحوم علوی بزرگان کے مراقد شریف بھی مشخص اور زیارتگاہ خاص وعام ہیں۔

ص: 273


1- ۔ جامع الانساب، ص ٥٩۔

مگر تعجب ہوتاہے! منکرین کا اپنے دادا ”ملک غازی قطب حیدر” کے باپ، نسب، اولاد حتیٰ ان کی قبر پر بھی اتفاق نہیں، کوئی غزنی، کوئی ہرات، کوئی بہرائچ، کوئی بہار، کوئی جنڈ، کوئی جھنگ میں ان کا مدفن بتاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے خاتم المورّخین نے اپنی کتاب میں یہ لکھ کر راہ فرار اختیار کی کہ ”میرے نزدیک قطب شاہ کی جائے مدفون تحقیق طلب ہے”۔((1))

ان سے پوچھئے کہ آپ کے بقول اتنا بڑا سالار، نائب السلطان، سلطان محمود کا دست راست اور قبیلہ کا مورث اعلیٰ، مگر قبر کاکسی کو پتہ نہیں ! یہ اہل دقّت کے لیے لمحہ فکریہ ہے!۔

الغرض چوں کہ راہ راست کو چھوڑا تو بے شمار تناقضات کا شکار ہو گئے۔ فطبع علی قلوبھم

ان ناشائستہ اعمال کی بنا پر ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اب ان کو حق نظر نہیں آتا ہے۔

متعصّب تبصر ہ نگار کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اسی بات سے ہو جاتا ہے کہ کتاب چہرہ درخشان قمر بن ہاشم علیه السلام کے مؤلف نے کہیں بھی زاد الاعوان اور باب الاعوان کا حوالہ نہیں دیا مگر وہ انہی کتب کا حوالہ دے کر پاک و ہند میں اولاد حضرت عباس اور سیادت علویہ کا انکار کرکے اپنی بے شعوری اور جہالت کا اعلان کر رہا ہے۔

سیّادت علویہ

ادارہ افکار جبریل اور ادارہ تحقیق الاعوان کی طرف سے ”سیادت علویہ” پر ایک ہینڈ بل اور دو کتابیں شا ئع ہو چکی ہیں:

ص: 274


1- ۔ تاریخ علوی اعوان، ص ٤٠٤، سطر آخر، طبع بار اول 1999 ۔

١)انوار السّیادت فی آ ثار السّعا دت، علویہّ کی سیّادت کے اثبات میں مؤلف سیّد شریف احمد شرافت نوشاہی۔ ٢) تاریخ سیادت علویہ یعنی سادات علوی قطب شاہی اعوان، مؤلف سیدّ زین العابدین علوی۔

مذکورہ دونوں کتابیں اہل سنّت کے علماء کی لکھی ہو ئی ہیں۔ جو ادارہ افکارِ جبریل کے محترم چیٔرمین اور ادارہ تحقیق الاعوان کے جنرل سیکرٹری جناب شوکت محمود اعوان صاحب نے مجھے ہدیہ فرمائیں، اللہ تعالیٰ ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے۔

اگر میری کتاب ”کیا علوی سادات ہیں” کسی تعصّب کی بناء پر نہیں پڑھ پائے تو کم ازکم اپنے ادارہ کی طرف سے شائع کردہ ان دونوں کتب کا مطالعہ فر ما لیتے تو یقینا یہ اعترا ض پیش نہ آتا۔ اس میں شیعہ و سنّی تمام علماء کے فتاوی درج ہیں یہ مسئلہ کسی خاص مسلک کا نہیں جیسا کے ناقد نے سمجھا ہے بلکہ تمام حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اورجعفری فقہ کے علماء کا احاد یث کی روشنی میں متفقہ فیصلہ اور فتویٰ ہے کہ حضرت علی علیه السلام کی تمام اولاد چاہے وہ با عظمت نسب فاطمی علوی ہوں چاہے غیر فاطمی علوی ہوں، سب کے سب سیّد کے لقب سے لکھے اور پکارے جاتے ہیں ان سب پر امّت کی زکوه واجبہ حرام ہے۔

محبت حسین اعوان نے خود اپنی کتاب میں علوی سادات کے خاندانوں اور بزرگان مثلاً سیّد سالار مسعود اور سیّد ابراہیم علوی کا نام ؎، سادات علوی تھانوی کا ذکرصفحہ ٣٣٨ پر کیا ہے۔ حتی بلا دلیل لکھتے ہیں: ”سلطان محمود غزنوی کے بیشتر جنرل سادات علوی تھے”۔ بلکہ تاریخ مسعودی سے جس بزرگ کا شجرہ چرایا ان کے مزار و دربار کے مین گیٹ پر یہ عبارت لکھی ہے(( آستانہ مقدسہ حضرت سلطان الشّہداء سیّد سالار مسعود غازی ))۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی باپ کا ایک بیٹا سیّد ہو اور دوسرا بیٹا غیر سیّد ہو۔((1))

ص: 275


1- ۔ تاریخ علوی اعوان ؎ص ٣٧٧ تا ٣٩١ص ٣٧٤، طباعت بار اول اگست ١٩٩٩، کراچی۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ تضاد فکری ہے یا منافقت ! تبصرہ میں سیادت علویہ کا انکار بلکہ سادات فاطمیہ کی توہین خیال کرتے ہیں مگرادھر سیادت علویہ پر کتابیں شائع کی جا رہی ہیں۔ اور اس عنوان کو بر ملا لکھا جا رہا ہے۔ چنانچہ ان کی مستند کتاب میں مولوی حیدر علی لدھیانوی لکھتے ہیں:

”حضرت امیر المؤمنین علی علیه السلام کے تیرہ بیٹے تھے۔۔۔ لیکن سلسلہ اولاد کا صرف پانچ صاحبزادوں سے چلا اور وہ یہ ہیں: حضرت امام حسن، حضرت امام حسین، محمد حنفیہ، عبّاس، عمر۔ اول و دوم کی اولاد فاطمیہ کہلاتی ہے اور باقی تین صاحبزادوں کی اولاد علویہ بولے جاتے ہیں، لیکن سیّد کا لفظ دونوں پر عائد ہے، سادات فاطمیہ اور سادات علویہ” ۔۔۔ حیدر آباد میں بھی کئی گھر علوی سیّدوں کے آباد ہیں، جو روزگار کی تلاش میں پنجاب سے آئے اور جے پور ٹھہر گئے جہاں اللہ کے فضل سے ان علوی سیّدوں کا خاصہ محلہ آباد ہے“((1)

ہندوستان میں علمی وسعت کی وجہ سے لقب ”اعوان” متروک ہو چکا ہے چوں کہ یہ کوئی نسبی عنوان نہیں تھا، اب اولاد حضرت عباس اور اولادحضرت محمد حنفیہ ”سادات علوی” کے عنوان سے جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ صرف ہمارے ہاں جاہل مفتیوں اور جعلی اعوانوں کی بنا پر یہ مسئلہ عوام کو اجنبی سا ہے۔

سیادت کا منکر کون ہے؟

ہم دیکھتے ہیں کہ اس مسئلہ میں شیعہ و سنی علماء میں بھی اتفاق نظر ہے کہ اسلام میں جن جن پر زکواه حرام ہے، تمام فقہا ان کو سیّد کے عنوان سے یاد کرتے ہیں، ہاں ایک ناصبی

ص: 276


1- ۔ (تاریخ علوی، مؤلفہ مولوی حیدر علی صاحب، ص ٦ اور ص ١٦، مطبع ١٨٩٦، لاہور)۔

ٹولہ ہے جو حضرت علی علیه السلام کی سیادت اور ان کے والدین کے ایمان کا منکر ہے اور پاکستان کراچی میں ناصبیت کو رواج دینے والا محمود احمد عباسی تھا جس کے افکار سے محبت حسین نے اپنی کتاب میں بہت استفادہ کیا ہے۔ چوں کہ وہ آل رسول صلی الله علیه و آله کی سیادت کا منکر تھا لہذا ا س کی تقلید میں یہ صاحب بھی منکر ہو گئے۔ ”قیاس کن زگلستان من بہارمرا”۔

محمود احمد عباسی وہ شخص تھا جس نے کتاب ”خلافت معاویہ و یزید” میں ہمارے جد پاک، مولائے کائنات، سیّد الاولیا، محبوب مصطفی، ولی خدا حضرت علی ابن ابی طالب ‘ کی شان اقدس میں اس قدر جسارت اور گستاخی کی کہ میں نے اہل سنّت کے علماء کو اس پر آنسو بہاتے دیکھا ہے، محترم علماء نے اس کا جواب بھی دیا اور اس پر نفرین بھی کی۔

محبت حسین اعوان نے اس متفق علیہ مسئلہ کو مسلک گرائی میں تبدیل کرنے کی ایک بیہودہ کوشش کی ہے۔ عموماً جب ان لوگوں کے پاس کوئی منطقی دلیل نہیں ہوتی توپھر اولاد علی کو شیعہ و سنی میں تقسیم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ دیندار طبقہ یہ سمجھتاہے کہ شیعہ و سنی، دین اسلام میں دو بھائیوں کی مانند ہیں، ہاں ایک غالی اورناصبی ٹولہ ہے جو استعمار کی ایماء پر ا ن دونوں پر شرک و کفر کے فتوے لگا کر ان کے گلے کاٹ رہا ہے۔

ہمارے لیے حضرت امام علی صلوات اللہ علیہ وکرم اللہ وجہہ کی اولاد ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا شیعہ یعنی پیروکار ہونا زیادہ قابل فخر ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ جو کوئی حضرت علی علیه السلام جیسے ولی، امام اور باپ کاپیروکاراور مطیع نہیں اس کو ان کے ساتھ نسبت کا بھی کوئی حق حاصل نہیں، بلکہ اس کا علوی ہونا مشکوک ہے چونکہ حلالی اور اصلی بیٹا اپنے ناپ کا فرمانبردار اور مشن کا وارث ہوتا ہے۔

اہل سنّت کے معروف عالم حنفی قندوزی حدیث نقل کرتے ہیں:

ص: 277

قال النبّی صلی الله علیه و آله ”یا علی بشّرشیعتک انا اشفیع لھم یوم القیامه وقتاً لا ینفع مال ولابنون الاالشّفاعه“((1))

ترجمہ: نبی اکرم

صلی الله علیه و آله فرماتے ہیں کہ ”اے علی اپنے شیعوں و پیروکاروں کو خوشخبری دے دو میں روز قیامت ان کی شفاعت کروں گا جس وقت مال اور اولاد کام نہ آئیں گے مگر شفاعت” (الحدیث)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پیروی اور اتباع کرنا رسول اللہ صلی الله علیه و آله کے نزدیک زیادہ اہم ہے اور ان کی اتباع اور پیروی کرنے کانام شیعہ ہے۔

آلِ علی پر صدقہ حرام ہے

پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کی متفق علیہ حدیث ہے:

عن زید بن ارقم ؛ قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله خطیباً: فقال اذکرکم اللّہ فی اہل بیتی من حرم الصدقہ بعدہ، قیل ومن ھم؟ قال: ھم آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس“((2) )

ترجمہ: زید بن ارقم سے روایت کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اللہ کو یادرکھو میرے اہل بیت (علیهم السلام) کے سلسلے میں، جن پر میرے بعد صدقہ حرام ہے۔ [ ان کاحق خمس ادا کرتے رہنا مگر امّت نے بھلا دیا]ایک صحابی نے پو چھا وہ کون ہیں ؟ آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا وہ آلِ علی، آل ِعقیل، آل ِجعفر اور آ لِ عباس ہیں”۔

بنو ہاشم کے کچھ جوانوں نے عاملین زکوٰه میں شامل ہونے کی درخواست کی تو آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: ”اے بنو ہاشم کے جوانو ! صدقہ و زکوٰه نہ میرے لیے حلال ہے نہ تمہارے

ص: 278


1- ۔ ینابیع الموده ص ٢٥٧، مؤلفہ سلیمان قندوزی حنفی۔
2- ۔ صحیح مسلم باب تحریم الزکوٰه علی رسول اللہ و علی آلہ و ھم بنو ھا شم وبنو مطلب د ون غیرھم)۔

لیے، لیکن میں تم سے اس محرومیت کے بدلے شفاعت کا وعدہ کرتا ہوں، تم اس پر جو خدا اور رسول نے معین کر رکھا ہے راضی رہو وہ کہنے لگے ہم راضی ہیں”۔((1) )

روی انس بن مالک، قال رسول صلی الله علیه و آله :نحن ولد عبدالمطلب ساده اہل الجنه، أنا وحمزه وجعفروعلی وحسن وحسین وفاطمہ ومہدی۔(2)

ترجمہ: رسول اکرم

صلی الله علیه و آله فرماتے ہیں کہ ہم اولاد عبدالمطلب اہل جنّت کے سیّد و سردار ہیں، میں حمزہ، جعفر، علی، حسن، حسین، فاطمہ، مہدی (علیهم السلام) ۔

وقال رسول اللہ صلی الله علیه و آله : یا علی أنت سیّد فی الدنیا و سیّد فی الاخره”(3)

اے علی تو دنیا میں بھی سید ہے اور آخرت میں بھی سیّد ہے۔

و قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله : انا سیّد النبیین وعلی سیّد الوصیین، انّ اوصیائی من بعدی اثنا عشراوّلھم علی ابن ابی طالب وآخرھم قائمھم۔(4)

”اللہ کے رسول صلی الله علیه و آله نے فرمایا: میں انبیا کا سیّد ہوں اور علی اوصیا ء کے سیّد ہیں، تحقیق میرے بعد میرے بارہ اوصیا ء ہوں گے جن کاپہلا علی ابن ابی طالب اور آخری اُن کا قائم ہو گا“[قائم حضرت امام مہدی عجل الله تعالی فرجه کا ایک لقب ہے]۔

علامہ علاؤ الدین حنفی سمر قندی کتاب تحفہ الفقہاء میں لکھتے ہیں:

"انّ علی رضی اللہ عنہ سیّد لانّہ من اولاد ھاشم و کل من کان من اولاد ھاشم فھو سیّد"

ص: 279


1- ۔ صحیح مسلم، ترمذی و اصول کافی باب انّ الزکاه لا تحلُّ لبنی ھاشم۔
2- ۔ بحارالانوار، ج٢٢، ص ١٤٩، ح ١٤٢، باب ٣٧۔
3- ۔ (ریاض النضره جلد ٣ ص ١٣٨)۔
4- ۔ (زاد السبیل ص٧١؛ ینابیع ص ٤٤٥)۔

ترجمہ: ”تحقیق حضرت علی سیّد ہیں اس لیے کہ وہ اولاد ہاشم سے ہیں اور جو کوئی فرد حضرت ہاشم کی اولاد سے ہو، وہ سیّد ہے”۔

امام شافعی اپنے اشعار میں کہتے ہیں:

قسیم النّاروالجنّہ علی

سیّد الامّہ (1)

علی علیه السلام بہشت و دوزخ کو تقسیم کرنے والے ہیں اور امّت کے سیّد ہیں۔

قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله ”انا و علی من نورواحد، انّ جبرائیل نزل علیّ فا خبرنی انا وعلی من شجره واحده '''اﻵ انّ علی ابن ابی طالب من حسبی و نسبی فمن أحبہ فقد أحبّنی من أبغضہ فقد أبغضنی“۔(2)

"اللہ کے رسول صلی الله علیه و آله نے فرمایا: میں اور علی ایک نور سے ہیں ،تحقیق جبرائیل نازل ہوئے اور مجھے خبر دی کہ میں اور علی ؑ ایک ہی شجر ہ سے ہیں۔۔۔ آگاہ رہو کہ علی ابن ابی طالب میرے حسب و نسب سے ہیں پس جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی یقینا جس نے ان سے دشمنی کی، اس نے مجھ سے دشمنی کی”۔

قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله : ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللّھمّ وال من والاہ و عادمن عاداہ“۔(3)

رسول اللہ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: ”جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے علی ؑ مولا ہیں، خدایا تو علی کے دوست کو دوست رکھ اور علی کے دشمن کو دشمن رکھ۔“

ص: 280


1- ۔ (زاد السبیل صفحہ ٢٥)۔
2- ۔ (مسند احمدابن حنبل، باب الفضائل؛بحار الانوار ج٧ ص٢٤١ ؛ ج ١٥ ص ١٩)۔
3- ۔ ینابیع الموده، ج٢، ص٣٥۔

قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله :”انّ اللّہ جعل ذریه کل نبی فی صلبہ وجعل ذریّتی فی صلب علی بن ابی طالب“(1)

آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: "تحقیق اللہ تعا لیٰ نے ہر نبی کی نسل اس کے صلب سے قرار دی لیکن میری نسل علی بن ابی طالب‘کی صلب میں قرار دی"۔

مذکورہ متفق علیہ احادیث سے واضح ہے کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے شجرہ سیادت اور ولایت میں حضرت علی علیه السلام کو اپنے ساتھ قرار دیا ہے، اور صلب حضرت علی علیه السلام سے پیدا ہونے والی اولاد کو اپنی نسل قرار دیا ہے اور قیامت تک ان سب پر زکوٰه واجبہ کو حرام اور خمس کو حلال قرار دیا۔ پس سیّادت علویّہ کا انکا ر کرنے والا در اصل حضور پاک صلی الله علیه و آله کے فرمان کو جھٹلا رہا ہے۔ اور حلال حضرت محمد صلی الله علیه و آله کو حرام اور حرام کو حلال کرکے اپنی عاقبت خراب کر رہا ہے۔

اس بنا پر کتاب کے محترم مؤلف نے تمام علوی النسّب لوگوں کے ساتھ سیّد لکھا ہے چونکہ ایران میں حضرت علی کی فاطمی اور غیر فاطمی تمام اولاد کے نام کےساتھ سیّد لکھا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں جہالت اور تعصّب کی بنا پر علوی اور سیّد نہیں لکھا جاتا ہے۔ جناب علامہ الحاج شیخ علی ربّانی خلخالی، فقہ اور تاریخ اسلام کے بہت بڑے عالم ہیں۔ محبت حسین کا یہ کہنا کہ ”بر صغیر پاک و ہندکے حوالے سے، حضرت عباس بن علی سے ملائے گئے نسب اور ان کو سیّد کہنے پر اصرار کو مسترد کرتا ہوں”، کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک عالم کی بات کو ایک جاہل مسترد کر دے۔

ہم تاریخی شواہد کے ساتھ واضح کر چکے ہیں کہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیه السلام کے پانچوں فرزندوں کی اولاد پاک و ہند

ص: 281


1- ۔ فیض القدیر، ج ٢، ص ٢٣٣ ؛مناقب ابن مغازلی، ص٤٩۔

میں موجود ہے۔ کسی ایک کی نسل کا انکار کرنے والا در اصل اپنی بے شعوری اور جہالت کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔ بسا اوقات بعض جعل ساز اپنے غلط نظریہ پر ابوجہل کی طرح ڈٹ جاتے ہیں، ان کو اللہ کا نبی صلی الله علیه و آله بھی سمجھائے تو وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی نہیں چھوڑیں گے۔

ہماری تحقیق اورماہر نسّابہ کی تصدیق کے مطابق جن کا سلسلہ نسب حضرت عون قطب شاہ بن یعلیٰ بن ابی یعلیٰ حمزہ کے واسطہ سے حضرت عبّاس بن علی ابن ابی طالب علیه السلام سے ملتا ہے وہ صحیح النّسب علوی سادات ہیں، وہ لومه الائم کی پرواہ ہرگز نہ کریں اور اپنی سیّادت علویّہ کا کھل کر اظہار کریں اور اپنے شرعی فریضہ پر عمل کریں عام امّتی کی زکوٰه اور صدقات واجبہ سے پرہیز کریں۔ ممکن ہو تو اپنے خاندان کے شجرہ اور مختصر تاریخ کی کاپی ہمیں ارسال کردیں، تا کہ آئندہ تألیفات میں استفادہ کیا جاسکے۔

لیکن یاد رکھیں صحیح النسب اور معروف النسب قطب شاہی اعوان ہی " علوی سادات" کے عنوان اور احکام کے حامل ہوں گے۔ جن کی علم انساب اور شہرت عرف تائید کرتے ہیں لہذا

مشکوک و مجہول اورمجعول النسب اعوان کے بارے میں اصالۃ العدم جاری ہو گی۔ وہ اس حکم میں نہیں آئیں گے۔

آل رسول صلی الله علیه و آله وآلِ علی علیه السلام کو دکھ دینا گناہ کبیرہ ہے

آخر میں اس حقیقت کے منکرین کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ آل ِرسول صلی الله علیه و آله وآلِ علی علیه السلام ، یعنی سادات ِفاطمیّہ اور سادات ِعلویّہ کو اذیت و آزار دینے سے بچیں چوں کہ ان ہستیوں اور ان کی اولاد کے ساتھ دشمنی رکھنا پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کو دکھ اور تکلیف پہنچانا ہے جو اللہ تعالیٰ کے غیض و غضب کا باعث ہے اس بنا

ص: 282

پر یہ گناہ کبیرہ ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی صلی الله علیه و آله کو اذیت اور دکھ دینے والوں پر لعنت کی ہے:

﴿انَّ الَّذِینَ یُؤذُونَ اﷲَ وَرَسُولَہُ لَعَنَہُمُ اﷲُ فِی الدُّنیَا وَالآخِرَهِ وََعَدَّ لَہُم عَذَابًا مُہِینًا﴾(1)

" جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہے اور اس نے ان کے لیے ذلّت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے"۔

حافظ حسکانی حنفی نے کتاب شواہد التنزیل ج٢، ص٩٣، پر اس آیہ کے ذیل میں یہ حدیث نقل کی ہے۔ کہ رسول اکرم صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

”مَن آذی علیاً فَقَدآذانی و مَن آذانی فَقَد آذی اللّٰہ“

ترجمہ: ”جس نے علی ؑ کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی“۔

اپنے حسبی نسبی رشتہ داروں کو اذیت اور دکھ پہنچانے والوں کے بارے میں حضور پاک صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

”ما بال أقوام یؤذوننی فی نفسی و ذوی رحمی آلا و من آذی نسبی و ذی رحمی فقد آذانی و من آذانی فقد آذی اللہ“۔(2)

" اس قوم کا کیا انجام ہو گا جو میرے حسبی ونسبی رشتہ داروں کو اذیت ودکھ پہنچائے، آگاہ رہو! جس نے میرے نسبی و حسبی رشتہ داروں کو اذیت پہنچائی پس اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے دکھ و اذیت دی پس اس نے خدا کو اذیت دی"

قال رسول اللہ

صلی الله علیه و آله : ”حرمت الجنّه علی من ظلم اھلبیتی وآذانی فی عترتی“۔(3)

ص: 283


1- ۔ (سوره الاحزاب آیه ٥٧)۔
2- ۔ (اسعاف الراغبین ص٤٢)۔
3- ۔ (بحارالانوار، ج٢٦، ص٢٢٩)۔

ترجمہ: رسول اللہ

صلی الله علیه و آله نے فرمایا: اس پر جنت حرام ہے جو میرے اہل بیت پر ظلم کرے اور میری عترت کی نسبت اذیت پہنچائے”۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله نے فرمایا:

”انّ فاطمہ بضعه منی فمن آذاھا فقد آذانی و من أغضبھا فقد أغضبنی“۔(1)

آپ صلی الله علیه و آله نے فرمایا: فاطمہ

میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا۔

پس ان ہستیوں اور ان کی اولاد کے ساتھ دشمنی رکھنا پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کو دکھ اور تکلیف پہنچانا ہے جو اللہ تعالیٰ کے غیض و غضب کا باعث ہے، یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کی بخشش نہیں۔

آیت میں (یُؤذُونَ) فعل مضارع ہے جو استمرار پر دلالت کرتا ہے، یعنی کل بھی اور آج بھی اگر کوئی پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله کے دکھ اور اذیت و آزار کا باعث بنے تو (لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنیَا وَ الاَخِرَهِ) یعنی دنیا وآخرت میں اس پر اللہ کی لعنت ہے نیز اس کے لیے آخرت میں (وَ اعَدَّلَھُم عَذَابَاً مُھِیناً) ذلت آمیز عذاب بھی تیارکر رکھا ہے۔

امید ہے تبصرہ نگار حقیقت کو قبول کرتے ہوئے توہین آمیزتبصروں اور نسل حضرت عبّا س علیه السلام کے انکار کی رٹ اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر اپنی عاقبت کو بہتر بنانے کی سعی کرے گا۔ نیز یہ تذکرات سب کے لیے مفید ہیں، ”مجلہ اعوان” اسلام آباد کو بھی ناصبیّت اور آل علی علیه السلام سے دشمنی پر مبنی تبصرے یا مضامین شائع کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔بصورت دیگر ان کا

ص: 284


1- ۔ (صحیح بخاری ج ٥، ص ٢٦؛ جلد ٣، ص ١٣٦١ حدیث ٣٥١٠، طبع بیروت)۔

جواب بھی شائع کرنے کی جرأت ہونی چاہیے، اللہ ہم سب کو حق اپنانے اور لکھنے کی توفیق عطاء فرمائے، آمین۔

محبّت حسین اعوان نے اپنے اچھوتے تبصرہ کے آخر میں ایک چیلنج کیا ہے، ہم اس کو قبول کرتے ہوئے تقاضا کرتے ہیں کہ دین اسلام کے دونوں بڑے مذاہب، شیعہ اور سُنّی کے معتبر علمائے کرام جو فقہ، تاریخ، علم ِرجال اور انساب کے ماہرہوں، ان کا ایک پینل یا جرگہ بیٹھایا جائے، اور ان سے کہا جائے کہ وہ ان دوسوالوں کا مدلل جواب دیں:

١۔ اسلام کی اصطلاح میں ”سیّد” کا اطلاق اور احکام سادات مثل زکوٰه و صدقات کا حرام ہونا، خمس کا حلال ہونا اور امامت جماعت میں مقدم ہوناوغیرہ کن کن پر نافذ ہوتے ہیں؟

٢۔ حضرت عون بن یعلیٰ بن ابی یعلیٰ حمزہ معروف بہ قطب شاہ اورملک غازی میر قطب حیدرشاہ میں سے کس کا شجرۂ نسب ساتویں صدی سے ما قبل لکھی جانے والی معتبر کتب انساب میں پایا جاتا ہے۔ جو فیصلہ علمائے حقہ دیں گے، ہمیں قبول ہوگا۔

اب ہماراچیلنج ہے کہ

(١) آپ اپنے معتبر منبع ”مرأه مسعودی” کے مأخذ کو دکھائیں اور ہم سے دو برابر نقد انعام لیں

ورنہ مولوی نور الدین مرحوم کی بجائے اپنے آپ کو جھوٹا کہیں، ان کی کتابوں کے مأخذ دستیاب نہ ہوں تووہ معتبر نہیں مگر سیّد سلطان مسعود شہید سے چھ سو سال بعد لکھی جانے والی کتاب ”مرأه مسعودی” بغیر مأخذ کے کیسے معتبر ہو گئی؟ یہ دوہرا معیار کیوں ؟

(٢) آپ نے مولوی نور الدین مرحوم پرنیا شجرہ بنانے کا الزام لگایا ہے، ہم پوچھتے ہیں !آپ نے ابھی حال ہی میں نیا انوکھا شجرہ بنایا ہے، یہ کیسے اصلی بن گیا ہے ؟ اگر آپ کے

ص: 285

نزدیک تمام مؤلفین کے شجرہ نامے عمرانی اور انساب کے اصولوں کے خلاف تھے تو آ پ کا بنایا ہوا شجرہ کس اصول کی بنا پر صحیح ہوگیا؟

(٣) آپ کے بقول ملک غازی قطب حیدر پانچویں صدی میں ہوئے ہیں، تو آٹھویں صدی سے قبل لکھی جانے والی کسی معتبرکتاب میں سے ان کا نسب اور علوی ہونا ثابت کریں؟ ورنہ ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر قوم سے معافی مانگیں اور اپنی عاقبت کی فکر کریں۔

والسّلام علیٰ اخواننا المؤمنین

ملتمس دعا : سیّدابوالحسنین وزیر حسین علوی

المصطفٰی صلی الله علیه و آله انٹرنیشنل یونیورسٹی قم، ایران

ص: 286

مأخذ

١۔قرآن مجید، کتاب اللہ۔

٢۔الکافی، شیخ کلینی، دارلکتب الاسلامیہ تہران۔

٣۔علل الشّرائع، شیخ صدوق ، ناشر کتابخانہ حیدری، نجف الاشرف۔

٤۔سفینه البحار، شیخ عبّاس قمی ، آستان قدس رضوی۔

٥۔الخصال، شیخ صدوق ، جامعہ مدرسین۔

٦۔بحار الانوار، علامہ محمد باقر مجلسی ، دار احیاء التّراث، بیروت۔

٧۔تاریخ الامم و الملوک، طبری، ارومیہ۔

٨۔تاریخ بغداد، خطیب بغدادی، بغداد۔

٩۔تذکره الخواص، ابن جوزی، انتشارات اہل بیت ٪، بیروت۔

١٠۔تہذیب الانساب، ابن حجر عسقلانی، دار الصادر، بیروت۔

١١۔تنقیع المقال فی احوال الرجال، مرتضوی نجف اشرف۔

١٢۔جمہره النسب، کلبی، کتابخانہ نہضت عربی۔

١٣۔سر السلسله العلویه، ابو نصر بخاری، مطبع حیدری، نجف اشرف۔

١٤۔الشجره المبارکہ فی انساب الطالبیه، انتشارات کتابخانہ آیت اللہ نجفی، قم۔

ص: 287

١٥۔العبّاس، سیّدعبدالرزاق موسوی المقرم۔

١٦۔المجدی فی انساب الطالبین، سیّد ابوالحسن علی علوی العمری، قم مقدسہ۔

١٧۔وسیله الدارین فی انصار الحسین علیه السلام ، مؤسسہ اعلمی، بیروت۔

١٨۔نفس المہموم فی مصیبه سیّدنا الحسین المظلوم ، کتابخانہ بصیرتی، قم۔

١٩۔ستارگان درخشان، محمد جواد نجفی، کتابفرشی اسلامیہ، قم، ایران۔

٢٠۔حضرت اباالفضل علیه السلام مظہر کمالات و کرامات، میر سید علی ابطحی، سینا، قم۔

٢١۔چہرہ درخشان قمر بن ہاشم علیه السلام ، علی ربّانی خلخالی، انتشارات الحسین علیه السلام ، قم۔

٢٢۔تاریخ عبّاسی تذکرہ سادات علوی، سیّد شریف احمد شرافت نوشاہی۔

٢٣۔انوار السّیادت فی آثارالسّعادت، سیّد شریف احمد شرافت نوشاہی،

معارف نوشاہیہ، ساہن پال شریف، منڈی بہاؤالدین، پاکستان۔

٢٤۔اولاد امیر المومنین علیه السلام کیاعلوی سادات ہیں، سیّدابو الحسنین وزیر حسین

علوی، ناشر مؤسسہ سیّد الاوصیاء امیر المومنین علیه السلام ، قم مقدسہ، ایران۔

٢٥۔اُمُّ البنین

نماد از خود گذشتگی، محمد رضاعبدالامیر انصاری، موسیٰ دانش۔

٢٦۔اُمُّ البنین علیها السلام ، سیّدضمیر اختر نقوی، مرکز علوم اسلامیہ، کراچی پاکستان۔

٢٧۔موسوعه الحسین علیه السلام ، ابوالفضل العبّاس علیه السلام ، ج٩، تہران، ایران۔

٢٨۔وادی سون سکیسر تاریخ و تہذیب، محمد سرور اعوان، لوک ورثہ اسلام آباد۔

٢٩۔صحیح بخاری، محمد بن اسماعیل بخاری، طبع بیروت، لبنان ۔

ص: 288

٣٠۔صحیح مسلم، ابو الحسین مسلم، طبع بیروت، لبنان۔

٣١۔سنن ترمذی، شرح احمد شاکر، طبع مصر۔

٣٢۔مسند احمدا بن حنبل ، طبع مصر۔

٣٣۔ تاریخ علوی اعوان، محبّت حسین اعوان، طبع کراچی۔

٣٤۔ابصارالعین فی انصارالحسین-، قم، ایران۔

٣٥۔وقائع الشہور و الایّام، علامہ بیرجندی، قم، ایران۔

٣٦۔اُمُّ البنین

سیّده النساء العرب، سیّد مہدی الخطیب۔

٣٧۔ستارۂ درخشان مدینہ حضرت امّ البنین ، علامہ علی ربّانی خلخالی۔

٣٨۔علی علیه السلام خلیفه الرسول صلی الله علیه و آله ، موسوی، سیّد محمد سلیم علوی، ناشرمحدث، قم۔

٣٩۔وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل شریعہ، محمد حر عاملی، بیروت۔

٤٠۔صحیفۂ وفا، المقرم، ترجمہ، سید مہدی حسینی، ناشر انصاریان، قم۔

٤١۔صحیفۂ سادات، صفدر حسین ڈوگر، ناشر شریکهالحسین، پکی شاہ مردان۔

٤٢۔من لا یحضرہ الفقیہ، ابی محمدبن علی القمی، جماعه المدرسین، قم۔

٤٣۔نہج البلاغہ، موئسسہ امیر المؤمنین، قم۔

٤٤۔خصائص العباسیہ، محمد ابراہیم کلباسی، صیام، میدان انقلاب، تہران۔

٤٥۔المعقبون من آل ابی طالب، سیّد مہدی رجائی، عاشورا، قم۔

٤٦۔سیادت علویہ، سیّد زین العابدین علوی، طبع شریف پریس راولپنڈی۔

٤٧۔ انساب الابرار فی آل عبّاس علمدار ، محمد سرور اعوان، طبع لاہور۔

٤٨۔ علوی اعوان قبیلہ مختصرتعارف علامہ محمد یوسف جبریل پاکستان۔

٤٩۔انوار شمسیہ، مولوی امیر بخش، آستانہ عالیہ، سیال شریف، سرگودھا۔

٭٭٭٭٭

ص: 289

جناب السیّد ابوالحسنین وزیر حسین العلوی کی تالیفات:

٭اولاد امیرلمٔومنین علیه السلام کیاعلوی سادات ہیں؟۔

٭کریمهُ الخلائِق حضرت اُمُّ البنین ۔

٭انوار العلویہ۔٭فن تحقیق۔

٭ولی فیض رسان بابا سیّد سلطان۔

٭نکاح غیردائماز دیدگاہ قرآن و سنّت(فارسی)۔

٭امکان فھم قرآن(فارسی)

٭ اعجاز عددی قرآن(فارسی)۔

٭سلامهالقرآن من التحریف۔

تراجم:

٭ موسیقی از نظر اسلام۔

٭ستارۂ درخشان حضرت قمر بنی ہاشم علیه السلام ۔

٭منادیِ توحید۔

٭بیس سے زیادہ تحقیقی مقالات(اردو،فارسی)۔

٭٭٭٭٭

ص: 290

کے بارے میں مرکز

بسم الله الرحمن الرحیم والحمد الله رب العالمین
کوثر وجود زهرائے مرضیه سلام الله علیہا کی بارگاہ میں پیش ہے
هَلْ یَسْتَوِی الَّذِینَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِینَ لَا یَعْلَمُونَ
کیا علم والے اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟ سوره زمر/ 9
تعارف:
تعارف:
کمپیوٹر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اصفہان، 2007 سے حضرت آیت الله حاج سید حسن فقیه امامی (قدس سره الشریف)، کے زیر نگرانی ، یونیورسٹی اور حوزۂ علمیہ کے علماء اور ماہرین و مفکرین کی مخلصانہ اور روزانہ کی انتھک کوششوں کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور علمی شعبوں میں اپنی سرگرمیاں شروع کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منشور:
کمپیوٹر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اصفہان نے اسلامی علوم کے میدان میں محققین ومفکرین کو کتابوں تک تیز رفتار طریقہ سے پہچانے کا بیڑا اٹھایا ہے،اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اس میدان میں کام کرنے والے سرگرم ادارے اور مراکزبکھرے ہوئے اور جدا جدا ہیں جن تک رسائی بھی ناممکن لگتی ہے اس لئے صرف اور صرف علمی فائدہ کو مدّنظر رکھتے ہوئے اور ہر طرح کے ذاتی تعصب ،سماجی نقطۂ اختلاف ،قومی اور قبائلی اختلاف کو پَرے جھٹکتے ہوئےایک پروجیکٹ کا ڈھانچہ اس بنیاد پرقائم کیا کہ : »شیعہ مراکز اور ادارے کی تخلیق کردہ اور شائع کردہ تمام کتابوں اور انکےکاموں کو نظم وضبط اور ترتیب وتنظیم دیتے ہوئے انہیں یکجا کردیں « تاکہ اس کوشش کے ذریعہ ماہرین اور محققین کے پاس کتابوں اور تحقیقی مقالات کا انبار ہواور انکی جیب میں دنیا جہاں کا کتابخانہ موجود ہو تاکہ وہ ہردم اس سے فائدہ اٹھا سکیں، تعلیم یافتہ نسل اور تمام طبقات کے لئے مفید مواد مختلف زبانوں اور مختلف فارمیٹس میں تیار کرنا اور اسے سائبر اسپیس میں مفت منتشر کرنا اور دلچسپی رکھنے والوں تک پیغام اہلبیت علیہم السلام پہنچانا ہمارا مقصد ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے مقاصد:
اسلامی ثقافت اور معارف ناب ثقلین کا فروغ اور ترویج و توسیع (کتاب الله و اهل البیت علیهم السلام)
لوگوں ،اور خاص طور پر نوجوانوں کی عام حوصلہ افزائی تاکہ وہ مذہبی مسائل زیادہ قریب سے سمجھ سکیں
موبائل، ٹیبلٹ اور کمپیوٹرز میں بیکار اور بے ہودےمواد کے بجائے مفید مواد کو بڑھانا۔۔۔
مدرسے اور یونیورسٹی کےمحققین و مفکرین کے لئے خدمات فراہم کرنا
لوگوں میں مطالعے کی عمومی ثقافت کو عام کرنا
اپنی اشاعتوں کو ڈیجیٹل بنانے کے لئے پبلشروں اور مصنفین کو ترغیب دلانا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پالیسی:
قانونی لائسنس اور اجازت کے مطابق کام کرنا
ہم فکر اور ہم سو مراکز کے ساتھ تعلقات و مواصلات
متوازی اور تکراری کام سے بچنا
صرف علمی مواد فراہم کرنا
اشاعت کے ذرائع کا ذکر
ظاہر ہےکہ تمام کتابوں میں مندرج چیزوں کی ذمہ داری مصنف پر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسٹی ٹیوٹ کی دیگر سرگرمیاں:
کتابیں، کتابچے اور دیگر ایڈیشن کی اشاعت
کتاب پڑھنے کے مقابلوں کا انعقاد
مجازی نمائشوں کانعقاد: تھری ڈی، مذہبی جگہوں میں پنورما، سیاحت اور ...
اینیمیشن کی تخلیق ،کمپیوٹر کھیل وغیرہ۔۔۔
اس اڈریس کے ساتھ ویب سائٹ شروع کرنا: www.ghaemiyeh.com
ڈرامائی پروڈکشن، لیکچرز اور ...
مذہبی، اخلاقی اور نظریاتی و عقائدی سوالات کے جواب دینے کے نظام کی شروعات اور حمایت
اکاؤنٹنگ سسٹم، میڈیا بنانے والا، موبائل میکر، بلوتوت خودکار اور دستی نظام، ویب کیوسک، ایس ایم ایس اور ...کی نظام سازی
عوام کے لئے مجازی تعلیمی نصاب اور ٹریننگ کورسز (مجازی)
ٹیچر ٹریننگ کورسز(مجازی)
1. کمپیوٹرز ،ٹیبلٹ اور موبائل کے لئے گلوبل فارمیٹس میں مختلف قسم کے ریسرچ سافٹ ویئر کی تولید و تخلیق : JAVA
2. ANDROID
3. EPUB
4. CHM
5. PDF
6. HTML
7. CHM
8. GHB
1. چار عدد مارکٹ کتاب قائمیہ کے نام سے ،ورژن: ANDROID
2. IOS
3. WINDOWS PHONE
4. WINDOWS

تین زبانوں فارسی، عربی اور انگریزی میں انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ پر مفت میں دستیاب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتامی کلمات:
ہم ہر اس ادارے ، مرکز، مراجع معظم تقلید کے دفاتر، تنظیموں ، ناشرین، مصنفین اور تمام معزز بزرگوں اور دوستوں جنہوں نے ہمیں اس مقصد تک پہنچنے میں ہماری مدد کی یا اپنے ڈیٹا کو ہمارے اختیار میں قرار دیا شکر گذار ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرکزی دفتر کا پتہ:
اصفہان –خیابان عبدالرزاق - بازارچه حاج محمد جعفر آباده ای - کوچه شہید محمد حسن توکلی -پلاک 129- طبقه اول
ویب سائٹ: www.ghaemiyeh.com
ای میل: Info@ghbook.ir
مرکزی دفتر ٹیلی فون: 00983134490125
تہران ٹیلی فون: 88318722 021
تجارت اور فروخت: 00989132000109
صارفین کے معاملات: 00989132000109